سندھ میں تصادم کی طرف بڑھتی صورتحال
ڈی جی رینجرز کے بیان کے بعد۔۔۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
ؓبالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ کراچی میں دہشتگردی او جرائم کے خاتمے جاری آپریشن کی تان اب یہاں پر آکر ٹوٹی ہے کہ کرائیم کلچر ہے اور اس مختلف مجرموں کو بااثر افراد اور گروہوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ انکشافات ڈی جی رینجرز نے اپیکس کمیٹی کے گزشتہ ہفتے کے اجلاس میں کئے ہیں۔ عام شہریوں کے لئے یہ انکشاف نہیں۔ بہت ساری باتیں ان کو پہلے سے پتہ ہیں۔ انکشاف یہ ہے کہ ڈی جی رینجرز نے کھل کر بات کی ہے۔ اور اس بات کو عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔
برسہا برس سے جانتے ہیں کہ یہاں ر بھتہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے ہی نہیں بلکہ نیک کاموں کے نام پر بھی لیا جاتا ہے۔ یعنی زکواۃ اور قربانی کی کھالوں کے ذریعے۔ یہاں تک کہ شہر میں رہنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو بھی زکواۃ کی پرچی پہچتی ہے اور وہ پابند ہیں کہ یہ رقم ادا کریں۔قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر فریقین کے درمیان کئی بار تصادم بھی ہو چکے ہیں۔ قانونی تقاضے پورا کر کے کاروبار کرے یا والے خواہ غیر قانونی کاروبار کرنے، سرکاری زمینوں پر قبضہ کرے یا نجی املاک پر ہر قسم کے کام پر بھتہ وصول ہوتا ہے۔ جس میں سیاسی، لسانی یہاں تک کہ مذہبی گروہ بھی شامل ہیں۔
یہ سچ ہے کہ کراچی میں بہت کچھ ہے، جس کے باس جتنا بازوئے زور ہے وہ اتنا حاصل کر تا رہا ہے۔لہٰذا ہر گروہ کے پاس کلاشنکوف یا دیگر اسلح موجود ہے۔ جو تحفظ سے زیادہ دہشت اور رعب جمانے کے لئے بطور نمائش کیا جاتا ہے۔اس خوف کی فضا نے معاشرے میں ایک اور ادارے کو جنم دیا وہ ہے نجی سیکیورٹی ایجنسیاں۔ جس میں ہزاروں کی تعدا میں لوگ بھرتی کئے گئے ہیں۔ صرف بینک یا دیگر بڑے ملکی خواہ غیر ملکی ادارے اور کپمنیاں ہی نہیں اب تو ہر بڑی دکان کے باہر ایک نجی سیکیورٹی گارڈ کھڑا ملا۔
سرحدوں کی حفاظت پر مامور رینجرز کو کراچی میں قیام امن و امان کے لئے 1990 سے لیکر آج تک مرکزی کردار رہا ہے۔ اس سرحدوں کی رکھوالی کرنے والے ادارے سے قیام امن کا کام لینے کے عوض سندھ حکو مت سالانہ ایک خطیر رقم خرچ کرتی ہے۔ جبکہ وقت کے ساتھ اس ادارے کے اختیارات میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہوگا کہ رینجرز کے سربراہ یا دیگر اعلیٰ افسران کو کراچی کی اس صورتحال کے بارے میں پتہ چلا ہو۔ لیکن ادارے کی طرف سے اس کا تذکرہ اس طرح سے پہلے نہیں آیا۔لہٰذا یہ انکشاف سے زیادہ اعتراف بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عوام سے رجوع کرنے کے بجائے یہ ادارہ اس صورتحال سے خود ہی نمٹتا جبکہ اس مقصد کے لئے مطلوبہ اختیارات اور وسائل اس کو پہلے سے ہی حاصل ہیں۔ عوام سے سیاستدان رجوع کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے یا ایسے ادارے جن سے قانون نافذ کرنے کا کام لیا جاتا ہے وہ عمل کرتے ہیں۔
رینجرز کے حالیہ ’’انکشافات‘‘ پر سیاسی جماعتوں سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی اس بیان پر اعتراض کئے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اس بیان پ کو تمام حدوں پار کرنا قرار دیا ہے اور اسے صوبائی معاملات میں مدخلت کے مترادف کہا ہے۔ اعتزاز احسن کا بیان زیادہ بولڈ اورسیاسی نوعیت کا ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ اب سندھ حکومت کٹہڑے میں کھڑی ہے۔ وہ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ اجلاس کے ایک ہفتے بعد یہ انکشافات کیوں کئے جارہے ہیں؟ اجلاس یا اس کے دوسرے دن تک یوں نہیں کئے گئے؟ ڈی جی رینجرز نے 230 ارب روپے کے حتمی اعدا و شمار کس بنیاد پر کئے ہیں۔
سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی اسمگل کرنے کے لئے سیکیورٹی ادارے ذمہ دار ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ رینجرز جرائم میں ملوث افراد کے نام ظاہر کرے۔ متحدہ کے سربراہ نے جانب سے بھتہ وصول کرنے کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ زکواۃ، فطرے اور قربانی کی کھالوں کی رقم سے اسلح خرید کرنے کا الزام افسوسناک ہے۔ ان کے بیان کی سیاسی بات یہ ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والوں کو آصف، نواز اور میں مل کر سزا دیتے ہیں۔
چند ہفتے پہلے بھی کور کمانڈر سندھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت پر تنقید کی تھی جسے صوبائی حکومت کو شو کاز نوٹس قرار دیا جار ہاتھا۔ حالیہ بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں جس طرح کے معاملات چلائے جا رہے ہیں اس سے رینجرز اور دیگر متعلقہ ادارے خوش نہیں ہیں۔
سندھ کے بعض وزراء اور اعلیٰ افسران کے مقدمات تحقیقات کے لئے نیب کے حوالے کرنا اور یہ خبریں بھی میڈیاکی زینت بننا کہ رینجرز کے پاس پچیس سیاسی رہنماؤں کی لسٹ ہے۔ خاصی معنی خیز بات ہے۔ اگر رینجرز اور دیگر اداروں کے پاس ثبوت ہیں تو میڈیا میں بات کرنے کے بجائے اس ضمن میں عمل کر کے دکھائے۔ کیونکہ ان اداروں کا کام بیانات دینا نہیں عمل کرنا ہے۔
بیانات دینے سے معاملات سیاسی رنگ اختیار کر جاتے ہیں، اور سیاسی رنگ اختیار کرنے کے بعد ان پر عمل درآمد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کو موقعہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی درست کرے اور اچھی حکمرانی، شفافیت ، اور عام لوگوں کو کچھ دینے کے فوری اقدامات کرے۔ تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ اور لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔
ایم کیو ایم جو اس وقت سخت دباؤ میں ہے، اس وقت مزید سیاسی قوتوں کو ان کے ساتھ جوڑنے کا موقعہ کیوں پیدا کیاجارہا ہے؟ جس کا عندیہ الطاف حسین نے اپنے حالیہ بیان میں دیا ہے کہ نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور متحدہ جمہوریت کو بچانے کے لئے کٹھے ہو سکتے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ سندھ میں صورتحال تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چند ہفتوں میں ڈی جی رینجرز دو مرتبہ سندھ حکومت پت تنقید اور عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ جوابا حالیہ بینا پر پارٹی کے سربراہ آصف زرداری ، اعتزاز احسن اور خورشید شاہ تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کر چکے ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے یا سب کچھ مزید پیچیدگیوں کی طرف چلا جاتا ہے۔
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
ؓبالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ کراچی میں دہشتگردی او جرائم کے خاتمے جاری آپریشن کی تان اب یہاں پر آکر ٹوٹی ہے کہ کرائیم کلچر ہے اور اس مختلف مجرموں کو بااثر افراد اور گروہوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ انکشافات ڈی جی رینجرز نے اپیکس کمیٹی کے گزشتہ ہفتے کے اجلاس میں کئے ہیں۔ عام شہریوں کے لئے یہ انکشاف نہیں۔ بہت ساری باتیں ان کو پہلے سے پتہ ہیں۔ انکشاف یہ ہے کہ ڈی جی رینجرز نے کھل کر بات کی ہے۔ اور اس بات کو عوام کے سامنے لایا گیا ہے۔
برسہا برس سے جانتے ہیں کہ یہاں ر بھتہ دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے ہی نہیں بلکہ نیک کاموں کے نام پر بھی لیا جاتا ہے۔ یعنی زکواۃ اور قربانی کی کھالوں کے ذریعے۔ یہاں تک کہ شہر میں رہنے والی غیر مسلم اقلیتوں کو بھی زکواۃ کی پرچی پہچتی ہے اور وہ پابند ہیں کہ یہ رقم ادا کریں۔قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر فریقین کے درمیان کئی بار تصادم بھی ہو چکے ہیں۔ قانونی تقاضے پورا کر کے کاروبار کرے یا والے خواہ غیر قانونی کاروبار کرنے، سرکاری زمینوں پر قبضہ کرے یا نجی املاک پر ہر قسم کے کام پر بھتہ وصول ہوتا ہے۔ جس میں سیاسی، لسانی یہاں تک کہ مذہبی گروہ بھی شامل ہیں۔
یہ سچ ہے کہ کراچی میں بہت کچھ ہے، جس کے باس جتنا بازوئے زور ہے وہ اتنا حاصل کر تا رہا ہے۔لہٰذا ہر گروہ کے پاس کلاشنکوف یا دیگر اسلح موجود ہے۔ جو تحفظ سے زیادہ دہشت اور رعب جمانے کے لئے بطور نمائش کیا جاتا ہے۔اس خوف کی فضا نے معاشرے میں ایک اور ادارے کو جنم دیا وہ ہے نجی سیکیورٹی ایجنسیاں۔ جس میں ہزاروں کی تعدا میں لوگ بھرتی کئے گئے ہیں۔ صرف بینک یا دیگر بڑے ملکی خواہ غیر ملکی ادارے اور کپمنیاں ہی نہیں اب تو ہر بڑی دکان کے باہر ایک نجی سیکیورٹی گارڈ کھڑا ملا۔
سرحدوں کی حفاظت پر مامور رینجرز کو کراچی میں قیام امن و امان کے لئے 1990 سے لیکر آج تک مرکزی کردار رہا ہے۔ اس سرحدوں کی رکھوالی کرنے والے ادارے سے قیام امن کا کام لینے کے عوض سندھ حکو مت سالانہ ایک خطیر رقم خرچ کرتی ہے۔ جبکہ وقت کے ساتھ اس ادارے کے اختیارات میں اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہوگا کہ رینجرز کے سربراہ یا دیگر اعلیٰ افسران کو کراچی کی اس صورتحال کے بارے میں پتہ چلا ہو۔ لیکن ادارے کی طرف سے اس کا تذکرہ اس طرح سے پہلے نہیں آیا۔لہٰذا یہ انکشاف سے زیادہ اعتراف بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عوام سے رجوع کرنے کے بجائے یہ ادارہ اس صورتحال سے خود ہی نمٹتا جبکہ اس مقصد کے لئے مطلوبہ اختیارات اور وسائل اس کو پہلے سے ہی حاصل ہیں۔ عوام سے سیاستدان رجوع کرتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے یا ایسے ادارے جن سے قانون نافذ کرنے کا کام لیا جاتا ہے وہ عمل کرتے ہیں۔
رینجرز کے حالیہ ’’انکشافات‘‘ پر سیاسی جماعتوں سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی اس بیان پر اعتراض کئے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اس بیان پ کو تمام حدوں پار کرنا قرار دیا ہے اور اسے صوبائی معاملات میں مدخلت کے مترادف کہا ہے۔ اعتزاز احسن کا بیان زیادہ بولڈ اورسیاسی نوعیت کا ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ اب سندھ حکومت کٹہڑے میں کھڑی ہے۔ وہ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ اجلاس کے ایک ہفتے بعد یہ انکشافات کیوں کئے جارہے ہیں؟ اجلاس یا اس کے دوسرے دن تک یوں نہیں کئے گئے؟ ڈی جی رینجرز نے 230 ارب روپے کے حتمی اعدا و شمار کس بنیاد پر کئے ہیں۔
سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی اسمگل کرنے کے لئے سیکیورٹی ادارے ذمہ دار ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ رینجرز جرائم میں ملوث افراد کے نام ظاہر کرے۔ متحدہ کے سربراہ نے جانب سے بھتہ وصول کرنے کی تردید کی ہے۔ اور کہا ہے کہ زکواۃ، فطرے اور قربانی کی کھالوں کی رقم سے اسلح خرید کرنے کا الزام افسوسناک ہے۔ ان کے بیان کی سیاسی بات یہ ہے کہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والوں کو آصف، نواز اور میں مل کر سزا دیتے ہیں۔
چند ہفتے پہلے بھی کور کمانڈر سندھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ حکومت پر تنقید کی تھی جسے صوبائی حکومت کو شو کاز نوٹس قرار دیا جار ہاتھا۔ حالیہ بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ سندھ میں جس طرح کے معاملات چلائے جا رہے ہیں اس سے رینجرز اور دیگر متعلقہ ادارے خوش نہیں ہیں۔
سندھ کے بعض وزراء اور اعلیٰ افسران کے مقدمات تحقیقات کے لئے نیب کے حوالے کرنا اور یہ خبریں بھی میڈیاکی زینت بننا کہ رینجرز کے پاس پچیس سیاسی رہنماؤں کی لسٹ ہے۔ خاصی معنی خیز بات ہے۔ اگر رینجرز اور دیگر اداروں کے پاس ثبوت ہیں تو میڈیا میں بات کرنے کے بجائے اس ضمن میں عمل کر کے دکھائے۔ کیونکہ ان اداروں کا کام بیانات دینا نہیں عمل کرنا ہے۔
بیانات دینے سے معاملات سیاسی رنگ اختیار کر جاتے ہیں، اور سیاسی رنگ اختیار کرنے کے بعد ان پر عمل درآمد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کو موقعہ ہے کہ وہ اپنی کارکردگی درست کرے اور اچھی حکمرانی، شفافیت ، اور عام لوگوں کو کچھ دینے کے فوری اقدامات کرے۔ تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ اور لوگ اس کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔
ایم کیو ایم جو اس وقت سخت دباؤ میں ہے، اس وقت مزید سیاسی قوتوں کو ان کے ساتھ جوڑنے کا موقعہ کیوں پیدا کیاجارہا ہے؟ جس کا عندیہ الطاف حسین نے اپنے حالیہ بیان میں دیا ہے کہ نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور متحدہ جمہوریت کو بچانے کے لئے کٹھے ہو سکتے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ سندھ میں صورتحال تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ چند ہفتوں میں ڈی جی رینجرز دو مرتبہ سندھ حکومت پت تنقید اور عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔ جوابا حالیہ بینا پر پارٹی کے سربراہ آصف زرداری ، اعتزاز احسن اور خورشید شاہ تحفظات اور اعتراضات کا اظہار کر چکے ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے یا سب کچھ مزید پیچیدگیوں کی طرف چلا جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment