این جی اوز کے خلاف جلد بازی میں قدم
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
عالمی این جی او سیو دی چلڈرین پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ موخر کردیا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ فیصلہ تعجب خیز اور جلد بازی میں کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے کوئی وجہ بتائے بغیرگزشتہ ہفتے اس تنظیم کے دفتر کو سیل کیا تھا۔ اس کے دوسرے روز یہ بتایا گیا کہ یہ عالمی تنظیم جو 120 سے زائد ملکوں میں کام کرتی ہے، اس پر مبینہ طور پر بعض ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام ہے۔ ان الزامات کی کتنی تحقیق کی گئی؟ متعلقہ ادارے سے جواب طلبی کی گئی؟ یا یہ معاملہ این جی اوز کے عالمی فورم پر بھی اٹحایا گیا تھا یا نہیں؟ اس کے بارے میں معلومات موجود نہیں ۔ حکومتی فیصلے کے بارے میں کنفیوزن، غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ ایک روز ایک فیصلہ کیا جاتا ہے تو دوسرے روز دوسرا۔
این جی اوز کا مظہر خاصا پیچیدہ اور کثیر رخی ہے۔ اس کو کو سمجھنے کے لئے پاکستان میں اس کی تاریخ کو دیکھنا پڑے گا۔قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں میں این جی اوز بحالیات، صحت، تعلیم جیسی بنیادی خدمات پر ہی توجہ دے رہی تھیں ۔ کئی کی قیادت بعض بااثر افسران ، سیاستدانوں اور تاجروں کی بیگمات کر رہی تھیں۔ این جی اوز کی باقاعدہ شروعات پہلے پانچ سالہ منصوبے (1955-1960 ) میں ہوئی منصوبہ بندی بورڈ میں الگ سماجی بہبود کا شعبہ قائم کیا گیا۔ساتویں اور آٹھویں پانچ سالہ منصوبوں میں بھی اس شعبے کے حق میں پالیسیاں رکھی گئیں ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے سوشل ایکشن پروگرام۔ صوابی سلنیٹی پروجیکٹ ، بارانی ایریا ڈولپمنٹ پروجیکٹ اور پٹ فیڈر کینال پروجیکٹ میں این جی اوز کی شرکت کو لازمی قرار دیا۔ یہی صورتحال اقوام متحدہ کے اداروں، یو ایس ایڈ، اور ورلڈ بینک کی ہے، حکومت کی ناکامی، یا صلاحیت کی کمی، خراب حکمرانی کی وجہ سے غیر سرکاری شعبے کا کردار بڑھا۔
این جی اوز کا دوسرا ابھار ضیاء کے دور میں آیا۔ جب مارشل لا حکومت نے اپنی سوشل ورک اور سماجی بہبود کا دکھاوا دیا۔ 80 کے عشرے میں کئی ایسی این جی اوز وجود میں آئیں جن کا مقصد بلدیاتی اداروں میں رکھی گئی رقومات کو حاصل کرنا تھا۔ 85 کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے آنے والے کئی اراکین اسمبلی نے این جی اوز کی ترقی دلانے میں اپنا رول ادا کیا کیونکہ ان کو جو ترقیاتی فنڈز مل رہے تھے ان کے استعمال کے لئے انہیں اپنی مرضی کے اداروں کی ضرورت پڑ رہی تھی۔ 90 کے عشرے میں این جی اوز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ یہ نئی تنظیمیں خاص طور پر سندھ اور جنوبی پنجاب میں پیپلز ورکس پروگرام کے لئے مختص کی گئی رقم سے استفادہ کرنا چاہتی تھیں۔ حیران کن امر ہے کہ این جی اوز کا ابھار مارشل لاء دور میں ہی آیا۔ پھر وہ ضیا کا مارشل لاء ہو یا جنرل مشرف کا۔
ایڈووکیسی اور لابنگ کی این جی اوز زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہیں۔ عوامی رابطے کی وجہ سے وہ جانتی ہیں کہ میڈیا کو کیسے استعمال کیا جائے۔ پالیسی ایڈووکیسی سے متعلق این جی اوز اگرچہ نئی ہیں ان کا کام حکومتی پالیسی معاملات پر ڈائلاگ کرنا یہ تنظیمیں عالمی خواہ خطے کے نیٹ ورک سے منسلک ہوتی ہیں۔
معاملہ صرف سیو دی چلڈرین کا نہیں۔ بلکہ تمام عالمی این جی اوز کا ہے۔ جن کے ذریعے مختلف ممالک اور ادارے پاکستان میں ایک بہت بڑی رقم عام لوگوں کی سماجی بھلائی اور ترقی کے لئے بھیجتے ہیں۔ملک میں پچاس سے زائدعالمی یا غیر ملکی این جی اوز کام کرتی ہیں۔ صرف سیو دی چلڈرین میں 120 ملازمین کام کرتے ہیں جبکہ اس کی فنڈنگ سے دیگر مقامی تنظیموں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر اس تیسرے ترقیاتی شعبے میں لاکھوں ملازم ہیں۔
بعض حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ یہ تنظیمیں بلوچستان یا گلگت بلتستان وغیرہ جیسے ’’حساس علاقوں‘‘ میں کام کرتے ہیں۔عالمی اداروں کو معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ علاقوں میں کام کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی۔ سیو دی چلڈرین پر الزام اس وجہ سے لگا کہ ڈاکٹرّ فریدی جس نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے جعلی پولیو مہم چلائی تھی۔ سیو دی چلڈرین کا کہنا ہے کہ اس مہم اور ڈاکٹر آفریدی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
این جی اور ان علاقوں میں کام نہیں کرتی کیونکہ وہ جغرافیائی محل وقع کی وجہ سے فوجی حکمت عملی کی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلکہ اس وجہ سے کہ ان علاقوں میں حکومتی ادارے وسائل اور فنڈز کی کمی، صلاحیت یا سیاسی وجوہات کی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اور اگر حکومت ان عالمی اداروں کو کام کرنے میں رکاوٹ ڈالتی ہے تو کیا ان علاقوں کے لوگوں کو دہری سزا دینا چاہتی ہے؟ ایک یہ کہ ان کو ترقی میں حصہ دار نہیں بنایا جا رہا ہے اور ان کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر کوئی اور ان کی مدد کرنا چاہ رہا ہے تواسکو روکا جارہا ہے۔
آخر کہیں تو انسانیت اور سیکیورٹی کا باہمی وجود رہنا چاہئے؟ جنگی حالات میں بھی انسانیت کی خدمت کے لئے کام کرنے والے اداروں کو اجازت ہوتی ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جن علاقوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے وہی علاقے معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں۔
یہ درست ہے کہ ملک میں کام کرنے والی تمام عالمی خواہ ملکی این جی اوز کو قانون کی پاسداری کرنی چاہئے اور ان کے چارٹر میں جو مقاصد ہیں یا حکومت پاکستان سے جو مفاہمت کے معاہدے ہوئے ہیں ان پر ہی عمل کرنا چاہئے۔ کئی ممالک میں سیو دی چلڈرین اور بعض دیگر عالمی تنظیموں کو سخت قوانین اور افسر شاہی کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا پاکستان بھی عالمی ا معیاروں سے ہٹ کر ایسے داروں کے لئے ایسے سخت ترین قوانین بنانا چاہتا ہے؟
بلاشبہ بعض این جی اوز کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ اور مطلوبہ نتائج اور ٹارگیٹ حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ لیکن بعض این جی اوز نے انسانی اور قانونی حقوق، خواتین کی ترقی ، آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے اچھا کام کیا ہے ۔ دیگر نے بنیادی صحت، صفائی، اور ملازمتویں دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ این جی اوز نے ترقی کے حوالے سے تصور بھی تبدیل کیا ہے ۔
نیشنل ایکشن پلان میں مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے اقدامات کی بات ہو رہی تھی۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ مختلف مدارس یا مذہب کے نام پر کام کرنے والے اداروں کی فنڈنگ کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ لیکن تان آکر بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی کے لئے اداروں پر ٹوٹی ہے۔
ملک میں قدمات پسند لابی جو کہ خاصی مضبوط ہے وہ بھی این جی اوز کے رول کے خلاف ہے۔ ان کے نزدیک یہ تنظیمیں مغربی کلچر پھیلارہی ہیں وغیرہ۔ انسانی حقوق، ایڈووکیسی اور لابنگ سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کو حکومت پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔
حکومت یا ریاستی اداروں کی کارکردگی کو ایکسپوز کرتی ہیں۔ لہٰذا بعض ریاستی ادارے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف رپورٹس دیتے رہے ہیں۔ این جی اوز کے خلاف اندھا دھنداور جلد بازی میں لیا گیا ایکشن عالمی برادری میں پاکستان کے لئے کوئی اچھی شہرت کا باعث نہیں بنے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک ایک بہت غیر ملکی فنڈنگ سے بھی محروم ہو جائے گا۔
May 15, 2015
عالمی این جی او سیو دی چلڈرین پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ موخر کردیا ہے۔ لگتا ہے کہ یہ فیصلہ تعجب خیز اور جلد بازی میں کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ نے کوئی وجہ بتائے بغیرگزشتہ ہفتے اس تنظیم کے دفتر کو سیل کیا تھا۔ اس کے دوسرے روز یہ بتایا گیا کہ یہ عالمی تنظیم جو 120 سے زائد ملکوں میں کام کرتی ہے، اس پر مبینہ طور پر بعض ملک دشمن سرگرمیوں کا الزام ہے۔ ان الزامات کی کتنی تحقیق کی گئی؟ متعلقہ ادارے سے جواب طلبی کی گئی؟ یا یہ معاملہ این جی اوز کے عالمی فورم پر بھی اٹحایا گیا تھا یا نہیں؟ اس کے بارے میں معلومات موجود نہیں ۔ حکومتی فیصلے کے بارے میں کنفیوزن، غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔ ایک روز ایک فیصلہ کیا جاتا ہے تو دوسرے روز دوسرا۔
این جی اوز کا مظہر خاصا پیچیدہ اور کثیر رخی ہے۔ اس کو کو سمجھنے کے لئے پاکستان میں اس کی تاریخ کو دیکھنا پڑے گا۔قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں میں این جی اوز بحالیات، صحت، تعلیم جیسی بنیادی خدمات پر ہی توجہ دے رہی تھیں ۔ کئی کی قیادت بعض بااثر افسران ، سیاستدانوں اور تاجروں کی بیگمات کر رہی تھیں۔ این جی اوز کی باقاعدہ شروعات پہلے پانچ سالہ منصوبے (1955-1960 ) میں ہوئی منصوبہ بندی بورڈ میں الگ سماجی بہبود کا شعبہ قائم کیا گیا۔ساتویں اور آٹھویں پانچ سالہ منصوبوں میں بھی اس شعبے کے حق میں پالیسیاں رکھی گئیں ۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے سوشل ایکشن پروگرام۔ صوابی سلنیٹی پروجیکٹ ، بارانی ایریا ڈولپمنٹ پروجیکٹ اور پٹ فیڈر کینال پروجیکٹ میں این جی اوز کی شرکت کو لازمی قرار دیا۔ یہی صورتحال اقوام متحدہ کے اداروں، یو ایس ایڈ، اور ورلڈ بینک کی ہے، حکومت کی ناکامی، یا صلاحیت کی کمی، خراب حکمرانی کی وجہ سے غیر سرکاری شعبے کا کردار بڑھا۔
این جی اوز کا دوسرا ابھار ضیاء کے دور میں آیا۔ جب مارشل لا حکومت نے اپنی سوشل ورک اور سماجی بہبود کا دکھاوا دیا۔ 80 کے عشرے میں کئی ایسی این جی اوز وجود میں آئیں جن کا مقصد بلدیاتی اداروں میں رکھی گئی رقومات کو حاصل کرنا تھا۔ 85 کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے آنے والے کئی اراکین اسمبلی نے این جی اوز کی ترقی دلانے میں اپنا رول ادا کیا کیونکہ ان کو جو ترقیاتی فنڈز مل رہے تھے ان کے استعمال کے لئے انہیں اپنی مرضی کے اداروں کی ضرورت پڑ رہی تھی۔ 90 کے عشرے میں این جی اوز کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ یہ نئی تنظیمیں خاص طور پر سندھ اور جنوبی پنجاب میں پیپلز ورکس پروگرام کے لئے مختص کی گئی رقم سے استفادہ کرنا چاہتی تھیں۔ حیران کن امر ہے کہ این جی اوز کا ابھار مارشل لاء دور میں ہی آیا۔ پھر وہ ضیا کا مارشل لاء ہو یا جنرل مشرف کا۔
ایڈووکیسی اور لابنگ کی این جی اوز زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہیں۔ عوامی رابطے کی وجہ سے وہ جانتی ہیں کہ میڈیا کو کیسے استعمال کیا جائے۔ پالیسی ایڈووکیسی سے متعلق این جی اوز اگرچہ نئی ہیں ان کا کام حکومتی پالیسی معاملات پر ڈائلاگ کرنا یہ تنظیمیں عالمی خواہ خطے کے نیٹ ورک سے منسلک ہوتی ہیں۔
معاملہ صرف سیو دی چلڈرین کا نہیں۔ بلکہ تمام عالمی این جی اوز کا ہے۔ جن کے ذریعے مختلف ممالک اور ادارے پاکستان میں ایک بہت بڑی رقم عام لوگوں کی سماجی بھلائی اور ترقی کے لئے بھیجتے ہیں۔ملک میں پچاس سے زائدعالمی یا غیر ملکی این جی اوز کام کرتی ہیں۔ صرف سیو دی چلڈرین میں 120 ملازمین کام کرتے ہیں جبکہ اس کی فنڈنگ سے دیگر مقامی تنظیموں میں کام کرنے والے ملازمین کی تعداد اس کے علاوہ ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر اس تیسرے ترقیاتی شعبے میں لاکھوں ملازم ہیں۔
بعض حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ یہ تنظیمیں بلوچستان یا گلگت بلتستان وغیرہ جیسے ’’حساس علاقوں‘‘ میں کام کرتے ہیں۔عالمی اداروں کو معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ علاقوں میں کام کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی۔ سیو دی چلڈرین پر الزام اس وجہ سے لگا کہ ڈاکٹرّ فریدی جس نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے جعلی پولیو مہم چلائی تھی۔ سیو دی چلڈرین کا کہنا ہے کہ اس مہم اور ڈاکٹر آفریدی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
این جی اور ان علاقوں میں کام نہیں کرتی کیونکہ وہ جغرافیائی محل وقع کی وجہ سے فوجی حکمت عملی کی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلکہ اس وجہ سے کہ ان علاقوں میں حکومتی ادارے وسائل اور فنڈز کی کمی، صلاحیت یا سیاسی وجوہات کی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام رہے ہیں۔ اور اگر حکومت ان عالمی اداروں کو کام کرنے میں رکاوٹ ڈالتی ہے تو کیا ان علاقوں کے لوگوں کو دہری سزا دینا چاہتی ہے؟ ایک یہ کہ ان کو ترقی میں حصہ دار نہیں بنایا جا رہا ہے اور ان کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر کوئی اور ان کی مدد کرنا چاہ رہا ہے تواسکو روکا جارہا ہے۔
آخر کہیں تو انسانیت اور سیکیورٹی کا باہمی وجود رہنا چاہئے؟ جنگی حالات میں بھی انسانیت کی خدمت کے لئے کام کرنے والے اداروں کو اجازت ہوتی ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جن علاقوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے وہی علاقے معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ ہیں۔
یہ درست ہے کہ ملک میں کام کرنے والی تمام عالمی خواہ ملکی این جی اوز کو قانون کی پاسداری کرنی چاہئے اور ان کے چارٹر میں جو مقاصد ہیں یا حکومت پاکستان سے جو مفاہمت کے معاہدے ہوئے ہیں ان پر ہی عمل کرنا چاہئے۔ کئی ممالک میں سیو دی چلڈرین اور بعض دیگر عالمی تنظیموں کو سخت قوانین اور افسر شاہی کی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا پاکستان بھی عالمی ا معیاروں سے ہٹ کر ایسے داروں کے لئے ایسے سخت ترین قوانین بنانا چاہتا ہے؟
بلاشبہ بعض این جی اوز کی کارکردگی اچھی نہیں رہی۔ اور مطلوبہ نتائج اور ٹارگیٹ حاصل نہیں ہوسکے ہیں۔ لیکن بعض این جی اوز نے انسانی اور قانونی حقوق، خواتین کی ترقی ، آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے حوالے سے اچھا کام کیا ہے ۔ دیگر نے بنیادی صحت، صفائی، اور ملازمتویں دینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ این جی اوز نے ترقی کے حوالے سے تصور بھی تبدیل کیا ہے ۔
نیشنل ایکشن پلان میں مذہبی انتہا پسندی کو روکنے کے اقدامات کی بات ہو رہی تھی۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ مختلف مدارس یا مذہب کے نام پر کام کرنے والے اداروں کی فنڈنگ کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ لیکن تان آکر بنیادی سہولیات اور خدمات کی فراہمی کے لئے اداروں پر ٹوٹی ہے۔
ملک میں قدمات پسند لابی جو کہ خاصی مضبوط ہے وہ بھی این جی اوز کے رول کے خلاف ہے۔ ان کے نزدیک یہ تنظیمیں مغربی کلچر پھیلارہی ہیں وغیرہ۔ انسانی حقوق، ایڈووکیسی اور لابنگ سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کو حکومت پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتی۔
حکومت یا ریاستی اداروں کی کارکردگی کو ایکسپوز کرتی ہیں۔ لہٰذا بعض ریاستی ادارے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف رپورٹس دیتے رہے ہیں۔ این جی اوز کے خلاف اندھا دھنداور جلد بازی میں لیا گیا ایکشن عالمی برادری میں پاکستان کے لئے کوئی اچھی شہرت کا باعث نہیں بنے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک ایک بہت غیر ملکی فنڈنگ سے بھی محروم ہو جائے گا۔
May 15, 2015
No comments:
Post a Comment