کوٹا سسٹم ۔ <p>
۔ میرے دل میرے مسافر۔ <p>
۔ سہیل سانگی <p>
<p>کراچی میں ایک بار پھر علحدہ صوبے کے پوسٹر لگ گئے ہیں۔یہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کوئی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، مگر یہ متعصبانہ رویہ جاری رکھا گیا تو وہ سندھ کی وحدت کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دینگے۔ایم کیو ایم کوٹا سسٹم میں مزید دس سال کی توسیع کی مخالفت کر رہی ہے۔
<p>
سندھ میں بڑے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں شہری کوٹا 40 فیصد اور دیہی کوٹا60فیصد ہے۔
<p>
گذشتہ سال سندھ اسمبلی نے 2مارچ میں ہی ایک متفقہ قرارداد منظور کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمتوں اور ترقیوں میں 40 اور 60 فیصد کے تناسب سے کوٹا سسٹم پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔اس قرارداد کی ایم کیو ایم نے بھی حمایت کی تھی۔ایم کیو ایم کے سینئر لیڈر سردار احمد نے ایوان کو بتایا تھا کہ یہ ایک عمومی اصول ہے جس پر عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔
<p>
حکومت نے کوٹا سسٹم میں مزید بیس سال توسیع کے لئے سمری وزیر اعظم کو بھیج دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ایم کیو ایم کے لیڈر انیس قائمخانی کا کہنا ہے کہ کوٹا سسٹم میں توسیع کا مقصد سندھ کی تقسیم کا آغاز ہوگا۔ کوٹا سسٹم کو کسی صورت میں برداشت نہیں کرینگے اور نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
<p>
امن، انصاف اور ترقی تب ممکن ہے جن معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیاں نابرابری ختم ہوگی۔کوٹا سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کے لئے فائدیمند رہا ہے۔میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کوٹا سسٹم کی وجہ سے ہی بہتر اداروں میں تعلیم حاصل کرسکے۔کوٹا سسٹم کی مخالفت شہری آبادی سے تعلق رکھنے والے کر رہے ہیں اور وہ میرٹ پر ضرورت سے زیادہ زور دے رہے ہیں۔یہ مظہر دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ سہری آبادی تعلیم اور ترقی کے فوائد دیہی آبادی تک پہنچنے کے مخالف ہیں۔میڈیا اور دیگر پروپیگنڈہ کے ذرائع شہری آبادی کے پاس ہیں۔کوٹا سسٹم کو اس طور پر نہ لیا جائے کہ یہ میرٹ سے مواقع چھیننا ہے بلکہ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان لوگوں کو مواقع دینا ہے جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔
<p>
دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو وہ تعلیمی مواقع میسر نہیں جو شہری علاقوں کو حاصل ہیں۔
کوٹا سسٹم پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے اور ایک توازن قائم کرنے کے لئے رائج کیا گیا تھا۔ کوٹا سسٹم اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں لوگوں کے پاس وہ سہولتیں اور مواقع نہیں ہیں کہ وہ مقابلہ کر سکیں۔
<p>
اگر یہ سسٹم ختم کیا جاتا ہے تو پہلی ایسے مواقع پیدا کئے جائیں کہ میرٹ یا منصفانہ مقابل ہو سکے۔
<p>
پاکستان جیسے ملک کے لئے جہاں 60فیصد لوگ دیہی علاقوں میں رہ رہے ہوں، کوٹا سسٹم ناگزیر ہے ۔
<p>
حکومت ابھی تک ان لوگوں کو بجلی، روڈ، اسکول، کالج وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات نہیں دے سکی ہے۔ ان لوگوں میں بھی ٹیلنٹ ہے مگر بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہ اس مسئلہ کا شکار ہیں۔ جدید انفرمیشن اور تعلیم نہیں حاصل کرسکتے۔اگر حکومت ان کو شہری سہولیات نہیں دے سکتی تو یہ لوگ کیوں مصائب جھیلیں۔ان لوگوں نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے۔اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ اس نقصان کا ازالہ کرے۔اس سسٹم کو تب تک رائج رہنا چاہئے جب تک ان کو شہری علاقوں کے برابر سہولیات اور مواقع نہیں مل جاتیں۔<p>
1999 میں نواز شریف نے سولہویں ترمیمی بل کے ذریعے کوٹا سسٹم میں بیس سال کی توسیع کردی تھی۔ تب بھی ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت تھی۔اس نے رسمی مخالفت ضرور کی تھی مگر کوئی اس طرح کی دھمکی نہیں دی تھی جیسی اب دی ہے۔پیپلز پارٹی نے حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے بھی اس بل کی حمایت کی تھی۔
<p>
1973 میں جب یہ سسٹم رائج کیا گیا تھا تو اسکا ٹارگیٹ20سال رکھا گیا تھا۔ یعنی 1993 تک۔
<p>
کوٹا سسٹم پاکستان میں نیا نہیں خود اسمبلیوں میں بھی اس سسٹم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جہاں خواتین، اقلیتوں کی نشستیں مخصوص ہیں ۔ 1956کا آئین ہو یا 1962 کا یا 1973آئین ہو کوٹا اور مخصوص نشستیں موجود رہیں۔ آج بھی تمام قومی خواہ صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں مخصوص نشتیں موجود ہیں۔
<p>
مختلف محکموں اور کارپوریشنوں میں نا برابری کو ختم کرنے اور تمام صوبوں کو منصفانہ حصہ دینے کے لئے 1973 میں کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔یہ اس لئے بھی کیا گیا کہ اس سے پہلی چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔اس کی ایل وجہ یہ تھی کہ بیوروکیسی کا تعلق پنجاب سے تھا۔جو کہ قیام پاکستان سے اہم عہدوں پر فائز تھے۔اور ون یونٹ کے بعد اور بھی صورتحال خراب ہوگئی۔ کیونکہ مغرعبی پاکستان کا دارالحکومت لاہور کو بنایا گیا تھا۔
<p>
21 مارچ کو ضیاالحق نے کوتا سسٹم میں دس سال توسیع کا اعلان کیا۔
ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد یہ ضروری ہوگیا تھا کہاس نابرابری کو ختم کیا جائے۔اور ملازمتوں اور دیگر ایسے مواقع میں ہر ایک کو اسکا حق دیا جائے۔اس کے لیے کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔ یہ بدقسمتی تھی یا کوئی منظم چیز بھارت سے ہجرت کرے آنے والے زیادہ تر کراچی اور حیدرآباد میں ہی آکر آباد ہوئے۔دیہی علاقوں سے کم ہجرت ہوئی، جہاں تعلیم معاشی ترقی وغیرہ کے مواقع کم تھے۔ لہذا یہ نابرابری قائم ہو گئی۔یہ لوگ کسی بھی طور پر شہری لوگوں کا مقابلہ نہیں کر پارہے تھے۔اس نا برابری کو اور احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے اور انکو جائز حصہ دینے کے لیے آئین میں ان کے حقوق کا تحفظ دیا گیا۔اور کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔
<p>
حکومت کے تمام کام بیوروکریسی کے ذریعے ہوتے ہیں، اور یہ بیوروکریسی شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔جس نے پسماندہ اور دیہی علاقوں اور مقامی آبادی کے مستقبل اور ترقی کے لیے نہ کچھ کیا اور نہ ہی کچھ سوچا۔
<p>
تجربے اور مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہکوٹا سسٹم کے نفاذ کے بعد بھی طاقتور بیوروکریسی نے دیہی آبادی کی ٹھیک سے خیال نہیں رکھا،ّ ج بھی مرکزی خواہ صوبئی سطح پر سرکاری محکموں، کارپوریشنوں اور بنکوں میں یہ گیپ باقاعدہ نظر آتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے۔
<p>
پسماندہ آبادی کو جو آئینی تحظ دیا گیا ہے اس پر بھی ٹھیک سے عمل نہیں ہوا ہے۔
<p>
ایم کیو ایم جو تقریبا ہر دور میں حکومت میں رہی ہے بتا سکتی ہے کہ کتنا بجٹ دیہی علاقوں کے لئے مختص کیا گیا اور اس میں سے کتنا رلیز ہوا، جو رلیز ہوا وہ کتنا تھا اور کس طرح سے خرچ ہوا۔
<p>
مشرف دور میں تو ایک طرح سے کوٹاسسٹم ختم کردیا گیاتھا۔علاقائی کوٹے کے بجائے سیاسی جماعتوں کا کوٹا نافذ کردیا گیا تھا۔جس کے مطابق ملازمتوں میں ایم کیو ایم کو پچاس فیصد، تیس فیصد مسلم لیگ (ق) کو اور باقی بیس فیصد دیگر اتحادیوں کے لیے تھا۔
۔ میرے دل میرے مسافر۔ <p>
۔ سہیل سانگی <p>
<p>کراچی میں ایک بار پھر علحدہ صوبے کے پوسٹر لگ گئے ہیں۔یہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کوئی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہتا، مگر یہ متعصبانہ رویہ جاری رکھا گیا تو وہ سندھ کی وحدت کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دینگے۔ایم کیو ایم کوٹا سسٹم میں مزید دس سال کی توسیع کی مخالفت کر رہی ہے۔
<p>
سندھ میں بڑے تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں شہری کوٹا 40 فیصد اور دیہی کوٹا60فیصد ہے۔
<p>
گذشتہ سال سندھ اسمبلی نے 2مارچ میں ہی ایک متفقہ قرارداد منظور کرکے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمتوں اور ترقیوں میں 40 اور 60 فیصد کے تناسب سے کوٹا سسٹم پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔اس قرارداد کی ایم کیو ایم نے بھی حمایت کی تھی۔ایم کیو ایم کے سینئر لیڈر سردار احمد نے ایوان کو بتایا تھا کہ یہ ایک عمومی اصول ہے جس پر عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔
<p>
حکومت نے کوٹا سسٹم میں مزید بیس سال توسیع کے لئے سمری وزیر اعظم کو بھیج دی ہے۔ پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ایم کیو ایم کے لیڈر انیس قائمخانی کا کہنا ہے کہ کوٹا سسٹم میں توسیع کا مقصد سندھ کی تقسیم کا آغاز ہوگا۔ کوٹا سسٹم کو کسی صورت میں برداشت نہیں کرینگے اور نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
<p>
امن، انصاف اور ترقی تب ممکن ہے جن معاشرے کے مختلف گروہوں کے درمیاں نابرابری ختم ہوگی۔کوٹا سسٹم سندھ کے دیہی علاقوں کے لئے فائدیمند رہا ہے۔میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو کوٹا سسٹم کی وجہ سے ہی بہتر اداروں میں تعلیم حاصل کرسکے۔کوٹا سسٹم کی مخالفت شہری آبادی سے تعلق رکھنے والے کر رہے ہیں اور وہ میرٹ پر ضرورت سے زیادہ زور دے رہے ہیں۔یہ مظہر دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ سہری آبادی تعلیم اور ترقی کے فوائد دیہی آبادی تک پہنچنے کے مخالف ہیں۔میڈیا اور دیگر پروپیگنڈہ کے ذرائع شہری آبادی کے پاس ہیں۔کوٹا سسٹم کو اس طور پر نہ لیا جائے کہ یہ میرٹ سے مواقع چھیننا ہے بلکہ اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ان لوگوں کو مواقع دینا ہے جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔
<p>
دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کو وہ تعلیمی مواقع میسر نہیں جو شہری علاقوں کو حاصل ہیں۔
کوٹا سسٹم پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے اور ایک توازن قائم کرنے کے لئے رائج کیا گیا تھا۔ کوٹا سسٹم اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں کئی ایسے علاقے ہیں جہاں لوگوں کے پاس وہ سہولتیں اور مواقع نہیں ہیں کہ وہ مقابلہ کر سکیں۔
<p>
اگر یہ سسٹم ختم کیا جاتا ہے تو پہلی ایسے مواقع پیدا کئے جائیں کہ میرٹ یا منصفانہ مقابل ہو سکے۔
<p>
پاکستان جیسے ملک کے لئے جہاں 60فیصد لوگ دیہی علاقوں میں رہ رہے ہوں، کوٹا سسٹم ناگزیر ہے ۔
<p>
حکومت ابھی تک ان لوگوں کو بجلی، روڈ، اسکول، کالج وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات نہیں دے سکی ہے۔ ان لوگوں میں بھی ٹیلنٹ ہے مگر بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے وہ اس مسئلہ کا شکار ہیں۔ جدید انفرمیشن اور تعلیم نہیں حاصل کرسکتے۔اگر حکومت ان کو شہری سہولیات نہیں دے سکتی تو یہ لوگ کیوں مصائب جھیلیں۔ان لوگوں نے پہلے ہی بہت کچھ برداشت کیا ہے۔اب یہ حکومت کا فرض ہے کہ اس نقصان کا ازالہ کرے۔اس سسٹم کو تب تک رائج رہنا چاہئے جب تک ان کو شہری علاقوں کے برابر سہولیات اور مواقع نہیں مل جاتیں۔<p>
1999 میں نواز شریف نے سولہویں ترمیمی بل کے ذریعے کوٹا سسٹم میں بیس سال کی توسیع کردی تھی۔ تب بھی ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی جماعت تھی۔اس نے رسمی مخالفت ضرور کی تھی مگر کوئی اس طرح کی دھمکی نہیں دی تھی جیسی اب دی ہے۔پیپلز پارٹی نے حزب اختلاف میں ہوتے ہوئے بھی اس بل کی حمایت کی تھی۔
<p>
1973 میں جب یہ سسٹم رائج کیا گیا تھا تو اسکا ٹارگیٹ20سال رکھا گیا تھا۔ یعنی 1993 تک۔
<p>
کوٹا سسٹم پاکستان میں نیا نہیں خود اسمبلیوں میں بھی اس سسٹم کو برقرار رکھا گیا ہے۔ جہاں خواتین، اقلیتوں کی نشستیں مخصوص ہیں ۔ 1956کا آئین ہو یا 1962 کا یا 1973آئین ہو کوٹا اور مخصوص نشستیں موجود رہیں۔ آج بھی تمام قومی خواہ صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں مخصوص نشتیں موجود ہیں۔
<p>
مختلف محکموں اور کارپوریشنوں میں نا برابری کو ختم کرنے اور تمام صوبوں کو منصفانہ حصہ دینے کے لئے 1973 میں کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔یہ اس لئے بھی کیا گیا کہ اس سے پہلی چھوٹے صوبوں اور پسماندہ علاقوں کو نظرانداز کیا جاتا رہا۔اس کی ایل وجہ یہ تھی کہ بیوروکیسی کا تعلق پنجاب سے تھا۔جو کہ قیام پاکستان سے اہم عہدوں پر فائز تھے۔اور ون یونٹ کے بعد اور بھی صورتحال خراب ہوگئی۔ کیونکہ مغرعبی پاکستان کا دارالحکومت لاہور کو بنایا گیا تھا۔
<p>
21 مارچ کو ضیاالحق نے کوتا سسٹم میں دس سال توسیع کا اعلان کیا۔
ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد یہ ضروری ہوگیا تھا کہاس نابرابری کو ختم کیا جائے۔اور ملازمتوں اور دیگر ایسے مواقع میں ہر ایک کو اسکا حق دیا جائے۔اس کے لیے کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔ یہ بدقسمتی تھی یا کوئی منظم چیز بھارت سے ہجرت کرے آنے والے زیادہ تر کراچی اور حیدرآباد میں ہی آکر آباد ہوئے۔دیہی علاقوں سے کم ہجرت ہوئی، جہاں تعلیم معاشی ترقی وغیرہ کے مواقع کم تھے۔ لہذا یہ نابرابری قائم ہو گئی۔یہ لوگ کسی بھی طور پر شہری لوگوں کا مقابلہ نہیں کر پارہے تھے۔اس نا برابری کو اور احساس محرومی کو ختم کرنے کے لیے اور انکو جائز حصہ دینے کے لیے آئین میں ان کے حقوق کا تحفظ دیا گیا۔اور کوٹا سسٹم رائج کیا گیا۔
<p>
حکومت کے تمام کام بیوروکریسی کے ذریعے ہوتے ہیں، اور یہ بیوروکریسی شہری علاقوں سے تعلق رکھتی تھی۔جس نے پسماندہ اور دیہی علاقوں اور مقامی آبادی کے مستقبل اور ترقی کے لیے نہ کچھ کیا اور نہ ہی کچھ سوچا۔
<p>
تجربے اور مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہکوٹا سسٹم کے نفاذ کے بعد بھی طاقتور بیوروکریسی نے دیہی آبادی کی ٹھیک سے خیال نہیں رکھا،ّ ج بھی مرکزی خواہ صوبئی سطح پر سرکاری محکموں، کارپوریشنوں اور بنکوں میں یہ گیپ باقاعدہ نظر آتا ہے۔ محسوس ہوتا ہے۔
<p>
پسماندہ آبادی کو جو آئینی تحظ دیا گیا ہے اس پر بھی ٹھیک سے عمل نہیں ہوا ہے۔
<p>
ایم کیو ایم جو تقریبا ہر دور میں حکومت میں رہی ہے بتا سکتی ہے کہ کتنا بجٹ دیہی علاقوں کے لئے مختص کیا گیا اور اس میں سے کتنا رلیز ہوا، جو رلیز ہوا وہ کتنا تھا اور کس طرح سے خرچ ہوا۔
<p>
مشرف دور میں تو ایک طرح سے کوٹاسسٹم ختم کردیا گیاتھا۔علاقائی کوٹے کے بجائے سیاسی جماعتوں کا کوٹا نافذ کردیا گیا تھا۔جس کے مطابق ملازمتوں میں ایم کیو ایم کو پچاس فیصد، تیس فیصد مسلم لیگ (ق) کو اور باقی بیس فیصد دیگر اتحادیوں کے لیے تھا۔
No comments:
Post a Comment