Sunday, June 14, 2015

پاکستان کے ساٹھ سال اور سندھ (حصہ اول)

پاکستان کے ساٹھ سال اور سندھ (حصہ اول
)آخر مسئلہ کیا ہے کہ آئے دن سندھ کے لوگ احتجاج اور مظاہرے کرتے رہتے ہیں اور آزادی کے ساٹھ برس گزارنے کے بعد بھی اپنے آپ کو خوش نہیں پا رہے ہیں۔ وہ وفاق کے ہر منصوبے کو بڑے شک و شبہے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد سندھ میں کیا ہوا، اور سندھی عوام کے ساتھ کیا ہوا؟ دراصل یہی وہ اسباب ہیں جس کی وجہ سے سندھ کے قدیم باشندے ناخوش ہیں۔ آزادی سے لے کر اب تک کی سندھ کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال پر سرسری نظر اسباب و وجوہات کو عیاں کردیتی ہے۔

 زبان اور ثقافت
قیام پاکستان کے بعد سندھ سے مجموعی آ?بادی کی بیس فیصد ہندو آبادی کے انخلاء4 اور اس کے بدلے بھارت کے مختلف صوبوں سے آ کر بسنے والی بڑی آبادی کی وجہ سے سندھ کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی حیثیت متاثر ہوئی۔ ہندو آبادی زبان اور ثقافت کے لحاظ سے سندھ کا حصہ تھی۔ ہندوؤں نے مختلف شہروں میں سکول، کالج، تفریح گاہوں اور ہسپتالوں کے حوالوں سے کئی فلاحی کام کیے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سندھ میں ایسے کاموں اور ایسی سہولیات بڑھانے اور برقرار رکھنیکا سلسلہ رک گیا۔

دوسری زبانیں بولنے والوں کی ایک بڑی آبادی کے بسنے سے سندھ کی زبان اور کلچر پر برا اثر پڑا۔
آزادی کے ایک سال بعد سندھ یونیورسٹی کو کراچی سے حیدر آباد منتقل کر دیاگیا اور کراچی کے لیے الگ یونیورسٹی قائم کی گئی۔ سندھ کے ممتاز دانشور محمد ابراہیم جویو نے ایک مقالے میں کہا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی حیدر آباد منتقلی کے وقت وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے خوش گپیوں میں کہا تھا کہ یہ یونیورسٹی اونٹ اور گدھا گاڑی کلچر والوں کے لیے ہے۔
آئندہ پانچ برسوں میں کراچی یونیورسٹی میں سندھی کو امتحانی زبان کے طور پر ختم کردیاگیا اور صرف اردو، بنگالی اور انگریزی میں امتحان دینے کی اجازت دی گئی۔ کچھ ہی عرصہ بعد کراچی میں بعض سندھی سکول بند کر دییگئے یا غیر سندھیوں کو بطور اساتذ? مقرر کیا گیا۔
 زمینیں
1947 میں ہریانہ اور راجپوتانہ سے نقل مکانی تو بند ہوگئی لیکن یو پی اور سی پی سے ہجرت کا سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ باہر سے آنے والے لوگوں کی تعداد یہاں سے جانے والوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔ اس صورتحال پر سندھ کے وزیرِاعلیٰ ایوب کھوڑو کو مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ سندھ نے صرف سات لاکھ مہاجر قبول کرنا منظور کیے تھے، مزید لوگ نہ بھیجے جائیں۔

حکومت کے بیشتر اہلکار مہاجر یا پھر پنجابی تھے۔ انہوں نے افسرشاہی کو اپنے قبضے میں لے کر ہندوؤں کی متروکہ شہری جائیدادوں کے کلیم منظور کرانے کے ساتھ ساتھ زرخیز اور قابل کاشت دیہی زمینوں پر بھی قبضہ کرلیا جو ہندو چھوڑ گئے تھے۔ ان زمینوں کے حقیقی وارث سندھی کسان تھے لیکن آزادی کے خواب کی تعبیر کے برعکس ہندو کی جگہ مسلمان مہاجر آگیا۔
پنجاب کے ایک محقق احمد سلیم اس صورتحال کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ کلیم یا تو بالکل جھوٹے ہوتے تھے یا پھر اصل سے زیادہ۔

قیامِ پاکستان سے چند ہی ماہ قبل سندھ اسمبلی نے ایک بل منظور کیا تھا کہ صوبے میں ہندوؤں کے پاس مسلمانوں کی جو زمینیں گروی ہیں ان کو وہ بیچ نہیں سکتے۔ اس قانون پر پنجاب میں توعمل درآمد کیا گیا لیکن سندھ میں گورنر نے بل پر دستخط نہیں کیے اور وہ باقاعدہ قانون نہ بن سکا۔ پھر جب پاکستان بنا تو یہ زمینیں ہندوؤں کی ملکیت قرار دے دی گئیں اور کلیموں کے ذریعے مہاجروں کو ملیں۔ مقامی لوگ زمین کی ملکیت سے محروم ہوگئے۔ بعض دستاویزات کے مطابق یہ اراضی40 لاکھ ایکڑ یا کل زرعی زمین کا بیالیس فی صد تھی۔

اسی کے ساتھ سندھ ریفیوجی رجسٹریشن آف لینڈ کلیم ایکٹ کے تحت مارچ 1947 کے بعد ہندوؤں کی بیچی گئی زمینوں کے معاہدوں کو منسوخ قرارا دے دیا گیا۔

جب بھارتی حکومت نے زرعی اصلاحات کے تحت زمینیں ضبط کیں تو حیدرآباد دکن، یو پی، سی پی وغیرہ کے ان متاثرہ لوگوں کا نقصان پورا کرنے کرنے کے لئے1958 میں ایک اور قانون بنایا گیا۔ بعد میں جب حکومت کو محسوس ہوا کہ معاملہ گڑبڑ ہے تو صدر ایوب خان نے 1961 میں مارشل ریگولیشن کے ذریعے کلیموں کی دوبارہ تصدیق لازمی قرار دی لیکن چند ہی ماہ میں انہیں یہ قانون واپس لینا پڑا۔
 شہری جائیدادیں پچاس کی دہائی میں ہی ایک اور قانون بنایاگیا کہ مقامی لوگ دس ہزار روپے سے زیادہ مالیت کی شہری جائیداد نہیں خرید سکتے۔ بڑے بڑے مکانات، ہوٹل، سینما ہاؤس نیلام کییگئے اور ان کی ادائیگی کلیم کے کاغذات کے ذریعے کی گئی جن کا یا تو وجود نہ تھا یا کوئی ثبوت نہ تھا۔

پچاس ہی کے عشرے میں کوٹری بیراج بنا تو اس کے زیرِ کمانڈ تین لاکھ چالیس ہزار ایکڑ زمین سول اور فوجی نوکرشاہی کو دی گئی۔
انیس سو اکیاون میں ایک سندھی روزنامہ نے اپنے اداریے میں لکھا: ’سندھ کے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک بڑھ رہے ہیں کہ نئے بیراج کی زمینیں باہر کے لوگوں کو دی جائیں گی۔ اگر ایسا کیا جا رہا ہے تو اس کے بعد سندھ اور وفاقی حکومتیں سندھ کے لوگوں سے تعاون کی توقع نہ رکھیں۔ سندھ کے ہاریوں کا ان زمینوں پر پہلا حق ہے۔ سندھ کے ہاری کے پاس ہل نہیں تھا وہ ہندوؤں کی زمینیں کاشت کرتے تھے۔ اور اب پہلے سے زیرِ کاشت زمینیں مہاجروں کو دی گئی ہیں، اور نئی زمینیں نوکر شاہی کو دی جائیں گی‘۔ اس اداریے میں سندھ کی سیاسی جماعتوں اور لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں۔

ساٹھ کے عشرے میں گدو بیراج تعمیر ہوا تو تربیلا ڈیم ، منگلا ڈیم، اور اسلام آباد کے متاثرین، ریٹائرڈ اور عنقریب ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین، انعام اور خطاب پانے والوں کو اور نیلام کے ذریعے یہ زمین دینے کا فارمولہ بنایاگیا۔
صورتحال یہ بنی کہ زمین حاصل کرنے والے 172 سرکاری اہلکاروں میں صرف ایک سندھی تھا۔ نیلامی کی زمینوں کا فائدہ صرف پنجاب کو ہوا۔ سندھ میں کہاوت کے طور پر کہا جانے لگا کہ خدا کرے کسی کو کوئی خطاب نہ ملے یا کوئی کھلاڑی اچھا کھیل نہ کھیلے کیونکہ اس کا معاوضہ سندھ کی ہی زمین دینے کی شکل میں ادا کیا جائیگا۔ سندھی عوام کی مہاجروں اور پنجابیوں سے ان بن کی جڑیں اسی غیر منصفانہ تقسیم میں ہیں۔

کراچی کو سندھ سے الگ کرنا
ابھی دیہی و شہری آبادی میں جائیدادوں پر قبضے کے معاملے چل ہی رہے تھے کہ سندھ کے عوام پر دوسرا حملہ کیا گیا۔ سندھیوں کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی مرکز کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنانے اوراسے وفاق کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
سندھی لیڈروں کے وفد نے زیارت میں جا کر قائد اعظم سے ملاقات کی اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی مخالفت کی۔ قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے سندھ کے لوگوں کا فائدہ ہے۔ جولائی انیس سو اڑتالیس کو گورنر جنرل کے حکم پر کراچی اور اس سے ملحقہ علاقوں سمیت 812 مربع میل مرکزی حکومت کے حوالے کردیا گیا۔

قائد اعظم انتقال کر گئے اور ان کے بعد کراچی کے سلسلے میں سندھی عوام کے خدشات درست ثابت ہوئے۔

کراچی کو سندھ سے الگ کرکے وفاقی علاقہ بنانے کے فیصلے کے خلاف سندھ سراپا احتجاج بن گیا۔ اس مسئلے پر قائم ہونے والے سندھ عوامی محاذ کے سینکڑوں کارکنوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ بگڑتی ہوئی صورتحال کیپیشِ نظر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے ایک پنجابی وکیل دین محمد کو سندھ کا گورنر بنایا۔ اس پر سندھ کے عوام نے مزید ناراضگی کا اظہار کیا۔ نئے گورنر نے سندھ میں اسیمبلی توڑ کر گورنر راج نافذ کردیا۔

وفاق کی تحویل میں جانے کے باوجود کراچی میں سب سے بڑے ہسپتال، تمام تعلیمی اداروں وغیرہ پر اٹھنے والے اخراجات حکومتِ سندھ ادا کرتی رہی۔
دستور ساز اسمبلی کی رپورٹ کے مطابق 1955 میں یعنی قیام پاکستان کے سات سال بعد کراچی میں سندھ کی جائیداد کی قیمت 96 کروڑ پچاس لاکھ تھی۔ چنانچہ حکومت سندھ کا بجٹ مستقلاً خسارے کا بجٹ بن کر رہ گیا۔

پانی اور مالیات کے مسائل
سندھ کے حوالے سے دو اور امور بڑے متنازع رہے ہیں جن میں دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور قومی مالیاتی ایوارڈ شامل ہیں۔ ان دونوں معاملات پر خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے درمیاں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
پانی کا معاہدہ ایک ایسے دور میں ہوا جب سندھ میں مرکز کی مسلّط کردہ جام صادق کی غیر مقبول حکومت تھی۔ سندھیوں کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس معاہدے میں ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن آگے چل کر اس معاہدے پر بھی حکومتِ پنجاب نے عمل کرنے سے انکار کردیا۔

قومی مالیاتی ایوارڈ مرکز اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل اور آمدن کی تقسیم کا فارمولہ ہوتا ہے۔ اس میں یہ بھی طے کیا جاتا ہے کہ کس صوبے کو کتنی رقم ملے گی۔

اس ایوارڈ کا فیصلہ بھی فاروق لغاری کے نگران دور میں کیا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت سندھ میں نگراں وزیراعلیٰ ممتاز بھٹو تھے اور اس معاہدے پر ان کی ہی پارٹی کے نبی بخش بھرگڑی کے دستخط ہیں۔

یہ وہ مسائل ہیں جن کو پس منظر میں رکھ کر سندھ کا مسئلہ سمجھا جا سکتا ہے۔ انہی مسائل پر صوبے میں بے چینی اور عدم اطمینان رہا اور وقتاً فوقتاً تحریکیں بھی چلتی رہی ہیں۔
اکستان کے ساٹھ سال اور سندھ (حصہ دوم
)
سندھ کی سیاسی تحریکیں
گزشتہ ساٹھ سال کے دوران سندھ میں کئی تحریکیں اٹھیں۔ لیکن ان میں سے تین ایسی تھیں جنہوں نے اسلام آباد کے ایوانوں کو ہلا دیا۔ وہ تحریکیں تھیں 1968 اور 1969 کی ون یونٹ مخالف تحریک، 1983 کی ایم آر ڈی تحریک، اور 1986 کی تحریک۔
آخر صوبہ سندھ کا مسئلہ کیا ہے؟ ان تینوں تحریکوں کی شدت، مقاصد، کردار وغیرہ الگ الگ تھے لیکن ان تحریکوں کے علاوہ طلباء4 ، مزدوروں اور کسانوں نے بھی کئی تحریکیں چلائیں۔


آٹھ جنوری کی طلبہ تحریک 1953 میں ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن کی اپیل پر کراچی کے طلباء4 نے احتجاج کیا۔ پولیس نے زبردست لاٹھی چارج کیا اور بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کیں۔ دوسرے دن اس سے بھی بڑا جلوس نکالا گیا۔ جس میں عام شہری بھی شامل ہوگئے۔ پولیس نے گولیاں چلائیں۔ ستائیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

سندھ کے قومی حقوق کی تحریک بعد میں ایوب کھوڑو، پیر علی محمد راشدی اور ممدوٹ کے ذریعے ون یونٹ نافذ کردیا گیا۔ ون یونٹ کا قیام ویسے تو بنگال کے ساتھ برابری کے لیے تھا لیکن سندھ کو بھی اس نئے ڈھانچے میں بڑا نقصان ہوا۔
ایک طرف سندھ کے لوگ اپنے معاشی وسائل اور جائیداد ک مسائل محسوس کر رہے تھے تو دوسری طرف انہیں زبان اور ثقافت خطرے میں دکھائی دینے لگی تھی۔ شاید اسی لیے سندھ کی قومی تحریک ایک نکاتی مطالبے پر مرکوز ہوگئی یعنی ون یونٹ کا خاتمہ۔ حیدربخش جتوئی، جی ایم سید اور شیخ عبدالمجید سندھی نے اینٹی ون یونٹ فرنٹ قائم کیا جس کی تائید عوامی لیگ اور آزاد پاکستان پارٹی نے بھی کی۔

اکتوبر سن 58 میں ایوب خان نے مارشل لاء4 نافذ کردیا جس کی تیاری اگرچہ خاصے عرصے سے تھی لیکن سندھ کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مارشل لاء4 ون یونٹ کو بچانے کے لیے لگایا گیا تھا۔

ہاری تحریک
ہاریوں کے حقوق کے لیے بننے والا یہ پہلا قانون تھا۔ اسی کے چند برس بعد ہاریوں نے سندھ میں بٹئی تحریک چلائی جس کا مقصد یہ تھا کہ زرعی پیداوار کے نصف کا مالک ہاری ہوگا۔ یہ تحریک خاصے علاقوں میں بڑے زور وشور سے چلی۔ بعض مقامات پر ہاریوں نے اپنا حصہ لینے کے لییباضابطہ مزاحمت بھی کی۔

جیئے سندھ تحریک
ان تمام مسلسل واقعات کے بعد سندھ میں پہلے بے قاعدہ اور بعد میں باقاعدہ ایک سوچ، ایک تحریک نے جنم لیا جسے بعد میں جیئے سندھ تحریک کا نام دیاگیا۔ ابتدائی طور پر اس تحریک کو روایتی زمینداروں اور درمیانے طبقے کی حمایت حاصل تھی۔ اس تحریک کے روحِ رواں جی ایم سید تھے تاہم اس کی بنیادوں میں حیدربخش جتوئی، قاضی فیض محمد، شیخ عبدالمجید سندھی، ہاشم گزدر جیسے کئی رہنما اور کئی گمنام کارکن اور رہنما شامل تھے جن کا اب تاریخ میں کوئی باقاعدہ ذکر نہیں ملتا۔

ایوب خان کا سبز انقلاب اور زرعی اصلاحات سندھ کی دیہی آبادی کا کوئی زیادہ بھلا نہ کر سکے۔ البتہ سبز انقلاب کا فائدہ زمینداروں کو ضرور ہوا۔ عجیب بات ہے کہ اس سبز انقلاب سے فائدہ اٹھانے والے زمیندار ہی بعد میں ایوب کے مخالف ہوکر کھڑے ہوگئے۔

اسی اثناء4 میں ایک زمیندار اور پْرکشش قیادت رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو میدان میں آگئے۔ انہوں نے سندھ کی بے چینی کو استعمال کر کے مقبولیت حاصل کر لی۔ پیپلز پارٹی کا کردار دوہرا رہا۔ وہ صوبائی سطح پر سندھ کے مسائل اور ملکی سطح پر نچلے طبقے کے روٹی، کپڑا اور مکان جیسے مسائل اٹھا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو سندھ کو قابو میں رکھ سکتی ہے۔

ایوب خان اور ون یونٹ کے خلاف تحریک
ون یونٹ قیام کے بعد سندھ میں چھوٹی بڑی تحریکیں چلتی رہیں لیکن باقاعدہ تحریک کی شکل اس وقت بنی جب مغربی پاکستان کے گورنر کالا باغ نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا ایک کمشنر کے کہنے پر تبادلہ کیا۔

اس واقعے نے سندھ میں سیاسی سرگرمی کو نئی جِلا بخشی اور یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے بعد اس تحریک میں سندھ کے ادیب، دانشور، اور عام لوگ بھی شامل ہوگئے۔ 1968 اور 1969 کی تحریک زیادہ شدید تھی جس نے نہ صرف سندھ کے اندر بلکہ پورے ملک میں ایک انقلابی صورتحال پیدا کردی تھی۔ اس تحریک میں اگرچہ قوم پرستی کا رنگ شامل تھا لیکن اپنے جوہر میں یہ تحریک طبقاتی اور جمہوری تھی۔

یہ واحد موقع تھا جب سندھ کی دیہی اور شہری آبادی متحد تھی اور تمام لسانی، قومی، مذہبی تعصبات سے بالاتر تھی۔ شہری علاقوں میں مزدور تحریک چلا رہے تھے اور دیہی علاقوں میں کسان اور درمیانہ طبقہ بغاوت کیے ہوئے تھا۔

اس دور میں قوم پرستوں کے تمام تر کام کے باوجود بھٹو نے بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور جب ستّر کے انتخابات ہوئے تو لوگ پیپلز پارٹی اور بھٹو کے عشق میں اس حد تک چلے گئے کہ ’ووٹ پی پی کا اور سر مرشد کا‘۔ عام انتخابات کا اعلان ہوا تو ایک مرتبہ پھر سندھ کے لوگوں نیتحریک کے تسلسل کو جاری رکھا اور مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستیں سندھی میں بنائی جائیں۔ اس کے لیے بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع ہوا جو حیدرآباد شہر کے مشہور حیدر چوک پر کئی دنوں تک جاری رہا۔ اس موقع پر ایک بار پھر سندھی مہاجر فسادات کرانے کی کوشش کی گئی۔

جب صدر جنرل یحییٰ خان نے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کیا تو بھٹو نے بطور مغربی پاکستان کے لیڈر کے یحییٰ خان کا ساتھ دیا اور بنگلہ دیش میں سِول لڑائی شروع ہوگئی۔ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران سندھ نے اکّا دکّا اظہار کیا تاہم کوئی بھرپور اظہار سامنے نہیں آیا۔

1971 میں جب پی پی انقلاب کی راہ چھوڑ کر اصلاحات کی طرف آئی تو یہ تحریک دم توڑ گئی اور معاملات لسانی اور قوم پرستی کی بنیادوں پر تقسیم ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کی اصلاحات نے قومی سوال کو حل کرنے کی بجائے اس کو مزید الجھایا اور شدید کیا۔
بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد مہاجروں کی نئی کھیپ جن کو عرف عام میں بہاری کہا جاتا ہے سندھ میں آنا شروع ہوگئی۔ یہ کھیپ بھی لاکھوں میں تھی۔

یہ عجیب بات ہے کہ سندھ میں لسانی فسادات پیپلز پارٹی کے ہی دور میں ہوئے۔ یہ فسادات ایک طرح سے مہاجر آبادی کی ناراضگی کا اظہار تھے جو اقتدار سے محروم ہو چکی تھی۔ بعد میں ان کے اطمینان کے لیے سندھ میں اردو سندھی دونوں کو سرکاری زبان بنایا گیا اور اسی کے ساتھ سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیوی بیگم لیاقت علی خان کو سندھ میں گورنرمقرر کیا گیا اور ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد سندھیوں کے تسلّط کا خوف محسوس کرنے والے مہاجروں کے اطمینان کے لیے غیر تحریری طور پر یہ معاہدہ طے ہوا کہ سندھ کا گورنر سندھی نہیں ہوگا۔

لہٰذا آج تک اس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ مہاجروں کے اس بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لیے سندھی قوم پرست طلباء4 نے اردو بولنے والے لیکن پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر بدیع الحسن زیدی کو کراچی سے حیدر آباد آتے ہوئے جام شورو کے پاس اغواء کر لیا۔ انہیں کئی دن بعد مذاکرات کے ذریعے بازیاب کرایا گیا۔
پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے سے سندھیوں کو اربنائزیشن (شہری) دھارے میں شامل ہونے کے لئے کچھ جگہ ملی۔

ایم آرڈی تحریک
ضیاء کا پس منظر اور اس کے کام سندھ میں اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔ ایم آر ڈی کی تحریک جو ملک گیر تھی لیکن اس کا عملی اظہار کچھ اس طرح ہوا کہ سندھ میں اس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ یہ تحریک سندھ کی تحریک کے طور پر ہی پہچانی جانے لگی۔

ضیاء نے سندھ میں جو مظالم کیے وہ کسی طور پر انگریز سامراجیوں سے کم نہ تھے جو انہوں نے برصغیر میں روا رکھے تھے۔اس بات نے سندھ میں فوجی حکومت کے خلاف ایک طاقتور تحریک کو جنم دیا۔
سرکاری اعداد وشمار یہ ہیں کہ اس دور میں 1263 لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہزاروں کو زخمی کیا گیا۔ مظاہرے، جلوس، قید، کوڑے، پھانسیاں اور فوج کے ہاتھوں لاکھاٹ (سکرنڈ) اور میہڑ (دادو) میں مظاہرین کی ہلاکت اس تحریک کے بہت بڑے واقعات تھے۔

ایم آر ڈی تحریک کے دور میں بہادری اور شجاعت کے کئی ایک واقعات ہوئے جو اب سندھ میں لوک ادب کا حصہ بن گئے ہیں۔
یہ تحریک اس وجہ سے ناکام ہوئی کہ حکمران سندھ اور دیگر صوبوں کے شہروں میں لسانی بینادوں پرنفرت پھیلانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس تحریک کے توڑ کے لیے کراچی میں ایم کیو ایم، سندھ پنجابی پشتون اتحاد اور مذہبی بنیاد پرستی کو ابھارا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب تحریک اپنی طبقاتی شکل اختیار کر رہی تھی۔

اس کے باوجود یہ تحریک جاری رہی۔ اس دور میں جب جب قومی تضادات طبقاتی تضادات کے ساتھ جڑے تو معاملہ خاصا گرم ہو گیا۔

اس تحریک اور سندھ میں ضیاء کے خلاف نفرت کو ٹھنڈا کرنے کے لیے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں سندھ سے محمد خان جونیجو کو وزیرِ اعظم بنایا گیا لیکن آگے چل کر جنرل ضیاء الحق نے انہیں برطرف کر دیا۔

انیس سو چھیاسی کی تحریک
انیس سو چھیاسی کی تحریک ضیاء کے تابوت میں آخری کیل تھی۔ اس تحریک کا بڑا واقعہ بینظیر بھٹو کی وطن واپسی اور ملک بھر میں نکالی گئی ریلیاں تھیں لیکن بینظیر بھٹو کا اقتدار میں آنا اور جمہوری دور کی آمد معاہدوں کی نذر ہوگئے اور حقیقی مقاصد حاصل ہی نہ ہو سکے اور نہ ہی کوئی بہت بڑی تبدیلی آ سکی۔

یہ رسمی جمہوری دور چھوٹی قومیتوں کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنا کہ مجموعی طور پر اظہار اور تقریر و تحریر کی آزادی نے ان لوگوں میں یہ احساس مزید بڑھایا کہ وہ کتنی تکلیف میں ہیں۔ وہ اپنی عدالتوں، اپنے افسران ، ثقافت وغیرہ سے محروم ہیں۔

شہری آبادی کی تحریک
1984 میں ایم کیو ایم وجود میں آئی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے مقاصد میں چاہے کچھ بھی رکھا گیا ہو لیکن دراصل مہاجر اس پوزیشن کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے جو انہیں پاکستان بننے کے بعد ایک عشرے تک مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور فیصلہ سازی میں حاصل تھی۔

ایک اور نقصان اس وقت ہوا جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوگیا۔ یوں مرکزی چیزوں پر پنجابی اور پٹھان نے نہ صرف اپنی حصہ داری بڑھا دی بلکہ باقی حصے میں سندھیوں کو بھی شراکت کرا دی تو مہاجر اپنے آپ کو تنگ محسوس کرنے لگے۔

یوں مہاجروں میں اپنی الگ سیاست کرنے کا خیال پیدا ہوا۔ ایم کیو ایم کا پہلا جھگڑا پٹھانوں کے ہی ساتھ ہوا جب بشرا زیدی کیس میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

ضیاء4 حکومت کے غیر جماعتی انتخابات نے ملکی اور صوبائی سیاست پر زیادہ منفی اثرات ڈالے۔

پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کے چکر میں قوم پرستوں کو مراعات دینے یا خوش کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ حکومت کا جانبدارانہ رویہ تھا جس کے جواب میں مہاجریت کو ابھار ملا۔

ایم کیو ایم کا فروغ ریاست کی سطح پر محنت کش طبقے کو نسلی، لسانی اور قوم پرستانہ بنیادوں پر تقسیم کرنا تھا۔ یہ ’لڑاؤ اور حکومت کرو‘ والی پالیسی کا تسلسل تھا۔

افغان جنگ اور اس کی طرف پاکستان کے رویے کے نتیجے میں پندرہ لاکھ سے زیادہ افغانی سندھ میں آگئے جن کی اکثریت اب بھی کراچی میں رہ رہی ہے اور اس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

جیئے سندھ نے مارشل لاء حکومت کی جزوی مخالفت اور حمایت والی پالیسی اختیار کی۔ ضیاء4 کو جی ایم سید کی عیادت کرنے جناح ہسپتال آنا پڑا اور ایم آر ڈی تحریک کے دوران سید کے آبائی گاؤں سن بھی جانا پڑا۔

ستّر اور اسّی کی دہائی میں بائیں بازو کی جماعت اور لیڈروں کی مقبولیت بڑھنا شروع ہوئی۔ اس دور میں کامریڈ جام ساقی اور رسول بخش پلیجو لیڈر کے طور پر ابھرے۔

پاکستان کی تاریخ میں سندھ سے تین وزیر عظم رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، اور بینظیر بھٹو۔ ان تینوں کو فوجی حکومت نے ہٹایا جس وجہ سے سندھ میں فوج کے خلاف نفرت بڑھی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔

دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم اور گریٹر تھل کینال کی تعمیر پر سندھ کی قوم پرست، مذہبی اور وفاق پرست جماعتیں سب متفق ہیں اور وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر احتجاج کرتی رہی ہیں۔

اس وقت کالا باغ ڈیم اور وسائل کی تقسیم ایسے معاملات ہیں جن سے دوریاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔

No comments:

Post a Comment