بینظیر بھٹو جب وزیراعظم بنیں
سہیل سانگی ۔ کراچی
مئی 1988 کو جونیجو حکومت اور قومی اسمبلی توڑنے
کے بعد آئینی طور پر مجبور جنرل ضیاء کو نوے روز کے اندر انتخابات کرانے کا اعلان
کرنا پڑا۔ سترہ اگست کو جہاز کے حادثے میں ان کی ہلاکت کے بعد قائم مقام صدر غلام
اسحاق خان نے اس اعلان کی پاسداری کی۔ لہٰذا شیڈیول کے مطابق انتخابات منعقد ہوئے۔
اکتوبرکے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں ڈاکٹر
سرفرازمیر کی رہائشگاہ پرآٹھ سیاسی اورمذہبی جماعتوں کے اجلاس میں اسلامی جمہوری
اتحاد کے نام سے نیا سیاسی اتحاد قائم ہوا۔ مورخین و محققین کے مطابق اسلامی
جمہوری اتحاد کا قیام آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔
صحافتی حلقے اس کو آئی جے آئی کے بجائے آئی ایس آئی اتحاد کہتے رہے۔
چونکہ پیپلزپارٹی کی مقبولیت عروج پر تھی، اس صورت میں 'میاں نواز
شریف اور ان کے ساتھی انتخابات میں حصہ لینے پرآمادہ نہ تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے
کہ وہ تنہا پیپلزپارٹی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ ان کوانتخابات میں حصہ لینے
پر آمادہ کرنے اور ان کے حوصلے بلند کرنے کے لئے بنایاگیا تھا۔' اگرچہ اتحاد کی
تمام تر سیاست نواز شریف کے گرد گھومتی تھی لیکن غلام مصطفیٰ جتوئی کو اس کا
صدراور جماعت اسلامی کے پروفیسر غفور احمد کو سیکریٹری مقررکیا گیا۔
اس اتحاد کا مقصد جیسے بعد میں بھی عیاں ہوا،
پیپلزپارٹی مخالفین کو ایک پلیٹ فارم پرکٹھا کرنا اور پیپلزپارٹی کو مشکل میں
ڈالنا تھا، بعض محققین کے نزدیک یہ اتحاد جنرل ضیاء کی پالیسیوں کو جاری رکھنے اور
ان کے باقیات کو اقتدار میں شامل کرنے کے لئے بنا تھا۔
جنرل ضیا کے بعد منعقد ہونے والے پہلے انتخابات میں
پیپلزپارٹی کے ریلے میں بڑے بڑے سیاسی برج الٹ گئے جن میں پیرپاگارا، غلام مصطفیٰ
جتوئی، محمد خان جونیجو، اصغرخان، غوث بخش بزنجو، ممتاز بھٹو، الاہی بخش سومروکے
نام سر فہرست تھے۔
نتائج
کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے 93، آئی جے آئی نے 54، مہاجر قومی موومنٹ نے 13،
جمیعت علمائے اسلام (ایف) نے 7، عوامی نیشنل پارٹی نے دو، جبکہ باقی چھوٹی پارٹیوں
نے ایک ایک نشست حاصل کی تاہم 27 اراکین اسمبلی آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر ایوان
میں پہنچ گئے۔
صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات سے ایک روز
پہلے پنجاب کے اخبارات میں 'جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ' کے اشتہارات
شایع ہوئے۔ یوں آئی جے آئی کو پنجاب اسمبلی میں 240 نشستوں میں سے 109 نشستیں حاصل
ہوئیں، نواز شریف کی سربراہی میں پنجاب میں حکومت بنائی گئی۔
کوئی
بھی جماعت سادہ اکثریت حاصل نہ کرسکی۔ جس کی وجہ سے جوڑ توڑ کا ایک سلسلہ چل نکلا۔
آئی جے آئی نے بھی اکثریت کا دعوا کیا اور فرمائش تھی کہ پہلے اسپیکر اور ڈپٹی
اسپیکر کا انتخاب پہلےہو، اس میں جس جماعت کی اکثریت ثابت ہو اسے حکومت بنانے کی
دعوت دی جائے۔
محترمہ کو کئی امور پر سمجھوتے کرنے پڑے۔ اورحصول
اقتدار کے لئے انہیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ بڑی شرائط یہ تھیں کہ غلام اسحاق خان
کو ملک کا آئندہ صدر منتخب کیا جائے گا۔ افغان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی،
وزیرخارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان ہی ہونگے۔ دفاع اور خارج امور میں کوئی مداخلت
نہیں ہوگی۔
یہ شرائط ماننے کے بعد صدرغلام اسحاق خان نے
صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی شریک چیئر پرسن محترمہ بینظیر
بھٹو کو وزیراعظم نامزد کیا۔
حکومت بنانے کے لئے پیپلزپارٹی کو کئی ایک
معاہدے کرے پڑے۔ ایم کیو ایم کی تیرہ نشستیں تھیں، وہ تیسری بڑی قوت تھی، لہٰذا
پیپلزپارٹی نے اس کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا۔ جو معاہدہ کراچی کے نام سے جانا جاتا
ہے۔
بینظیر بھٹو کی سوانح عمری کے مصنف بروک ایلن
لکھتے ہیں کہ 'انہیں متعدد امور پر آرمی چیف اسلم مرزا، آئی ایس آئی چیف جنرل حمید
گل اورصدر اسحاق خان سے الجھنا پڑا، انہوں نے ان سے بعض لڑائیاں جیتیں لیکن
بالآخرہارگئیں۔ ' تمام کوششوں اور شدید خواہش کے باوجود وہ محبوب الحق کو وزارت
خزانہ سے ہٹا نہ سکیں۔
بالآخروہی ہوا جس کا ڈر تھا، انہیں ہٹانے کے لئے
آپریشن مڈ نائیٹ جیکال کے تحت حکومت میں آنے کے پانچ ماہ بعد ان کے خلاف عدم
اعتماد کی تحریک پیش کی گئی۔ بعض آڈیو تیپ ریکارڈنگ اور مہران بینک اسکینڈل سامنے
آٰیا۔ اگرچہ یہ تحریک ناکام ہوئی، لیکن ان
کی حکومت کی حساسیت بڑھ گئی۔ بالآخر
صدرغلام اسحاق خان نے کرپشن کے الزام لگا کر دو سال کے اندر ان کی حکومت کو ختم
کردیا۔
ریڈیکل خیالات کے حامل لوگوں کا کہنا ہے کہ
محترمہ کو مشروط اقتدارنہیں لینا چاہئے تھا۔ کیونکہ ضیاء کے باقیات دراصل عوام کے
مینڈٰیٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔
No comments:
Post a Comment