انتخابی منظر نامہ : غیر سیاسی پہلوکا ابھار
Aug 8, 2012
Aug 8, 2012
میرے دل میرے مسافر۔۔ ۔ سہیل سانگی
چیف الیکشن کمشنر فخرالدین ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک کا مستقبل آزاداہ اور منصفانہ انتخابات میں مضمر ہے۔لوگوں کی بھی خواہش ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ عملی طور پرایسیشفاف انتخابات سے تمام جماعتیں بمع اسٹبلشمنٹ کے بھاگتی ہیں۔ ہر جماعت اپنے پسند کے وقت اور مرضی کے یا اپنی شرائط پر انتخابات چاہتی ہے۔پیپلز پارٹی مدت پوری کرنا چاہتی ہے اور انتخابات2013 تک لے جانا چاہتی ہے۔نواز شریف عمران خان کو ٹائیم نہیں دینا چاہتے اور وقت سے پہلے انتخابات چاہتے ہیں مگر صدر زرداری کی موجودگی میں نہیں۔وہ عدلیہ سے آس لگائے بیٹھے ہیں وہ یا تو صدر زرادری کو روانہ کرے یا پھر اتنا کمزور کردے کہ پیپلز پارٹی نواز لیگ کے تمام شرائط مان لے۔
نواز شریف کا مسئلہ ہے کہ صدر زرادری بھی جائیں اور مارشل لا بھی نہ لگے۔مطلب انکو سیدھا اقتدار کی ٹکٹ ملے۔ عمران خان جو دونوں بڑی پارٹیوں کے مخالف ہیں وہ چاہتے ہیں کہ نہ صرف زرداری جائے بلکہ حکومت میں اسٹبلشمنٹ کا بھی کردار ہو۔
سندھ میں دو تہائی آبادی شہروں خواہ دیہات میں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ ایسے انتخابات جو بلاخوف کے ہوں اور ووٹر اپنا ووٹ اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ اور ڈر کے استعمال کریں یہ ایک خواب ہی نظر آتا ہے۔ مشرف ، شیخ رشید اور ایم کیو ایم کا خیال ہے کہ ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے لہٰذا انتخابات نہ کرائے جائیں۔ مشرف اور شیخ رشید بیان دے چکے ہیں کہ آئین نہیں بلکہ ملک اہم اور بالاتر ہے۔الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ملک خطرات میں گھرا ہوا ہے اور سیاستدان اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آئین سے بالاتر قدم اٹھانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔
اسٹبلشمنٹ کا ایک بڑا حصہ بھی یہی چاہتا ہے کہ انتخابات نہ ہوں اور اگر ہوں تو اس کی مرضی کے ہوں۔ اس پس منظرکے باوجودالیکشن کمیشن کی سرگرمی نے انتخابات کا ماحول بنا دیا ہے۔ اس کے بعد عمران خان اور نواز لیگ کے درمیان سیاسی مناظرہ بازی بھی شروع ہوچکی ہے۔ میڈیا اور سیاسی محلفوں میں یہ بھی آئندہ انتخابات موضوع بحث ہیں۔ بحث کا بڑا نقطہ یہ ہے کہ کونسی پارٹی جیتے گی؟ کس پارٹی کا ووٹ بینک بڑھا ہے، کس کا کم ہوا ہے؟
زیادہ تر بحث پیپلز پارٹی اور نواز لیگ پر ہی مرکوزہے ۔ یہ دونوں ملک کی دو بڑی پارٹیاں سمجھی جاتی ہیں اور ماضی میں باری باری اقتدار میں آچکی ہیں۔ ذائقے کے طور پر تحریک انصاف کا بھی ذکرہوتا ہے۔ کیونکہ اس پارٹی کی انتخابی حاضری نہیں۔اس پارٹی کو بطور سرپرائز رکھا جا رہا ہے۔ کیا پتہ یہ سرپرائز کا عنصر پنجاب یا پختونخوا میں کوئی بڑا سیٹ بیک پیدا کردے، اور اگر سیٹ بیک نہیں تو ووٹ خراب کرنے کا کام کرے جس سے پہلے والے کسی صورتحال کو تبدیل کردے۔
مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مرتبہ انتخابات غیر سیاسی بن جائیں گے۔ کیونکہ ملک میں مسلسل غیر سیاسی حکومتویں رہنے کی وجہ سیاست بھی اجتماعی ہونے کے بجائے انفرادی ہوگئی ہے ایسے میں انتخابات کی نوعیت غیر سیاسی ہونا عام فہم بات لگتی ہے۔ ملک میں بڑا ووٹ بینک رکھنے والی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ہی ہیں۔ کیڈر کا کبھی ان جماعتوں سے جذباتی اور رومانس کا رشتہ تھا۔ جس کو سیاسی زبان میں سیاسی رشتہ کہا جاتا ہے۔ وہ اب وہ نہیں رہا۔ لہٰذا اس بار کسی جذباتی یا سیاسی نعرے پر انتخابات کا ماحول بنتا ہوا نظر نہیں آتا۔کوئی پارٹی باقاعدہ کوئی منشور یا تبدیلی کا پروگرام پیش نہیں کر رہی ہے۔ لے دے کر ایک ہی تبدیلی کا نعرہ ہے کہ حکومت تبدیل ہو۔ اور اب ہماری باری ہے۔ یعنی بات نظام کی تبدیلی کی نہیں چہروں کی تبدیلی کی ہو رہی ہے۔ اس بات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ انتخابات ایک ایسی مشق ہے۔جس میں آزادی سے اور مرضی سے نمائندے منتخب کرنے کے بجائے زیادہ تر زور جوڑتوڑ، پیسے اور ڈنڈے کا ہوگا۔اگرچہ یہ تینوں عناصر پہلے بھی استعمال ہوتے تھے، مگر رومانس اور جذباتی لگاؤ والا ووٹ جو سیاسی وابستگی والا ہوتا تھا، نہ پیسے سے ہلتا تھا اور نہ ہی ڈنڈے سے۔
ماضی کے الیکشن بتاتے ہیں کہ شخصیت اور جذباتی لگاؤ اس سیاسی پاپولر ووٹ کو کھینچ کر پولنگ اسٹیشن تک لاتا تھا۔مگر اس مرتبہ سردست ان دونوں بڑی پارٹیوں کے پاس کوئی ایسا جذباتی نعرہ وغیرہ نہیں نظر آتا جو اس ووٹ بینک کو گھر سے نکال سکے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ سیاسی ووٹ گھروں سے باہر نہ نکلے اور اسٹے بیک (stay back)کرے۔ آج جذباتی نعرے کی عدم موجودگی میں اور کونسے فیکٹر ہو سکتے ہیں جو پاپولر ووٹ کو متحرک کر سکیں گے۔
غور سے دیکھا جائے توپاکستان میں ایسے تین فیکٹرز ہو سکتے ہیں۔ (۱) قوم پرستی (۳) کارکردگی (۳) انتخابات لڑنے والے فریقین میں موجود کشیدگی اور مقابلہ۔ یہ کشیدگی جو عام آدمی کو متاثر کر سکے ۔
جہاں تک قوم پرستی کا تعلق ہے یہ فیکٹر نواز لیگ کسی حد تک فائدہ دے سکتا ہے۔کیونکہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ1999ع کے بعد کوئی بھی پنجابی بولنے والا وزیراعظم نہیں ہوا ہے۔چوہدری شجاعت حسین صرف دو ماہ کے لیے قائم مقام وزیر اعظم ہوئے تھے۔اس کی یہ معنی بھی نکالی جا سکتی ہیں کہ پنجاب 13 سال تک اسلام آباد کے اقتدار سے محروم رہا ہے۔اگر کوئی ایسی لہر چلی تو نواز لیگ کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے۔ مگر آدھے پنجاب میں یعنی سرائیکی بیلٹ میں سرائیکی صوبے کا نعرہ پیپلز پارٹی کو فائدہ دے سکتا ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس قوم پرستی کے حوالے سے کچھ خاص نہیں ہے جو پاپولر ووٹ کو متحرک کر سکے۔بعض قوم پرست پارٹیوں کے پارلیمانی سیاست کے اعلان کے بعدایک اور فریق بھی قوم پرستی کے دعویداربن گیا ہے جو اسلام آباد کی سیاست کرنے کا خواہاں ہے ۔ اگرچہ 1988 میں بھی پیپلز پارٹی نے قوم پرستوں کے ایسے اتحاد کا مقابلہ کیا ہے۔مگرتب محترمہ بے نظیر بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت زندہ تھیں اور ضیا کی پرچھائیں ابھی ملک پر منڈلا رہی تھیں۔
کارکردگی کا فیکٹر میں نواز لیگ کو اضافی نمبر مل سکتے ہیں۔ کیونکہ اس پارٹی نے کچھ کیا ہے باقی ایک تصور پیدا کیا ہے کہ پنجاب میں گڈ گورننس ہے۔وہ ایک حد تک انتخابی مہم کا حصہ بھی بنا سکتی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی گورننس قابل تعریف نہیں رہی ہے۔ دنیا کے مہذب ممالک میں معیاری تبدیلی انتخابات کے ذریعے ہی آتی ہے۔جہاں عوام ووٹ کے ذریعے بہتر سے بہتر پارٹی کو منتخب کرتا ہے اور اس سے بہتر سے بہتر کارکردگی لے لیتا ہے۔ وہاں سیاسی جماعتیں اور انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتیں اجتماعی ترقی، اجتماعی بہتری کے لیے کام رکتی ہیں۔
ہمارے ہاں معاملہ مختلف ہے۔ اگر حکومت کوئی اچھا کام بھی کرتی ہے تو مینگنیاں ڈال دیتی ہے۔ ایم پی اے اگر پانچ سو نوجوانوں کو اپنے بنگلے پر بلاکر ملازمت کے ارڈر دیتا بھی ہے تو یہ اس کا ان نوجوانوں پر ذاتی احسان کے طور پر رہتا ہے۔ ایک اور بھی ۔ ایک اور بھی فرق آیاہے۔ ہر حلقہ انتخاب میں ایسے چھوٹے چھوٹے معززین کی تعداد بڑھ گئی ہے جن کے ہاتھ میں پانچ سات سو ووٹر ہوتے ہیں۔لہٰذا اب ایم پی اے صاحب اب براہ راست عام لوگوں سے رابطے میں رہنے کے ان چھوٹے چھوٹے صاحبوں سے رابطے میں رہتا ہے۔یہ چھوٹے صاحبان تھانے، آبپاشی روینیو محکموں میں بڑے صاحب کے نام پر لوگوں کے مسائل حل کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ چھوٹا صاحب پانچ سو ہزار لوگوں کو اپنے رعب اور دائرہ اثر میں رکھتا ہے۔یوں ہر حلقے میں ایک گروہ ذاتی مفادات کا سرکل بناتا ہے۔لہٰذا معاملات کو سیاسی بنانے کے بجائے انفرادی بنادیا گیا ہے۔
جہاں تک کشیدگی کا تعلق ہے کشیدگی جو سیاسی طور پر موجود نظر آتی ہے و ہ پیپلز پارٹی اور ریاست کے بعض اداروں کے درمیان ہے۔ ایسا کوئی معاملہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان نظر نہیں آتا۔ہاں البتہ عمران خان نواز لیگ کو ضرور اس pitch پر لے آیا ہے۔ اور ’’جواب دو، اور جواب لو‘‘ شروع کیا۔ کچھ عرصے تک نواز لیگ بھی مرکز میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں رہی۔
پنجاب میں خاصے عرصے تک پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی مخلوط حکومت رہی۔ آگے چل کر بھی دونوں جماعتیں اعلانیہ و غیر اعلانیہ طور پر ایک دوسرے سے مفاہمت میں رہی ہیں۔ لہٰذا آج معاملہ ماضی کے اسلامی جمہوری اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلے اور مسابقت والا نہیں ہے۔
ایسا ووٹر جو سیاسی ووٹر ہے اور پارٹی سے وابستگی کی بناء پر بلا کسی دھونس اور ڈنڈے کے یا پیسے کے ووٹ کاسٹ کرنے جاتا تھا اور کبھی کبھی برادریوں کے فیصلوں کو بھی بالائے تاک رکھ کر کو اور اپنی مرضی سے ووٹ کاسٹ کرتا تھا، اس ووٹ کے ٹرن آؤٹ کے امکانات کم ہیں۔اس سے نواز لیگ کو پنجاب میں اور پیپلز پارٹی کو سندھ میں نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔کیونکہ دونوں پارٹیوں کو اپنے پانے علاقے میں پچاس فیصد سے زیادہ ایسا ہی ووٹ ملتا ہے۔ اگر پاپولر ووٹ کا ٹرن آؤٹ گھٹتا ہے تو اس کا فائدہ مضبوط آزاد امیدواروں یا روایتی طور پر مقابلہ کرنے والی پارٹیوں کی لاٹری نکل آئے گی۔ ایسے امیدوار اپنے ووٹرز کا انگلیوں پر حساب رکھتے ہیں۔
لگتا ہے کہ پاپولر ووٹ کا ٹرن آؤٹ گھٹنے سے خود مجموعی طور پر ٹرن آؤٹ بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ٹرن آؤٹ اس وجہ سے بھی کم ہوگا کہ کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں کے بعد جعلی ووٹ ختم ہو جائیں گے۔کم ٹرن آؤٹ خود انتخابات اور موجود بڑی پارٹیوں اور ان کی قیادت پرعدم اعتماد کا اظہار ہوگا۔
Sohail Sangi
Aug 8, 2012
No comments:
Post a Comment