Friday, October 23, 2015

اسلام آباد پر شدید دباؤ: اسٹبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل

میرے دل میرے مسافر ۔۔ سہیل سانگی
کوئی مانے یا نہ مانے ، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہی تبدیلی کا باعث بنی ہے۔ یہ خطہ جہاں پاکستان واقع ہے بڑی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔ چینی راہداری، روس کی خطے میں از سرنو دلچسپی اور سرگرمی، سعودی عرب کی تبدیل شدہ صورتحال چند بظاہر نظر آنے والے اظہار ہیں۔ اسلام آباد پر امریکہ، برطانیہ، انڈیا، افغانستان اور ایران کا شدید دباؤ ہے۔ چین اور وس کی زبردست قسم کی دلچسپی ہے۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکمران اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرتا۔ اور آخر تک طاقتور ہونے کا تاثر دیتا رہتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہوتا ہے کہ اپنے ہی مفاد میں عوام کو اعتماد میں لے۔
قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھنے سے نئی قوتیں جنم لیتی ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں برصغیر خواہ یورپ کی تاریخ میں ملتی ہیں۔ ایسے میں اگر مرکز وفاق میں شامل قوتوں اور قوموں کو خوش رکھے گا تو مضبوط ہوگا۔

صورتحال میں اسلام آباد پر موجودہ شدید دباؤ میں مغرب کے نئے نئے مطالبات ہیں۔ افغانستان کی صورتحال کی وجہ سے دباؤ ہے کہ وہ وہاں پر طالبان کو روکے۔ اس پریشر نے حکومت کو خاصا پریشان کیا ہوا ہے۔ چین اور ر وس اپنی پالیسیاں دھیرج سے چلا رہے ہیں۔ وہ براہ راست امریکہ سے تصادم لینا نہیں چاہتے۔ایسے میں مشکل لگتا ہے کہ پاکستان ان معاملات کا اور اپنے رول کے بارے میں امریکہ سے کوئی باعزت حل حاصل کرلے۔ اندرونی ملک شدید مطالبہ کہ امریکہ سے کوئی بھی ایسا سمجھوتہ نہ کیا جائے جو ملکی مفادات کے خلاف ہو۔ اس مطالبہ میں اس وقت مزید وزن پید اہو جاتا ہے جب امریکہ کی جانب سے انڈیا کی بالادستی کو علاقہ میں مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہوں۔ پاکستان کی جانب سے انڈیا کے بارے میں مزید سخت موقف دراصل اس کو دیئے گئے نئے کردار کی وجہ سے ہے۔

اسی پس منظر میں وزیراعظم نواز شریف امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کو اندرونی خطرات سے زیادہ بیرونی خطرات درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو اپنے ایجند ا اور موقف کے بارے میں اعتماد میں لئے بغیر امریکہ کے دورے پر چلے گئے۔
پاکستانی سابق سفارتکار منیر اکرم نے بعض سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری اور وزیر اعظم کے درمیان گزشتہ ماہ کی ملاقات بہت ہی تلخ رہی۔ جان کیری نے وزیر اعظم کو صرف ’’مسٹر نواز شریف‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ ورنہ عالمی ڈپلومیسی میں عہدے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ مسٹر پرائیم منسٹر، مسٹر پریزیڈنٹ وغیرہ۔ بقول پاکستانی سفارتکار کے جان کیری کا لہجہ بہت سخت تھا۔ امریکی اخبارات کا کہنا ہے کہ نواز شریف اباما ملاقات میں پاکستان کے میزائیل اور جوہری پروگرام بھی زیر بحث آئے گا۔ ایران کے ساتھ امریکہ کے جوہری معاہدے کے بعد اب پاکستان پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ سویلین مقاصد کے لئے جوہری پروگرام پر بھی امریکہ راضی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ کیونکہ پاکستان کے پاس جو لمبی مار کرنے والے میزائیل ہیں اس سے صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مغربی اور شمالی ممالک کی حکمت عملیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
پاکستان پر کثیر رخوں بڑھتے ہوئے دباؤ میں کیا نواز شریف کی کمزور سویلین حکومت امریکی دباؤ میں آکر مطالبات مان لے گی؟ یا نواز شریف کی دو رخی پالیسی کی وجہ سے ان کی حکومت خطرے میں پڑ جائے گی؟ نواز شریف کی حکومت عددی لحاظ سے خواہ مضبوط صحیح لیکن سیاسی طور پر کمزور ہے۔ اپوزیشن ابھی بھی ان کے ساتھ نہیں۔ خود ان کی کابینہ اور پارٹی کے اندر بھی اختلافات ہیں۔ اگر وہ کوئی بھی ایسا سمجھوتہ کرتی ہے تو ان کی حکومت ایک بار پھر بحران کا شکار ہو جائے گی۔ پارلیمانی کمیٹی کی یہ سفارش کہ منتخب حکومت کی مدت چارسال کی جائے وہ صرف فائیلوں میں پڑی ہوئی سفارش نہیں رہے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے درمیان کسی اور آپشن بھی پر عمل بھی درآمد ہو سکتا ہے۔ جن کا اظہار وقت بوقت کیا جاتا رہا ہے۔
بیرونی دباؤ کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت اور فریق کا اپنا اور دوسروں سے مختلف نظریہ اور نقطہ نظر ہے۔ ان خطرات اور حل کے موجود آپشنز کے حوالے سے جب تک ملک کے عوام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لینا ضروری ہے تاکہ تمام نقطہ ہائے نظر ایک دوسرے کے قریب آسکیں اور ایک اتفاق رائے جیسی صورتحال پیدا ہو۔ اس کے برعکس خفیہ معاہدوں کی راہ اختیار کرنے کی صورت میں مرکزی اختلافات تیز تر ہو جائیں گے۔
مرکز پر دباؤ اور اور سیاسی حلقوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ کی پالیسی تبدیل ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، متحدہ اور عوامی نیشنل پارٹی کا کسی حد تک شمار ہونے لگا ہے۔ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کو مزید ڈھائی سال دینے کے امکانات بھی اسی صورتحال کا نتیجہ ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد اور قربت پر ارباب اختیار ناخوش ہیں۔ اور کراچی میں ایک بار پھر آپریشن کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم کو دینے کے لئے نواز حکومت کے ہاتھ خالی ہیں۔
یوں اسلام آباد پر بڑھتا ہوا دباؤ کا ملکی بساط پر دن دن واضح ہوتا جارہا ہے۔ اس پریشر کے نتیجے میں نئے اتحاد بنیں گے۔ سیاست نیا رخ اختیار کرے گی۔ بلکہ نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں نواز لیگ نے پیر پاگارا کی سرکردگی میں دس جماعتی اتحاد بنایا تھا۔ لیکن سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے کوئی مضبوط اتحاد نہیں بن سکا ہے۔قوم پرست بھی صرف صوبے کی سطح پر ہی صحیح کوئی آپس میں اتحاد نہیں بنا پائے ہیں ۔ یہ مظہر بہت سی چیزوں واضح کر دیتا ہے۔ ایسے میں آصف زرداری کی وطن واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ بلوچستان کی’’ جلاوطن ‘‘ قیادت کو وطن لانے کی کوشیں اہم ہیں۔یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس تاثر کو بھی زائل کردیا جائے گا کہ سندھ اور بلوچستان کی قیادت ملک سے باہر ہے۔
وفاق پر دباؤ کے نتیجے میں جب حکمت عملیاں تبدیل ہونگی توسندھ میں بھی صورتحال تبدیل ہوگی۔ اب لگتا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کی یہ پالیسی بھی تبدیل ہوگی کہ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔ اس میں کچھ کمال آصف زرداری کا بھی ہے جس نے ہر حال میں اقتدار میں رھنے کا گر سیکھ لیا ہے۔ لین اس کو بھی ان عوامی شکایات کا ازالہ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔یہ صحیح ہے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف مختلف گروہوں کے ذریعے دباؤجاری رہے گا لیکن بعد میں اقتدار کا ہار گھما پھرا کے اسی کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ دراصل مرکز اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کو دیوار سے لگانا نہیں چاہتا۔ اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی آئندہ انتخابات میں شامل رہے گی ۔ مطلب مرکز میں
پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ جہاں بڑی حد تک ان معاملات کو ملک کے اندر اعتزاز احسن اور میاں رضا ربانی ڈیل کر رہے ہیں لیکن اس کا پبلک فیس سید خورشید شاہ بنے ہوئے ہیں۔
اس تھیوری پر عمل کے نتیجے میں مرکز میں مخلوط حکومت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ سندھ میں شاید کچھ بھی تبدیل نہ ہو، سوائے چہروں کے۔

october 22 , 2015 for Nai baat

No comments:

Post a Comment