Monday, June 15, 2015

سندھ حکومت کو شو کاز نوٹس؟

سندھ حکومت کو شو کاز نوٹس؟
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
سندھ حکومت سخت دباؤ میں ہے۔ سیاسی مارکیٹ میں موضوع بحث ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو یا گورنر کو ہٹا دیا جائے گا۔ یا گورنر راج نافذ کردیا جائے گا۔ کور کمانڈر سندھ جنرل نوید مختارنے نیشنل ڈفینس یونیورسٹی المائی کے ایک سیمینارکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کچھ سوالات چھوڑے ہیں۔ وہ تجزیہ نگاروں کے نزدیک وائیٹ پیپر کے مترادف ہیں۔
دوسرے روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے بھی صحافیوں سے بات کر کے اپنی حکومت کی جانب سے وضاحتیں کیں۔ وہ اس طرح کی وضاحتیں پہلے بھی کرتے رہے ہیں کہ آپریشن کے لئے وفاقی حکومت نے چار ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا وہ رقم تاحال نہیں ملی ہے۔آپریشن شروع ہوئے تقریبا ایک سال کے بعدانہیں اس بات کی ضرورت پیش آئی کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں کہ وہ آپریشن کے کپتان نہیں ہیں۔

سندھ حکومت سندھ حکومت کی کارکردگی ، خراب حکمرانی کے بارے میں سیاسی جماعتیں ، میڈیا اور عام لوگ تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس تنقید کو پیپلزپارٹی یہ کہہ کر ٹالتی رہی ہے کہ یہ الزام پرانے ہیں۔ بعض اوقات یہ الزامات خود پیپلزپارٹی کی اپنی صفوں سے بھی آتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں پیپلزپارٹی کے سندھ کونسل کے اجلاس، ہالا کی مخدوم فیملی کے اختلافات قابل ذکر رہے ہیں۔ مختلف وزراء یہ شکایات بھی کرتے رہے ہیں کہ ان کے محکموں میں ایک دو طاقتور شخصیت مداخلت کرتی رہی ہے۔

گزشتہ دنوں پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی وزراء اور اسمبلی ممبران کو ڈانٹا تھا۔ یہ سب واقعات بتاتے ہیں کہ سندھ حکومت میں سب کچھ صحیح نہیں ہے۔ خراب حکمرانی، بد انتظامی، اقرباء پروری، میرٹ کو نظر انداز کرنا، کرپشن وغیرہ لازمی حصہ اور معمول بن گئے ہیں۔ صوبائی حکومت میں سینئر عہدوں پر بیٹھے ہوئے بیوروکریٹس میں اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ اس ترقیاتی منصوبوں پر عمل کر سکیں اور مختص کی گئی رقم خرچ کر سکیں۔سینئر حلقوں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وزراء اور سنیئر بیوروکریٹس جانتے ہیں کہ نا کو کوئی حصہ ملنے والا نہیں لہٰذا یہ منصوبے شروع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

حکومت کے معاملات کس طرح چلتے ہیں؟ایک سال پہلے وزیراعلیٰ سندھ نے تھر میں قحط سالی کے حوالے سے ماہرین اور منتخب ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی۔ آٹھ ماہ ہوئے کہ اس کمیٹی نے بل کا مسودہ حکومت کو بھیج دیا۔ لیکن اب پتہ چلا کہ ماہرین کا تیار کردہ مسودہ گم ہو گیا ۔ شاید بسیار تلاش کے ہاتھ نہیں آسکا۔ جلدی میں حکومت نے کٹ پیسٹ کر کے ایک بل بنا کر اسمبلی میں پیش کردیا۔

یہ بل اتنا خراب تھا کہ اس کے نقائص کے پیش نظر خود وہ اراکین اسمبلی بھی اس کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ جب اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس بل کو واپس لینے اور ماہرین کا تجویز کردہ بل پیش کنے کی ہدایت کی۔تین ہفتے گزر چکے ہیں لیکن حکومت رسمی طور پر یہ بل اسمبلی میں واپس نہیں لے سکی ہے۔ حکومت نے زحمت نہیں کی کہ تحقیقات ہی نہیں کی کہ ماہرین کی کمیٹی کا ترتیب دیا ہوا قحط پالیسی کا بل کہاں گم ہو گیا؟ اب کہاں ہے؟

کور کمانڈرجنرل نوید مختار کا کہنا ہے کہ گزشتہ عشروں میں منتخب حکومتیں کراچی کا مسئلہ حل نہیں کر سکی ہیں۔ جس سوچ کا ظاہر جنرل صاحب نے کیا ہے وہ ان کی ذاتی نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو یوں لیا جائے گا کہ یہ عسکری حلقوں کی سوچ ہے۔ اس لحاظ سے تمام ملبہ پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں پر آرہا ہے۔ یہ سب جماعتیں اور دیگر سیاسی جماعتیں جو کراچی میں اپنے وجود کا تھوڑا یا زیادہ دعوا رکھتی ہیں وہ کہاں ہیں۔ کراچی کے معاملات صرف صوبائی سطح پر ہی نہیں بلکہ اسلام آباد کی ہدایت پر گزشتہ کئی عشروں سے صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں رہے۔

جنرل مشرف دور میں یہ معاملات پہلے عسکری حلقے خود دیکھتے رہے اور بعد میں متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے کئے گئے۔ یہ صورتحال 2008 کے انتخابات کے بعد اگرچہ پیپلز پارٹی کی حکومت رہی لیکن کراچی کے معاملات ایم کیو ایم اور اس کے گورنر عشرت العباد کے حوالے ہی رہے۔ جب حالیہ آپریشن شروع ہوا تو تمام تر اختیارات رینجرز کو دیئے گئے۔ 
پولیس حلقوں میں یہ بات کہی جارہی تھی کہ کسی ایس ایچ او کا تبادلہ بھی رینجرز کی کلیئرنس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس آپریشن کے دوران جو مختلف واقعات ہوئے ان سے بھی رینجرز کی بالادستی اور پولیس یا سویلین کی ماتحتی عیاں تھی۔ لہٰذا جنرل کے ان ریمارکس سے پہلے بھی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ فوجی قیادت سویلین میدان میں اپنا زیادہ اثر رسوخ استعمال کر رہی تھی۔ ایس ااثر جس کی نظیر براہ راست فوجی حکومت کے بغیر نظر نہیں ملتی۔

کور کمانڈر کا ماننا تھا کہ کراچی آپریشن مکمل طور پر غیر سیاسی ہے۔آپریشن کے غیر سیاسی مقاصد ہونا ایک بات ہے اور سویلین اتھارٹی کو ایک طرف کرنا دوسری بات ہے۔ کراچی میں فوج کے اپروچ سے ظاہر ہے کہ وہ معمولی بھی سویلین سپورٹ نہیں چاہتی ۔ اس کے باوجود بڑی حد تک الزام سیاسی جماعتوں پر ہی آتا ہے۔ اس لئے کہ ان کا اپنا سیاسی اور آزادانہ رول کہیں نظر نہیں آتا۔ 
ذرا غور کریں صوبے کی بڑی اور حکمران جماعت پیپلزپارٹی اپنی تمام تر توانائی اپنی اندرونی لڑائی پر صرف کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما پارٹی کے چیف آصف علی زرداری کی حمایت کرنے اور ذوالفقار مرزا سے دور ہونے کے لئے زمین آسمان ایک کئے ہوئے ہیں۔ جیسے آصف زرداری کی قیادت کو بہت بڑا خطرہ لاحق ہے۔ ایسے میں حکمرانی کے معاملات دیکھنے کے لئے پاری لیڈر شپ کے پاس وقت ہی نہیں۔ اگر کسی رکن اسمبلی یا پارٹی رہنما کو کچھ کرنے کی خواہش بھی ہوتی ہے تو وہ قیادت تک اپنی بات پہنچا ہی نہیں پاتا کیونکہ وہ سمجھتا اور دیکھتا ہے کہ اس کی بات پارٹی کی ترجیحات میں ہی نہیں۔

گزشتہ آٹھ سال سے سندھ کی حکمران جماعت کی مسلسل یہی کوشش کرتی رہی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ سے بنائے رکھے۔ ایم کیو ایم حکومت میں ہو یا باہر اس سے بنائے رکھنے سے بہت سارے مشکلاتیں حل ہو جائیں گی یا پیدا ہی نہیں ہونگی۔ لیکن اس حوالے سے نہ پیپلزپارٹی کو اور نہ کراچی شہر کو کوئی فائدہ ہوا۔ اب تو صورتحال ہی تبدیل ہوگئی ہے۔ ایم کیو ایم خود قیادت کے بحران سے گزر رہی ہے۔ پارٹی کے قائد کو پارٹی پر اور کراچی پر کنٹرول رکھنے کے لئے کئی چیلیجز کا سامنا ہے۔

یہ درست ہے کہ ادارتی خلاء موجود ہے ۔ جس کو حکومت خواہ سیاسی جماعتیں نہیں بھر سکی ہیں۔ اداروں کی ناکامی یا عدم کارکردگی کا خلاء جرائم پیشہ افراد، مخصوص مفادات رکھنے والوں نے بھرا ہے۔ پھر یہ گروپ سیاسی ہوں یا لسانی، فرقہ وارانہ ہوں یا مذہبی۔ جب یہ سب کچھ ہوا تو خود فوج نے بھی اس خلاء کو بھرا۔

ان کا یہ کہنا ہے کہ’’ کراچی اسی کے وسط عشرے سے تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کے معاشی دارلحکومت میں مسلسل بے چینی نے ملکی معیشت کو کاری ضرب لگائی ہے۔ کراچی کا مسئلہ سیاسی، فرقہ وارانہ اور لسانی مخاصمتوں کا ہے۔جنہوںے نے شہر کے پیچیدہ اسٹرکچر میں اپنی جڑیں لگا لی ہیں۔‘‘ عام آدمی کی سوچ کے مطابق یہ بات ٹھیک ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ 1977 سے ملک میں مارشل لاء تھا جو کہ اسی کے عشرے میں بھی رہا۔ جن سیاسی، فرقہ وارانہ اور لسانی مخاصمتوں کا انہوں نے ذکر کیا وہ اسی دور میں پیدا ہوئی ہیں۔
اسی کے عشرے اور مشرف دور کی باتیں اپنی جگہ پر،گزشتہ دو عشروں سے فوج کے ماتحت پیرا ملٹری فورس یعنی رینجرز شہر میں موجود ہے۔اس کی موجودگی کچھ اس طرح سے رہی ہے کہ امن و مان اور انتظام کاری کے لئے سویلین اسپیس کم ہوا ہے۔ لہٰذا سانحہ صفوراں ہو یا کوئی اور ایسا واقعہ اس کے لئے صرف سندھ حکومت ہی اس کے لئے ذمہ دار نہیں۔ وفاق اور وفاقی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری لینی چاہئے۔

No comments:

Post a Comment