Wednesday, June 17, 2015

ایم آرڈی جیل اسٹوریز for BBC Urdu

ایم آرڈی اسٹوریز۔ سہیل سانگی for BBC Urdu
جیل بڑی تربیت گاہ ہے۔ لینن سے لیکر جواہر لال نہرو تک، گرامچی سے نیلسن منڈیلا تک ، فیض سے لیکر شیخ ایاز تک سب نے دوران اسیری بہت کچھ سیکھا اور شاہکار چیزیں لکھیں۔ جیل وہ جگہ ہے جہاں باشعور لوگوں کو اپنی غلطیوں پر نظرڈالنے کا بھی بھرپور موقعہ ملتا ہے۔

اسی کے عشرے میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ملک بھر میں تحریک چلائی گئی لیکن اسکا عروج سندھ میں نظر آیا جس نے اس صوبے کا تشخص ہی بدل دیا۔ ایم آرڈی کے پلیٹ فارم سے رضاکارانہ گرفتاریوں کی اس تحریک میں تقریبا پندرہ ہزارافراد کو گرفتار کیا گیا جس میں لیڈر اور کیڈر دونوں شامل تھے۔ان سیاسی قیدیوں کوصوبے کے مختلف جیلوں میں رکھا گیا ۔ سات ہزارقیدیوں کی گنجائش والے جیلوں اس تحریک کے اسیران کی آمد کے بعد گنجائش سے تین گنا زیادہ قیدی ہوگئے تھے۔جیل بھرو تحریک میں واقعی جیل بھر گئے۔

اتنی بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کو قابو میں رکھنا ،وہ بھی تب جب باہر تحریک زوروں پر ہو ا،نتظامیہ کے بس کی بات نہیں تھی۔ نتیجے میں جیلوں کے اندر جلسے اور جلوس ہوتے رہے۔ایم آرڈی تحریک کی وجہ سے تو جیلوں میں میلہ لگ گیا۔

گرفتار شدگان میں ایم آرڈی اتحاد میں شامل نو جماعتوں کے علاوہ چار اور چھوٹی بڑی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل تھے۔

قید کاٹنے والے جانتے ہیں کہ قیدی اگرجیل کو نہیں کاٹوگے تو جیل اسکو کاٹ دے گی۔یعنی جیل میں خود کو سرگرم اورمتحرک نہ رکھا توبندہ ذہنی طور پر ماؤف ہو جائے گا۔ایم آرڈی کے قیدیوں نے اسی پر عمل کیا اور اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

جیل کے اندر سرگرمیوں نے کارکنوں کی تربیت کی۔ انہیں دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں اور کارکنوں سے تبادلہ خیال کرنے کا موقعہ ملا۔جس سے ان کارکنوں کی ایک دوسرے سے یکجہتی بڑھی۔ یہ وہ انٹرکشن تھا جس سے عام طور پر سیاسی کارکن، سیاسی اور نظریاتی طور پر محروم رہتے ہیں جیل نے انہیں یہ موقعہ فراہم کردیا۔ آج سیاسی جماعتوں میں جو ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہے شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔

جیل سیاسی بحث انفرادی و اجتماعی مطالعے کے ساتھ ساتھ ادبی اور ثقافتی سرگرمیو ں کے بھی مرکز بن گئے۔ یکجہتی اور سیاسی برداشت کا یہ عالم تھا کہ جیل کی چودیواری میں جو بھی سیاسی تقریب ہوتی تھی اس صدارت پریزیڈیم کرتا تھا، جس میں ہر پارٹی کا نمائندہ لیا جاتا تھا۔

ایم آرڈی کی کال پر سات ستمبر کو صوبے بھر کے جیلوں میں تمام سیاسی قیدی نے بھوک ہڑتال کی۔ جیل میں بھوک ہڑتال کی کال ایک اچھا شگون تھا۔ اس سے باہر کی جدوجہد کو مدد ملے گی اورقیدیوں کو بھی احساس دلایا کہ گرفتاری دینے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم نہیں ہوئی۔

کراچی سینٹرل جیل میں کمیونسٹ کیس کے اسیروں نے ڈرامہ ’’باہیوں بیراگین جوں‘‘ ( صحرا گردوں کی آگ) کے نام سے اسٹیج کیا ۔یہ ڈرامہ اس کیس کے اسیر اور ادیب بدر ابڑو کی کہانی پر بنایا گیا تھا جسکو بدر اور شبیر شر نے ڈرامائی شکل دی تھی۔ ڈرامہ کی کہانی کچھ اس طرح تھی کہ ایک عام گھر کا نوجوان کسی طرح سے گرفتار ہوجاتا ہے اس کے بعد کس طرح سے ایک عام خاندان سیاسی بن جاتا ہے۔ نوجوان اذیت گاہ میں خود کو ڈھونڈ نکالتا ہے ۔ اپنے اندر چھپی ہوئی قوت جس سے وہ خود بھی بے خبر تھا اسکے زور پراذیت گاہ کی صورتحال سے باہر نکل آتا ہے۔ پہلے وہ ڈر رہا ہوتا ہے۔ پھر دیکھتا ہے کہ اچھا میں ایسا بھی کر گیا۔


اس ڈرامہ نے اسیروں پر گہرا اثر چھوڑا۔ اگلے ہفتے ٹھٹہ کے کچھ قیدیوں کو مارشل لا عدالت میں پیش کیا گیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ اگر معافی نامہ لکھ کر دیں تو انہیں رہا کردیا جائے گا۔ ورنہ سزا دی جائے گی یہ فیصلہ ہے۔ ان اسیروں نے ڈرامے کے ڈائلاگ دہرائے کہ’’میجر صاحب! اب فیصلہ تم نہیں اس ملک کا عوام کرے گا۔‘‘

جیل نے بے پناہ ادب بھی پیدا کیا۔ ایم آرڈی کے اسیروں میں سے کئی ایک نے جس میں، بدر ابڑو، اعجاز خواجا، مولابخش چانڈیو، ڈاکٹر مولابخش جونیجو، شبیر شر ، مولانا نعمانی اور ایک درج سے زائدلوگوں نے جیل ڈائری لکھی جس میں جیل کے حالات اور واقعات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

دوران اسیری بہت سے لوگوں نے کچھ نہ کچھ لکھا لیکن بدر ابڑو نے بڑے پیمانے پراپنی’’ ادبیات‘‘ جاری رکھی۔اس وجہ سے دوستوں کی طرف سے انہیں ’’آدم بیزاری‘‘ کا خطاب بھی ملا لیکن انہوں نے تین کتابیں لکھ ڈالیں۔ جس میں ایک ادبی تنقید کے نظریے، جیل ڈائری اور کہانیوں کا مجموعہ شامل ہے۔

صحافیوں کے ساتھ ادیب بھی بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بنے ۔ جیل میں ادیبوں کا بھی خاصا گروپ موجود تھا، جہاں سندھی ادبی سنگت کراچی سینٹرل جیل برانچ قائم کی گئی اور ہر ہفتے ادبی کلاس اور اجلاس ہونے لگے جہاں ادیب اور شاعر اپنی تخلیقات پیش کرتے تھے اور شرکا ء اس پر تنقیدی رائے دیتے تھے۔ ان ادبی کلاسوں میں سرگرمی سے حصہ لینے والوں میں بدر ابڑو، ڈاکٹر مولابخش جونیجو، پیپلز پارٹی کے کوڑل شاہ، اسماعیل اداسی، عطا دل، کمال وارثی، بدر ابڑو، سہیل سانگی ، محمدخان سولنگی تھے۔اس طرح کی سرگرمیاں حیدرآباد اور سکھر جیل میں بھی جاری رہیں ۔

سیاسی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے طور پر شہداء اور سیاسی جمہوری اور ترقی پسند جدوجہد کرنے والوں کے دن بھی منائے گئے۔ فیض احمد فیض، نذیر عباسی، حسن ناصر اور دیگر شخصیات کے دن منائے گئے۔ جس میں تقاریر ہی نہیں بلکہ باضابطہ مقالے پڑھے جاتے تھے۔کراچی جیل میں چیدہ چیدہ رہنماؤں پروفیسر جمال نقوی ، پیپلز پارٹی کے پروفیسر این ڈی خان، اور قومی محاذ آزادی کے اقبال حیدر کے ساتھ الگ الگ شام منائی گئی۔

کمیونسٹ روایتی طور اسٹڈی سرکل چلاتے تھے۔ جس میں بعض دیگر پارٹیوں کے کارکنان بھی شریک ہونے لگے۔ ان کے دیکھا دیکھی پیپلز پارٹی، عوامی تحریک اور قومی محاذ آزادی کے رہنما بھی سیاسی کلاسز چلانے لگے۔


جیل میں بعض لوگ کا رول پدرانہ ہوتا تھا اور وہ اپنی پارٹی خواہ دیگر سیاسی قیدیوں کے مسائل اور ان کی سہولیات کے لیے جیل انتظامیہ سے لڑتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے بزرگ سیاستدان قاضی محمد بخش دھامراہ حیدرآباد جیل میں تھے وہ وہاں بابائے جیل تھے ۔انہیں کئی سو اسیروں کے ساتھ کراچی سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔ وہ یہاں بھی بابائے جیل تھے۔ پیپلز پارٹی کے ولی محمد لاسی کراچی نوجوانوں کے لیے پدرانہ شخصیت تھے۔ کیمونسٹ گروپ میں امر لال تھے جس کو دوست مذاق میں انچارج امور خارجہ کہتے تھے۔


وکلاء نے نئے مارشل لا ء ضابطوں کے تحت ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے اختیارات کم کرنے کے خلاف تحریک چلائی۔ اس تحریک میں ممتا ز قانوندان عبدالحفیظ لاکھو، اختر حسین، فاروق نائیک (جو پی پی پی دور میں سینیٹر اور وزیر قانون بنے)،رشید رضوی (بعد میں سندھ ہائی کورٹ کے جج بنے)، ضیااعوان، عبدالمالک اور دیگر گرفتار ہوئے۔ حفیظ لاکھو کا مخصوص جملہ ہوتا تھا کہ ہم وکلاء نے پہل کردی ہے اب سیاستداں اپنا فرض نبھائیں۔


ممتاز بھٹو ابھی پیپلز پارٹی میں تھے۔ ان کا رہن سہن الگ تھلگ ہوتا تھا۔ ان کو اے کلاس دے کر دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا تھا۔ جیل میں ہی انہوں نے کنفیڈرل نظام کا خیال پختہ کیا اور اسکا منشور بھی وہیں ڈرافٹ کیا۔


صورتحال کیا بن رہی ہے، آئندہ کاکیا لائحہ عمل ہے؟ ہر قیدی کو اس سوال کے جواب کی تلاش تھی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما محمد حسین دھنجی دن بھرمختلف وارڈون کے چکر لگاتے تھے اور وہاں مختلف لیڈروں کے ملاقاتیوں سے ملنے والی ’’نئی تازہ‘‘ جمع کرتے تھے کہ اب لائن کیا ہے۔شام کو جیل بند ہونے پر سب بڑے اشتیاق سے ایک ہی لفظ میں پوچھتے تھے کہ: ’’ آئی؟‘ ‘انکا بھی ایک ہی لفظ میں جواب ہوتا تھا کہ’’ نہیں آئی۔ ‘‘ مطلب لائن نہیں آئی۔
پیار علی الانا، فتحیاب علی خان، این ڈی خان، اور جمال نقوی جیسے لوگوں کی جیل میں موجودگی سے ماحول کچھ دانشورانہ بن گیا۔وہ عموما سیاسی اور فلسفانہ نکات اور ماضی کی تاریخ پر بھی بات کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے دانشورانہ سرگرمی بڑھی۔ اس طرح سے ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ تفریح ہونے لگی۔


امداد چانڈیو، شیر محمد مگریو اور محمد خان سولنگی پر مشتمل ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اسیروں کے گروپ کی آواز بہت سریلی تھی۔ وہ خاص طور پر انقلابی گیت، فیض اور ایاز کی شاعری اچھی گاتے تھے۔ جیل کی ہر تقریب وہ انقلابی گیت سناتے تھے اور محفل کو گرماتے تھے۔ ان کے گیتوں کا قیدیوں پربڑا مثبت اثر پڑتا تھا۔ایک نیا جذبہ نیا ولولہ پیدا ہوتا تھا۔


مطلب جس کے پاس جوصلاحیت تھی اس کا وہ اظہار بھی کر رہا تھا اور استعمال بھی۔


سینٹرل جیل کراچی میں مارشل لا کے تحت سزا یافتہ ایک قیدی کا کیس بہت دلچسپ تھا۔ اس نے کھٹمل مارنے کاایک’’ آلہ‘‘ تیارکیا اور اخبارات میں اشتہار دیا کہ ضرورت مند بذریعہ وی پی پی منگوا سکتے ہیں۔ کسی فوجی افسر کی بیوی نے بھی یہ’’ آلہ‘‘ منگوایا۔جب اس نے کھولا تو چھوٹے سے لفافے میں ایک چمٹی اور ایک چھوٹا سا ہتھوڑا برآمد ہوا اور اس کے ساتھ کاغذ پر چھپی ہوئی ترکیب استعمال لکھی تھی کہ چمٹی سے کھٹمل پکڑو اور ہتھوڑے سے اس کو مارو۔ اس پر دھوکہ دہی کا کیس بنایا گیا تھا۔ ملزم کا استدلال تھا کہ اس کا درجہ سائنسدان کے برابر ہے کیونکہ اس نے ایک انوکھا آلہ ایجاد کیا ہے۔

تحریک کے آگے پل باندھنے کے لیے جنرل ضیا نے کئی اقدامات کیے ۔ ان میں سے ایک یہ بھی کیا کہ تحریک کے آغاز سے دو روز پہلے ایکّ ئینی حکم نامہ کے ذریعے نیا آئینی ڈھانچہ دیا۔ اس آئینی ڈھانچے کا مذاق اڑانے کے لیے کمزورر قیدیوں کو ضیا ء الحق کا ڈھانچہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔

سوویت یونین کے صدر برزنیف ا اور بعد میںآندرے پوف کا انتقال ہواتو سیاسی اسیروں نے جیل میں موجود کمیونسٹوں سے آکر تعزیت کی ۔ اور کمیونسٹوں نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے تعزیتیں وصول کیں۔جیسے ان کا کوئی سگا مرگیا ہو۔

ایم آرڈی تحریک کے دوران کمیونسٹوں کی پوزیشن مسلمہ ہوگئی۔جیل میں آل پارٹیز کا قیام عمل میں آیا جس میں اور کمیونسٹوں کو بطور پارٹی نمائندگی دی گئی۔ کمیونسٹوں نے خصوصی فوجی عدالت میں سیاسی بیانات قلمبند کرائے تھے ان کی پذیرائی ہوئی اور فوٹو کاپیاں تقسیم ہونے لگیں۔اس پر پیپلز پارٹی کے دوست نے مذاقا کہا کرتے تھے کہ ’’اس کام پر تم لوگوں کو سزا ہوگئی پھر بھی باز نہیں آتے،یہاں بھی وہی پمفلیٹ بازی کر رہے ہو۔‘‘


تحریک جب کچھ ٹھنڈی پڑنے لگی تو دو گروپ واضح طور پر سامنے آئے ایک وہ جو کارکنوں کا تھا، جو ’’آخری فتح ‘‘ تک جدوجہد جاری رکھنے کی بات کرتے تھے۔ دوسرا گروپ حکومت سے مذاکرات کے خیال کو پھیلا رہا تھا۔ اس گروپ کو’’ اسپتال وارڈ گروپ‘‘ کا نام دیا گیا۔ کارکنوں کے غصے کا یہ عالم تھا کہ سینٹرل جیل کراچی کا اسپیشل وارڈ جہاں ممتا زبھٹو اور غلام مصطفیٰ جتوئی کے علاوہ باقی ایم آرڈی کے مرکزی رہنما قید تھے وہاں کارکن جانا بھی پسند نہیں کر رہے تھے۔


بدر ابڑو نے اس صورتحال کو اپنی جیل ڈائری بہت ہی جامع الفاظ میں بیان کیاہے:
جیلوں میں تین سال تک تھا۔ لیکن ایسی تبدیلی نہیں دیکھی۔ آنکھوں کو یقین نہیں آتا۔ایسی رونق پہلے نہیں دیکھی۔جب عوام کی تحریکیں شدت اختیار کرتی ہیں تب جیل بڑے خوبصورت ہو جاتے ہیں۔ سیاسی قیدیوں کے لشکر پہنچ گئے ہیں۔ہمارے بند وارڈوں کے دروازے کھل گئے جیسے اندرون سندھ کے قیدیوں نے ہمیں آکر آزاد کرایا ہو۔ چاروں طرف نعرے ہیں جلسے تقاریر جلوس۔تبادلہ خیال، بلند حوصلے۔اب یہ جیل نہیں نوجوانوں کا میلہ ہے۔ ہر طرف ہلچل ہے۔
11-08-13

Sohail Sangi 

No comments:

Post a Comment