Sunday, March 17, 2019

وزیراعظم کوسندھ حکومت کے طعنے

یہ شاید گزشتہ اگست کا واقعہ ہے۔ انتخابات کے بعدعمران خان وزیراعظم منتخب ہو چکے تھے۔ عارف علوی نے ٹوئٹر پر ایک فوٹو اپ لوڈ کی۔ جس میں عمران خان نگرپاکر میں سو رہے ہیں۔ اس تصویر کا کیپشن یہ لکھا گیا تھا کہ 80 کے عشرے میں نگر پارکر میں شدید گرمیوں میں گزاری گئی رات عمران خان سو رہے ہیں۔عارف علوی تب صدر پاکستان نہیں بنے تھے۔ نہیں معلوم تین عشروں کے بعد یہ فوٹو شیئر کر کے تحریک انصاف کے رہنما کیا پیغام دینا چاہ رہے تھے۔ لیکن تھر کے لوگوں نے اس سے یہی پیغام لیا کہ عارف علوی صاحب کو تھر یاد ہے اور وہ وزیراعظم عمران خان کو بھی اس پسماندہ علاقہ تھر یاد دلا رہے ہیں جو قحط سالی سے گزر رہا ہے۔ بعد میں عارف علوی صاحب بھی صدر پاکستان منتخب ہو گئے۔ ہوا یہ کہ دونوں رہنما تھر کو بھول گئے۔

عمران خان کی حکومت میں قحط نے شدت اختیار کی ، بچوں کی اموات کی خبریں میڈیا میں آنے لگیں۔ سندھ حکومت نے قحط زدگان کو بارہ ماہ تک مفت گندم اور ان کے مویشیوں کے لئے مفت چارہ دینے کا اعلان کیا۔ ماہرین کی رائے تھی کہ قحط زدگان کے لئے ایک سال تک اس طرح امداد جاری رکھنااکیلے صوبائی حکومت کے بس کی بات نہیں۔ تھر سے انتخاب لڑنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے رابطہ ممکن نہ تھا۔ تھر سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رہنما لال مالہی کو بعض مقامی صحافیوں نے راضی کیا کہ صورتحال خراب ہو رہی ہے اس میں وفاقی حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ کسی طرح سے بات وزیراعظم تک پہنچا دی گئی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر دو وزراء تھر کے دورے پر پہنچ گئے۔وفاقی وزراء صاحبان قحط زدگان کے لئے دو ایمبولینسز دینے کا اعلان کر کے واپس چلے گئے۔ پانچ ماہ گزرنے کے بعد
بھی وفاقی حکومت کے اس اعلان پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

رواں ماہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کا پروگرام بنا تو تھر کے لوگوں نے حکومت کے سربراہ کے اس دورے سے کئی امیدیں باندھ لیں کیونکہحکومت کے سربراہ شاذونادر ہی تھرپارکر جیسے پسماندہ علاقے کا دورہ کرتے ہیں۔ لیکن جب بھی یہ دورہ ہوتا ہے تو کوئی ایسا پروگرام دیتے ہیں جو اس پسماندہ علاقے میں تبدیلی لے آتا ہے۔ 90 کے عشرے میں وزیراعظم بینظیر بھٹو نے تھاریو ہالیپوٹہ میں کوئلے کی کھدائی کے افتتاح کے وقت تھر کا دورہ کیا۔اور بعض ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ نوے کے عشرے کے آخر میں جنرل پرویز مشرف نے شدید قحط سالی کے موقعہ پر تھر کا دورہ کیا۔بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں اور بعض ترقیاتی کام شروع ہوئے۔ تھر میں آج جو روڈ نیٹ ورک موجود ہے وہ مشرف کے زمانے کا ہے یہ اور بات ہے کہ قحط سالی کی وجہ سے ورلڈ بینک اور بعض دیگر عالمی اداروں نے رقم فراہم کی تھی۔ عمران خان نے حالیہ دورہ تھر کے دوران ایک لاکھ خاندانوں کو صحت کارڈ دینے اور چار ہسپتالوں کی سہولت والی ایمبولینسز اور دو عام ایمبولینسز اور ایک سو آر او پلانٹس دینے کا اعلان کیا۔ بینظیر بھٹو اور مشرف کے دیئے گئے پروگراموں کی وجہ سے تھر میں تبدیلی آئی۔ تھر کو ایک نئی جہت ملی۔ لیکن عمران خان کے اعلان کردہ پروگراموں میں کوئی بھی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں جو تھر کےلوگوں کی زندگی میں تبدیلی لا سکے۔ تھر میں لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ چار ایمبولینسز اور آر او پلانٹس مخیر حضرات یا این جی اوز بھی دے سکتے ہیں۔ صحت کارڈ ملک کے بعض دیگر علاقوں مین پہلے سے رائج ہے۔ یہ منصوبہ ویسے بھی ایک دو سال کے اندر تھر تک پہنچ جاتا۔ وزیراعظم نے ایسی کیا چیز دی جو پسماندہ علاقے کے لوگوں کی زندگی بدل سکے؟ مسلسل قحط کے شکار لوگوں کو قحط سالی سے بچایا جا سکے؟ وزیراعظم کے دورہ تھر کو خطے کی جنگی صورتحال سے بھی جوڑا جارہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تھر کے پڑوسی صوبے راجستھان میں جلسہ کرکے پاکستان سے جنگ کی باتیں کی تھیں۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی تھر والی تقریر ملک اور فوج کے لئے بہتر نہیں تھی وزیراعظم پاکستان حالات کی گرمی کے دوران اگر تھر کا دورہ کرتے تو شاید اتنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ لیکن انڈیا کو یہ پیغام دینا بھی ضروری تھا کہ راجستھان سیکٹر بھی پاکستان کے لئے اہم ہے۔ راجستھان سیکٹر پرانڈیا کے ساتھ اسرائیل کے تعاون کی خبریں میڈیا میں آرہی تھی۔ تھر کے باسیوں کو 1971 ء کی جنگ میں تلخ تجربہ ہوا تھا۔اس محاذ پر پاکستان کی دفاعی پوزیشن مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے انڈیا نے ایک ہزار مربع کلومیٹر علاقہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس لئے وہ ڈرے ہوئے بھی تھے۔ پاکستان یہ پیغام بھی دینا چاہ رہا تھا کہ تھر کا علاقہ اب ’’سافٹ بیلی‘‘ نہیں کہ انڈیا آسانی سے گھس آئے۔
دورہ تھر میں ایک مقامی سیاست کا پہلو بھی ہے۔ یہاں سے مخدوم شاہ محمود قریشی نے جولائی کے انتخابات لڑے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ غوثیہ جماعت کے مریدین کی وجہ سے وہ جیت جائیں گے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے پیر نورمحمد شاہ کے ہاتھوں ہار گئے۔ قریشی صاحب کے اتحادی اور ارباب گروپ کے صوبائی اسمبلی کے امیدوارعبدالرزاق راہموں جیت گئے تھے۔ یہ واحد سیٹ کو چھوڑ کر باقی پورے تھر میں ارباب گروپ کا صفایا ہو گیاتھا۔ انتخابات کے بعد شاہ محمود قریشی پلٹ کر تھر نہیں آئے تھے۔ لہٰذا قریشی صاحب کے لئے دورہ تھر واجب تھا۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی تھر میں آ کر تقریر کرنی تھی۔ ارباب گروپ کے اکیلے رکن سندھ اسمبلی اپوزیشن میں بیٹھ کر کوئی اہم کردار ادا نہیں کر پا رہے تھے۔ ان کے لئے مشکل ہو رہا تھا کہ اقتدار سے باہر بیٹھ کر اپنے حامیوں اور ووٹرز کو مطمئن رکھ سکیں۔ ارباب غلام رحیم پیپلزپارٹی کے ہاتھوں ضلع بھر میں شکست فاش کھانے کے بعد موقعہ کی تلاش میں تھے کہ وہ اپنی کھوئی حیثیت بحال کرنے کے لئے دوبارہ آغاز کریں۔ ان کا خیال تھا کہ اگر چھاچھرو اور ڈاہلی تحصیلوں میں اپنے حامیوں کو شو کر سکتے اور پیپلزپارٹی مخالف ووٹروں کو اکٹھا رکھ سکتے ہیں تو اس کا اثر پورے تھر کی سیاست پر پڑے گا۔
وزیراعظم کے دورہ تھر کو ان تین باتوں کے پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ارباب غلام رحیم اور ان کے گروپ نے اگرچہ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی لیکن جلسے کو کامیاب بنانے اور وہاں استقبال کے لئے موجود رہنا ضروری سمجھا۔ شاہ محمود قریشی بھی چاہتے ہیں کہ ارباب غلام رحیم یا پارٹی میں شامل ہوں یا طاقت کا مظاہرہ لوگوں کو جمع کر کے دکھائیں۔ اس لئے وزیراعظم اور شاہ محمود قریشی نے تھر کے لئے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا۔ ارباب گروپ کو اتنا ریلیف دیا کہ وفاقی حکومت نے بعض اسکیمیں دی ہیں جن سے ارباب گروپ کے حامیوں کو اقتدار میں شمولیت کا احساس ہوگا۔ارباب غلام رحیم فی الحال تحریک انصاف میں شمولیت نہیں کرنا چاہ رہے ہیں، وہ کسی اور اشارے اور بلدیاتی انتخابات کے منتظر ہیں۔ اس دورے کے بعد شاہ محمود قریشی اپنے مریدوں کو یہ کہنے کی پوزیشن میں آگئے کہ ’’ دیکھیں آپ کے لئے وزیراعظم چل کر آئے ہیں‘‘ ۔
یہ موقعہ تھا کہ وزیراعظم سندھ حکومت کے پیٹرن پر چلنے کے بجائے تھر کے لئے یونیورسٹی، بارانی زراعت کے لئے بعض اسکیموں کا اعلان کرتے۔ تھرکے قحط کا آؤٹ آف باکس حل دیتے۔ وفاقی حکومت یہ نہ کر پائی لہٰذا اس کو سندھ حکومت کے طعنے سننے پڑ رہے ہیں کہ وہ قحط زدگان کے لئے کچھ نہیں کر رہی۔

https://www.naibaat.pk/11-Mar-2019/21644

https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/wazir-e-azam-ko-sindh-hukumat-ke-tannay-11356.html 

http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/68104/Sohail-Sangi/Wazir-e-Azam-Ko-Sindh-Hukumat-Ke-Tannay.aspx

No comments:

Post a Comment