سندھ میں وسیع تر اتحاد خواب سے حقیقت تک ۔۔۔
سہیل سانگی
پیپلز پارتی کے خلاف مشترکہ وسیع تر اتحاد کی ایک خواب بن گیا ہے۔
قوم پرست مشترکہ پلیٹ فارم پر اتنخابات لڑنے کے لیے تیار نہیں لگتے۔
دو بڑی قوم پرست پارٹیاں سندھ ترقی پسند پارٹی اور عوامی تحریک نے اپنے الگ الگ امیدوروں کا اعلان کردیا ہے۔ اس ضمن میں پونم کے دو اجلاس منعقد ہوئے جو یہ اختلافات ختم کرانے میں ناکام رہے۔ ایک اجلاس مین سندھ ترقی پسند پارٹی نے شرکت نہیں کی۔
یہ دلچسپ بات ہے کہ قادر مگسی اور ایاز لطیف پلیجو دونوں کا تعلق ٹھٹہ سے ہے مگر وہ ہں سے انتخابات نہیں چاہتے۔
ان دونوں پارٹیوں کے درمیان قاسم آباد کی سیٹ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ جہاں سے دونوں پارٹیوں کے سربراہ انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔
عوامی تحریک کی لسٹ میں درماینی طبقے کے لوگ اور عورتیں بھی شامل ہیں۔
نواز شریف کی دلچسپی قوم پرستوں میں گھٹ گئی ہے۔ انہوں نے قوم پرستوں کی مدد سے سندھ میں اپنا پاؤں رکھنے اور اخلاقی طور پر یساست کرنے کی جگہ بنا لی ہے۔
قوم پرست جن کو یہ غلط فہمی پیدا ہوگئی تھی کہ نواز شریف ان کے بغیر سندھ مین قبولیت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور انک وآئندہ حکومت میں شیئر ملے گا۔ یا یہ کہ مختلف تجربوں کے بعد اسلام آباد نے واقعی طے کر لیا ہے کہ قوم پرستوں کو مین اسٹریم سیاست میں لایا جائے۔
دوسری انکو یہ غلط فہمی تھی کہ سندھ میں وہ متبادل بن گئے ہیں۔ مگر فنکشنل لیگ نے ان کا کھیل خراب کردیا۔
اب نواز شریف کے پاسفنکشنل لیگ لیاقت جتوئی اور ارباب غلام رحیم سے لیکر جلال محمود شاہ تک مختلف لوگ ہیں۔ وہ قوم پرستوں کی پرواہ کیوں کریں؟
قومپرستوں نے کوئی ہوم ورک نہیں کیا ہوا۔ اس کے باجودڈھول باجوں اور شرنایوں سے پارلیمانی سیاست میں حصہ لیں گے۔
فنکشنل اور قوم پرست ایک ساتھ نہیں ہو رہے ہیں۔
فنکشنل لیگ انتظار میں ہے کہ مختلف وڈیرے اور پی پی سے ناراض ہونے والے میدان میں آئیں تو وہ امیدواروں کا اعلان کرے۔ یہ تب ہو سکے گا جب پی پی ٹکٹ کی تقسیم کرے گی۔ اور عام انتخابات کے ساتھ ساتھ سنیٹ اور بلدیاتی انتخابات کے لیے بھی مختلف گروپوں سے ڈیل کرے گی۔
فنکشنل لیگ نے اپنا پاور بیس ابھی تک پھیلایا نہیں ہے۔ انتخابات کے حوالے سے ان کے ووٹر انہی مخصوص اضلاع میں ہیں جہاں سے وہ انتخابات جیتتی آئی ہے۔ سندھ میں نواز لیگ فنکشنل لیگ کی کوئی لمبی چوڑی مدد نہیں کرسکے گی۔ البتہ سرائیکی بیلٹ میں بعض نشستوں پر یہ اتحاد فنکشنل لیگ کے کام آسکتا ہے۔
ایک تبدیلی ضرور ہے کہ روایتی وڈیروں کے علاوہ متوسط طبقے اور چھوٹے زمیندار بھی انتخابات میں امیدوار ہیں۔ یہ بات انہیں بلدیاتی انتخابات میں مدد دے گی۔
گزشتہ ڈیڑھ سال سے ملک کے اس جنوبی صوبے میں بھر پور کوششیں کی جارہی تھیں کہ پیپلز پارٹی کے خلاف وسیع تر اتحاد بن سکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف قوتوں کو سرگرم کیا گیا۔
نواز شریف نے کا فائدہ اٹھایا اور اس قانون کی مخالفت کی اور ایم کیو ایم کے خلاف موقف اختیار کیا۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف وسیع تر اتحاد کھڑا کرنے کی اس مرتبہ ذمہ داری پیرپاگارا کے حوالے کی گئی تھی۔
ڈاکٹر قادر مگسی نے گزشتہ ہفتے حیدرآباد میں منعقدہ یوم مقدر ون کے جلسے میں اتحادی جماعت عوامی تحریک کے سربارہ ایاز لطیف پلیجو پر سخت تنقید کی ۔ انہوں نے انکو ٹیڈی کامریڈ کہا اور کہا کہ ٹیڈی کامریڈ سمجھ جائیں قاسم آباد میرے خون سے بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی وڈیرہ پارٹیان سمجھتی ہیں کہ قوم پرستوں کو بیوقوف بنا کر
دس جماعتی اتحاد کے فیصلے کے مطابق جماعت اسلامی، جے یو آئی، اور نیشنل پیپلز پارٹی سندھ بچایو کمیٹی مل کر اتخابات لڑیں گی۔ سندھ بچایو کمیٹی بلدیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے بنائی گئی تھی۔ مگر اسکو پیر صاحب نے انتخابی شکل دے دی ہے۔
اتحاد میں شامل ان گروپوں کا اثر مختلف علاقوں میں ہے۔ دو تین مقامات کے علاقہ ان کے درمیان آپس میں مقابلے یا ٹکراؤ کی صورتحال نہیں ہے۔ نیشنل پیپلز پارٹی کا اثر نوشہروفیروز کے علاوہ ایک نشست پر شکارپور ضلع میں ہے۔ شکارپور میں جے یو آئی کا بھی کچھ اثر ہے۔ جماعت اسلامی میں اثر شہری علاقوں میں ہے۔
عوامی تحریک اور سندھ ترقی پسند پارٹی حیدرآباد اور ٹھٹہ میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آسکتی ہیں۔سندھ یونائٹیڈ پارٹی کا انتخابی حوالے سے اثرجام شورو میں ہے۔ اصل میں نواز لیگ قوم پرستوں کو فلیور کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، تاکہ اس کو قوم پرستی سے سرشار اس صوبے میں پیر رکھنے کی جگہ مل سکے اور اس کے حامی بااثرالیکٹ ایبل منتخب ہوسکیں اور ان کو سیاسی حوالے سے مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نواز شریف اس مرتبہ اس صوبے میں مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کو سندھ میں منظم کرکے براہ راست سندھ کا اسٹیک ہولڈر بننے کے بجائے س بات کو ترجیح دی کہ الیکٹ ایبلز کے ساتھ اتحادبنایا اور اور اس کے ساتھ ساتھ سندھ دوست ہونے کی گواہی کے طور پر سندھ کے قوم پرستوں سے اتحاد کیا۔
تجزیہ نگار نواز شریف کی اس حکمت عملی پر یہ تنقید کر رہے ہیں کہ ان کو مستقل بنیادوں پر سیاست کرنی ہے تو مکمل متبادل کے طور پر سامنے آنا چاہئے۔ صرف موقع پرستوں پرانحصار نہیں کرنا چاہئے جو ہرحکومت میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔ مختلف بااثر لوگوں کو ملا کر وہ اپناکام نکال سکتے ہیں مگر سندھ کے لوگوں کو کچھ ڈلیور نہیں کرسکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر رہے۔
خود مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی حالیہ دور میں پیپلز پارٹی کی اتحادی رہی ہیں۔مزید بااثر وڈیرے جو نواز لیگ سے اتحاد کریں گے وہ بھی کسی نہ کسی طرح سے موجودہ حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ان تجزیہ نگاروں کے مطابق نواز شریف کی پالیسی میں یہ نقص ہے اور وہ سندھ میں دور رس یا دیرپا سیاسی مفادات نہیں رکھنا چاہتے۔ اس وقت نواز شریف کے ساتھ سندھ میں ممتاز بھٹو، لیاقت جتوئی اور اسماعیل راہو کے علاوہ کوئی اور سیاسی شخصیت پارٹی میں موجود نہیں۔
گزشتہ سال ان کی جماعت نے الگ سے اپنی سرگرمیاں کیں، خاص طور پر ماروی میمن سرگرم رہیں۔ مگر پارٹی کے کسی اور رہنما نے سرگرمی نہیں دکھائی۔اب نواز لیگ الگ سے کوئی سرگرمی نہیں کر رہی ہے۔
سندھ میں اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے کہ علامہ طاہرالقادری کے دھرنے کے موقع پر نواز شریف نے جب اپوزیشن پارٹیوں کا رائیونڈ میں اجلاس بلایا اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا تو سندھ کی کسی بھی قوم پرست پارٹی کو نہیں بلایا۔جبکہ بلوچستان، پختونخوا یہاں تک کہ کراچی سے بھی مختلف جماعتوں کو مدعو کیا گیا تھا۔سندھ میں یہ سوال کیاجا رہا ہے کہ کیانواز شریف اس معاملے میں سندھ کو اسٹیک ہولڈر نہیں مانتے؟
اب سندھ میں گرانڈ الائنس پیر پاگارا کی چھتری کے نیچے بن رہا ہے اور ان کا اتحاد نواز لیگ سے ہے۔ اس حوالے سے سندھ کے قوم پرست ترجیحات مین تیسرے نمبر پر چلے گئے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ نواز شریف سے سندھ کی صورتحال نہ سنبھل سکی تو سندھ کا ٹاسک اب فنکشنل لیگ کو دے دیا گیا ہے جس کو حکومت میں اب جونئر پارٹنر کے طور پر لیا جائے گا؟
پیپلز پارٹی کے خلاف ماضی میں بھی اس طرح کے اتحاد بنتے رہے ہیں۔ سندھ قومی اتحاد 1988 کے اتخابات کے موقع پر بنا تھا۔ اس وقت جی ایم سید زندہ تھے۔ بعد میں بھی سندھ قومی اتحاد کے بینر تلے قوم پرستوں نے انتخابات میں حصہ کیا۔ دونوں موقعوں پر ان کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے تھا۔
سندھ قومی اتحاد کا اور کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو دادو کے جتوئی خاندان کو فائدہ ہوا۔ اور وہ صوبے کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔ دوسرا فرق یہ تھا کہ تب نواز شریف ان کے براہ راست اتحادی نہیں تھے۔ اور حکمت عملی کے طور پر اتحادی تھے۔ اس مرتبہ قوم پرستوں سے پنجاب بیسڈ پارٹی نے براہ راست اتحاد کی کوشش کی ہے مگر پیر پاگارا کے بیچ میں آنے سے صورتحال میں تبدیل ہو گئی ہے۔
وسیع تر اتحاد پر بعض اعتراضات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ کہ سندھ بچایو کمیٹی کوئی انتخابی اتحاد نہیں تھا، اس کو انتخابی اتحاد بنانے میں بعض ممبر جماعتوں کو تحفظات ہیں۔ان کے نزدیک سندھ کے بنیادی مفادات کو انتخابی سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہئے۔ دوئم یہ کہ وسیع تر اتحادپیر پاگارا کی رہنمائی میں بنانے کا مطلب فنکشنل لیگ کو پیپلز پارٹی کا متبادل تسلیم کرنا ہے۔
یہ بات بعض حلقوں کو ہضم نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ سیاسی حلقے فنکشنل لیگ کو سیاسی جماعت کم ، روحانی جماعت زیادہ سمجھ رہے ہیں۔بعض حلقے یہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف براہ راست سندھ میں اپنا سیاسی اسٹیک شو کرے اور اسکے ساتھ ساتھ سندھ کے قوم پرستوں سے وہ خود براہ راست بات کرے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ فنکشنل لیگ کے حوالے کرنے سے باثر وڈیرے ہی آگے آئیں گے اور قوم پرستوں کی سنی نہیں جائے گی۔یہ بھی سوال کیا جارہا ہے کہ اتحاد کسی پروگرام کے بجائے صرف پیپلز پارٹی کی مخالفت میں کیوں؟ اس اتحادکا پروگرام یا منشور کیا ہوگا؟
اس کو کیوں نہیں سامنے لایا جارہا ہے۔ بہرحال ابھی اس اتحاد کے بارے میں مزید ردعمل آنا باقی ہے۔ اور پیپلز پارٹی جو ابھی تک بااثر لوگوں کو قابو کرنے کی ترکیب پر ہی کام کر رہی تھیاس نے سیاسی طور پر اس اتحاد کے حوالے سے جواب نہیں دیا ہے۔ فی الحال پیپلز پارٹی کا یہ خیال ہے کہ نواز شریف کو اگر بااثر لوگ یا الیکٹ ایبل ملیں گے ہی نہیں گرانڈ لاائنس کی بیل مونڈھے نہیں چڑھے گی۔
No comments:
Post a Comment