میڈیا کو پرکشش بناؤ اور اسے استعمال کرو کی پالیسی
سہیل سانگی
ولیم روجرز نے کہا تھا تھا کہ میں صرف اتنا ہی جانتا ہوں جو میں نے اخبار میں پڑھا ہے۔امریکی سیاہ فام میکلیم نے کہا تھا کہ اس زمین پر میڈٰیا طاقتور ترین چیز ہے جو جو کسی معصوم کو مجرم اور مجرم کو معصوم بنا سکتی ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرتی ہے۔
پاکستان ریاست کو ویسے تو کئی ایک مسائل سے دو چار ہے، مگر سب سے بڑا مسئلہ بنیادی اداروں پر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسے کنٹرولڈ ریاست کہا جاتا ہے۔
بعض دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کا بھی یہ المیہ ہے کہ حکمرانوں نے میڈیا کو ہی عوام کی آنکھیں اور کان بنا دیا ہے۔ لہٰذا عوام وہ دیکھتے ہیں جو انہیں دکھایا جاتا ہے، وہی سنتے ہیں جو انہیں سنایا جاتا ہے۔ پہلے اس پورے معاملے میں براہ راست حکومت اور اس کے ادارے اپنے ہاتھوں سے سب کچھ کرتے تھے۔ اور حکومت کے اپنے میڈیا کے ادارے اور ابلاغ کے ادارے ہوتے تھے۔ اب بعض پرائیویٹ کردار اور ادارے بھی شامل کر لیے گئے ہیں اور انہیں اس کام میں بعض اہم رول دے دیئے گئے ہیں۔
میڈیا کو پرکشش بناؤ اور اسے استعمال کرو کی پالیسی مکمل طور پر ہمیں نظر آتی ہے۔
ہاکستان میں قومی میڈیا کو ملکی سلامتی سنبھالنے کی ذمہ داری دی ہوئی ہے۔اکبر بگٹی کے قتل پر میڈیا کا کیا کرداررہا؟ اس تصور کو مسلسل پروان چڑھایا گیا کہ صرف سردار ہی بلوچستان کے مسئلے کے ذمہ دار ہیں۔
گمشدہ افراد کے بارے میں قومی میڈیا کو غیرت نہیں آئی۔جیسے ریمنڈ ڈیوس اور کیری لوگر بل پر میڈیا ہاتھوں سے نکلی چلی جا رہی تھی۔ کیا میڈیا نے ریمنڈ ڈیوس کسی میں ایماندارانہ تجزیہ کیا؟ کری لوگر بل پر قومی سالمیت داؤ پر لگی ہوئی محسوس ہو رہپی تھی۔اس بل کی تفصیلات میں جائے بغیر شور مچایا گیا۔یہ نہیں پوچھا گیا کہ جنرل مشرف نے کون کون سے معاہدے کئے؟ ان معہدوں کی مخالفت نہیں کی گئی۔
سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل کیس کے بارے میں قومی میڈیا کا کیا کردار رہا۔
سوئس بنک کیس کے بارے میں تو میڈیا نے شور کیا مگر اس پر کوئی سوال نہیں کہ ایسے میں سے صرف سوئس بنک کیس کا انتخابب کیوں کیا گیا۔
اصغر خان کیس یعنی مہران بینک کیس صرف کرپشن کیس نہیں۔ مگر اس میں جمہوریت کو قتل کیا گیا۔اور غیر جمہوری حلقوں کو مضبوط کیا، آج ہم جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ان میں مہران گیٹ کا بڑا ہاتھ ہے۔
میمو گیٹ کا انداز بیان ابھی تک لوگ نہیں بھولے ہیں۔ٹی وی پر نظر ڈالنے سے ایسا لگتا تھا کہ قومی سلامتی ہاتھوں سے نکلی چلی جا رہی ہے۔مگر کسی بھی نے ان طاقتور لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کر کے نہیں پوچھا گیا کہ انہوں نے دنیا اور پاکستان کو دھوکہ کیوں دیا۔
قومی میڈیا یہ بھول گئی کہ جنرل مشرف نے امریکہ سے معاہدہ کیا تھا کہ ہائی پروفائل طالبان اگر پاکستان میں آئیں گے تو امریکہ براہ راس کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ایبٹ آباد میں اسامہ کے خلاف آپریشن اسی معاہدے کی ایک کڑی تھا۔
میمو گیٹ پر جب باہر کی میڈیا یہ کہہ رہی تھی کہ ایک ان آفیشن کاغذ پر عدلیہ اور میڈیا اتنی جذباتی کیوں ہے؟ تب عدلیہ نے کسی ٹی وی اینکر کو بلا کر نہیں پوچھا کہ میڈیا کو سوچ سمجھ کر خبریں دینی چاہئیں۔ایس ایم ظفر نے تب کہا تھا کہ میڈیا کا کام خبریں دینا ہے اور اسے سوچ سمجھ کر خبریں دینی چاہئیں۔خود میڈیا نے بھی اس مسئلے پر بات نہیں کی کہ اسے کیا کردار ادا کرنا چاہئے۔ہمارے کانوں پر میڈیا کی آواز اس وقت پڑتی ہے جب چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار پر کرپشن کے الزامات سامنے آتے ہیں۔ یہاں بھی میڈیا تنقید کا نشانہ صرف ایک فریق کو بنا رہی تھی۔
غیرت مند میڈیا کی تصویر تب سامنے آئی جب اس نے ملک ریاض سے پیسے لیکر پروگرام کیا۔اس وقت یہ میڈیا کہاں تھی جب نواز شریف، الطاف حسین، عمران خان کے جلسے پیسے لیکر گھنٹوں تک چلائے۔اور تمام ٹی وی چینلز کو ہائی جیک کر لیا جاتا تھا۔جب وزیر اعلیٰ پنجاب صدر زرداری کے خلاف نازیبا الفاظ کہتے ہیں تو لائیو دکھایا جاتا ہے
ڈان ٹی وی کے اینکر طلعت حسین نے سندھ اور سندھی میڈیا پر جو پروگرام کیا وہ قومی میڈیا کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اقرار کیا کہ قومی میڈیا نے لیاری سے نکنے والی محبت سندھ ریلی پر دہشتگردوں کے حملے کی رپورٹنگ صحیح نہیں کی۔ اور اسکا رویہ جانبدارانہ تھا۔
اگر کسی ملک میں میڈیا ایسا وریہ اختیار کرے اور پروگرام پیسوں کے عوض کئے جائیں وہاں صحافت کم اور بزنیس زیادہ ہوگا۔
سرد جنگ کے خاتمے اور جدید ٹیکنالاجی کے عام ہونے کے بعد میڈیا نے بڑے پیمانے پر ترقی کی۔ پاکستان میں بھی پرنٹ، ٹی وی اور ریڈیو کے مختلف میڈیا آؤٹ لیٹ قائم ہوئے۔ریڈیو خواہ ٹی وی اسٹیشن نجی شعبے میں قائم ہوئے۔ میڈیا کو آزادی بھی ملی۔ اور میڈیا ایک بہت بڑا بزنیس بھی بن گیا۔جس بڑے پیمانے پر میڈیا کا کاروبار کھلااس کے لیے مطلوبہ تربیت یافتہ اور پروفیشنل افرادی قوت موجود نہیں تھے۔
اگرچہ ملک میں میڈیا کی تعلیم دینے والے ادارے موجود تھے مگر ہر سال یہ ادارے جو کھیپ مارکیٹ میں بھیج رہے تھے تھے وہ میڈیا کی عملی فیلڈ سے کوسوں دور تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمرشلزم نے کئی ایک ایسے لوگوں کو میڈیا میں جگہ دے دی جو اس پروفیشن سے بے بہرہ تھے۔اور خاص طور پر ایکٹنگ، مخصوص مفادات والوں سے بزنیس لینے کے کاریگر لوگوں نے ٹی وی چینلز پر اپنی جگہ بنا لی۔
لوگوں کو یہ بھی شکایت رہی ہے کہ ٹی وی پروگرام خاص طور پر نیوز اور ٹاک شو نہ صرف یک طرفہ ہوتے ہیں بلکہ ان میں نہ مکتبہ فکر کے لحاظ سے اور نہ ہی علاقوں یا صوبوں کے حوالے سے نمائندگی ہے۔ ایک مخصوص گروپ اور سوچ کے لوگ نئی میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کے باقی عوام کا نقطہ نظر نہ صرف نظر انداز ہوتا رہا ہے بلکہ اسکو غلط طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور غلط توضیحات اوت تشریحات کی جاتی رہی ہیں جس سے ملک کے مختلف علاقوں صوبوں کے لوگوں کے ساتھ ایک اور ناانصافی ہوتی رہی ہے۔میڈیا پر پورا لاہور اسلام آباد کے چند صحافیوں کا قبضہ ہے، جیسے پشاور، کوئٹہ، کراچی، حیدرآباد، ملتان وغیرہ میں کوئی تجزیہ نگار ہی نہیں ہوتا۔
قومی میڈیا خاصا عدم توازن کے ساتھ رہا ہے۔اسی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ میڈیا کے جو بنیادی پیمانے ہیں وہ پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ بعٹی وی سامعین کو بعض اوقات بہت مزے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ماہر تجزیہ نگار سندھ پر تبصرے کر رہے ہوتے ہیں جنہوں نے شاید کبھی سندھ کا کوئی گاؤں بھی دیکھا ہو۔
میڈیا کو اگر خطرہ ہے تو خود میڈیا میں کام کرنے والوں سے ہے۔
1990تک ٹیلیویزن سرکاری کنٹرول میں رہا۔شالیمار ٹیلیویزن نیٹ ورک اور نیٹ ورک ٹیلیویزن مارکیٹنگ کے نام سے پہلا نجی ٹیلیویزن چینل شروع کیا گیا۔اور اسی عشرے میں کچھ غیر ملکی سیٹلائیٹ چینلز بھی شامل کر لیے گئے۔روایتی طور پر پاکستان ٹیلیویزن پاکستان میں میڈیا کا حاوی رہا ہے۔ گزشتہ ایک عشرے میں کئی ایک چینلز شروع ہوئے جو کئی درجن ٹاک شو اور ڈرامہ اور کئی حالات حاضرہ کے پروگرام پیش کرتے ہیں۔
مین اسٹریم م میڈیا پر قبضہ ہے۔ ان کے اشوز الگ ہیں سندھ کے اشوز الگ ہیں۔ ان لوگوں کا اعتماد اٹھ گیا ہے۔جو کچھ کراچی یا اسلام آباد میں ہوتا ہے اسکا اثر سندھ میں کیا ہوتا ہے۔
متبادل میڈیا موجود ہے۔ اگر ہم نے یہ ٹاپک منتخب کیا تو نہیں ہوگا
No comments:
Post a Comment