Sunday, June 14, 2015

تقسیم کرنے کی سیاست

تقسیم کرنے کی سیاست
سہیل سانگی
حال ہی میں سندھ میں کچھ نئے انتظامی یونٹ تشکیل دیئے گئے ہیں جبکہ کچھ مزید یونٹوں کا قیام زیر غور ہے۔نئے انتظامی یونٹوں کی تشکیل ایک انظامی معاملہ ہے جس کا مقصد عوام کو زیادہ سہولیات فراہم کرنا اور انتظامیہ تک عوام کی آسانی سے رسائی ہوتا ہے۔ چونکہ یہ انتظامی یونٹ آگے چل کر بلدیات ی و اسمبلی کے انتخابی حلقوں کی بھی بنیاد بنتے ہیں اس لیے یہ معامل سیاسی بن جاتا ہے۔ انتظامی یونٹ بناتے وقت جہاں پہلے سے موجود انفراسٹرکچر ، ٹرانسپورٹ کی سہولت کو ملحوظ خیال رکھا جاتا ہے وہاں معاشی، ثقافتی اور سماجی مربوطی کو بھی ایک اہم عنصر کے طور پر لازمی طور پر رکھا جاتا ہے۔لہٰذا انتظامی یونٹ صرف انتظامی نہیں رہتا کیونکی اس کے سیاسی اور معاشی اثرات بی مرتب ہوتے ہیں لہٰذا یہ سیاسی فیصلہ ہے جس میں عوام کی شرکت اور مشاورت لازمی ہو جاتی ہے۔

ارباب غلام رحیم نے وزارت اعلیٰ نے انتظامی یونٹون کے قیام کے بنیادی تصورکے برعکس مختلف ا ضلاع اور تحصیلوں کوکو توڑ کر اپنے حامیوں کو بادشاہتیں بنا کر دیں۔یہی طرز عمل موجودہ حکومت نے بھی جاری رکھا۔میرپورخاص میں ایک نئی تحصیل بنائی گئی ہے۔ 
تھرپارکر میں ایک تحصیل اسلام کوٹ کااضافہ کیا گیا ہے جب کہ دوسری کی تیاری جاری ہے۔اسلام کوٹ تحصیل کی حدود 1988 میں کچھ اور تجویز کی گئی تھیں۔ضلع میرپور خاص کی تحصیل سندھڑی کو چوتھی بار توڑ کر سانگھڑ ضلع میں ایک نیا ضلع کھپرو قاہم کرنا زیر غور ہے۔ اس سے پہلے بھی سندھ کے اضلاع کو ذاتی ملکیت سمجھ کر سیاسی بنیادوں پر عوام کی مرضی کو اپنے تابع رکھنے کے لیے تحصیلوں، اضلاع اور یہاں تک کہ یونین کونسلوں کی حدود میں بھی ردوبدل کی گئی۔

بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے پارٹی کے مقامی لیڈروں اور کارکنوں سے مشاورت کئے بغیر ارباب غلام رحیم کو خوش کرنے کے لیے رات کو چھپ کر کے نو کوٹ میں جاکر تھرپارکر ضلع کا اعلان کیا تھا۔ اس کی سرحدیں اتنی غیرمنطقی تھیں کہ عمرکوٹ شہر کا آدھا حصہ تھرپارکر ضلع میں شامل کردیا گیا تھا۔ یہ رددو بدل تین بار تبدیل ہوئی۔ ارباب غلام رحیم نے تھرپارکر جو کہ تین اضلاع کے برابر ہے اسکو نہیں مزید اضلاع یا تحصیلوں میں تقسیم نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ 1988 سے تھرپارکر میں مجوزہ تحصیلیں بھی بننے نہیں دیں۔اس کے برعکس حیدرآباد ضلع کی کوکھ سے تین اور اضلاع ٹنڈو محمدخان، ٹنڈوالہیار، اور مٹیاری پیدا کئے گئے۔
 اس تقسیم کے پیچھے سیاسی مقصد تھا۔ حیدرآباد کی تقسیم کے ذریعے ارباب نے مٹیاری کے جاموٹ اور سید خاندانوں کو، ٹنڈوالہیار کے مگسی خاندان اور ٹنڈو محمد خان کے تالپور خاندان کو خوش کیا۔یہ سب بااثر خاندان ارباب کے اتحادی تھے اور پیپلز پارٹی کے مخالف۔

خود عمرکوٹ ضلع کو بھی پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔ مگر پرویز مشرف نے اس کی ضلعی حیثیت ختم کردی۔مگر بعد میں تحریک بھی چلی تو عمرکوٹ کی ضلعی حیثیت بحال کی گئی۔

حکومتوں نے ہمیشہ عوام کی مرضی اور سہولت سے ہٹ کر اور صرف سیاسی مقاصدکے لیے اضلاع بنائے۔ مشرف دور میں ضلع بنانے کی سیاست زوروں پر تھی۔تب عوام کو اس سیاست پرلڑایا گیا۔

قمبرشہدادکوٹ ضلع کے حوالے سے تحریک چلی تھی۔ جس میں چار انسانی جانیں چلی گئیں۔ دو مقامی طور پر طاقتور گروپ چانڈیو اور مگسی آمنے سامنے آگئے۔ تنازع اس سوال پر ہوا کہ نئے ضلع کا نام کیا ہو اور ہیڈکوارٹر کس شہر میں ہو ۔بالآخر نئے ضلع کا نام قمبر شہدادکوٹ ایٹ شہدادکوٹرکھا گیا۔ یہی صورتحال کشمور کندھ کوٹ کی ہے، جہاں پر مقامی ہیوی ویٹ مقابلیمیں آگئے تھے۔ان میں سے ایک نئے ضلع کا نام کندھ کوٹ رکھنا چاہ رہا تھا جبکہ دوسرا اس کا نام کشمور رکھنا چاہ رہا تھا۔

نئے اضلاع اور تحصیلیں بنانے کے لیے عوام سے کیوں نہیں پوچھا جا رہا ہے۔

کہاجاتاہے کہ میرپورخاص کی تقسیم کچھ مخالفین کو سزا دینے کے لیے کی جارہی ہے۔ بھوتاروں کی اس لڑائی عوام پس رہے ہیں۔۔عبداللہ شاہ کے دور حکومت سے لیکر مختلف حکومتیں عوام کی تکالیف کم کرنے کے لیے سندھڑی تحصیل کو تو توڑتی اور جوڑتی رہی ہیں۔ جب ارباب غلام رحیم نے ایسا کیا تو اس کی سخت مخالفت کی گئی۔

احکومت نے میرپورخاص ضلع کی تحصیلوں کی تعداد چھ سے بڑھاکر سات کردی ہے۔میرواہ اور اس کے گردنواح کی یونین کونسلوں کو ملاکر شجاع آباد کے نام سے نئی تحصیل شکیل دی گئی ہے۔ یہ نام صوبائی وزیر سید علی نواز شاہ کے والد کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔

یونین کونسل دولتپور کی دو دیہہ کو کاٹ کر میرپورخاص میں ہی رہنے دیا گیا ہے۔تحصیل ڈگری کی یونین کونسل کی بھی تور پھوڑکی گئی ہے۔اس سے پہلے شجاع آباد نام سے کوئی مقامہ نہیں تھا۔اس نئے انتظامی یونٹ کا ہیڈکوارٹر کہاں قائم ہو؟ کوئی مناسب شہر ہی نہیں۔

کہا جارہا ہے کہ ان علاقوں کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ اس کی بھی وجہ میرپورکاص ضلع کا انتظام شہری تنظیم کے حوالے کرنا تھا۔یہ عجیب بات ہے کہ متعلقہ تحصیل کے افسران سے پوچھ گچھ کرنے کے بجائے ایک اور تحصیل تشکیل دی گئی۔
ارباب غلام رحیم نے حسین بخش مری نام سے تحصیل بنائی تھی۔ چھ سال گزرنے کے بعد بھی اس تحصیل کی حالت قابل رحم ہے۔نہ کوئی شہری سہولت ہے اور نہ ہی کوئی انفراسٹرکچر کا کام کیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سرفراز راجڑ کی فرمائش پر کھپرو کوضلع کا درجہ دیا جارہا ہے۔اور ضلع ان کے والد کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز ہے۔ صل معاملہ سیاسی بالادستی کاہے۔ ارباب حکومت نے من پسند لوگوں کے لیے محفوط انتخابی حلقے بنائے اب موجودہ حکومت بھی جب انتخابات قریب ہیں تو یہ کام دکھا رہی ہے۔اضلاع کی سیاست کے پیچھے پیسے، مہنگے داموں زمیں کی فرخت، سرکاری دفاتر کے لیے عمارتوں کی تعمیر، ٹھیکے اور ملازمتیں بھی ہیں، ہر بااثر ر وڈیرہ اس بہتی گنگا میں سے اپنا حصہ نکالنا چاہتا ہے۔

حکومت چاہے کوئی بھی ہو بھوتاروں کو محفوظ حلقہ انتخاب چاہئیں۔ایسا کرنے سے مختلف فریقین کے مفادات ٹکراؤ میں آتے ہیں۔اور ایک متنازع اور ٹکراؤ کی صورتحال بنے گی۔ پہلے کیا کم ٹکراؤ ہیں کہ ایک اور ٹکراؤ پیدا کیا جارہا ہے۔

No comments:

Post a Comment