Monday, June 15, 2015

ذوالفقار مرزا کا بھی کوئی رول ہے؟

ذوالفقار مرزا کا بھی کوئی رول ہے؟ میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
ستمبر میں متوقع بلدیاتی انتخابات خاص طورسندھ کی دو بڑی پارٹیوں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے لئے لمحہ فکریہ بنے ہوئے ہیں کہ عام انتخابات سے مختلف مینڈیٹ نہ آ جائے۔ پیپلزپارٹی نے اس مقصد کے لئے اپنے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بلوا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت کی خراب کارکردگی اور دیگر شکایات اپنی جگہ ہیں لیکن سندھ کے لوگوں کے پاس کوئی متبادل نہیں آتا۔ لیکن گزشتہ دو ماہ کے دوران بعض اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔ جس کی وجہ سے خواہ ٹھوس شکل میں متبادل موجود نہ ہو، لیکن پیپلزپارٹی کی اجارہ داری کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ؤصف علی زرداری کے چار دہائیوں کے دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے باغی بننے نے صورتحال میں گڑبڑ پیدا کردی ہے۔ ڈاکٹر مرزا فی الحال تمام مقدمات میں پکی ضمانت کے بعد بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ لیکن وہ عید کے بعد وطن واپس آئیں گے۔

ڈاکٹر مرزا کے حصے میں دو مثبت باتیں شمار کی جاتی ہیں۔ ایک یہ انہوں نے آج سے تین سال پہلے ایم کیو ایم کے خلاف بات کرنے کا دروازہ کھولا۔ جو کہ اس سے پہلے بند تھا۔ دوسرا یہ کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے’’ بڑے‘‘ آصف علی زرداری پر تنقید کے لئے اسپیس پیدا کی۔ یہ صحیح ہے کہ ڈاکٹر مرزا کے اختلافات کی نوعیت سیاسی کے بجائے ذاتی مانی جارہی ہے لیکن اس کے بعد پارٹی خواہ سیاسی حلقوں اور عام لوگوں میں بھی اس موضوع پر بات ہونے لگی۔ زرداری کے خلاف مکمل بیانیہ بنا۔ اور پھر کہانی سے کہانی جڑتی گئی۔

لیکن ڈاکٹر مرزا نے ایک ایسے ا بیانیہ کا دروازہ کھولا جو سیاسی نہیں بلکہ کردار کشی کا تھا۔ کہ فلاں ایسا ویسا ہے ۔وہ بظاہر تو پارٹی قیادت کی جانب سے پارٹی کے مخلتف رہنماؤں کی جانب سے ان کے خلاف بیانات اور پریس کانفرنسوں کا جواب دے رہے تھے ہے۔ سندھ کی سیاست میں یہ عنصر موجود نہ تھا۔ اب عنصر کے داخل ہونے کے بعد سیاسی مطالبے، بحث اور نعرے پیچھے چلے گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مرزا صاحب کی سیاست اور ان کا رول ایک مقررہ مدت کے بعد ختم ہو جائے گا لیکن یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

ایم کیو ایم باقی سیاست کو چھوڑ کر دو چیزوں پر توجہ دے رہی ہے۔ وہ ہیں بنیادی شہری سہولیات کے مسائل، اور کراچی کے لئے زیادہ رقومات اور ترقیاتی بجٹ میں زیادہ حصہ۔ کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ اس کے لئے نقطہ آغاز بنا۔ شہری مسائل اور شہری سیاست ویسے بھی ایم کیو ایم کی بنیاد رہی ہے۔ اور ان انتخابات کو جیتنا اسکے وجود کا مسئلہ بنا رہا ہے۔ یہ اس وجہ سے بھی چیلینج بنا ہوا ہے کہ اس مرتبہ اس جماعت کو اسٹبلشمنٹ کی آشیرواد حاصل نہیں بلکہ متحدہ کے ایک رہنما کے بقول زیر عتاب ہے۔ یہ ماحول اپنی جگہ پر ہے کہ گزشتہ دنوں متحدہ کی قیادت تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔

کراچی کے حالیہ ضمنی انتخابات نے بھی ثابت کیا کہ اس میٹروپولیٹن شہر میں کوئی اور جماعت بھی گھس سکتی ہے، اوربلدیاتی نشستوں میں کوئی اپنا کچھ حصہ پتی نکال سکتی ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے کراچی عسکری اداروں اور اسکی وجہ سے وفاقی حکومت اور کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے وہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ سندھ میں بلدایتی انتخابات مرحلہ وار ہوسکتے ہیں۔

یعنی اسٹبلشمنٹ چاہتی ہے کہ 2013 کے انتخابات کی طرح یہ انتخابات فری فار آل کے طور پر نہ ہوں۔ اس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ کراچی اور بعض دیگر حساس اضلاع میں مکمل نگرانی میں انتخابات ہوں گے۔ کچھ اس طرح سے جیسے کراچی کے حالیہ بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ انتخابی مہم کی تیاری کے طور پر ایم کیو ایم نے اپنی حکمت عملی بنا لی ہے کہ کسی طور پر کراچی اور حیدرآباد کا مینڈیٹ اس کے ہاتھوں سے نہ جائے۔ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ چونکہ نچلے سطح کی حمایت مخالفت کی بنیاد پرڈالے جاتے ہیں۔ لہٰذا کراچی میں پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، اے این پی، تحریک انصاف، سنی تحریک اور دیگر مذہبی گروپ کے اپنے اپنے پاکیٹس ہیں۔

پاکستان کی جمہوریت کا اندازہ لگائیں کہ ملک کے بڑے صنعتی اور تجارتی مرکز میں بھی ووٹ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر ڈالے جائیں گے۔ پختون ووٹروں کی دعویدار اے این پی، جے یو آئی، اور پی ٹی آئی ہونگی۔ یہ تینوں جماعتیں کسی ’’پدرانہ شخصیت‘‘ کی عدم موجودگی میں باہمی اتحاد کی طرف نہیں جا پائیں گی۔ لہذا بڑی تعداد میں پختون ووٹ کے باوجود یہ ووٹ تقسیم ہو سکتا ہے جس کا فائدہ متحدہ کو مل سکتا ہے۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی جو خیبر پختونخوا میں مخلوط حکومت بنائے ہوئے ہیں لیکن کراچی میں ایک دوسرے کو رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔ سندھی ، بلوچ اور پنجابی ووٹ پیپلز پارٹی کے حصہ کا ہے۔ لیکن یہ بڑی جماعت کراچی میں گزشتہ پندرہ سال کے دوران اپنے ووٹ بینک کو منظم نہ کرسکی ہے۔ لہٰذا وہ اس سے محروم رہی ہے۔

سندھ میں محسوس کیا جارہا ہے کہ آخر کوئی تو وجہ ہے کہ ڈاکٹر مرزا بدین میں دندناتے پھر رہے تھے، حکومت مقدمات دائر کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی۔ گرفتار بھی نہ کر سکی۔ اور ان مقدمات میں ضمانت بھی ہوگئی۔ کراچی میں کورٹ کے اردگرد جو ڈرامہ ہوا جس نے حکومت سندھ اور سندھ پولیس کے اعلیٰ افسران کو بری پوزیشن میں ڈال دیا۔ حکومت انہیں گرفتار کرنا چاہتی تھی لیکن بعد میں انہیں رینجرز کی سیکیورٹی میں اپنی رہائش گاہ تک پہنچا دیا گیا۔ اور ایک حد تک ان کو رینجرز نے ان کو بعد میں بھی سیکورٹی فراہم کی۔

پیپلزپارٹی نے بلاول بھٹو کو کیوں بلایا؟ اس کا اندازہ خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے ہوتا ہے۔ یہاں پر بظاہر ہر سیاسی جماعت خوش ہے کہ اس نے اپنی اپنی پوزیشن مضبوط بنا لی ہے۔ اے این پی سمجھتی ہے وہ دوبارہ ابھر کر آئی ہے۔ مذہبی جماعتیں بھی خوش ہیں کہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف حکومت کی مہم کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔
یہ سب حقیقت بھی ہے۔ لیکن ان نتائج کا ایک اور بھی پہلو ہے کہ آزاد امیدوار زیادہ تعداد میں جیتے ہیں جن کو تجزیہ نگار ’’دوسری بڑی پارٹی‘‘ کا نام دے رہے ہیں۔ کئی اضلاع ور تحصیلوں میں سیاسی جماعتوں کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں۔ اس سادہ اکثریت کو حاصل کرنے کے لئے وہ آزاد امیدواروں کی محتاج ہونگی۔ لہٰذا ان انتخابات کے کچھ بھی تبدیل نہیں کیا لیکن بہت کچھ تبدیل بھی کردیا۔

یہ صحیح ہے کہ پارٹی کے اندر ڈاکٹر مرزا کوئی بڑا ڈینٹ نہیں ڈال سکتے۔ لیکن پیپلز پارٹی کے مخالفین کو ایک آسرا ایک پلیٹ فارم تو دے سکتے ہیں۔ اور سیاست میں ایک خال پیدا ہونے کی صورت میں، اگر اسٹبلشمنٹ اسی طرح مہربان رہی اپنے لئے اسپیس بنا سکتے ہیں۔ خیبر پخوتنخواہ جیسی صورتحال سندھ میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

پیپلزپارٹی نے اس سورتحال کو بھانپ تو لیا ہے، لیکن وہ اس کو رونما ہونے سے روک بھی کسے گی؟ اگرر وک نہیں سکے گی، تو ممکن ہے کہ ایک بار پھر اس صوبے میں جام صادق فارمولا آزمایا جائے۔ بعد میں مظفر شاہ، علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم اسی فارمولے کے تحت وزیراعلیٰ بنے۔ یعنی ایک نشست رکھنے والا شخص بھی ویزراعلیٰ بن سکتا ہے۔

No comments:

Post a Comment