Tuesday, June 16, 2015

سرائیکی صوبے کے ساتھ سیاست

سرائیکی صوبے کے ساتھ سیاست ئے صوبوں کی سیاست
میرے دل میرے مسافر ۔ March 9, 2012۔ سہیل سا گی
پ جاب اسمبلی کی سرائیکی صوبے حوالے سے ئی قرادد کے بعد ایک گھ چکر شروع ہوگیا ہے۔ہم یہاں قراداد پاس ہو ے والے د اسمبلی کے ا در کے م اظر پر تبصرہ ہیں کریں گے۔وہ ایک الگ بحث ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پ جاب کس کو دو صوبوں میں تقسہم کر ے کی تجویز ہیاس کی اسمبلی کی مخالفت کے بعد صورتحال کیا ب ے گی۔ کیا اب پیپلز پارٹی فی الحال اس معاملے کو ملتوی کردے گی؟ یا ایک صوبے کی اکثریتی پارٹی کی مخالفت کے باجود اگر صوبہ ب الے گی تو اس کا کیا جواز ہوگا؟ کیا وہ ریفری ڈم پر چلی جائے گی؟ جو کہ ٗے صوبے کے قیام کے حوالے سے آئی سے ہٹ کر قدم ہوگا۔

یا صوبہ آء دہ ا تخابات سے پہلے ب تا ہوا ظر ہیں آتا۔ آئی ی طور پر موجودہ سیاسی حالات میں کوئی یا صوبہ ب ا ا مشکل ہی ہیں اممک لگتا ہے۔ کیو کہ ئے صوبے تجویز کر ے والی پارٹیوں کو خواہ پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم ، یا مسلم لیگ (ق)متعلقہ صوبائی اسیمبلیوں میں اکثریت حاصل ہیں۔ اے ای پی اپ ے دو اضلاع کیسے سرائیکی صوبے کو دے دیگی، جبکہ ہزارہ صوبے کے سوال پر 2010 میں تقریبا دو ب دے قتل کئے جا چکے ہیں۔

ادھر گیلپ سروے کے مطابق ملک کے 60فیصد لو سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ئے صوبوں کے قیام کے بارے میں غیرس جیدہ ہیں۔ سرائیکی قوم پرست ایک عرصے سے الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسرے صوبوں کی قوم پرست جماعتوں کو چھوڑ کر، کسی ملک گیر پارٹی ے اس مطالبے کی حمایت ہیں کی تھی۔ یہ پا چ چھ سال پہلے کی بات ہے کہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف ے سرائیکی صوبے کے حق میں بات کر ا شروع کی۔ مسلم لیگ قاف ے 2008ع کے ا تخابات سے قبل ا تظامی ب یادوں پر صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔

عام ا تخابات کے بعد پیپلز پارٹی ے اس اشو پر کام شروع کیا۔پہلے سرائیکی پٹی سے تعلق رکھ ے والے ایم ای ایز اور ایم پی ایز کا گروپ ب ا۔ اس گروپ ے سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھ ے والے اسمبلی ممبرا سے رابطے کئے۔اور پارٹی کی مرکزی قیادت پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اس معاملے کو دیکھے۔پھر وزیراعظم یوسف رضا گیلا ی ے اپ ی تقریروں میں سرائیکی صوبے کی بات کر اے لگے اور یہاں تک کہا کہ سرائیکی صوبہ ضرور ب ے گا اورکہ قومی اسیمبلی کے آء دہ اجلاس میں سرائیکی صوبے کے قیام کا بل پیش کیا جائیگا۔موجودہ حکومت ے پختو وں کو پختو خواہ کی شکل میں ش اخت دی۔ گلگت ۔ بلتستا کو بھی ش اخت ملی۔اب سرائیکی عوام کو بھی یہ ش اخت دی ی پڑے گی۔ آگے چل کر صدر زرادری بھی الگ صوبے کے حق میں بات کر ے لگے۔

پیپلز پارٹی ے پ جاب اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا تو مسلم لیگ قاف ے ا کی حمایت کی۔ واز لیگ ے پہلے تو معاملے کو ٹال ے کی کوشش کی اور اس کی مخالفت کی۔ یہ دھمکی دی کہ پ جاب کو توڑ ے کا تیجہ س دھ کو دو حصے کر ے کی صورت میں بھگت ا پڑے گا۔یہ پیغام پیپلز پارٹی کے لیے دھمکی تھی۔ مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے ایج ڈے کو آگے بڑھاتی رہی۔اس اث اء میں ایم کیو ایم بھی بیچ میں آ گئی اور آئی ی ترمیم تجویز کی کہ ئے صوبے ب ا ے کے لیے متعلقہ اسمبلی کی قرارداد یا م شا کی ضرورت ہیں بلکہ ریفری ڈم کے ذریعے یہ معاملہ طے کیا جائے۔ اس تجویز کو سخت مخالفت کا سام ا ہے اور ابھی تک بحث کے لیے بھی م ظور ہیں ہو سکی ہے۔

پیپلز پارٹی اور قاف لیگ ے پ جاب اسمبلی میں ئے صوبے کے قیام کے لیے قراردادیں پیش کیں واز لیگ ے یہ کہہ کر مسترد کردیں کہ پہلے قومی اسمبلی سے قرارداد م ظور کرا ا ضروری ہے۔کچھ عرصے کے بعد پیپلز پارٹی ے پارلیم ٹ سے ج وبی صوبے کے قیام کی قرارداد م ظور کرالی۔اس پر واز شریف ے کراچی پہ چ کر یہ کہا کہ زرادری بھلے پ جاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردے ہم س دھ کو دو حصوں میں تقسیم ہو ے ہیں دی گے۔ واز شریف کا یہ بیا پارٹی کے پہلے رد عمل کے برعکس تھا جس میں س دھ کو بھی تقسیم کر ے کی دھمکی دی گئی تھی ۔

ہم چھ ماہ پہلے کالم میں لکھ چکے ہیں کہ پاکستا کی مرکز پس د اسٹیبلشم ٹ جو پہلے صوبے موجود ہیں ا کو خود مختیاری اور حقوق دی ے کے لئے تیار ہیں وہ کیسے دوسرے صوبوں کو برداشت کر لے گی؟ اسکا مطلب یہ کھیل کچھ اور ہے۔لگتا ہے کہ آء دہ ا تخابات میں ئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ا تخابی مہم کا مقبول اور بھرپور عرہ رے گا۔
قومی اسمبلی سے پ جاب میں یا صوبہ ب ا ے کی قراداد کی م ظوری کے بعد راتورات کراچی میں چاک گ کی گئی۔ وہ قوتیں کیو کر خاموش بیٹھیں گی جو اصل مقتدر قوتوں کی طاقت کم ہوتے دیکھ ا ہیں چاہتیں

پ جاب میں یا صوبہ ب ے سے وقتی طور پر واز لیگ کی طاقت کم ہو سکتی ہے۔کیا یہ اسٹبلشم ٹ پر وار ہیں ہوگا؟ اور کیا وہ اس کے بعد خاموش بیٹھی رہے گی اور جوابی کارروائی ہیں کرے گی؟ اآخر کراچی کارڈ کس د کے لیے پالا ہوا ہے؟
پ جاب کی سیاسی اکثریت کس طرح سے جمہوریت کے آڑے آتی ہے؟ اس بات کو سمجھ ے کے لیے چار عام ا تخابات کے تائج کا مطالعہ کر ا ضروری ہے۔ اگر 1985ع، 1990ع، 1997ع اور2002ع کے عام ا تخابات کے تائج کا جائزہ لیں توصورتحال سمجھ ے میں آسا ی ہو جاتی ہے۔یع ی جمہویرت پس دوں یا بے ظیر بھٹو کو روک ے کے لیے اسٹبلشم ٹ کو صرف پ جاب کا ووٹ کافی تھا۔باقی تمام صوبے ایک طرف ہو ے کے باوجود اس پارٹی کی حکومت ب گئی۔ جس کو اسٹبلشم ٹ ے جتوایا تھا۔ یع ی واز لیگ ہو یا قاف لیگ۔ اگر پ جاب تقسیمیں دو صوبے ب تے ہیں تو اسٹبلشم ٹ کے لیے ا تخابات کے ذریعے اپ ی قوت برقرار رکھ ا مشکل ہو جائے گا۔

پیپلز پارٹی کو سمجھ ا چاہئے کہ صوبہ ب ے کے بعد ا تخابی سیاست بھی تبدیل ہو جائے گی۔ اس علاقے سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر ے والی یہ جماعت 1997ع میں ایک بھی شست حاصل ہیں کر پائی تھی۔اس لیے اسٹبلشم ٹ اس کو پ جاب کی تقسیم اور اپ ے اختیارات کی تقسیم سمجھے گی۔ جسے ہرحال میں کو روک ا چاہے گی۔اور اگر ایسا ہیں کر پائی تو تمام وحدتوں کو تو توڑ کر سیاسی قوتوں کی طاقت کو توڑ کر اپ ا اثر برقرار رکھ ے کی کوشش کرے گی۔آج جو لوگ موجودہ باقی وحدتوں میں بھی مزید صوبوں کی بات کر رہے ہیں وہ دراصل اسٹبلشم ٹ کی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرائیکی صوبے ب ے کی صورت میں اس کے اثرات دوسرے صوبوں خاص طور پر س دھ پر م قل ضرور ہو گے۔ پیپلزپارٹی ے ابھی تک اس صوبے کے حوالے سے جو بھی سیاست کی وہ کامیاب رہی۔ مگر معاملہ آکر کمیش میں پھ س گیا ہے۔ جو مسلم لیگ ( ) کے مطالبے پر ب ایاگیا ہے۔

جب واز لیگ کسی طور پر سرائیکی صوبے کی مخالفت ہیں کر پارہی تھی تو وہ بہاولپور صوبے کا معاملہ بیچ میں لے آئی۔اس کے پیچھے واز لیگ کی حکمت عملی یہ تھی کہ بہاولپور صوبے کا معاملہ سام ے آ ے کے بعد سرائیکی آپس میں لڑ پڑیں گے۔ اور یوں ئے صوبے کے قیام کا معاملہ اکھٹائی میں پڑجائے گا۔اسی چال کے تحت واز لیگ پیپلز پارٹی اور قاف لیگ کی اسمبلی میں پیش کی گئی قراردایں مسترد کرکے اپ ی قرارداد لے آئی۔اور اس کے لیے اپوزیش کو بھی راضی کرلیا۔اور چپکے سے اس میں بہاولپور صوبے کا معاملہ بھی شامل کر لایا گیا۔پیپلز پارٹی اور قاف لیگ کو پتہ ہی ہیں چلا کہ اس کے ساتھ ساتھ قرارداد میں ایک ایسی شق بھی شامل کی گئی جس ے اب لاکر معاملے کو الجھا دیا ہے۔یہ شق صوبوں کے قیام کے لیے قومی کمیش قائم کر ے کا مطالبہ تھا۔اس شق میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ایک ایسا قومی کمیش تشکیل دیا جائے جو ج اوبی صوبے کے قیام ، بہاولپور صوبے کی بحالی، ا کے جغرافیائی حدود ، وسائل کی تقسیم وغیرہ کا تعی کرے۔ اور کمیش یہ بھی جائزہ لے کہ ملک میں کہاں کہاں ئے صوبے ب ا ے کی ضرورت ہے۔ یع ی کمیش صرف پ جاب میں ہی ہیں دوسرے صوبوں کا بھی جائزہ لے کہ وہاں بھی ئے صوبے ب ائے جا سکتے ہیں۔یع ی پ جاب اسمبلی دوسرے صوبوں کے بار میں بھی فیصلہ کر ے لگی۔۔۔۔

اگرچہ پ جاب اسمبلی کی قرارداد دوسرے صوبوں پر لاگو ہیں ہوسکتی مگر پھر بھی صدر زرادری ے کمیش کے قیام کے لیے قومی اسمبلی کی اسپیکر کو ریفر س بھیجا۔اس کمیش میں تمام جماعتوں کو ماء دگی دی گئی۔ چو کہ معاملہ پ جاب کا تھا اس لیے اس میں ماء دگی پ جاب کو ہی دی ی چاہیے تھی۔ مگر اس میں ایم کیو ایم، اے ای پی۔ اور جے یو آئی کے بھی ماء دے لیے گئے۔ ج کی پ جاب میں کوئی ماء دگی ہیں۔ یوں واز لیگ کو راہ فرار مل گئی۔ اس ے کمیش ہ صرف کمیش کا بائکاٹ کیا بلکہ پ جاب اسمبلی سے قرارداد م ظور کرکے اس کمیش کو مسترد کردیا۔یع ی واز لیگ ے سرائیکی صوبے کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عمل کو اسپیڈ بریکر لگا دیا۔اس معاملے پر مسلم لیگ ( ) س جیدہ ظر ہیں آتی۔ پیپلز پارٹی تو آء دہ ا تخابات میں اس اشو کو کیش کرا اچاہتی ہے۔

واز لیگ ئے صوبوں کے بارے میں بڑی عجیب وغریب سیاست کرتی ہے۔ پہلے ایک حکمت عملی ب اتی ہے اور عی وقت پر راہ فرار اختیار کر لیتی ہے۔ مثلا جب سرحد اسمبلی ے پختو خواہ ام کی قرارداد م ظور کی تب وہاں واز لیگ کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ سرادر مہتاب عباسی تھے۔مگر بعد میں یہی جماعت پختو خواہ کے خلاف کھڑی ہوگئی۔وہ ایسا کرکے راستہ بھی روک ہ سکی۔پ جاب اسمبلی ے جب اتفاق رائے سے ئے صوبے کے لیے قرارداد م ظور کی تو مگر اس سے ہٹ گئی۔ اور اس کے ساتھ دوسرے صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو بھی جوڑ دیا۔
 ِ
اب اگر مسلم لیگ بھاگ ا چاہے گی تو فی الحال تو سرائیکی صوبے کا قیام رک جائے گا مگر وز لیگ کو اس بیلٹ سے ووٹ کم ملیں گے۔ اب ا تخابات سے پہلے اس اشو پر کوئی فیصلہ ہو ا ممک ظر ہیں آتا۔ اور یہ ا تخابی گی د ب کر سام ے آئے گی۔
 March 9, 2012

No comments:

Post a Comment