Sunday, June 14, 2015

عورت کی غیرت: ناجائز تعلقات رکھنے پر شوہر کو شدید زخمی کردیا


عورت کی غیرت: ناجائز تعلقات رکھنے پر شوہر کو شدید زخمی کردیا

سہیل سانگی

غیرت صرف مردکا ہی خاصۃ نہیں۔ عورت کو بھی آ سکتی ہے۔ کسی غیر مرد کے ساتھ کسی عورت کے جنسی تعلقات قابل عتراض اور قابل گرفت ہیں ، اسی طرح سے عورت کو بھی اپنے مرد کے کسی غیر عورت کے تعلقات پر اعتراض ہوتا ہے اس قسم کے الزام میں عموما عورت کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے یا قتل کردیتاہے۔کیا عورت بھی اس قسم کے واقع کی صورت میں شدت پسندی سے کام لے گی؟

اس شدت پسندی کا پہلا واقعہ گذشتہ روز ضلع خیرپور کے علاقے چونڈکو میں ہوا جہاں ایک خاتون پرینا ناریجو نے اپنے شوہرمحمد پناہ کو غیر عورت کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھ کر کلہاڑی کے وار کر کے شدید زخمی کردیا ہے۔

گاؤں وسان آباد میں رات دیر سے تین بچوں کی ماں اٹھائیس سالہ پرینا نے اپنے شوہر محمد پناہ ناریجو کو اپنے ہی گھر میں ایک غیر عورت کے ساتھ قابل اعتراض دیکھ کر کلہاڑیوں سے حملہ کر کے شدید زخمی کردیا۔ بعد میں پرینا گھر سے نکل کر قریبی گاؤں سوڈھڑ چلی گئی۔

اطلاع پرسوراہ پولیس اس خاتون کو تھانے پر لے آئی۔

پرینا نے پولیس کی موجودگی میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کے شوہر کسان ہیں اور پہلے بھی میں نے شوہر کو اس عورت کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تھا ۔ میرے منع کرنے پر انہوں نے مجھ پر کلہاڑیوں سے حملہ کردیا تھا۔ آج جب دوبارہ میاں کو اسی عورت کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا تو مجھے غیرت آگئی۔اور شوہر پر کلہاڑی سے حملہ کردیا۔

سوراہ پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی پناہ ناریجو کو چونڈکو اسپتال لیا گیا تھا، مگر ڈاکٹر کی غیر موجودگی کے باعث اسے سول اسپتال خیرپور لے جایا گیا۔

پولیس پرینا کو لے کر خیرپور لے گئی مگر عدالت کا وقت ختم ہونے کی وجہ سے انہیں واپس سوراہ تھانہ لایا گیا۔

چونڈکو کے صحافیوں کا کہنا کے کہ پرینا نے درخواست کی ہے ان کی جان کو خطرہ ہے ہے لہٰذا اسے دارلامان بھیج دیا جائے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق محمدپناہ کا بھائی خاتون پرینا اور اس کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج کرانا چاہ رہا ہے کہ محمد پناہ کو گھریلو جھگڑے کی وجہ سے زخمی کیا گیا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم عرفانہ ملاح کا کہنا ہے تشدد کوکسی کے خلاف جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا عورتیں بھی مردوں کو مارنا شروع کردیں؟ اس سے انارکی پھیلے گی۔ تشدد عورت کرے یا مرد دونوں غلط ہیں۔اس سے ہم کوئی صحت مند معاشرہ تعمیر نہیں کرسکتے۔ اگر مرد اور عورت میاں بیوی کے طور پر ساتھ نہیں رہ سکتے تو فری ول کے تحت دونوں کو اختیار ہے کہ وہ علحدہ ہو جائیں۔زبردستی ساتھ رہیں ایک فریق دوسرے پر تشدد کرے، یہ کسی طور پر بھی درست نہیں۔

اگر کسی مرد کو اپنی بیوی اچھی نہیں لگتی تو اسے قانونی طور پر چھوڑ دے اسی طرح سے اگر کسی عورت کو میاں اچھا نہیں لگتا تو اس کو بھی یہ اختیار ملنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ شادی میں دونوں فریقین کی کمٹمنٹ ہوتی ہے۔ اگر یہ کمٹمنٹ ختم ہو جائے تو اسے اپنے ساتھی کو چیٹ نہیں کرنا چاہئے اور رضاکارانہ طور پر علحدہ ہو جانا چاہئے۔

ریسرچر اورخاتون کالم نگار سحر گل کا کہنا ہے کہ جارحیت کا عمل کسی بھی طور پر قابل تعریف نہیں۔ اگر کسی کے ساتھ بے وفائی ہوئی ہے تو اسکا جواب تشدد میں دینا بگڑی ہوئی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عمل چاہے مرد کرے یا عورت، جب اس عمل کو انسانی حقوق کے ترازو میں تولا جائے گا تومعاملہ برابر ہی رہے گا۔ کیونکہ دونوں صورتوں میں معاشرے پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ عورت کو غیرت کے نام پر قتل کرنے یا تشدد کرنے کے کیا دیا ہے؟ جارحیت اور تشدد نے ہمارے معاشرے کو کیا دیا ہے؟ ایک ڈری ہوئی اور سہمی ہوئی عورت، ڈرا ہوا گھر۔ اس بات تو یہ ہے کہ سوسائٹی میں کسی بھی قسم کی جارحیت نہ ہو۔

غیر سرکاری تنظیم ایس پی کے ریجنل ہیڈ مصطفیٰ بلوچ کا کہنا ہے کہ اگر کارو کاری کی رسم موجود ہوگی تو اس کو عورتیں بھی استعمال کریں گی۔ اب تک یہ رسم ایک ہی جنس یعنی عورت کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس رسم ہے کے تحت معاشرہ اور اس کے ادارے عورت کو سزاوار ٹہراتے رہے عورتوں کو اس رسم اور عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔

نوجوان کالم نگار اشفاق لغاری کا کہنا ہے کہ یہ دراصل قبائلی رجحان ہے۔ آپ ایک ناانصافی کو دوسری نا انصافی کے ذریعے ختم نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں عورتوں کے خلاف تشدد کے واقعات خاصے عام ہیں۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے مطابق سال 2011 کے دوران مجموعی طور پر عورتوں کے خلاف تشدد کے چار ہزار چار سو اڑتالیس کیس رپورٹ ہوئے جن میں 799 عورتوں کو قتل کیا گیا جن میں سے396 کیسز میں عورتوں کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا

No comments:

Post a Comment