http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/01-11-2019/details.aspx?id=p10_03.jpg
عمران خان کی مخالفت کیوں؟
سہیل سانگی
عمران خان کی حکومت کو پہلی مرتبہ پہلی مرتبہ سخت چیلینج کا سامنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں مخالفین وفاقی دارالحکومت میں جمع ہو رہے ہیں، مولانا کو اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں کی آشیرواد حاصل ہے۔ ایک گمبھیر سیاسی بحران پیدا ہو رہا ہے، اگرصورتحال کو دانشمندی سے ہینڈل نہ کیا گیا تو اس میں کئی پیچیدگیاں بھی پیدا جائیں گی۔قیادت کے خلاف حکومتی اقدامات، احتساب کے نام پر تحقیقات، مقدمات، گرفتاریوں اور سزاؤں کے باوجوداپوزیشن ہچکاہٹ کا شکار رہی۔اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض کلیدی ریاستی اداروں سے اپوزیشن جھگڑا مول لینا نہیں چاہتی تھی۔ اور یہ ادارے عمران خان حکومت کے پیچھے کھڑے تھے۔
دیکھا جائے تو عمران خان کی مخالفت صرف سیاسی بنیادوں پر نہیں۔ اس کے بعض معاشی اسباب بھی ہیں۔ یہ تاثر دیا گیا کہ ”لوٹی ہوئی دولت“ اقتدار میں ٓاتے ہی واپس ملک میں لائی جاے گی۔ کرپشن کے خلاف کارروائی ہوگی۔ بیرون ملک سے ڈالروں کی بارش ہونے لگے گی۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بس بٹن دبانے یا فیصلہ کرتے ہی اس پر عمل ہو جائے گا۔ یہ پوری تصوراتی دنیا تھی، جس کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں تھا۔ اس آئیڈیا کا چورن علامی مالیاتی اداروں سے لیکر بعض مقتدرہ اداروں اور متوسط طبقے تک بیچا گیا۔
یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کی عوام سے بڑھتی ہوئی بیگانگی نے عمران خان کو جگہ دی۔ عمران خان نے ملک میں موجود دو جماعتی نظام جس کو وہ ”باری“ کا نام دے رہے تھے، ان جماعتوں کے عوام میں بیس کو توڑنے کے لئے بڑے بڑے نعرے دیئے۔ تب جا کر کہیں وہ متوسط طبقے کو اپنی طرف راغب کر پائے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ جو طبقہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے خلاف عمران خان کی حمایت میں کھڑا ہوا وہ انہی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے وجود میں آیا یا پلا بڑھا۔ اس متوسط طبقے کا ٰخیال تھا کہ صرف اس کو کچھ جگہ مل جائے، کچھ آزادی مل جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمندر پار پاکستانیوں نے بھی کچھ حمایت کی کچھ خواب جوڑ کر دیئے، کہ پاکستان سماجی خدمت کے حوالے سے مغربی ملکوں کی طرح ہو سکتا ہے، بس تھوڑا سا گورننس کا اشو ہے۔لیکن یہ ایک محدود ایجنڈا تھا، جس کے ذریعے اتنی بڑی تبدیلی لانا ممکن نہ تھا۔بہرحال عمران خان نے عام آدمی کی زندگی تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ مسقتبل کا ایجنڈا، موجودہ پالیسیوں کو درست کرنا، اداروں کی از سرنو تعمیر کرنا، طویل مدت کے لئے معیشت کو کھڑا کرنا بھی ان کے نعروں میں شامل تھا۔ یہی کہ تبدیلی لائی جائے گی۔
لیکن زمینی صورتحال مختلف تھی۔ جب عمران خان نے حکومت میں آ کر اقدامات شروع کئے تو اٹھتے ہی اس کا حامی طبقہ اور عام لوگ اس کا شکار ہوئے۔ معیشت کی ڈاکیومنٹیشن، ٹیکس میں ا ضافہ کرنسی کی قدر میں کمی نے بدترین مہنگائی کا طوفان کھڑا کردیا۔ متوسط طبقے کا خیال تھا کہ حکومتی اقدامات بالائی طبقے سے شروع ہونگے اور وہیں پر ختم ہونگے۔ اس طبقے کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ آئی ایم کی پالیسی نے پوری ڈائریکشن تبدیل کردی۔ جس سے غریب تو غریب تھا ہی لیکن خود متوسط طبقے کو اپنا وجود خطرے میں نظر آیا۔ اسکو اپنی اظہار کی آزادی سے لیکر سماجی آزادی تک کے معاملات خطرے میں محسوس ہوئے۔ لہٰذا تحریک انصاف کی حمایت کرنے والا طبقہ میدان میں موجود نہیں رہا۔
یہ بھی تاثر دیا گیا کہ نواز شریف حکومت نے بڑے ا نفرا اسٹرکچر منصوبوں کے لئے قرضے لئے۔ جس سے عارضی طور پر معیشت میں ترقی ہوئی۔ لیکن یہ سب کچھ سرمایہ کاری نہیں کراسکا۔ برآمد سے متعلق صنعتوں کو نہیں بڑھا سکا۔ یہ بھی نعرہ پختہ کیا گیا کہ سیاسی سطح پر گزشتہ دو عشروں سے سیاست دو سیاسی جماعتوں گرد گھوم رہی تھی۔لیکن مسئلہ سول اور ملٹری کشیدگی کا بھی تھا۔
تحریک انصاف حکومت میں آئی تو لگ رہا تھا کہ ملکی معیشت کا ٹائٹانک ائیس برگ سے ٹکرانے والا ہے۔ پاکستان کو تجارتی خسارہ تھا۔ زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے تھے۔ غیر ملکی قرضوں کی واپسی مشکل ہو رہی تھی۔ اور دیوالیہ بننے کی صورتحال تھی۔ عمران خان کو کوئی آئیڈیا ہی نہیں تھا کہ سیاسی خواہ معاشی طور پر زمینی حقائق کیا ہیں؟ ان کو کس طرح سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بہرحال لگتا ہے کہ یہ نسخہ بھی نہیں چل پایا۔گزشتہ سال تک تحریک انصاف کی حمایت کرنے والے چاہے کہیں بھی ہوں انہوں نے اپنے فیصلے پر دوسری نظر ڈالنا شروع کی۔
بات دنیا بھر کے مانی جاتی ہے ایک فرد یا ایک ادارہ مجموعی طور پر طویل مدت تک کچھ زیادہ نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی جمہوریت تب تک نہیں چل سکتی جب تک اس کی فعال اپوزیشن ہو۔ میڈیا آزاد ہو۔ سیاسی مخالفت مثبت چیز ہے۔ جو حکومت کو ان کے غلط کاموں پر چیک رکھتی ہے۔یہ جب اپوزیشن کو رول ادا کرنے نہیں دیا جارہا ہو، تو اپوزیشن حکومت کو نکالنے پر آجاتی ہے۔ یہ مارچ سے کچھ اور حاصلات اپنی جگہ پر لیکن اپوزیشن کو کھوئی ہوئی اسپیس دے سکے گا۔پاکستان میں اقتدار کے ڈھانچے میں صوبائی معاملات کا اپنا رول ہے۔ موجودہ دور حکومت میں صوبائی معاملات میں مداخلت بڑھی ہے۔
موجود حالات میں مقتدرہ حلقوں کا رول یقیننا اہم ہوگا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مقتدرہ ادارے اپوزیشن سے مکمل طور پر اپنے ناطے ختم کر رہے ہیں اور صرف عمران خان پر ہی انحصار کر کے اقتدار کے اکیلا امیدوار سمجھیں گے؟ اگر ایسا لگا تو یا اپوزیشن مقتدرہ حلقوں سے متعلق بھی کچھ رائے بنائے گی؟ مقتدرہ اداروں کے لئے صرف حکومت کو بچانا ہی نہیں بلکہ اپنی پوزیشن کو بھی نقطہ اعتراض سے دور رکھناہوگا۔ سوال بنیادی تضادات اور سوالات کا ہے۔ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے بحران کا حل نکالنے کی کوشش ہی صحیح فیصلہ ہوگا، جس میں عارضی حل کے بجائے بنیادی تضادات کو تسلیم کرتے ہوئے، مستقبل کے لئے طویل مدت کی سوچ اپنائی جائے۔
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/imran-khan-ki-mukhalfat-kyun-17094.html
----------------------------------------------------
فوج غیر جانب دار قومی ادارہ ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مولانا فضل الرحمٰن کو شکایت پر متعلقہ اداروں کے پاس جانے کا مشورہ دے دیا۔
اسلام آباد میں اپوزیشن کے آزادی مارچ سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مولانا سینئر سیاستدان ہیں، اگر انہیں کوئی شکایت ہے تو متعلقہ اداروں کے پاس جائیں۔
یہ بھی پڑھیے:فضل الرحمٰن کی حکومت کو 2 دن کی مہلت
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن بتائیں کہ وہ کس ادارے کی بات کر رہے ہیں؟ سڑکوں پر آ کر الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوں گے، کسی بھی طرح کا انتشار ملک کے مفاد میں نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج غیر جانب دار قومی ادارہ ہے، مولانا فضل الرحمٰن بتائیں وہ کس ادارے کی بات کررہے ہیں؟ جے یو آئی ف کے سربراہ اپنے تحفظات متعلقہ اداروں کے پاس لے کر جائیں۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کا فضل الرحمٰن سے رابطے کا فیصلہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے ساتھ آئین، قانون کے دائرے میں رہ کر سپورٹ کررہے ہیں، ملکی استحکام کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں، وہ آپس میں بہتر کوآرڈنیشن کررہی ہیں، امید ہے کہ کمیٹیوں کا کام بہتر طریقے سے آگے چلے گا۔
یہ بھی پڑھیے: فضل الرحمٰن کے ہوتے یہودیوں کو سازش کی ضرورت نہیں
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ قوم نے دہشت گردی کے غفریت کا مقابلہ کیا، جو کوئی دوسری قوم اور فوج نہ کرسکی، 27 فروری کو بھارتی شر انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایک لاکھ فوج مشرقی سرحد پر فرائض انجام دے رہی ہے، ایل او سی پر کشیدگی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی کہا کہ ردالفساد پورے ملک میں جاری ہے تاکہ دائمی امن قائم ہو، ہم نے جان و مال کی قربانیاں دے کر ملک میں امن قائم کیا ہے۔
-------------------------
Nov 2, 2019
آئندہ کا لائحہ عمل مشاورت سے طے کریں گے، فضل الرحمٰن
جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ میرا موقف اکیلے کا موقف نہیں تمام اپوزیشن کا موقف ہے، سب نےاس کامیاب ترین آزادی مارچ پرخوشی کا اظہار کیا اور مبارکباد دی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ آج ہماری رہبرکمیٹی کا اجلاس ہے،آئندہ کالائحہ عمل مشاورت سےطےکریں گے۔
انہوں نے اجلاس کے بارے میں کہا کہ اسلام آباد میں عوام کے اتنی بڑی تعدادمیں آنے پر تاثرات کے لیے ہماری ملاقات تھی۔
واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزادی مارچ کی موجودہ صورتحال، وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ سمیت دیگر اہم معاملات پر غور کیا گیا۔
قبل ازیں مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ۔
آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں، صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہائوس جا کر گرفتار کر لے۔
-----------------
فضل الرحمٰن کی حکومت کو 2 دن کی مہلت
مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ۔ آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں کہا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں،صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہائوس جا کرگرفتارکر لے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گورباچوف کو ناکامی کا اعتراف کرکے ریاست کی حاکمیت سے دستبردار ہونا ہوگا ، عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی مزید اجازت نہيں دے سکتے۔
آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ استعفا دے دیں، ورنہ پھر ہم نے اس سے آگے فیصلے کرنے ہیں، ہمارے اس امن کا احترام کیا جائے، مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔
فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے ، مہنگائی نے گھر کر لیا ہے، مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہیں ، رکشے والے اپنے رکشے جلارہے ہیں ہم قوم کو ان نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں مزدوروں ، غریبوں اور کسانوں کے ساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دےسکتے، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی تھی مگر پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے گھر گرادیئے گئے ہیں۔
فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خا ن نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا ، مگر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ لوگ باہر سے نوکریاں کرنے کے لیے آئے ہیں مگر باہر سے صرف دو لوگ نوکری کرنے آئے ہیں انہیں بھی آئی ایم ایف نے بھیجا ہے۔
سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو بنائیں گے، روح قائداعظم پوچھ رہی ہے میر ا پاکستان کہاں ہے۔
فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد مسلمانوں کی مدد کے لیے رکھی گئی تھی قائد اعظم نے 1948 میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی تھی اور مسلمانوں کے لیے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی بنائی گئی تھی ، مگر آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کچھ اور ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے ، مذہبی کارڈ پاکستان کے آئین میں موجود ہے آپ کون ہوتے ہیں ہمیں مذہب کی بات سے روکنے والے، اسلام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان کے ساتھ اسلام ہے۔
فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کرپٹ اور چوروں کے خلاف لڑرہے ہیں مگر ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔
سر براہ جے یوآئی نے کہا کہ عمران خان تم چوروں کے سردار بنے ہوئے ہو ، دوسروں کو آئینہ دکھانے والوں اپنی شکل آئینے میں دیکھ لو ، آج پاکستان کا سب سے بڑا آزادی مارچ نکلا ہوا ہے مگر میڈیا پر پابندی لگائی ہوئی ہے ہمارے مارچ کے دکھانے پر ۔
انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں اور میڈیا پرسن و مالکان کے ساتھ میری ہمدردیاں موجود ہیں ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھالی جائے اگر پابندی نہیں اٹھائی تو پھر ہم بھی کسی چیز کے پابند نہیں رہیں گے ۔
سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ آج کشمیر یوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ، موجودہ حکمرانوں نے کشمیریوں کو مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں کے لیے لڑیں گے ، ان کی خود مختاری اور آزادی کے لیے پاکستانی عوام لڑیں گے ۔
فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اگر ہمیں تنگ کیا گیا تو یہ اتنا بڑا مجمع اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے گھر جاکر گرفتار کرسکتا ہے ۔
سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر ہم اداروں کو بھی غیر جانب دار دیکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج استادوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، خواتین اساتذہ کے منہ پر تھپڑ مارے جارہے ہیں۔
پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں، بلاول
اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کرکے انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر ایک سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ کسی اور کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ عمران خان نے ایک سال میں عوام کا معاشی قتل کر دیا ہے، ان کی معاشی پالیسیوں میں غریب عوام کو تکلیف اور امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، عوام کے لیے مہنگائی کا سونامی ہے جبکہ امیروں کے لیے بیل آئوٹ پیکجز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کٹھ پتلی وزیر اعظم کے دور میں کشمیر پر تاریخی حملہ ہورہا ہے اور ہمارا وزیر اعظم قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پوچھتا ہے کہ میں کیا کروں، وزیر اعظم کشمیر کے لیے صرف تقاریر اور ٹوئٹ کرتا ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ طلبہ مزدوروں کسانوں، تاجروں اور سیاستدانوں سمیت آج پورے پاکستان کا نعرہ گو سلیکٹڈ گو، بن چکا ہے۔
اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام ف اور اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں۔
اس سے قبل مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی، اب آئی ہے۔
آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عوامی سمندر پی ٹی آئی کے سلیکٹڈ وزیرِ اعظم عمران خان کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا، اس عظیم الشان آزادی مارچ کو لیڈ کرنے پر مولانا فضل الرحمٰن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہاں لاکھوں لوگ موجود ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کا مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں نکلنے والا آزادی مارچ اسلام آباد میں موجود ہے۔
پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف بھی جلسہ گاہ پہنچے، سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن نے ان کا استقبال کیا۔
جلسہ گاہ میں آزادی مارچ کے شرکاء نے مولانا فضل الرحمٰن کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی، جس کےبعد جلسے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی آپ نے کنٹینر کی سیاست شروع کی تھی، آج تمہاری کنٹینر کی سیاست یہاں پر دفن ہو رہی ہے، میرے قائد نواز شریف کی قیادت میں اسپتالوں میں مفت دوائیں غریب اور نادار لوگوں کو ملتی تھیں، آج ان سے دوائیاں چھین لی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال 50 ہزا لوگ ڈینگی وائرس سے بیمار ہوئے، سیکڑوں انتقال کر گئے، عمران نیازی کہیں نظر نہیں آیا، آج روزگار، کاروبار ختم ہو گیا، روٹی دو روپے سے پندرہ روپے پر پہنچ گئی، سوا سال میں عوام کی چیخیں نکل گئیں، آج دن آگیا ہے کہ عمران خان کی چیخیں نکل جائیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ ہمیں اس جعلی حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،جب تک عمران نیازی سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹتی، ہم ان کی جان نہیں چھوڑیں گے، آج مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، عمران خان مغرور ہیں، ان کا بھیجا خالی ہے، عمران خان جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں۔
شہباز شریف سے قبل محمود خان اچکزئی نے بھی جلسے سے خطاب کیا، مولانا فضل الرحمٰن بعد میں خطاب کریں گے۔
ملک بھر سے جمعیت علمائے اسلام ف کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، گرفتاری سے رہائی ملنے کے بعد جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللّٰہ بھی کارکنوں کے ہمراہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں۔
مولانا کی مہلت، صورتحال سے نمٹنےکیلئے اہم حکومتی فیصلے
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سےحکومت کے مستعفیٰ ہونے کے حوالے سے دو روز کی مہلت کے بارے میں اعلیٰ سطح پر غور کیا گیا اورہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اہم فیصلے کئے گئے ۔
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے بھی مارچ کے اگلے مرحلے سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی طے کر لی، ذرائع نے بتایا کہ اعلیٰ سطح پر اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ مولانا نے 15 سے 20 لاکھ لوگوں کا اجتماع کرنے کا اعلان کیا تھا مگر وہ اس تعداد کا 5 فیصد بھی نہ لاسکے اور اس میں پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن سمیت تقریبا تمام اپوزیشن پارٹیاں شامل تھیں مگر جلسے کے شرکاء کی تعداد توقع سے بھی بہت کم نکلی،
ذرائع نے بتایا کہ حکومت اس بات کا انتظار کرے گی کہ دو دن بعد مولانا فضل الرحمٰن کس لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہیں اس کی روشنی میں حکومت اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے گی ۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے تمام سیکورٹی اداروں پولیس ، رینجرز اور ایف سی کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ انتہائی اشد ضرورت میں امن و امان قائم رکھنے کیلئے فوج کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے ۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی اعلیٰ شخصیات نے وزیر اعظم عمران خان کے استعفیٰ پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سیاسی طور پر بھر پور مقابلہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔
دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے آزادی مارچ کے اگلے مرحلے سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی طے کر لی ہے اس ضمن میں جب متعلقہ حکام سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کو اسلام آبا د میں داخل ہونے کی اجازت دینا سیاسی فیصلہ تھا جس کی انہوں نے پاسدار ی کی ہے اور آزادی مارچ کے شرکا ء کی نہ صرف حفاظت کی گئی بلکہ ان کیلئے راستے بھی صاف رکھیں گے، حکومتی کمیٹی سے رہبر کمیٹی کی سطح پر طے ہونے والی بات چیت میں تبدیلی سے نمٹنے کا فیصلہ بھی اسی فورم پر ہو گا،
جب معاملہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے پاس آئے گا تواس سے ہم اپنے انداز میں نمٹیں گے، اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے کے مطابق پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں کی حفاظت کریں گے ،ڈپلو میٹک انکلیو میں مکین سفارتکاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام آبا دشہریوں کی آمد رفت کو محفوظ بنانے بچوں کو سکولوں اور کالجوں میں آنے جانے کیلئے تحفظ فراہم کرنے سمیت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کریں گے،
ملک بھر میں سے آنے والے شرکا ء جب تک محذب شہریوں کی طرح پر امن احتجاج ریکارڈ کرائیں گے تو انہیں مہمانوں کی طرح سہولیات فراہم کریں گے اگر انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تو سختی سے نمٹیں گے ۔





No comments:
Post a Comment