Thursday, March 14, 2019

پاکستان بھارت کشیدگی اور عمران خان



میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی 

پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی کے بعد وزیراعظم عمران خان نے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن پر انہیں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ بھارت میں ان کی واہ واہ ہو رہی ہے۔کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ طالبان سے امریکی مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں۔ جہاں پاکستان سے میں امریکہ یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے دہشتگردی ایکسپورٹ نہ ہو۔ اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کی طرف سے انہیں نوبل پرائیز کے لئے نامزد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ان اقدامات سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہت بہتر ہوئی۔ عالمی امیج تو بہتر ہوا ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ حالیہ واقعات میں خطے میں مکمل طور پر حالات اور سوچ کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم عمران خان اکیلے یہ سب فیصلے کر سکتے تھے؟ ظاہر ہے کہ سملح افواج اور دیگر اداروں کا زیادہ رول ہے۔ ایک اپوزیشن لیڈر نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ حالیہ صورتحال میں جو فیصلے کئے گئے ان کا کریڈٹ صرف وزیراعظم کو نہیں جاتا، اس میں مسلح افواج، پارلیمنٹ بھی شریک ہیں۔ موجودہ حالات کے صحیح ادارک کے لئے ہمیں گزشتہ دو تین ماہ کے واقعات کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کا مالی بحران، آئی ایم ایف قرضے کے لئے کبھی ہاں کبھی نہیں، طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، سعودی ولی عہد کا دورہ برصغیر اور چین، پاک بھارت ٹکراؤ، بھارت کی فرمائشیں اور پاکستان کا ردعمل اس رد عمل کی دنیا میں جئے جئے ان میں سے چند ہم واقعات ہیں۔



کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے مسعود اظہر ان کے بیٹے، بھائی سمیت 44 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بھارت نے اپنے ڈوزیئر میں ان تنظیموں اور افراد کا حوالہ دیا تھا۔ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد مزید تیز کردیا محکمہ اوقاف نے اسلام آباد میں کالعدم تنظیموں کے زیرانتظام مساجد ومدارس کا کنٹرول سنبھال لیا، سرکاری خطیب مقرر کردیئے گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔ 
سندھ حکومت کالعدم تنظیمو ں کے 31 اسکولز اور9 اسپتالوں کا کنٹرو ل اس ہفتے سنبھالے گی جو کراچی سمیت مختلف شہروں میں قائم ہیں۔علاوہ ازیں نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی اسلام آباد نے 68تنظیموں پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 4تنظیموں پر وزارت داخلہ نظر رکھے گی اور دو تنظیموں پر یونائیٹڈ سکیورٹی کونسل کے ریزرویشن 1267کے تحت نظر رکھی جائے گی۔ 
یہ بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ملکی سیاستدانوں کے خلاف جے آئی ٹی بن سکتی ہے تو کالعدم تنظیموں کے خلاف کیوں نہیں؟ 5سال ہوگئے، نیشنل ایکشن پلان ادھورا پڑا ہوا ہے۔ اس کی کئی شقوں پر عمل درآمد ابھی باقی ہے۔اب ایک عجیب بات کہی جارہی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے چوہدری نثار کی وزرات داخلہ نے وزرات خزانہ سے 32ارب مانگے تھے مگر فنڈز مہیا نہیں کئے گئے۔ اب اچانک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں تیزی آگئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اب پاکستان کیلئے ہمیں کالعدم تنظیموں، نان اسٹیٹ ایکٹرز کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کومنطقی انجام تک پہنچانا ہوگا، ورنہ رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی،
حکومت کو یہ مشورے دیئے جارہے ہیں کہ بھارت اور اسرائیل کا اتحاد توڑنے کیلئے پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لے۔حالیہ کشیدگی میں اسرائیل کے کردار کی بھی بات ہو رہی ہے۔ 26فروری کو بالا کوٹ کے قریب بھارتی ایئر فورس کے حملے میں بھارت نے اسرائیلی ساختہ اسلحہ استعمال کیا۔ یہ بھی میڈیا میں رپورٹ ہو رہا ہے کہ بھارت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر راجستھان کے راستے سے پاکستان پر ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا تھا ۔ 
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی انتخابات جیتنا چاہتے ہیں ۔ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ دو پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو اس مقصد کے لئے استعمال کریں۔ لیکن بات صرف اتنی نہیں۔ فرانس سے 36 رافیل جیٹ طیاروں کی خریداری میں مودی سرکار کی کرپشن سے متعلق مقدمہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں اعتراف کیا کہ ہے کہ معاہدے کی خفیہ دستاویزات 'چوری ہو چکی ہیں اور اس کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا ہے۔
نریندر مودی نے بھی ایک لحاظ سے پاکستان کے جنگی طیاروں کی برتری کا اعتراف کیا جس کے بعد بھارت میں بحث چھڑگئی ہے کہ نیا جنگی ساز و سامان جلد سے جلد خریداجائے۔ امریکی جریدے کے مطابق پاکستان کے ہاتھو ں بھارتی طیارے کی تباہی نے امریکی طیارہ ساز کمپنیوں کیلئے نئے معاہدوں کی راہ ہموا ر کردی اور وہ بھارتی فضائیہ کے لئے لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں، یورپی وامریکی طیارہ ساز کمپنیوں کے ساتھ روسی دفاعی کمپنیاں بھی بھارت سے ان معاہدوں کو حتمی شکل دینے کیلئے کوشاں ہیں۔بھارتی فضائیہ کیلئے بھی حالیہ واقعہ سکون کا سبب بنا کہ اب ان کے پرانے طیارے تبدیل ہو جائیں گے۔ 
اس پوری صورتحال کا ایک زاویہ ہی بھی ہے کہ اسلح ساز کمپنیوں کے کاروبار پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کی 100بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے گزشتہ 4سالوں میں 398ارب ڈالر کا اسلحہ بیچا، ان میں 42امریکہ کی، 10روس،7برطانیہ کی، سب سے زیادہ اسلحہ امریکی کمپنیوں نے 226ارب ڈالر کا بیچا، ایک طرف 2017۔2013ء کے دوران چار سالوں میں بھارت 49فیصد اسلحہ اسرائیل سے، 35فیصد روس سے، ساڑھے آٹھ فیصد فرانس سے خرید چکا، ساڑھے 15ارب ڈالر کا اسلحہ امریکہ سے اسکے علاوہ، دوسری طرف ان چار برسوں کے دوران پاکستان نے 70فیصد اسلحہ چین سے، 12فیصد امریکہ سے خریدا۔ پاکستان اور انڈیا کی صورتحال یہ ہے کہ ایک ملک اگر دفاعی بجٹ بڑھائے گا، زیادہ اور جدید اسلح خریدے گا تو دوسرا بھی ایسا ہی کرے گا۔ ڈین دونوں پڑوسیوں کے درمیان اسی طرح کی ہتیاروں کی دوڑ رہتی ہے جس طرح سرد جنگ کے زمانے میں دو سپر پاورز امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ہوتی تھی۔ بوسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر عادل نجم نے کہا کہ جنگ ہتھیار استعمال کرنے والا نہیں ہتھیار فروخت کرنے والا جیتتا ہے۔دونوں ملکوں کو بدترین غربت اور بدحالی سب سے بڑا چیلینج ہے۔
چند ماہ پہلے بھارت کہہ رہا تھا کہ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا کر دے گا۔ حالیہ واقعات کے رد عمل میں بعض اچھے اقدامات ہوئے ہیں۔ جن کو یہ سمجھتے ہوئے مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے کہ آج کی دنیا تبدیل ہے۔ شمالی وجنوبی کوریا امن کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ٹرمپ شمالی کوریا کے صدر سے بات چیت کر رہے ہیں ۔ پاکستان اور بھارت ساتھ بیٹھ کر اپنے مسائل حل کیوں نہیں کرسکتے؟ حالیہ واقعات نے ہم کو بہت کچھ سکھا دیا ہے ۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز نے ہمیں کیا دیا؟ آج کی تبدیل شدہ دنیا اورٹیکنالاجی میں یہ فارمولا قابل عمل نہیں رہا۔ ہمیں تمام اقدامات کسی کو خوش کرنے کیلئے نہیں، بلکہ اپنے لئے کرنے چاہئیں۔ اپنے گھر کی صفائی پہلے کرنی ہوگی۔ 



Pakistan's Stand on Indo-Pak tension

No comments:

Post a Comment