Sunday, June 14, 2015

شیخ ایاز باغی، انقلابی اور وطن پرست شاعر

شیخ ایاز ایک باغی، انقلابی اور وطن پرست شاعر
سہیل سانگی

 شاہ عبداللطیف بھٹائی کے بعد وہ شیخ ایاز ہی ہیں جن کی شاعری ، فن اور فکر کے اثرات سندھی سماج پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ اس عظیم شاعر نے لوگوں کوماضی حال اور مستقبل سے آگاہ کیا اور سندھی سماج میں سماجی اور سیاسی تبدیلی لانے پر زور دیا۔ انہوں نے ماضی کو یقننا کھنکھالا مگر وہ مستبل پرست تھا۔ اور جدوجہد کا پیغامبر تھا۔

شیخ ایاز کا اصل نام مبارک علی شیخ تھا وہ دو مارچ 1923 میں شکارپور میں پیدا ہوئے۔ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے بھٹو کے دور میں سندھ یونیورسٹی کے وائیس چانسلر بھی رہے۔یہ وہی درسگاہ تھی جس کے طلباء ان کی شاعری پر جھوم اٹھتے تھے، اور ایک نیا جذبہ اور ولولہ محسوس کرتے تھے۔ مگر ان کی وجہ شہرت شاعری ہے۔

ان کی شاعری نے سندھ ادب میں نئے رجحانات متعارف کرائے۔ ان کی کل پچاس کتابیں ہیں ۔ اس کے علاوہ نثر اور ایک نامکمل ناول’’ کتھے تہ بھجبو تھک مسافر ‘‘ ( کہیں تو مسافر سستائے گا)لکھا۔انہوں نیسندھ کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی شاعری کی ۔ اردو میں ان کی شاعری کے دو مجموعے ’’ بوئے گل نالائے دل‘‘ اور’’ نیل کنٹھ اور نیم کے پتے ‘‘ شایع ہو چکے ہیں۔

ایاز کو پہلی مرتبہ شہرت برصغیر کی آزادی سے پہلے لکھی گئی نظم ’’گاء انقلاب گاء‘‘ (گاؤ انقلاب گاؤ) پر ملی۔یہ نظم انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے لکھی تھی۔ اور انقلابی یہ گیت اپنے پروگراموں میں اکثر گایا کرتے تھے۔
ان کی شہرت ان کی کتاب ’’ بھنور بھری آکاس‘‘ کے بعد عروج پر پہنچی۔ جو 1963ع میں شایع ہوئی۔ انہوں شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام ’’رسالو شاہ عبداللطیف‘‘ کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا۔

ان کا ادبی کریئر چھ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ جس میں انہوں نثر، شاعری اور ڈارمے بھی لکھے۔ ان کے تین اوپیرا ’’بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی‘‘،’’ دودو چنیسر‘‘ اور’’ رنی کوٹ جا دھاڑیل‘‘ بہت مشہور ہوئے، جو آج بھی اسٹیج کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ ان کی تحریروں کا بڑا ذخیرہ ہے جو ادبی مضامین، جیل ڈائری، اخباری اداریے، کالم اور ادبی تقاریر پر مشتمل ہے۔
سندھ کے محکمہ ثقافت نے ان کی تصنیفات کو بیس جلدوں میں شایع کیا ہے۔ وہ 28 دسمبر1997 میں انتقال کر گئے انہیں بھٹ شاہ میں کراڑ جھیل کے پاسسپرد خاک کیا گیا۔

ایاز بیسویں صدی کی بڑی آواز ہے۔ جس کی شاعری میں وطنیت، ترقی پسندی اور رومانس کا امتزاج ملتا ہے۔
انہوں نے اپنی شاعری میں انسانذات کے دکھوں، مظلوم طبقے کی محرومیوں اور استحصال کے خلاف لکھا۔
ایاز نے شاعری کے ذریعے ایوب کی فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔ ون یونٹ کے خلاف تحریک کے دوران ان کی نظم ’’سندھڑی تے سر کیر نہ ڈیندو‘‘( سندھ پر کون قربان نہیں ہوگا) بہت مقبول ہوئی۔ او ریڈیو پاکستان پر اس کو نشر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

انہوں نے خود کو لامذہب صوفی بھی کہا اور سچل سرمست کے لہجے میں ’’کافر مومن نہیں ہوں ۔
ان کی تین کتابوں ’’کلہے پاتم کینرو‘‘، ’’ بھنور بھری آکاس‘‘ اور ’’کاک ککوریا کاپڑی ‘‘پر بنیاد پرست حلقوں نے سخت تنقید کی اور حکومت نے ان کتابوں پر پابندی عائد کردی۔ ایوب کے دور حکومت میں ان کی شاعری اور باغیانہ خیالات کی وجہ سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

1965 کی ہندوپاک جنگ کے خلاف لکھاکہ ’’سامنے میرا شاعر دوست نارائن شام بیٹھا ہے اس پر میں کیسے بندوق اٹھاؤں، کیسے گولی چلاؤں۔ اس کے اور میرے بول اور فکر ایک جیسی ہے۔‘‘
انہوں نے عالمی ادب کو نچوڑا لیکن اپنی جڑیں موہن جو دڑو کی تہذیب میں پختہ رکھیں۔

شیخ ایاز نے صوفیانہ شعور سے اپنا رشتہ جوڑ لیا۔ جس نے سندھ کی سماجی، اخلاقی، ثقافتی سوچ اور سیاسی فکر پر اثرات چھوڑے۔ وہ بھٹائی کی صوفیانہ شاعری کا تسلسل تھے۔ انہیں عظیم انسان دوست اور آرٹسٹ کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ وطنیت، پیار، حسن، صوفی ازم، قربانی اور سچ ان کی شاعری کا محور تھا۔

بھٹائی کی طرح انہوں نے سندھ کے لوک گیتوں کے داستانیں بھی لکھیں۔ تو تھری لوک گیت ’’ ہمرچو‘‘ اور سندھ کیدیگر لوک گیتوں کی طرز پر آج کے دکھوں کو بھی بیان کیا۔
ایاز کی شاعری نے ترقی پسند فکر کے ارتقا اورپھیلاؤ سندھ خواہ پاکستان میں بڑا کردار ادا کیا۔ وہ سندھ کی سیاسی کارکنوں کو متاثر کرتے رہے اور ان کا کنٹری بیشن ایک انقلابی کا تھا۔

ایاز نے شاعری کے ذریعے نئی فکر کے ساتھ سندھی سماج جو ہلایا جلایا۔ایاز بڑا شاعر ہے جس کو ابھی پورے طور رپر تلاش ہی نہیں کیا گیا ہے۔ اب تک صرف یہ پتہ ہے کہ وہ دیس کے دکھ اور اس دکھ سے جنم لینے والی قوم پرستی کا شاعر ہے۔لیکن جہاں کہیں بھی انقلاب، تبدیلی، دھرتی پیار محبت کی بات ہوگی وہاں ایاز کی بھی بات ہوگی۔ تبدیلی چاہنے والوں میں ایاز آج بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا کل تھا۔

آج ان کے 90 ویں جنم دن کے موقع پر مختلف اداروں کی جانب سے تقاریب منعقد ہورہی ہیں اور سرکاری خواہ نجی ٹی وی چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کئے جا رہے ہیں۔

No comments:

Post a Comment