عوامی نمائندوں کی کارکردگی : خود ہی منصف بنیں
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
25-11-2012
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
25-11-2012
اب منتخب نمائندے اپنی کارکردگی کی رپورٹ خود بنائیں گے۔ صدر آصف علی
زرداری نے اپنی پارٹی کے منتخب نمائندوں سے گزشتہ چار سال کی کارکردگی
رپورٹ طلب کی ہے۔یہ منتخب نمائندے عوامی خدمت کے تمام ثبوت پیش کرکے پارٹی
قیادت کو اپنی شاندار کارکردگی کا یقین دلانے والے ہیں۔ صوبے میں کیا
کیاترقیاتی کام ہوا اور عوام کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟اس کی رپورٹ اگر
منتخب نمائندوں سے ہی لی جائے گی تو سب اچھے کی ہی رپورٹ ہوگی۔کہتے ہیں کہ
کسی باریش بزرگ سے ایک فقیر نے خیرات مانگی۔ بزرگ بالکل کچھ دینے کے موڈ
میں نہیں تھا۔ مگر فقیر کی ضد نے اسے کچھ دینے پر آمادہ کردیا۔ سو فقیر سے
کہا کہ ’’میں اپنی داڑھی پر ہاتھ گھماتا ہوں جتنے بال ہاتھ میں آئیں گے
اتنے پیسے دے دونگا۔‘‘ اس بزرگ نے آہستگی سے داڑھی پر ہاتھ پھیرایا۔ بمشکل
ایک دو بال ہی ہاتھ میں آئے۔ بزرگ نے فرمایا کہ تمہاری قسمت میں یہی لکھا
ہے۔ جواب میں فقیر نے کہا کہ محترم یہ تو ہاتھ بھی آپ کا تھا اور داڑھی
بھی آپ کی۔ اگر یہ داڑھی میرے ہاتھ میں دیتے تو پھر پتہ چلتا کہ ہماری قسمت
کیا ہے۔
کوئی بھی نمائندہ اپنی کارکردگی خراب نہیں دکھائیگا۔اس بات سے یقیننا پارٹی قیادت بھی آگاہ ہوگی۔پارٹی قیادت ان کی کارکردگی سے متعلق دوسرے ذرائع سے معلومات لے سکتی تھی۔ مگر چونکہ یہ الیکشن کا معاملہ ہے۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد کارکردگی بنیاد پر ٹکٹ دینا ہے۔
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ بعض علاقوں میں لوگوں نے زیادہ باشعور ہونے کا ثبوت دیا اور اراکین اسمبلی کا پتہ لگانے کے لیے جلوس نکالے۔ اور شہروں میں منادی کرائی کہ ان کے منتخب ممبر کو پتہ بتایا جائے۔ وہ واپس آجائیں انہیں کچھ نہیں کہا جائیگا وغیرہ وغیرہ۔بعض مقامات پر وفد مقامی صحافیوں کے پاس بھی پہنچے کہ وہ رکن اسمبلی کی تلاش گمشدہ کا اشتہار چھپوانا چاہ رہے ہیں۔
ایسے ایم پی ایز کی بھی شاندارکارکردگی کی رپورٹ تیارکرلیں گے جن کو ان کے ووٹر تمام عرصہ ڈھونڈتے رہے، فال نکلواتے رہے۔ مگر یہ حضرات انتخابات جیتنے کے بعد جو غائب ہوئے، دوبارہ نظر نہیں آئے۔پارٹی ان نمائندوں کی کارکردگی سے کیسے واقف نہیں ہوگی؟اور یہ سب اطلاعات اخبارات میں شایع بھی ہوتے رہے۔تب قیادت نے نوٹس نہیں لیا اب ان تمام واقعات کے باجود خود ایم پی ایز سے کارکردگی رپورٹس بنوا رہی ہے۔ ان کی کارکردگی کا پتہ تو میڈیا میں شایع ہونے والی خبروں اور رپورٹس سے چل جائے گا کہ واقعی انہوں نے کتنے روڈ تعمیر کرائے، کتنی میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں دیں؟
سیاسی جماعتوں میں اراکین اسمبلی کی کارکردگی ناپنے کا بہترین پیمانہ پارٹی کی تنظیم ہوتی ہے جو پارٹی عوام میں جڑیں رکھتی ہے ۔ اس کے لیے یہ طریقہ ضروری بھی ہے تو آسان بھی۔ مقامی پارٹی تنظیم اور عہدیدار نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں کہ کس ممبر نے عوام کے لیے یا اپنے حلقے کے لیے کتنا اور کیا کام کیا ہے؟ پیپلز پارٹی میں اراکین اسمبلی پر کنٹرول کارکنوں کے ذریعے رکھنے کا رواج رہاہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پارٹی کے ڈویزنل اور صوبائی کنوینشن بلاتے تھے اور کارکنوں سے ملاقات بھی کرتے تھے۔ یوں پارٹی کی قیادت کو اراکین اسمبلی اور خود عہدیداران کی کارکردگی کا ذاتی طور پر پتہ چلتا تھا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا۔یہاں تک کہ بھٹو اور محترمہ کارکنوں کو ذاتی طور پر بھی جانتے تھے۔ اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ کارکنوں کو پارٹی قیادت جانتی ہی نہیں۔ تو وہ شکایت کریں تو کس سے کریں؟ پارٹی کی قیادت بھی وڈیروں اور منتخب ہونے کے قابل لوگوں کو اہمیت دے رہی ہے۔ایسے میں پارٹی تنظیم یا کارکنوں کے بجائے اراکین اسمبلی ہی بڑے ہیں انہی کی اہمیت ہے۔لہٰذا کارکن ان بڑے لوگوں کا احتساب یا کارکردگی کے بارے میں شکوہ شکایت نہیں کر سکتے۔
بھٹو اور محترمہ بے نظیرکے زمانے میں پارٹی کے جلسے ہوا کرتے تھے جو احتساب کا ذریعہ ہوتے تھے تھے۔ عوام کا دباؤ ان اراکین اسمبلی کو کنٹرول میں رکھتا تھا۔ یوں پارٹی منتخب نمائندوں سے بڑی نظر ؤتی تھی۔
کارکردگی رپورٹ پر پارٹی قیادات کا ہی نہیں بلکہ ارٹی کارکنوں اور پارٹی کے ووٹرز کا بھی اعتماد ہونا ضروری ہے۔اس صورت میں نہ پارٹی رپورٹ بنا رہی ہے اور نہ ہی عوام یا کارکن، بلکہ خود اراکین اسمبلی بنا رہے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی رپورٹس عوام اور پارٹی کارکنوں کے پاس کس طرح سے قبولیت حاصل کرلیں گی؟ یہ ایک سوال ہے۔
یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا پیپلز پارٹی بطور پارٹی نظر آرہی ہے؟ پارٹی جس کے مختلف عہدیدارن وقت فوقت کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پارٹی کی تنظیم کاری کرتے ہیں۔ کارکنوں سے ملتے ہیں۔پیپلز پارٹی میں شروع سے اگرچہ مرکزیت زیادہ رہی ہے مگر اس کے باوجود سیکریٹری یا بعض دیگر عہدیداران کی سرگرمیاں کسی حد تک نظر آتی تھیں۔ کارکنان خواہ لوگ نچلی سطح کے عہدیداران سے لیکر مرکزی سطح تک کے عہدیداروں کو جانتے تھے۔لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ایک عرصے سے پارٹی میں نچلی سطح پربھی عہدیداران کی الیکشن تو بڑی بات ہے نئے سرے سے سلیکشن بھی نیں ہوئی۔ سندھ میں پارٹی اور حکومت دونوں کے تمام معاملات صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ کے حوالے ہیں۔پارٹی کے صوبائی صدر خواہ سیکریٹری کی عملی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔لہٰذاکسی طور پر بھی تنظیمی ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔
ان اراکین اسمبلی کی ایک کارکردگی ترقیاتی کاموں اور عوام کو سہولیات دینے کے حوالے سے ہے۔ دوسری کارکردگی سندھ میں مختلف اوقات میں جو جو سیاسی مسائل اٹھتے رہے ان پر ان کے موقف کے حوالے سے ہے۔ تیرسی کارکردگی اسمبلی کے اندر ان کی سرگرمیوں کی ہے۔ایوان میں کئی مرتبہ ایسے معاملات بھی اٹھتے رہے جن پر ممبران کی طرف سے ان پٹ ضروری تھا۔ مگر وہ خاموش رہے۔ مگر اسی ہفتے اپوزیشن کو بدشد بولنے کے لیے تیار تھے۔ اصل میں موجودہ اسمبلی نے اپوزیشن دیکھی ہی نہیں تھے۔ پہلے تو فرینڈلی اپوزیشن تھی، اس کے بعد اسمبلی میں موجود سب پارٹیاں اسمبلی میں تھیں۔
صوبے میں دو بدترین سیلاب آئے، تھر اور دیکر علاقوں میں قحط سالی رہی۔ امن و امان کی بدترین صورتحال رہی، بڑے پیمانے پر ہندو آبادی کا انخلا ہوا، ترقیاتی کاموں اور میرٹ پر ملازمتیں نہ دینے پر اور ملازمتیں فروخت ہونے کی بڑے پیمانے پر شکایات آئیں۔ ان معاملات پر عوام خواہ کارکنوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔تب کوئی کارکردگی رپورٹ طلب نہیں کی گئی۔ بلکہ یہ ہوتا رہا کہ کسی نہ کسی طرح سے اراکین اسمبلی کو راضی رکھا جائے۔
کارکردگی رپورٹ تب طلب کی گئی ہے جب پارٹی ٹکٹ دینے کا مرحلہ آیا ہے۔ کیا یہ اچھا ہوتا کہ سالانہ یہ رپورٹ طلب کی جاتی۔اگر ایسا کیا جاتا تو اسمبلی ممبران پارٹی کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے بھی جوابدہ سمجھتے۔ احتساب کا بہتر نظام خود پارٹی کے اندر بھی بن جاتا۔
بہرحال ابھی بھی لوگوں کو شبہہ ہے کہ کیا واقعی ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ عوام کی خدمت کی بنیاد پر کیا جائے گا؟۔۔
Sohail Sangi
کوئی بھی نمائندہ اپنی کارکردگی خراب نہیں دکھائیگا۔اس بات سے یقیننا پارٹی قیادت بھی آگاہ ہوگی۔پارٹی قیادت ان کی کارکردگی سے متعلق دوسرے ذرائع سے معلومات لے سکتی تھی۔ مگر چونکہ یہ الیکشن کا معاملہ ہے۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد کارکردگی بنیاد پر ٹکٹ دینا ہے۔
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ بعض علاقوں میں لوگوں نے زیادہ باشعور ہونے کا ثبوت دیا اور اراکین اسمبلی کا پتہ لگانے کے لیے جلوس نکالے۔ اور شہروں میں منادی کرائی کہ ان کے منتخب ممبر کو پتہ بتایا جائے۔ وہ واپس آجائیں انہیں کچھ نہیں کہا جائیگا وغیرہ وغیرہ۔بعض مقامات پر وفد مقامی صحافیوں کے پاس بھی پہنچے کہ وہ رکن اسمبلی کی تلاش گمشدہ کا اشتہار چھپوانا چاہ رہے ہیں۔
ایسے ایم پی ایز کی بھی شاندارکارکردگی کی رپورٹ تیارکرلیں گے جن کو ان کے ووٹر تمام عرصہ ڈھونڈتے رہے، فال نکلواتے رہے۔ مگر یہ حضرات انتخابات جیتنے کے بعد جو غائب ہوئے، دوبارہ نظر نہیں آئے۔پارٹی ان نمائندوں کی کارکردگی سے کیسے واقف نہیں ہوگی؟اور یہ سب اطلاعات اخبارات میں شایع بھی ہوتے رہے۔تب قیادت نے نوٹس نہیں لیا اب ان تمام واقعات کے باجود خود ایم پی ایز سے کارکردگی رپورٹس بنوا رہی ہے۔ ان کی کارکردگی کا پتہ تو میڈیا میں شایع ہونے والی خبروں اور رپورٹس سے چل جائے گا کہ واقعی انہوں نے کتنے روڈ تعمیر کرائے، کتنی میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں دیں؟
سیاسی جماعتوں میں اراکین اسمبلی کی کارکردگی ناپنے کا بہترین پیمانہ پارٹی کی تنظیم ہوتی ہے جو پارٹی عوام میں جڑیں رکھتی ہے ۔ اس کے لیے یہ طریقہ ضروری بھی ہے تو آسان بھی۔ مقامی پارٹی تنظیم اور عہدیدار نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں کہ کس ممبر نے عوام کے لیے یا اپنے حلقے کے لیے کتنا اور کیا کام کیا ہے؟ پیپلز پارٹی میں اراکین اسمبلی پر کنٹرول کارکنوں کے ذریعے رکھنے کا رواج رہاہے۔ ذوالفقار علی بھٹو پارٹی کے ڈویزنل اور صوبائی کنوینشن بلاتے تھے اور کارکنوں سے ملاقات بھی کرتے تھے۔ یوں پارٹی کی قیادت کو اراکین اسمبلی اور خود عہدیداران کی کارکردگی کا ذاتی طور پر پتہ چلتا تھا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا۔یہاں تک کہ بھٹو اور محترمہ کارکنوں کو ذاتی طور پر بھی جانتے تھے۔ اب صورتحال بالکل مختلف ہے۔ کارکنوں کو پارٹی قیادت جانتی ہی نہیں۔ تو وہ شکایت کریں تو کس سے کریں؟ پارٹی کی قیادت بھی وڈیروں اور منتخب ہونے کے قابل لوگوں کو اہمیت دے رہی ہے۔ایسے میں پارٹی تنظیم یا کارکنوں کے بجائے اراکین اسمبلی ہی بڑے ہیں انہی کی اہمیت ہے۔لہٰذا کارکن ان بڑے لوگوں کا احتساب یا کارکردگی کے بارے میں شکوہ شکایت نہیں کر سکتے۔
بھٹو اور محترمہ بے نظیرکے زمانے میں پارٹی کے جلسے ہوا کرتے تھے جو احتساب کا ذریعہ ہوتے تھے تھے۔ عوام کا دباؤ ان اراکین اسمبلی کو کنٹرول میں رکھتا تھا۔ یوں پارٹی منتخب نمائندوں سے بڑی نظر ؤتی تھی۔
کارکردگی رپورٹ پر پارٹی قیادات کا ہی نہیں بلکہ ارٹی کارکنوں اور پارٹی کے ووٹرز کا بھی اعتماد ہونا ضروری ہے۔اس صورت میں نہ پارٹی رپورٹ بنا رہی ہے اور نہ ہی عوام یا کارکن، بلکہ خود اراکین اسمبلی بنا رہے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی رپورٹس عوام اور پارٹی کارکنوں کے پاس کس طرح سے قبولیت حاصل کرلیں گی؟ یہ ایک سوال ہے۔
یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا پیپلز پارٹی بطور پارٹی نظر آرہی ہے؟ پارٹی جس کے مختلف عہدیدارن وقت فوقت کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پارٹی کی تنظیم کاری کرتے ہیں۔ کارکنوں سے ملتے ہیں۔پیپلز پارٹی میں شروع سے اگرچہ مرکزیت زیادہ رہی ہے مگر اس کے باوجود سیکریٹری یا بعض دیگر عہدیداران کی سرگرمیاں کسی حد تک نظر آتی تھیں۔ کارکنان خواہ لوگ نچلی سطح کے عہدیداران سے لیکر مرکزی سطح تک کے عہدیداروں کو جانتے تھے۔لیکن اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ایک عرصے سے پارٹی میں نچلی سطح پربھی عہدیداران کی الیکشن تو بڑی بات ہے نئے سرے سے سلیکشن بھی نیں ہوئی۔ سندھ میں پارٹی اور حکومت دونوں کے تمام معاملات صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ کے حوالے ہیں۔پارٹی کے صوبائی صدر خواہ سیکریٹری کی عملی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔لہٰذاکسی طور پر بھی تنظیمی ڈھانچہ نظر نہیں آتا۔
ان اراکین اسمبلی کی ایک کارکردگی ترقیاتی کاموں اور عوام کو سہولیات دینے کے حوالے سے ہے۔ دوسری کارکردگی سندھ میں مختلف اوقات میں جو جو سیاسی مسائل اٹھتے رہے ان پر ان کے موقف کے حوالے سے ہے۔ تیرسی کارکردگی اسمبلی کے اندر ان کی سرگرمیوں کی ہے۔ایوان میں کئی مرتبہ ایسے معاملات بھی اٹھتے رہے جن پر ممبران کی طرف سے ان پٹ ضروری تھا۔ مگر وہ خاموش رہے۔ مگر اسی ہفتے اپوزیشن کو بدشد بولنے کے لیے تیار تھے۔ اصل میں موجودہ اسمبلی نے اپوزیشن دیکھی ہی نہیں تھے۔ پہلے تو فرینڈلی اپوزیشن تھی، اس کے بعد اسمبلی میں موجود سب پارٹیاں اسمبلی میں تھیں۔
صوبے میں دو بدترین سیلاب آئے، تھر اور دیکر علاقوں میں قحط سالی رہی۔ امن و امان کی بدترین صورتحال رہی، بڑے پیمانے پر ہندو آبادی کا انخلا ہوا، ترقیاتی کاموں اور میرٹ پر ملازمتیں نہ دینے پر اور ملازمتیں فروخت ہونے کی بڑے پیمانے پر شکایات آئیں۔ ان معاملات پر عوام خواہ کارکنوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔تب کوئی کارکردگی رپورٹ طلب نہیں کی گئی۔ بلکہ یہ ہوتا رہا کہ کسی نہ کسی طرح سے اراکین اسمبلی کو راضی رکھا جائے۔
کارکردگی رپورٹ تب طلب کی گئی ہے جب پارٹی ٹکٹ دینے کا مرحلہ آیا ہے۔ کیا یہ اچھا ہوتا کہ سالانہ یہ رپورٹ طلب کی جاتی۔اگر ایسا کیا جاتا تو اسمبلی ممبران پارٹی کے ساتھ ساتھ عوام کے سامنے بھی جوابدہ سمجھتے۔ احتساب کا بہتر نظام خود پارٹی کے اندر بھی بن جاتا۔
بہرحال ابھی بھی لوگوں کو شبہہ ہے کہ کیا واقعی ٹکٹ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ عوام کی خدمت کی بنیاد پر کیا جائے گا؟۔۔
Sohail Sangi
No comments:
Post a Comment