Sunday, June 14, 2015

جی ایم سید کے بعد سندھی قوم پرستی

جی ایم سید کے بعد سندھی قوم پرستی سہیل سانگی

سندھ کے قوم پرست رہنما اور جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کی سالگرہ آج ان کے آبائی گاؤں میں منائی جارہی ہے۔سندھ کی قومی تحریک کئی نشیب و فراز سے گزری ہے۔ آج کم از کم ایک درجن کے قریب تنظیمیں جی ایم سید کے پیروکار ہونے کی دعویدار ہیں اور قوم پرستی کے نام پرسیاست کرتے ہیں۔ سندھ پاکستان میں سیاسی طور پر زیادہ باشعور صوبہ سمجھ جاتا ہے۔ اور یہاں کی قوم پرست تحریک بھی پرانی ہے۔ ا س تحریک کے دو خدوخال اہم ہیں۔ یعنی مسلسل احتجاج اور جدوجہد کو پرامن رکھنا۔

لیکن سید کے انتقال کے بعد اور حالات اور صورتحال میں میں کئی بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں آئی ہیں۔ان تبدیلیوں نے سندھ کی قوم پرست تحریک کو بھی حکمت عملی، جدوجہد کے طریقہ کار اور مقا صد پر بھی اثرڈالاہے۔ سند ھ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ جی ایم سید کا بڑا کنٹری بیوشن تھا کہ انہوں نے سندھی قوم پرستی کی تشکیل اور بناوٹ دورمیں نظریاتی بنیادیں فراہم کیں۔لہٰذاسید کا حصہ قوم پرستی میں سیاسی سے زیادہ اس سوچ اور نعرے کو مقبول بنانے میں زیادہ۔ انہوں نے قوم پرست ذہنیت پیدا کی اور اس کے نظریاتی فریم ورک کی بنیاد رکھی۔

گروہ بندی
ان کی زندگی میں ہی قوم پرست تحریک تنظیمی لحاظ سے کم از کم تین گروپوں میں بٹ گئی تھی۔ اور جی ایم سید سب پر ہاتھ رکھتے تھے۔ انہوں نے شعوریاور نظریاتی چیزیں تو کیں، مگر اس کا دوسرا پہلوتنظیم، تربیت اور کردار ہوتا ہے وہ نہیں کیا جا سکا۔ اس کام کے لیے واضح حکمت عملی ہوتی ہے جس پروہ خود بھی توجہ نہیں دے سکے۔ نتیجے میں سیاسی سوچ بٹ گئی اور عملی طور پر اور سیاسی اثر سامنے نہیں آسکاصور تحال یہ بنی کہ سندھی لوگوں کی سوچ قوم پرستی کی ہے مگر ووٹ پیپلزپارٹی کو کرتے ہیں۔

آصف بالادی کا کہنا ہے کہ سید نے فکری طور پر متاثر کیا۔ یہ فکری اثرات تنظیمی شکل اختیار نہ کر سکے۔اس لیے آج تنظیمی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ معاشی مفادات کہ وجہ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اخلاقی کرادر کا پہلو بھی کافی حد تک کمزور ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے گروپ سرگرم ہو گئے ہیں۔ یہ گروہ بندی شخصی اور معاشی مفادات کی وجہ سے ہے۔
بڑی وجہ مختلف پس منظروں سے آنے والا متوسط طبقہ ہے۔وہ ہوسٹلز میں رہ کے آتا ہے۔ چھوٹے بڑے شہروں کے مڈل کلاس کی نفسیات میں بھی فرق ہے۔ ان کی تربیت بھی نہیں ہو پارہی۔ لہٰذا اکے معاشی مفادات اور لیڈرشپ کے معاملات بھی ہیں۔ اور یہ بھی کہ میں لیڈر ہوں اور ایک مرتبہ لیڈر بننے کے بعد وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عالمی طور رپر بھی شعور نے ترقی کی۔ 80 کی دہائی کے بعد اقتصادی مطالبات جس میں پانی اور قدرتی وسائل پرحق ملکیت لے معاملات بھی قوم پرستی اور انسانی حقوق کی تحریک کے مطالبات میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ مڈل کلاس نظریاتی طور پر پختہ نہیں۔ اور میچوئرڈ مڈل کلاس نہیں۔

حکمت عملی
جامی چانڈیو کے مطابق آج قوم پرست تحریک تنظیم، لیڈرشپ، اور واضح حکمت عملی کے فقدان کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مخصوص سطح سے زیادہ نہیں ابھر سکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے پوتے سید جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور جیئے سندھ کے نام سے کام کرنے والے مختلف گروپ اشو بیسڈ سیاست کر رہے ہیں۔ اور وہ بھی ایک ہی ڈھنگ اور طریقے سے۔ واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی پیغام بھی بھرپور نہیں بن سکا ہے۔ بات صرف سوچ اور تک رہ جاتی ہے۔ آصف بالادی کا کہنا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ قوم پرستی میں اشو بیسڈ سیاست نہیں ہوتی مگر جب قوم کے زندہ رہنے کے وسائل مثلا پانی کا مسئلہ یا کالاباغ ڈیم کا اشو ہو تو قوم پرست یہ کہہ کر چپ نہیں بیٹھ سکتے کہ ہم اشو بیسڈ سیاست نہیں کرتے۔ یا جب جغرافیائی سرحدیں خطرے ہوں جیسے بلدیاتی نظام کے حوالے سے صورتحال بنی تھی۔

جیئے سندھ محاذ کے جنرل سیکریٹری ہاشم کھوسو کا کہنا ہے کہ سید نے قوم پرستی کی بنیادیں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی کسوٹی اور معیار بھی بنائے تھے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد کیڈر کی موقع پرستی اور مصلحت پسندی نے قومپرستی کو کمزور رکر دیا۔ایسے لوگ بھی قوم پرستوں کے ساتھ بیٹھنے لگے جو سید کی زندگی میں انکے قریب بھی نہیں جاتے تھے۔ کل تک جماعت اسلامی یا نوشہروفیروز کے جتوئی سید کے مخالف تھے۔ آج یہ لوگ قوم پرستوں کے ساتھ بیٹھے ہیں ۔یہ اس وجہ سے ہوا کیونکہ قوم پرست اشوز پرسیاست کرنے لگے ہیں۔ اشوز پرکب تک سیاست چلے گی؟آج قوم پرست ریاست یا ریاستی ڈھانچے کو چیلینج نہیں کر رہی۔

چار عشروں تک جیئے سندھ کی سیاست کرنے والے جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین خا لق جونیجو کا کہنا ہے کہ اشو پر لوگوں کو آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے قوم پرست جماعتیںیہی کام کررہی ہیں۔ سندھی قوم پرست تحریک جاگیردار دشمن، مذہبی نعروں سے دور، سیکیولر رہی ہے۔جسکا جھکاؤ ترقی پسند اور بائیں بازو کی طرف ہی رہا ہے، مگر اب پیر وں وڈیروں بھی قوم پرست ہو گئے ہیں اور قوم پرستی کا رنگ اور ذائقہ ہی بدل گیا ہے۔
 پنجاب
سندھی قوم پرستی کی بنیاد اس بات پر ہے کہ ملک کی اسٹبلشمنٹ پر پنجاب حاوی ہے اور وہ سندھ اور دیگر چھوٹے صوبوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کا ذمہ دار ہے۔لہٰذا اس کا ٹکراؤ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب سے بھی ہے۔خالق جونیجو کے مطابق سندھ کے حقوق پنجاب سے لینے ہیں کیونکہ ریاست پر اس کی بالادستی ہے۔ مگربعض قوم پرست حصے اس پر بھی واضح نہیں ہیں۔جو صوبہ سندھ کے حقوق غصب کئے ہوئے ہے اسی کی نمائندہ جماعت سے اتحادمیں ہیں۔ آصف بالادی کا نقطہ نظر ان سے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ کچھ قوم پرست گروپوں نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے، اگر تنہا ہو کر ایک دائرے میں سیاست کرتے ہیں تو تو قومی تحریک کے مخالف یا اس دھارے سے باہر لوگوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ وفاقی سیاست کرنے والوں کو ہمارے خلاف استعننال کریں۔ یہ سلسلہ جوڑنے سے قومی تحریک کو فائدہ ہوا ہے۔

مہاجر تضاد
 خالق جونیجو کے مطابق مہاجر تضاد سندھ کے گلے پڑا ہوا ہے۔ جی ایم سید کا یہ تصور تھا کہ جب تحریک زور پکڑے گی تب ان میں سے ایک حصہ قوم پرست تحریک کا ساتھ دے گا۔ دوسرا حصہ ملک چھوڑکرچلا جائے گا، تیسرا حصہ مخالفت کرے گا۔ مگر اب قوم پرست گروپ انتہاپسندی کی دو چوٹیوں پر کھیل رہے ہیں۔ یا تو انہیں مار بھگانے کی بات کی جاتی ہے یا پھر ہر حال میں راضی رکھنے کی۔ اس کا نتیجہ سامنے ہے کہ جیسے ایم کیو ایم کہے ویسے کیا جائے۔ یہ دنوں غیر سیاسی اور غیرسنجیدہ رویے ہیں ۔ اس اشواصل روح یہ ہے کہ وسیع قلبی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی پالیسی پوری سیاست کو نسل پرستی کی طرف دھکیلنے سے سب کچھ نسل پرستی میں چلا جاتا ہے۔

دوسری قومیتیں
خالق آج سے تیس چالیس سال پہلے سرائیکی اور دیگر چھوٹی قوموں کے قوم پرست سندھ کی قومی تحریک سے سیکھتے تھے۔ مگر اب وہ کہتے ہیں کہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ جب کہ اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

ملکی، علاقائی اور عالمی صورتحال میں تبدیلیاں آئی ہیں جن کے اثرات قومی تحریک پر بھی پڑے ہیں۔ اب اس تحریک کو نئے بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

آصف بالادی قوم پرستی کی اصطلاح بہت عام ہو گئی ہے۔ اور بہت سے گروپ قوم پرست کہلانے لگے ہیں۔ سندھی قوم پرستی کا اصل تصور وطن کا تھا۔یہی کہ سندھ ہزارہا برس سے وطن ہے اور اپنا الگ تشخص رکھتی ہے۔ اب عام اصطلاح میں یہی ہے کہ پاکستان کے فریم ورک میں حقوق ملیں۔ وطن کا پہلو کم ہو گیا ہے۔

ؒ لیڈرشپ آصف بالادی کے مطابق مشترکہ پلیٹ فارم پر بھی نظریاتی اور نفسیاتی مرکز کمزور ہوا ہے۔ بشیر خان قریشی نے کسی حد تک اس خلاء کو پر کیا تھا۔ اور قومی تحریک کو عوامی شکل دی تھی۔ مگر اب قومی تحریک کمزور ہے کوئی بھی قدآور شخصیت نہیں ہے جو مرکزیت پیدا کرسکے۔

نسلی اور فرفہ وارانہ تضاد مصنوعی ہیں۔ جس کا مقابلہ انہیں ابھارنے کے باوجود قومی تضاد سے نہیں کیا جا سکتا۔یہ وجہ ہے کہ قومی اور جمہوری تضاد کو چھپایا گیا ہے ۔

یہ صحیح ہے کہ واضح حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے قوم پرستی کی اصطلاح مبہم اور غیر واضح ہو گئی ہے۔ جس کو دوسرے لوگ بھی استعمال کر سکتے ہیں

ناز سہتو جی ایم سید کے بعد انتخابی سیاست کی کشش بڑھی ہے۔ جی ایم سید کی زندگی میں اس تحریک سے وابستہ لوگ انتخابات کی طرف نہیں جاتے تھے۔ اب قوم پرست تنظیمیں اور فرد بھی انتخابی سیاست کی طرف گئے ہیں۔جیئے سندھ قومی محاذ کے مرحوم چیئرمین بشیر قریشی عوامی رجحان کو ساتھ لیکر چلتے تھے۔۔ وہ ایک پروسیس میں بنے تھے۔ بشیر خان کے بعد اب تک کسی نے اتنی ساکھ نہیں بنائی ہے کہ لوگ اس کو مانیٹر کریں۔ آج یہ قومی تحریک کوقیادت نہ ہونے کا چیلینج درپیش ہے ۔بشیر قریشی نے قوم پرست تحریک میں مختلف قسم کا تجربہ کیا ۔ انہوں نے اشو بیڈ سیاست اور نظریاتی سیاست کو ایک ساتھ ملایا۔ اشوز پر دو اتحاد سپنا اور کالاباغ مخالف کمیٹی بنے۔ بشیر قریشی بطور ممبر ان اتحادوں میں شامل نہیں ہوئے تاہم ان کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔

سید لے بعد بعض گروپوں نے ملیٹنسی کو پالیسی کے حصے کے طور پر رکھا گیا ہے۔

No comments:

Post a Comment