Tuesday, June 16, 2015

سندھ کی سیاست

سندھ کی سیاست
آزادی کے بعد سندھ میں سیاست بالکل ہی تبدیل ہوگئی۔ اس کی وجہ بڑے پیمانے پر بھارت سے ہجرت کرکے آنے والی آبادی تھی جو آکر شہری علاقوں میں آباد ہو گئی تھی۔حکومت سندھ کے لئے بڑا مسئلہ تھا کہ اتنی بڑی آبادی کوّ آباد کرتی اور انہیں اکموڈیٹ کرتی۔ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیاں پہلا اختلاف مہاجروں کی سندھ میں آبادکاری پر ہوا۔کراچی کو جب ملک کے دالحکومت کے طور پر منتخب کیا گیا تومہاجروں کی اکثریت کراچی منتقل ہوگئی۔

 

حکومت سندھ کی پالیسی یہ تھی کہ مہاجروں کو صوبے بھر میں الگ الگ آباد کیا جائیگا۔سہولیات اور املی وسائل کی کمی کے باعث صوبائی حکومت مزید مہاجر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔اس سوال پر وزیر اعلی سندھ ایوب کھڑو اور وزیراعظم لیاقت علی خان کے درمیان اختلافات عروج پر پہنچ گئے۔ متروکہ جائدا کی الاٹمنٹ اور امن امان کی صورتحال ایسے معاملات تھے جن پر صوبائی سربراہ اور ملکی سربراہ کے درمیان اختلافت بہت بڑھ گئے۔


مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا کہ کراچی کو سندھ سے علحدہ کرکے مرکزی حکومت کا دارالحکومت بنایا جائے۔سندھیوں کے لئے یہ بنیادی مسئلہ بن گیا۔انہوں نے اس فیصلے کو سندھ کی وحدت کے خلاف ایک وار کے طور پر لیا۔سندھ کے لوگوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔سندھ مسلم لیگ اور دیگر سیاسی جماعتیں اس کے خلاف تھیں۔دستور ساز اسمبلی میں سندھ کے نمائندوں نے کراچی کی سندھ سے علحدگی پر آواز اٹھائی۔سندھ اسمبلی نے کراچی کو علحدہ کرنے کی مخالفت کی اور2 فروری1948ع کواس فیصلے کے خلاف قرارداد منظور کی، اس سے قبل سندھ مسلم لیگ کی کونسل نے اس تجویز کے خلاف سخت الفاظ میں ایک قرارداد منظور کی۔



سندھ عوامی محاذ نے اس منصوبے کے خلاف باقائدہ مہم شروع کی اور کرای کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ سندھ عوامی محاذ کے کارکنوں پر ٹارچر کیا گیا اور کئی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔محاذ کے رہنما جی ایم سید کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
سندھ ہاری کمیٹی نے مئی 1948کو نودیرو ہاری کنوینشن میں اس علحدگی کے خلاف قرارداد منظور کی۔ اور2جولائی194کو صوبے بھر میں کراچی ڈے منایا گیا۔ وزیراعلی سندھ ایوب کھڑو نے کراچی کو مرکزی حکومت کے حوالے کرنے اور مزید مہاجر سندھ میں آباد کرنے کی سختی سے مخالفت کی۔لہذا گورنر سندھ نے ان کی حکومت کو برطرف کردیا۔
محقق اور تاریخداں زیئرنگ لکھتے ہیں کہ محمدعلی جناح نے خصوصی اختیارات دیئے جس کے تحت ایوب کھڑو کی حکومت برطرف کردی گئی۔پیر الاہی بخش کو سندھ کا وزیر اعلی مقرر کیا گیا جنہوں نے مرکزی حکومت کے احکامات کی بجاآوری کی۔

لیاقت علی خان کراچی کی سندھ سے علحدگی کے خالق تھے اور انہوں نے اس کے لئے۔ قائداعظم کو راضی کرلیا تھا۔گورنر جنرل پاکستان نے آزادی کے ایکٹ میں ترمیم کی اور دارالحکومت کے قیام کا قانون بنایا۔یوں کراچی کو سندھ سے علحدہ کرکے مرکزی حکومت کی تحویل میں دے دیا گیا۔

سندھ سے کراچی کی علحدگی کے بعد کراچی یونیورسٹی نے سندھی زبان کو بطور امتحانی زبان کے ختم کردیا۔وفاقی دارالحکومت میں ثانوی کلاسوں کا نصاب کچھ اس طرح سے بنایا کہ سندھی طلبا مجبور ہو گئے کہ یا تو انگریزی کو چھوڑیں یا اپنی مادری زبان کو۔لہذا سندھ ی پرائمری تعلیم کراچی میں بڑھنے کے بجائے محدود ہوتی گئی۔کئی پرائمری سندھی اسکولوں کو اردو میں تبدیل کردیا گیا۔

قیام پاکستان کے ابتدائی آٹھ سال کے عرصے میں سندھ کے لوگوں کی شکایات مہاجروں کی آبادکاری، جائداد کی الاٹمنٹ ، کراچی کو علحدہ کرنے سندھی زبان کو نظرانداز کرنے یا محدود کرنے کے حوالے سے بڑھ گئیں۔

بنگالیوں کی جانب سے حکومت میں آبادی کی بنیاد پو حصہ طلب کرنے کے جواب میں حکمران اشرافیہ نے ون یونٹ کاہتھیا راستعمال کیا۔تاکہ بنگالیوں کی عددی اکثریت سے نمٹا جا سکے۔ ون یونٹ سندھ کی جغرافیائی اور سیاسی تاریخ میں بہت بڑی تبدیلی تھا۔ایک بار پھر سندھ کی صوبائی حیثیت ختم کردی گئی اور اسے مغربی پاکستان میں شامل کردیا گیا۔ون یونٹ کی اسکیم نے سندھ خواہ ملک کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے۔

ون یونٹ کا آئیڈیا پنجاب کی حکمران اشرافیہ کے لئے زیادہ اہم تھا، خاص طور پر بنگال میں جگتو فرنٹ کی کامیابی کے بعد۔مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ضم کرنے کی تجویز مسلم لیگ کی اسمبلی پارٹی میں جولائی 1954 میں زیر بحث آیا۔ پنجاب کے وزیراعلی فیروز خان نون نے اس تجویز کی زبردست حمایت کی۔جبکہ وزیر اعلی سندھ عبدالستار پیرزادہ نے مخالفت کی۔سب کمیٹی کے بنگالی ممبران خواجا ناظم الدین اور نورالامین نے ستار پیرزادہ کی حمایت کی۔صوبہ سرحد کے خان عبدالقیوم خان نے بھی سند ھ کے نمائندے کی حمایت کی۔ون یونٹ کے حامیوں کا استدلال تھا کہ ون یونٹ بننے سے صوبائیت کو روکا جا سکتا ہے۔ون یونٹ کے حامیوں نے تجویز دی کہ عبدالستار پیرزادہ چونکہ اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں لہذا انکی چھٹی کرادی جائے اور کسی ایسے مضبوط شخص کو بطور وزیراعلی سندھ لایا جائے جو مؤثر ہو اور ون یونٹ بنانے کا منصوبہ اسمبلی سے منظور کراسکے۔

دوسری جانب اس منصوبے کے مخالفین نے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔نتیجۃ ون یونٹ کے سینکڑوں مخالفین کو جیل بھیج دیا گیا اور منتخب وزیراعلی کو برطرف کردیا گیا۔اگرچہ برطرفی سے پہلے وہ 110 اراکین میں سے74 ممبران سے ون یونٹ کی مخالفت میں دستخط لے چکے تھے۔

ستار پیرزادہ کو ہٹانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ایوب کھڑو کو صوبے کا نیا وزیر اعلی بنایا۔نئے وزیراعلی نے ون یونٹ کا کیس سندھ اسمبلی میں پیش کیا۔ سندھ اسمبلی سے بندوق کے زور پر یہ بل منظور کرادیا گیا۔پیر علی محمد راشدی نے اسمبلی میں ون یوٹ کے حق میں تقریر کرتے ہوئے دہمکی دی کہ کوئی ممبر اس بل کی مخالفت کریگا تو اسے جیل بھیج دیا جائے گا۔

اس عرصے کے دوران ملک میں آئین سازی کا عمل جاری تھا۔قومی اسمبلی آئینی مسودے کی منظوری دینے والی تھی کہ ون یونٹ کے حامیوں کے لیڈر غلام محمد نے 24اکتوبر1954کو اسمبلی توڑ دی۔ اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ اس مسودے میں ون یونٹ کی اسکیم شامل نہیں تھی۔پہلی آئین ساز اسمبلی کے توڑنے کے بعد دوسری اسمبلی منتخب ہوئی جس کا پہلا اجلاس جولائی1955میں ہوا۔ اس اسمبلی کے ذمے پہلا کام یہ تھا کہ وہ ون یونٹ کا بل پاس کرے۔

 
پچاس ہی کے عشرے میں کوٹری بیراج بنا تو اس کے زیرِ کمانڈ تین لاکھ چالیس ہزار ایکڑ زمین سول اور فوجی نوکرشاہی کو دی گئی۔سندھ میں مغربی پاکستان میں ضم کرنے کے بعد سندھ میں واقع گڈو بئراج کی زمینیں تقسیم کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں کوئی سندھی میمبر نہیں تھا۔بلکہ تمام کے تمام پنجاب سے تھے۔ گڈو اور کوٹری بیراج قیام پاکستان کے بعد تعمیر کئے گئے۔ ان دونوں بیراجوں میں زمینیں سول اور ملٹری افسران اور غیر سندھی لوگوں کو دی گئیں۔ٹریکٹر اسکیم کے تحت زمیں ہاریوں کی زمین الاٹ کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت زمین کی الاٹمنٹ سے چار لاکھ ہاری بے دخل ہوئے۔ ساٹھ کے عشرے میں گدو بیراج تعمیر ہوا تو تربیلا ڈیم ، منگلا ڈیم، اور اسلام آباد کے متاثرین، ریٹائرڈ اور عنقریب ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین، انعام اور خطاب پانے والوں کو اور نیلام کے ذریعے یہ زمین دینے کا فارمولہ بنایاگیا۔

صورتحال یہ بنی کہ زمین حاصل کرنے والے 172 سرکاری اہلکاروں میں صرف ایک سندھی تھا۔ نیلامی کی زمینوں کا فائدہ صرف پنجاب کو ہوا۔


 سندھ میں کہاوت کے طور پر کہا جانے لگا کہ خدا کرے کسی کو کوئی خطاب نہ ملے یا کوئی کھلاڑی اچھا کھیل نہ کھیلے کیونکہ اس کا معاوضہ سندھ کی ہی زمین دینے کی شکل میں ادا کیا جائیگا۔ سندھی عوام کی مہاجروں اور پنجابیوں سے ان بن کی جڑیں زمین، شہری جائداد، وسائل کی اسی غیر منصفانہ تقسیم میں پیوست ہیں۔ون یونٹ کے بعد حکمرانوں کا یہ رویہ تھا۔اس رویے اور اقدامات کے بعد قوم پرستی کا ابھرنا فطری بات تھی۔وہ لوگ جنہوں نے ون یونٹ کی حمایت کی تھی اب اس کے مخالف ہو گئے ۔ 

1951 میں ایک سندھی روزنامہ نے اپنے اداریے میں لکھا: ’’سندھ کے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک بڑھ رہے ہیں کہ نئے بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کو دی جائیں گی۔ اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو اس کے بعد سندھ اور وفاقی حکومتیں سندھ کے لوگوں سے تعاون کی توقع نہ رکھیں۔ سندھ کے ہاریوں کا ان زمینوں پر پہلا حق ہے۔ سندھ کے ہاری کے پاس ہل نہیں تھا وہ ہندوؤں کی زمینیں کاشت کرتے تھے۔ اور اب پہلے سے زیرِ کاشت زمینیں مہاجروں کو دی گئی ہیں، اور نئی زمینیں نوکر شاہی کو دی جائیں گی‘‘۔ اداریے میں سندھ کی سیاسی جماعتوں اور لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔
 
سندھ سے علحدگی کے بعد کراچی کے تعلیمی اداروں سے سندھی زبان کو نکالا دیا گیا اور کئی سندھی میڈیم اسکولوں کو اردو میڈیم میں تبدیل کردیا گیایا انہیں بند کردیا گیا۔ون یونٹ کے بعد ایوب حکومت نے اس زمیں کے اصلی باشندوں کی زبانوں کو علاقائی زبانیں قرار دیا اور جس کا واضح اظہار 1959 کی قومی تعلیمی پالیسی میں ملتا ہے۔تعلیمی پالیسی میں برملا کہا گیا کہ صرف پانچویں جماعت تک مادری زبان ذریعہ تعلیم ہوگی اور چھٹی جماعت سے اوردو کو بطور ذریعہ تعلیم رائج کیا جائے گا۔تعلیم پالیسی میں کہا گیا کہ اردو کو سندھ میں بھی وہی حیثیت دی جائے جو اسے باقی مغربی پاکستان میں حاصل ہے۔

 
سندھ کے لوگوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی اور احتجاج کیا۔اور 9نومبر1962کو سندھی زبان کا دن منایا گیا۔سندھی فائنل امتحان کومیٹرک کے برابر تھا اسے ختم کردیا گیا۔اس امتحان کے تحت محکمہ تعلیم اور روینیو میں ملازمت ملتی تھی۔ 


سندھیوں نے زبان کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔سندھ کے لوگوں کے مسلسل مطالبے کے باوجود حکمرانوں نے سندھی زبان کو سندھ میں نظرانداز کرنا جاری رکھا۔ون یونٹ کے دوران سندھی زبان کو ہر مقام پر دبایا گیا۔ ریلوے اسٹیشنوں ، سرکاری عمارتوں اور سڑکوں کے نام اردو میں لکھے گئے۔ریکارڈ اور رجسٹر جو سندھی میں چھاپے جاتے تھے وہ اردو میں چھپنا شروع ہوگئے۔حیدرآباد میونسپل کمیٹی نے گیارہ جون 1965کو فیصلہ کیا کہ اس کی سرکاری زبان اردو ہوگی۔سندھی ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ سندھی اخبارات کو اشتہارات بند کردیئے گئے۔سندھی میگزینوں اور دیگر اشاعتوں کو دبایا گیا اور ان کو سنسرشپ کے مرحلے سے گذرنا پڑا۔وہ سندھی ادیب جن کی تحریریں بھارت کے رسالوں میں شایع ہوتی تھیں انکو پاکستان دشمن ٹہرایا گیا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سندھی زبان کو نظرانداز کرنے کی پالیسی نے سندھ میں بے چینی کو جنم دیا۔
 
جس نے قوم پرستی کو بڑھاوا دیا۔ مجموعی طور پر ون یونٹ کے دوران سندھیوں کے ساتھ ہر شعبے میں ناانصافی کی گئی۔بڑے پیمانے پر پنجابی اور پختون آبادی سندھ میں جا کر آباد ہوئی۔اس مظہر پر ہی ہاری لیڈر حیدر بخش جتوئی نے ’’جیئے سندھ‘‘ کا نعرہ ایجاد کیا۔ مہاجروں اور دیگرغیر سندھیوں نے اس کی مخالفت کی۔یہاں تک کہ بعض مخالفین نے یہ کہنا شروع کیا کہ’’ جیئے سندھ کا مطلب مرے پاکستان‘‘۔4 مارچ1967 کوسندھ یونیورسٹی جامشوروکیمپس سے حیدرآباد تک مارچ کیا۔پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس بھینکی اور فائرنگ کیاور کئی طلبا زخمی اور فرفتار بھی ہوئے۔ تب سے یہ دن قومی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔

 
جولائی192 میں سندھ اسمبلی نے سندھی کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تو حیدرآباد اور کراچی میں رہنے والی اردو بولنے والی آابادی نے ہنگامہ کیا۔ اور حکومت کو اس بل میں ترمیم کرنی پڑی۔’ سندھی سرکاری زبان ہوگی۔ اور اردو کا احترام کیا جائے گا اور بطور قومی زبان اس کو ترقی دلائی جائے گی۔ تاہم آئندہ بارہ سال تک کسی سے ملازمتوں وغیرہ میں اس بنیاد پر امتیاز نہیں برات جائیگا کہ اسے سندھی نہیں آتی۔

No comments:

Post a Comment