Monday, June 15, 2015

مشرف پر غداری کا مقدمہ

مشرف پر غداری کا مقدمہ میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی

حکومت نے بالآخر ریٹائرڈ جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کر لیا ۔ا ور تیں رکنی خوصوصی عدلات تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ عدلات سابق فوجی سربراہ پر نومبر 2007 میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر مقدمہ چلائے گی۔ آئیں کی دفعہ 6 کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل خالد قریشی کی سربراہی میں ایف آئی اے ٹیم نے مشرف دور کی 25 اہم شخصیات سے انٹریوز کئے۔اور اپنی رپورٹ میں بتایا کہ تین نومبر کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا غیر آئینی قدم جنرل مشرف نے کسی سے صلاح مشورے کے بغیر کیا۔ اور یہ عمل ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔

یہ مقدمہ 12اکتوبر 1999کے وقعہ سے متعلق نہیں ہے جب جنرل مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا تھا۔اصل آئین سے انحراف تب ہوا تھا۔ مسئلہ یہ ہے کہ 2000 میں سپریم کورٹ ظفر علی شاہ کیس میں بارہ اکتوبر کے واقعہ یعنی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی توثیق کرچکی تھی۔ تب جسٹس ارشاد حسین چیف جسٹس تھے اور موجودہ چیف جسٹس اس بینچ میں موجود تھے۔ اس کیس میں عدالت عظمیٰ نے نہ صرف اس فوجی اقدام کی توثیق کی بلکہ جنرل مشرف کو یہ بھی اختیار دیا کہ وہ بوقت ضرورت آئین میں بھی ترمیم کرسکے۔

جنرل مشرف ان کے خلاف قائم کئے گئے مختلف مقدمات بشمول بیظیر بھٹو ، نواب اکبر بگٹی کے قتل اور اور لال مسجدواقعے کے مقدمات میں اس وقت ضمانت پر ہیں۔مگر ان پر پہلے قائم کئے گئے تمام مقدمات میں ضمانت ہوچکی تھی۔ تاہم ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ہے۔ آئین کا آرٹیکل 6کہتا ہے کہ کوئی شخص طاقت کے استعمال یا طاقت سے یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے آئین منسوخ کرے، یا منسوخ کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرے، یا تخریب کرنے کی کوشش کرے یا سازش کرے سنگین غداری کا مجرم ہوگا۔ اس دفعہ میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو شخص ایسے اقدام کی معاونت کرے گا وہ بھی سنگین غداری کے دائرے میں آئے گا۔ سزا کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا تعین پارلیمنٹ کرے گی۔

مشرف پر مقدمہ چلانے کے فیصلے کواگرچہ اپوزیشن نے فرقہ ورارنہ واقعات سے نکلنے کیا بہانہ بتا رہی ہے۔ لیکن یہ اتنا بڑا فیصلہ ہے کہ نہیں لگتا کہ واقعی حکومت نے اس کو اسی مقصد کے لیے ایک اشو کھڑا کیا ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس سے حکومت کو ایقیناًسیاسی فائدہ ہوگا۔ یہ پاکستان جہاں چار مرتبہ باضابطہ سویلین حکومت کا تختہ الٹا گیا لیکن تاریخ میں پہلی بار ملک میں ایک فوجی سربراہ پر مقدمہ چلایا جارہا ہے۔
پیپلز پارٹی جمہوری اور عوامی پارٹی سمجھی جاتی ہے لیکن وہ اپنے دور حکومت میں ایسا نہیں کر پائی۔ بلکہ اس دور میں جنرل مشرف کو اععزاز کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا۔ اگرچہ نواز لیگ خود ضیا دور کی پیداوار ہے لیکن اس پارٹی نے مشرف کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیایک وجہ زیادہ قابل فہم ہے۔ وہ یہ کہ عسکری قوت کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہی نواز شریف کا بھی حلقہ سیاست ہے۔ لہٰذا ان کے لیے زیادہ آسان ہے کہ وہ کوئی اس قسم کا انتہائی سخت فیصلہ کریں۔ یہ کام چھوٹے صوبے سندھ سے تعلق رکھنے والے زرداری کے بس کی بات نہیں۔

جنرل مشرف پر ایک ایسے وقت میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا جس کے ایک ہفتے بعد پاک افواج کا سربراہ تبدیل ہوگا۔اور تقریبا تین ہفتے بعد چیف جسٹس تبدیل ہوگا۔ ان دو عہدوں پر تبدیلی اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ مشرف پہلے فوجی سربراہ ہونگے جن پر مقدمہ چلے گا۔ ورنہ اس سے پہلے پاکستان کم از کم چار جنرلوں کو بطور آمر بھگت چکا ہے جن کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چلایا جاسکا ۔

پاکستان میں آمروں کا موازنہ کرنا خاصا مشکل ہے کیونکہ ہر آمر دوسرے سے بڑھ کر تھا۔ جنرل ایوب نے 1956 کا آئین معطل کیا اور مارشل لاء نافذ کیا۔ نہ صرف اتنا بلکہ 1962 کا آئین دے کر پارلیمانی جمہوریت کے آگے پل باندھا جس سے کئی عشروں تک ملک کی جمہوری قوتیں لڑتی رہیں ۔ ایوب نے اس کے علاوہ ملک کا سیاسی ڈھانچہ بگاڑنے کے لیے بنیادی جمہوریتوں کا نظام بھی نافذ کیا۔ یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان کا مینڈیٹ ماننے سے انکار کیا نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔ ضیاء الحق نے نہ صرف منتخب حکومت کا تختہ الٹا بلکہ وزیر اعظم کو پھانسی دی، ملک میں مذہبی انتہاپسندی پیدا کی۔ افغان جنگ میں پاکستان کو پھنسایا۔ اس اتہاپسندی، اور مسلح شدت پسندی کا خیمازہ پاکستان اور عوام آج تک بھگت رہے ہیں۔ پرویز مشرف بظاہر روشن خیال لگتے تھے لیکن اپنے عمل میں ان دو جنرلوں سے زیادہ مختلف نہ تھا۔
ٰیہ عجیب بات ہے کہ پاکستان میں جن سیاسدانوں نے ملک کو ایک جمہوری وفاقی طرز پر چلانا چاہا ، عوام کو جمہوری حقوق اور صوبوں کو اختیارات دینے کی جدوجہد کی ن کو غدارقرار دیا گیا۔ انہیں قید وبند کی سؑ وبتیں برداشت کرنی پڑیں مگر جنہوں نے ملک ا آئین توڑا، جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا، عوام اور صوبوں کے حقوق غصب کئے ملک کو ایک ایسی جہنم میں جھونکا جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں بن رہی۔

دیر آید درست آید۔ احتساب کا عمل شروع ہو رہا ہے جو کہ اچھی بات ہے۔ باقی جنرل تو اس دنیا میں موجود نہیں ہیں، مشرف زندہ ہے۔ ان پر ضرور مقدمہ چلنا چاہئے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مشرف کے خلاف بارہ اکتوبر کے واقعہ کا مقدمہ چلتا۔ لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے شاید ایسا کرنا ممکن نہیں پرویز مشرف پر مقدمے تو پہلے بھی درج کئے گئے تھے۔ جن میں وہ ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔ یہ مقدمہ کسی ایک سیاسی جماعت یا فرد کا نہیں۔ تمام جمہوریت پسندوں کو فریق ہونا چاہئے۔

ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس معاملے میں متحد ہونا چاہئے تاکہ فیصلہ سازی اور اس پر عمل درآمد میں حکومت کو سہولت مل سکے۔ مشرف کسی ایک جماعت ایک فرد کا مجرم نہیں۔ آئندہ آمریتوں کی راہ بند ہو سکے گی۔
لوگ تو اصغر خان کیس کے فیصلے پر بھی مکمل عمل کے منتظر ہیں۔

No comments:

Post a Comment