بلاول بھٹو کی چوتھی بار لانچنگ
میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کی سات ماہ میں ہی تربیت مکمل ہوگئی ہے ۔ ان کے بیرون ملک جانے کے بعد مارکیٹ میں یہ باتیں گشت کرتی رہیں کہ ان کے والد آصف علی زرداری سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ انہیں چوتھی بار سیاست میں لانچ کیا جارہا ہے۔ یہ ماننا ہے کہ انہیں بلدیاتی انتخابات کے لئے پارٹی نے میدان اتارا ہے۔
بلاول بھٹو نے گزشتہ سال 18 اکتوبر کو سانحہ کارساز کی سات سالہ یاد میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ سات سال پہلے ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے استقبالی جلوس پر حملہ ہوا تھا۔اگرچہ پارٹی نے انہیں لانچ کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر یہ پروگرام منعقد کیا تھا۔ ان کی اور پارٹی قیادت کی سیاست اور حکمت عملی ایک دوسرے کے ٹکراؤ میں آگئیں۔لیکن اس کے چند ہی ہفتے بعد پہلے وہ سیاسی منظر سے اور بعد میں ملک سے باہر چلے گئے۔ اور انہیں خود والد نے نا تجربہ کار اور نابالغ قرار دے دیا جس کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے۔
تمام تر کوششوں کے باجود انہوں نے گزشتہ سال والدہ کی برسی میں بھی شرکت نہی کی۔ کہا جارہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی دو بہنوں بختار اورّ آصفہ کی کوششوں کی وجہ سے باپ بیٹے میں مصلحت ہو سکی ہے۔
گزشتہ روز بلاول ہاؤس میں منعقدی اجلاس سے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ کنٹرولنگ اتھارٹی آصف علی زرداری ہیں۔ یعنی اب وہ اس بات کے لئے تیار ہوگئے ہیں کہ وہ والد کی نگرانی میں ہی عملی سیاست کریں گے۔ لیکن عملی سیاست کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔
ماضی میں انہوں نے نواز شریف، اور الطاف حسین پر سخت تنقید کی تھی۔ اور سندھ حکومت سے بھی بعض معاملات میں پوچھ گچھ کی تھی۔ اب انہیں یہ بھی سمجھا دیا گیا ہوگا کہ ایم کیو ایم، نواز لیگ یا خود پارٹی کے سنیئرز یعنی تمام ’’ انکلز‘‘ کے ساتھ اور ان کے بارے میں کس طرح سے بات کی جائے۔ بلکہ بعض معاملات میں بات کرنے سے گریز کیا جائے تو بہتر ہے۔ گزشتہ مرتبہ اپنی سیکریٹریٹ وغیرہ کے لئے بلاول بھٹو نے خود ٹیم نہیں چنی تھی، بلکہ والد کی طرف سے دی گئی تھی۔
انہوں نے آتے ہی کراچی میں پانی کی قلت کا نوٹس لیا۔ یہ شعبہ صوبائی وزیر شرجیل میمن کے زیر نگرانی ہے اور ایم کیو ایم آپریشن ، اور عسکری قیادت سے جھگڑے کے بعداس سوال کو بطور اشو اٹھاکر اپنی سیاست کو آگے بڑھا رہی ہے۔ وہ کراچی کے لوگوں کا بیانیہ آپریشن کے بجائے شہری مسائل کی طرف منتقل کرنا چاہ رہی ہے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوگئی ہے۔ جس سے سخت دباؤ میں آئی ہوئی ایم کیو ایم کو سانس لینے کی اسپیس مل گئی ہے ۔ یہ پہلا مسئلہ ہے جس کا وطن واپسی کے بعد بلاول بھٹو نے نوٹس لے لیاْ ْ ۔
ایسا ہی نوٹس بلاول بھٹو نے تھر میں قحط سالی کا بھی لیا تھا۔ جس پر پارٹی کے اندر شدید بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور پارٹی کو مخدوم خاندان کی ناراضگی مول لینی پڑی تھی۔ بلاول بھٹو نے قحط کے معاملے میں کوتاہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک پارٹی کے سنیئر رہنما منظور وسان کو بھی بھیجا تھا۔ جس کے بعد بلاول بھٹو نے خود وزیراعلیٰ کو شو کاز نوٹس جاری کردیا تھا۔ پتہ نہیں اب بلاول بھٹو کو تھر کا قحط جو ابھی بھی جاری ہے یاد بھی ہے یا نہیں۔
تھر کے لوگوں کو جو کچھ ملا وہ سب کو پتہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ جب بلاول بھٹو بیرون ملک چلے گئے تو یہاں پر سات ارب روپے سے زائد رقم کے آر او پلانٹس کے منصوبے آئے۔ ان منصوبوں کے پیچھے کہانیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ کراچی میں پانی کی قلت کا نوٹس لینے کا معاملہ وہ کہاں تک اٹھاتے ہیں اور اس کی لپیٹ میں کون کون آتا ہے؟ کہتے ہیں کہ تاڑنے والے کمال کی نظر رکھتے ہیں۔ سو کراچی میں پانی کی قلت کت مسئلے کا حل سمندر کا پانی میٹھا کرنے کا نسخہ تجویز کیا گیا۔ اور بروقت ایک دبئی کی کمپنی کی جانب سے مفت پلانٹ دینے کی پیشکش کی گئی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس کے عوض قیمتی پلاٹ دینے کی بھی بات ہوئی۔اور یہ پلانٹ کرایے پر چلانے کی بھی بات ہوئی۔
تین ماہ بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کھاتے میں خراب حکمرانی ، کرپشن عوام سے دوری کی اتنی شکایات ہیں کہ اب مزید ان شکایات کی کوئی جگہ نہیں رہی۔ پارٹی کی قیادت نے محسوس کر لیا کہ اب ’’ کچھ کئے بغیر‘‘ کام نہیں چلے گا۔ سو عملی طور پر کچھ اقدامات کرنے کے لئے مخلص اور ماہر اور تجربہ کار لوگ بھی چاہئیں اور وقت بھی۔ یہ تینوں چیزیں پیپلز پارٹی کو اب اتنی آسانی کے ساتھ دستیاب نہیں۔ لہٰذا یہ نسخہ قدرے آسان ہی نہیں تھا۔ بلکہ ضروری بھی تھا۔ کیونکہ سندھ میں جب پارٹی انتخابی اور عوامی رابطے کی مہم میں جاتی تو اس پر سوالات ہوتے۔ باپ بیٹے کی دوری، پارٹی میں بینظیر بھٹو کے بیٹے کی غیر موجودگی بعض کہانیوں کو بھی جنم دیتی۔
ویسے بھی ملک اور علاقے میں صورتحال بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے۔اثاثوں کے ریفرنس نے پھر سر اٹھایا ہے جو آصف علی زرداری کے صدر ہونے کی وجہ سے دبا ہوا تھا۔ تیزی سے بدلتے وہئے حالاتا میںآصف علی زرادری اسلام آباد اور اسٹبلشمنٹ پر زیادہ توجہ اور وقت دینا چاہ رہے ہیں جو کہ ضروری بھی ہے۔ ایسے میں سندھ کے سیاسی معاملات دیکھنے کی ضرورت بھی تھی۔ میڈم فریال تالپور جس طرح سے معاملات چلا رہی تھی اس سے معاملات سلجھنے کے بجائے اور الجھ گئے۔ گزشتہ ماہ سندھ کونسل کے اجلاس میں اس بات کی مزید ضرورت محسوس کی گئی۔
کیا بلاول بھٹو کی واپسی سے پارٹی کی سیاست تبدیل ہو جائے گی؟ کم از کم پارٹی کے کارکنان اور ترجمان یہی بات کہہ رہے ہیں۔ ویسے آصف علی زرداری نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ اب بلاول بھٹو پارٹی چلائیں گے اور ہم اور قائم علی شاہ حکومت کریں گے۔ لیکن جب پارٹی حکومت میں ہو تو جلسے جلوس اور مجمعے لگا کرپارٹی نہیں چلائی جاسکتی۔ ان کی جانب سے حکومتی معاملات میں ’’مداخلت‘‘ ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ابھی تک یہ طے نہیں کہ بلاول کو اس مہم میں تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور یہ کہ کیا وہ اتنا بڑا کام اپنے تجربے کی روشنی میں کر بھی پائیں گے؟
یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آصف زراداری نے بلاول بھٹو کی یہ بات مان لی ہے کہ وہ پناجب کی پارٹی قیادت میں تبدیلی لے آئیں۔ اس ضمن میں وہ پنجاب کے پارٹی کارکنوں سے مشاورت کریں گے۔ بلاول کا یہ خیال ہے کہ جیالوں کو پارٹی میں کلیدی عہدے دیئے جائیں ۔ پناجب میں اپنے کامیاب تجربے کے بعد وہ خیبرپختونخو ا میں بھ یہ تجربہ دہرائیں گے ۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟ پارٹی کے جیالے اس سیاسی اتار چڑھاؤ اور بدلتے ہوئے حالات میں کسی حقیققی قیادت یا وارث کی تلاش کر رہے ہیں ۔ یہی وہ وجوہات ہیں جو ان کے والد کے ساتھ ان کی اخلتافات کی بنی ہیں ۔ بلاول کو اس بات پر بھی غصہ ہے کہ پارٹی نوجوان ووٹر کو کیونکہ نہیں اپنے طرف کھیچ سکی جبکہ تحریک انصاف نے یہ کام کر دکھایا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد کے ساتھ سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور ضلعی صدور سے اجلاس کیا۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے۔ اور پارٹی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں سے رابطے میں رہیں گے۔ اجاس میں مجموعی طور پر یہی تاثر بنا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی بلدیاتی انتخابات سوئیپ کرنا چاہتی ہے۔ بلاول کے اپنی پھوپھی فریال تالپورسے بھی اختلافات ہیں۔
سندھ میں اس سے پہلے پارٹی اور حکومت کے معاملات میڈم فریال تالپور دیکھ رہی تھیں۔سوال یہ ہے کہ ابہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں خاص طور پر وزراء اور ایم پی ایز یا پھر بیوروکریسی کا ہے کہ وہ اب بلاول بھٹو کی سنیں یا میڈم فریال تالپور کی؟ کیا اب میڈم فریال کا رول ختم ہو جائے گا؟
بحران اور حکومت میں خراب کارکردگی میں پھنسی ہوئی پیپلزپارٹی بلاول بھٹو وطن واپس آئے ہیں کہ پارٹی کو سہارا دے سکیں ۔ یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات، نوجوان چیئرمین کی جانب سے پارٹی چلانے کے اسٹائل جس میں ارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کو نظر انداز کیا جارہا تھا اور چند خاص آدمیوں کو نوازا جا رہا تھا۔
کیا بلاول بھٹو پارٹی کو بچانے آئے ہیں؟ جس کے لئے ابھی چند ماہ قبل ان کے والد نے ہی کہا تھا کہ وہ ابھی نوجوان، جذباتی غیر تجربیکار، اور سیاسی کھیل کے لئے نا بالغ ہیں ۔ ملک کو ایک نوجوان، متحرک روشن خیال لیڈر کی ضرورت ہے ۔ ہمیں طیبرانت سماجی اور سیاسی روایات اور جدید پاکستان کا ویزن رکھنے والے میں توازن پیدا کرنا باقی ہے۔ شیاد یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مرتبہ وہ ان کرونیز کے ساتھ کام کرنے کے بجائے باہر جانا بہتر سمجھا۔
بہرحال پیپلز پارٹی کو ایک باغی قسم کے لیڈر کی ضرورت ہے جو لوگوں کو یہ یقین دلاسکے کہ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو حقیقت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ نعرہ جو بھٹو نے ساٹھ کے عشرے کے آخر میں دیا تھا۔آج کی تبدیل شدہ دنیا میں پیپلزپارٹی کے پاس عام یا غریب آدمی کو دینے کے لئے اور تو کچھ نہیں ہے یہ نعرہ موجود ہے
باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات، ذاتی اور سیاسی پر اختلافات بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ جو پارٹی کے مخالفین کے لئے فائدیمند ثابت ہوسکتی ہےْ ۔ پارٹی کے نوجوان چیئرمین ایک بار پھر پارٹی کے کارکنوں کو متحد کر لیتے ہیں اور ان میں وہی جوش و خروش پیدا کر لیتے ہیں۔ پارٹی کی قیادت اور فیصلہ سازی ان کے والد کے پاس ہی رہتی ہے تو پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جہاں ہم آج کھڑے ہیں ۔اور ایک مرتبہ پھر بلاول نیچے چلے جائیں گے۔
پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو کی سات ماہ میں ہی تربیت مکمل ہوگئی ہے ۔ ان کے بیرون ملک جانے کے بعد مارکیٹ میں یہ باتیں گشت کرتی رہیں کہ ان کے والد آصف علی زرداری سے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔ انہیں چوتھی بار سیاست میں لانچ کیا جارہا ہے۔ یہ ماننا ہے کہ انہیں بلدیاتی انتخابات کے لئے پارٹی نے میدان اتارا ہے۔
بلاول بھٹو نے گزشتہ سال 18 اکتوبر کو سانحہ کارساز کی سات سالہ یاد میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ سات سال پہلے ان کی والدہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے استقبالی جلوس پر حملہ ہوا تھا۔اگرچہ پارٹی نے انہیں لانچ کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر یہ پروگرام منعقد کیا تھا۔ ان کی اور پارٹی قیادت کی سیاست اور حکمت عملی ایک دوسرے کے ٹکراؤ میں آگئیں۔لیکن اس کے چند ہی ہفتے بعد پہلے وہ سیاسی منظر سے اور بعد میں ملک سے باہر چلے گئے۔ اور انہیں خود والد نے نا تجربہ کار اور نابالغ قرار دے دیا جس کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے۔
تمام تر کوششوں کے باجود انہوں نے گزشتہ سال والدہ کی برسی میں بھی شرکت نہی کی۔ کہا جارہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی دو بہنوں بختار اورّ آصفہ کی کوششوں کی وجہ سے باپ بیٹے میں مصلحت ہو سکی ہے۔
گزشتہ روز بلاول ہاؤس میں منعقدی اجلاس سے ایسا ہی لگ رہا تھا کہ کنٹرولنگ اتھارٹی آصف علی زرداری ہیں۔ یعنی اب وہ اس بات کے لئے تیار ہوگئے ہیں کہ وہ والد کی نگرانی میں ہی عملی سیاست کریں گے۔ لیکن عملی سیاست کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔
ماضی میں انہوں نے نواز شریف، اور الطاف حسین پر سخت تنقید کی تھی۔ اور سندھ حکومت سے بھی بعض معاملات میں پوچھ گچھ کی تھی۔ اب انہیں یہ بھی سمجھا دیا گیا ہوگا کہ ایم کیو ایم، نواز لیگ یا خود پارٹی کے سنیئرز یعنی تمام ’’ انکلز‘‘ کے ساتھ اور ان کے بارے میں کس طرح سے بات کی جائے۔ بلکہ بعض معاملات میں بات کرنے سے گریز کیا جائے تو بہتر ہے۔ گزشتہ مرتبہ اپنی سیکریٹریٹ وغیرہ کے لئے بلاول بھٹو نے خود ٹیم نہیں چنی تھی، بلکہ والد کی طرف سے دی گئی تھی۔
انہوں نے آتے ہی کراچی میں پانی کی قلت کا نوٹس لیا۔ یہ شعبہ صوبائی وزیر شرجیل میمن کے زیر نگرانی ہے اور ایم کیو ایم آپریشن ، اور عسکری قیادت سے جھگڑے کے بعداس سوال کو بطور اشو اٹھاکر اپنی سیاست کو آگے بڑھا رہی ہے۔ وہ کراچی کے لوگوں کا بیانیہ آپریشن کے بجائے شہری مسائل کی طرف منتقل کرنا چاہ رہی ہے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوگئی ہے۔ جس سے سخت دباؤ میں آئی ہوئی ایم کیو ایم کو سانس لینے کی اسپیس مل گئی ہے ۔ یہ پہلا مسئلہ ہے جس کا وطن واپسی کے بعد بلاول بھٹو نے نوٹس لے لیاْ ْ ۔
ایسا ہی نوٹس بلاول بھٹو نے تھر میں قحط سالی کا بھی لیا تھا۔ جس پر پارٹی کے اندر شدید بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور پارٹی کو مخدوم خاندان کی ناراضگی مول لینی پڑی تھی۔ بلاول بھٹو نے قحط کے معاملے میں کوتاہی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک پارٹی کے سنیئر رہنما منظور وسان کو بھی بھیجا تھا۔ جس کے بعد بلاول بھٹو نے خود وزیراعلیٰ کو شو کاز نوٹس جاری کردیا تھا۔ پتہ نہیں اب بلاول بھٹو کو تھر کا قحط جو ابھی بھی جاری ہے یاد بھی ہے یا نہیں۔
تھر کے لوگوں کو جو کچھ ملا وہ سب کو پتہ ہے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ جب بلاول بھٹو بیرون ملک چلے گئے تو یہاں پر سات ارب روپے سے زائد رقم کے آر او پلانٹس کے منصوبے آئے۔ ان منصوبوں کے پیچھے کہانیاں اب ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ کراچی میں پانی کی قلت کا نوٹس لینے کا معاملہ وہ کہاں تک اٹھاتے ہیں اور اس کی لپیٹ میں کون کون آتا ہے؟ کہتے ہیں کہ تاڑنے والے کمال کی نظر رکھتے ہیں۔ سو کراچی میں پانی کی قلت کت مسئلے کا حل سمندر کا پانی میٹھا کرنے کا نسخہ تجویز کیا گیا۔ اور بروقت ایک دبئی کی کمپنی کی جانب سے مفت پلانٹ دینے کی پیشکش کی گئی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ اس کے عوض قیمتی پلاٹ دینے کی بھی بات ہوئی۔اور یہ پلانٹ کرایے پر چلانے کی بھی بات ہوئی۔
تین ماہ بعد سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے کھاتے میں خراب حکمرانی ، کرپشن عوام سے دوری کی اتنی شکایات ہیں کہ اب مزید ان شکایات کی کوئی جگہ نہیں رہی۔ پارٹی کی قیادت نے محسوس کر لیا کہ اب ’’ کچھ کئے بغیر‘‘ کام نہیں چلے گا۔ سو عملی طور پر کچھ اقدامات کرنے کے لئے مخلص اور ماہر اور تجربہ کار لوگ بھی چاہئیں اور وقت بھی۔ یہ تینوں چیزیں پیپلز پارٹی کو اب اتنی آسانی کے ساتھ دستیاب نہیں۔ لہٰذا یہ نسخہ قدرے آسان ہی نہیں تھا۔ بلکہ ضروری بھی تھا۔ کیونکہ سندھ میں جب پارٹی انتخابی اور عوامی رابطے کی مہم میں جاتی تو اس پر سوالات ہوتے۔ باپ بیٹے کی دوری، پارٹی میں بینظیر بھٹو کے بیٹے کی غیر موجودگی بعض کہانیوں کو بھی جنم دیتی۔
ویسے بھی ملک اور علاقے میں صورتحال بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے۔اثاثوں کے ریفرنس نے پھر سر اٹھایا ہے جو آصف علی زرداری کے صدر ہونے کی وجہ سے دبا ہوا تھا۔ تیزی سے بدلتے وہئے حالاتا میںآصف علی زرادری اسلام آباد اور اسٹبلشمنٹ پر زیادہ توجہ اور وقت دینا چاہ رہے ہیں جو کہ ضروری بھی ہے۔ ایسے میں سندھ کے سیاسی معاملات دیکھنے کی ضرورت بھی تھی۔ میڈم فریال تالپور جس طرح سے معاملات چلا رہی تھی اس سے معاملات سلجھنے کے بجائے اور الجھ گئے۔ گزشتہ ماہ سندھ کونسل کے اجلاس میں اس بات کی مزید ضرورت محسوس کی گئی۔
کیا بلاول بھٹو کی واپسی سے پارٹی کی سیاست تبدیل ہو جائے گی؟ کم از کم پارٹی کے کارکنان اور ترجمان یہی بات کہہ رہے ہیں۔ ویسے آصف علی زرداری نے بہت پہلے کہہ دیا تھا کہ اب بلاول بھٹو پارٹی چلائیں گے اور ہم اور قائم علی شاہ حکومت کریں گے۔ لیکن جب پارٹی حکومت میں ہو تو جلسے جلوس اور مجمعے لگا کرپارٹی نہیں چلائی جاسکتی۔ ان کی جانب سے حکومتی معاملات میں ’’مداخلت‘‘ ناگزیر ہو جاتی ہے۔
ابھی تک یہ طے نہیں کہ بلاول کو اس مہم میں تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور یہ کہ کیا وہ اتنا بڑا کام اپنے تجربے کی روشنی میں کر بھی پائیں گے؟
یہ بھی پتہ چلا ہے کہ آصف زراداری نے بلاول بھٹو کی یہ بات مان لی ہے کہ وہ پناجب کی پارٹی قیادت میں تبدیلی لے آئیں۔ اس ضمن میں وہ پنجاب کے پارٹی کارکنوں سے مشاورت کریں گے۔ بلاول کا یہ خیال ہے کہ جیالوں کو پارٹی میں کلیدی عہدے دیئے جائیں ۔ پناجب میں اپنے کامیاب تجربے کے بعد وہ خیبرپختونخو ا میں بھ یہ تجربہ دہرائیں گے ۔ لیکن یہ سب کیسے ممکن ہوگا؟ پارٹی کے جیالے اس سیاسی اتار چڑھاؤ اور بدلتے ہوئے حالات میں کسی حقیققی قیادت یا وارث کی تلاش کر رہے ہیں ۔ یہی وہ وجوہات ہیں جو ان کے والد کے ساتھ ان کی اخلتافات کی بنی ہیں ۔ بلاول کو اس بات پر بھی غصہ ہے کہ پارٹی نوجوان ووٹر کو کیونکہ نہیں اپنے طرف کھیچ سکی جبکہ تحریک انصاف نے یہ کام کر دکھایا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے والد کے ساتھ سندھ سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی اور ضلعی صدور سے اجلاس کیا۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ اب پارٹی کے معاملات وہ خود دیکھیں گے۔ اور پارٹی عہدیداروں اور منتخب نمائندوں سے رابطے میں رہیں گے۔ اجاس میں مجموعی طور پر یہی تاثر بنا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی بلدیاتی انتخابات سوئیپ کرنا چاہتی ہے۔ بلاول کے اپنی پھوپھی فریال تالپورسے بھی اختلافات ہیں۔
سندھ میں اس سے پہلے پارٹی اور حکومت کے معاملات میڈم فریال تالپور دیکھ رہی تھیں۔سوال یہ ہے کہ ابہ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں خاص طور پر وزراء اور ایم پی ایز یا پھر بیوروکریسی کا ہے کہ وہ اب بلاول بھٹو کی سنیں یا میڈم فریال تالپور کی؟ کیا اب میڈم فریال کا رول ختم ہو جائے گا؟
بحران اور حکومت میں خراب کارکردگی میں پھنسی ہوئی پیپلزپارٹی بلاول بھٹو وطن واپس آئے ہیں کہ پارٹی کو سہارا دے سکیں ۔ یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ باپ اور بیٹے کے درمیان ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات، نوجوان چیئرمین کی جانب سے پارٹی چلانے کے اسٹائل جس میں ارٹی کے کارکنوں اور حامیوں کو نظر انداز کیا جارہا تھا اور چند خاص آدمیوں کو نوازا جا رہا تھا۔
کیا بلاول بھٹو پارٹی کو بچانے آئے ہیں؟ جس کے لئے ابھی چند ماہ قبل ان کے والد نے ہی کہا تھا کہ وہ ابھی نوجوان، جذباتی غیر تجربیکار، اور سیاسی کھیل کے لئے نا بالغ ہیں ۔ ملک کو ایک نوجوان، متحرک روشن خیال لیڈر کی ضرورت ہے ۔ ہمیں طیبرانت سماجی اور سیاسی روایات اور جدید پاکستان کا ویزن رکھنے والے میں توازن پیدا کرنا باقی ہے۔ شیاد یہی وجہ ہے کہ گزشتہ مرتبہ وہ ان کرونیز کے ساتھ کام کرنے کے بجائے باہر جانا بہتر سمجھا۔
بہرحال پیپلز پارٹی کو ایک باغی قسم کے لیڈر کی ضرورت ہے جو لوگوں کو یہ یقین دلاسکے کہ روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے کو حقیقت میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ نعرہ جو بھٹو نے ساٹھ کے عشرے کے آخر میں دیا تھا۔آج کی تبدیل شدہ دنیا میں پیپلزپارٹی کے پاس عام یا غریب آدمی کو دینے کے لئے اور تو کچھ نہیں ہے یہ نعرہ موجود ہے
باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات، ذاتی اور سیاسی پر اختلافات بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ جو پارٹی کے مخالفین کے لئے فائدیمند ثابت ہوسکتی ہےْ ۔ پارٹی کے نوجوان چیئرمین ایک بار پھر پارٹی کے کارکنوں کو متحد کر لیتے ہیں اور ان میں وہی جوش و خروش پیدا کر لیتے ہیں۔ پارٹی کی قیادت اور فیصلہ سازی ان کے والد کے پاس ہی رہتی ہے تو پھر نتیجہ وہی نکلتا ہے جہاں ہم آج کھڑے ہیں ۔اور ایک مرتبہ پھر بلاول نیچے چلے جائیں گے۔
No comments:
Post a Comment