Tuesday, June 16, 2015

پگڑی اتارنے کا میلہ

۔پگڑی اتارنے کا میلہ ۔۔

میرے دل میرے مسافر
 سہیل سانگی
 گذشتہ ماہ سیاسی رسہ کشی کا مرکز پنجاب رہا۔ مگر ماہ رواں میں یہ مرکزواپس سندھ منتقل ہو گیا کے جو حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کی سرزمین ہے۔سندھ میں روایتی طور پر ایم کیو ایم کے ساتھ ان بن رہتی ہے۔ پر اس بار یہ ان بن اور رسہ کشی حکمراں اتحاد کی جماعت کے بجائے خود پیپلز پارٹی کے اندرونی معاملات ہیں۔ اس بحرانی کیفیت کے دوران بھی سندھ اسیمبلی میں کم از کم چار ایسے لوگ ہیں جنہوں نے پارٹی ایکشن کی پرواہ کئے بغیرکھلے عام ڈاکٹر مرزا کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس صورتحال سے عیاں ہوا کہ خود سندھ میں پارٹی کے اندر توڑ پھوڑ اور بحران موجود ہے۔

پاکستان مسلم لیگ پاکستان کی مدر پارٹی کہلاتی ہے۔ یہ نیا ملک بنا بھی اور ٹوٹ بھی گیا ۔ بالکل جس طرح سے ملک ٹوٹنے کے باوجود قائم ہے اسی طرح مسلم لیگ کئی حصوں میں تقسیم ہونے کے باوجود اپنا وجود برقرار رکھاہے۔ مسلم لیگ ، مسلم لیگ نواز، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ قیوم بقول زرداری کے مسلم لیگ قاتل کے نام سے کئی گروپ موجود ہیں۔

بڑی پارٹیاں میلے کی طرح ہوتی ہیں۔جس میں کچھ لوگ جاتے تو دوسرے آتے رہتے ہیں۔پیپلز پارٹی بھی ایک ایسا ہی میلہ ہے۔ چوالیس پینتالیس سال گذرنے کے بعد بھی یہ ابھی تک پتہ نہیں چل سکا کہ آخر یہ میلہ لگا کس کی پگڑی چورانے کے لئے تھا۔ان چار عشروں کے دوران کئی لوگوں کی پگڑیاں چوری ہو گئیں۔ کئی ایک نے اس پارٹی کے میلے میں آکر نئی پگڑیاں پہنی۔ سندھ سے ذوالفقار مرزا پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہوئے۔ جب کہ شاہ محمود قریشی نے بھی قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعیفا دیا ہے۔ مسقبل میں وہ کون سی پگڑی پہنیں گے۔یہ وقت بتائے گا۔نصف صدی تک بڑی بڑی آمریتیں جس پارٹی کو توڑ نہ سکیں،اس کی پگڑی اس کے اپنے ہے ہی لوگ اتار رہے ہیں۔گولاڑچی میں سابق وزیر داخلہ اور موجودہ وزیر داخلہ کے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ کوئی دوسری کہانی تو نہیں سنا رہے ہیں۔

زرداری سیاستداں نہ ہونے کے باوجود گذشتہ دو ڈھائی عشروں سے ملک کی سیاست کے اہم اور متحرک کردار رہے ہیں۔ انہوں نے اگرچہ کوئی تکلالیف بھی دیکھی پر اس سے زیادہ مزے لئے۔ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ پر اسے طرح سے ان کے مخالفین بھی لاتعداد ہیں۔انکو محبیں بھی بہت ملی ہیں تو نفرتیں بھی ان گنت ہیں۔نوابشاہ سی نودیرو تک پہنچنے والے زرداری کی قسمت میں وزیر اعظم ہاوس آیا تو جیل بھی ناگزیر بنا رہا۔ انکے لئے مشہور ہے کہ وہ یاروں کے یار ہیں۔ پر وہ دشمنوں کے کتنے دشمن ہیں، یہ بات ابھی مفاہمت کے پردے میں چھپی ہوئی ہے۔جب یہ پردہ اٹھے گا تب اصل حقیقت سامنے آئے گی۔

قریشے صاحب کے پارٹی چھوڑنے پر پیپلز پارٹی کا ردعمل ایک تو وہی روایتی ہے کہکسی کے جانے سی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس جس نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہوگئے۔ذولفقار مرزا نے جب پارٹی چھوڑی تو انکا ٹارگٹ دوسرے وزراء تھے پر قریشی صاحب نے پارٹی چھوڑی ہے تو انکا ٹارگٹ زرداری صاحب خود ہیں۔

ذوالفقار مرزا اور شاہ محمود قریشی میں ایک اور بھی فرق ہے۔ ڈاکٹر مرزا کی مخالفت کا بنیادی نکتہ ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم کی مخالفت سندھ کے میں ایک مقبول رجحان ہے۔ جس کی وجہ سی نہ صرف مرزا کوعام لوگوں میں پزیرائی ملی بلکہ خود پیپلز پارٹی کے صفوں میں ان کے حامی موجود ہیں۔ صدر آصف زرداری کی ماقاتوں اور بعض مرزا کے حامیوں کے خلاف کارروایوں کے باوجود پیپلز پارٹی کی دو اراکین اسیمبلی ڈاکٹر امداد پتافی اورشرجیل میمن جن کے پاس وزارت اطلاعات کا قلمدان تھا، دونوں لندن تک ڈاکٹر مرزا کے ساتھ گءئے یہ اور بات ہے کہ اس کے عوض انکو وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ صرف اتنا ہی نہیں ان تمام واقعات رونما ہونے کے باوجود ۱۸ اکتوبر کے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خاتون رکن اسمبلی عائشہ کھوسو نے بہ بانگ دہل ڈاکٹر مرزا کی حمایت کی۔ اور کہا کہ وہ اور کئی اراکین اسمبلی ڈاکٹر مرزا کے موقف کی حمایت کرتے ہیں ۔

ایم کیو ایم کو اس بات پر بہت غصہ تھا کہ ڈاکٹر مرزا، ملک کی اندر ایم کیو ایم اور اسکے سربراہ کے خالف سخت زبان استعمال کرنے کے بعد اب لندن میں بھی وہ یہی کام کر رہے ہیں ۔ ایم کیو ایم نے موقعہ غؑنیمت جانا اور ایوان میں ڈاکٹر مرا کا نام لے کر ان کے مذمت کرے کے قرارداد پیش کی۔ اس قرارداد نے پیپلز پارٹی کو اپنے اتحادیوں کے ہاتھوں تقریبا بے بس کر ڈالا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے بعض سنجیدہ رہنماوں نے صورتحال کو بھانپ لیا اور ایم کیو ایم کے قرارداد کو تبدیل کیا اور ڈاکٹر مرزا کا نام اس سے خارج کرایا۔ اس کے کئے اثرات مرتب ہوئے۔ ایک یہ کہ ڈاکٹر مرزا کو پیپلز پارٹی کی حمایت مل گئی۔ دوسرے یہ کہ پیپلزپارٹی اگر یہ قرارداد منظر کر لیتی تو آئندہ بھی ایسی قراردادوں کا راستہ کھل کھل جاتا۔

یہ صحیح ہے کہ جنہوں نے پارٹی چھوڑی وہ خود ختم ہو گئے۔مگر اس پہلے پارٹی چھوڑنے والوں کے مقابلے میں بھٹوز تھے۔ اور اب زرداری ہیں۔کیا زرداری کی مخالفت کرنے والے اس طرح ختم ہو سکتے ہیں جیسے بھٹوز کی مخالفت کرنے والے۔لگتا تو مشکل ہے۔ دیکھیں مخالفت کا یہ جو میلہ لگا ہے اس میں کس کے پگڑی اترتی ہے۔۔ 
Sohail Sangi 

No comments:

Post a Comment