Friday, November 15, 2019

آزادی مارچ، سب کے لیے قابل قبول فارمولا!

https://www.naibaat.pk/24-Oct-2019/27241

آزادی مارچ، سب کے لیے قابل قبول فارمولا! 

وزیراعظم عمران خان سے ایسی توقع نہیں تھی، لیکن پھر بھی انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو دھرنے کی اجازت دے دی۔ جو بظاہر جمہوری اقدام لگتا ہے۔ احتجاج کی اجازت دینے کے نتیجے میں حکومت اس امتحان سے بچ گئی کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ پی ٹی آئی کا دفاع کرنے والے حلقے کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے بال واپس مولانا کی کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ پہلا رائونڈ مولانا جیت گئے۔

پہلے یہ سوال کیا جارہا تھا کہ آخرمولانا دھرنا کیوں لگا رہے ہیں؟ جبکہ تاحال حکومت عوام اور مختلف حلقوں میں مخالفت ابھی پکی نہیںہے۔ اب یہ سوال اٹھ رہا کہ حکومت نے احتجاج کی اجازت کیونکردیْ۔؟ یہ درست ہے کہ سیاسی ماحول بہت زیادہ گرم ہو گیاتھا۔ ایک طرف نواز شریف نے نواز لیگ کو دھرنے کی مکمل حمایت بلکہ شمولیت کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ پارٹی کے صدرشہباز شرفی کی جانب سے کھل کر اظہار نے یہ کنفیوزن بھی دور کردی ہے کہ اسلام آباد کے الگ ڈاؤن کے بارے میں پارٹی کے اندر دو بیانیے ہیں۔ نواز لیگ اور جے یو آئی ف اس لئے بھی ایک دوسرے کے قریب تھیں کہ دونوں کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ لہٰذا جو کچھ بھی ہوگا اس سے حکومت کمزور ہوگی اور یہ بات ان کے فائدے میں ہی جائے گی۔ دوسری طرف اہم پارٹی پیپلزپارٹی کے ساتھ صورتحال مختلف ہے۔ لہٰذا وہ کسی حد تک ہچکچاہٹ کا شکار رہی ہے۔ کیونکہ اس کے پاس سندھ کی حکومت ہے۔ جو کہ داؤ پر لگ سکتی ہے۔ اس لئے بلاول نے لاک ڈائون کی اخلاقی و سیاسی مدد کا اعلان کیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی آپشن کھلا رکھا کہ کہ صورتحال نے تقاضا کیا تو پیپلز پارٹی اس میں شامل بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا انہوں نے سندھ کو حکومت کے خلاف تحریک میں جوڑے رکھنے کے لئے کراچی سے کشمور تک مارچ کا اعلان کیا۔ اگر مولانا کا مارچ کامیابی کی طرف جاتا ہے تو پیپلزپارٹی بھی اس میں کود پڑے گی۔ تیسرا فیکٹر تاجروں کا ہے، جن کو مولانا جتنی ہی جلدی ہے۔ کیونکہ ٹیکسیشن کا نیا نظام اور حکومت کی مالی پالیسیوں نے ان کے کاروبار کا ستیاناس ہے۔
یہ تمام باتیں اپنی جہ پر لیکن تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی مذاکرات کی پیشکش اور احتجاج کی اجازت دینے کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی ہیں، جس میں سب سے بڑا پختون فیکٹر سمجھا جارہا ہے۔ خیبر پختونخوا ایک طرح سے بنیادی میدان جنگ ہے۔ کیونکہ جے یوآئیاور عمران خان دونوں کا بیس یہی صوبہ ہے۔ چند ہفتے پہلے وزیراعلیٰ کے پی کے نے دھمکی دی تھی کہ کسی کو وہاں سے گزرنے نہیں دیا جائے گا، اور کوئی گھر سے باہر نکل کر تو دکھائے۔ اس کے تین روز بعد پشاور میں حکومت مخالف صوبائی آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس نے جواب دیا کہ اگر احتجاج اور مارچ میں روڑے اٹکائے گئے تو پختون روایات کے مطابو جواب دیا جائے گا۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے بھی واضح الفاظ میں کہا کہ اگر تشدد کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو ہم ان کو گھروں پر جا کر ماریں گے۔ اس طرح کا بیان فضل الرحمان ہی افورڈ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس صوبے کو فیصلہ کرنے والے اداروں میں اہمیت و اثر رسوخ حاصل ہے، ورنہ سندھ سے تعلق رکھنے والے آصف زرداری نے جب اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تو انہیں ڈیڑھ سال کے لئے ملک سے باہر رہنا پڑا تھا۔ ان کی واپسی تب ہو پائی جب زمین کچھ ٹھنڈی ہوئی۔
اسلام آباد کے حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات اور احتجاج کی اجازت دینے کا تحرک خیبر پختونخوا سے ہی آیا ہے۔ اس کے بڑے محرک سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہیں، جو آج کل وزیر دفاع بھی ہیں۔ اس کی وجہ سے بھی ان کی اس تحرک کو جلد اہمیت ملی۔ حکومت کی مذاکراتی کمیٹی میں ان کو اس لئے رکھا گیا ہے۔ لہٰذا ان کی بات میں وزن تو بنتا ہے۔ اگر حکومت اور جے یو آئی دونوں بضد رہتی ہیں تو پختونوں کے درمیان ہی جھگڑا ہو جائے گا۔ ،لہٰذا بیچ بچائو کر کے اس تصادم کو ٹالا گیا ہے۔
میڈیا کے ایک حصے نے چند روز پہلے آرمی چیف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی خبریں بھی آئی ، اور کہا جارہا ہے کہ سعودی عرب کی ثالثی کا بھی دور چلا تھا۔
جیسا کہ گزشتہ چار ماہ سے اسلام آباد لاک ڈائون ہی زیر بحث ہے، اور وہ سیاست پر چھائے ہوئے ہیں۔ عملی طور پر وہی اپوزیشن لیڈر بنے ہوئے ہیں۔ اب اگر حکومت مزید ضد پر قائم رہتی تو اس کا فائدہ مولانا کے دھرنے کو ہی ملتا، لوگ انہیں سے امیدیں وابستہ کرتے۔ لہٰذا ملک پر چھائے ہوئے مولانا کے دھرنے کو بحث کے بڑے موضوع کے طور پر ہٹانا ضروری ہو گیا تھا۔ ۔ حکومت نے سوچا چلیں، احتجاج لیں۔ دیکھ لیتے ہیں کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ مذاکرات اور احتجاج کی اجازت سے پوری تحریک کا ٹیمپو ٹوٹ جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر عوام اور سیاسی و غیر سیاسی اداروں اور عالمی رائے عامہ تک یہ پیغام جائے گا کہ’ ـحکومت بات چیت کرنے کے لئے تیار ہے،احتجاج کو بھی جمہوری حق قرار دے کر اجازت دے رہے ہیں۔ مولانا خوامخواہ ضد کر رہے ہیں، اور یہ بھی مولانا کے پاس مستقبل کے لئے کوئی واضح لائحہ عمل بھی نہیں۔‘ لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ سب کو کو پتہ ہے کہ حکومت اپنے رویے میں کتنی جمہوری ہے جو احتجاج کو جمہوری حق مان رہی ہے؟ منتخب اداروں کو تو اہمیت نہیں دیتی، وہ سڑکوں پر احتجاج کرنے کو جمہوری حق مان کر کیسے اجازت دے رہی؟ مذاکرات کی ٹیبل پر کیسے آرہی؟ لہٰذا یہ دونوں فیصلے وزیراعظم کے اپنے نہیں لگتے۔حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے رابطے کئے، لیکن بات چیت شروع نہ ہو سکی کیونکہ مذاکرات کو وزیراعظم کے استعفے سے مشروط کردیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لئے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کو بیچ میں لایا گیا تاکہ کوئی بچت کا راست نکالا جاسکے۔ بات چیت کے لئے ایک سیڑھی اور چڑھنے کے لئے رہبر کمیٹی کو ایک سیڑھی نیچے آنا پڑا ’کہ احتجاج کرنے دیں، بات چیت کی جاسکتی ہے۔‘ یوں اپوزیشن کی بھی عزت رہ گئی حکومت کا کام بھی ہو گیا۔
اصل میں حکومت مولانا فضل الرحمان کو اینگیج رکھنا چاہتی ہے۔ سفارتی اصطلاح میں اینگیج رکھنے کا مطلب ہے کہ کوئی واضح حل یا پالیسی کے بجائے دوسرے فریق کو مصروف رکھنا اور یہ تاثردینا کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ کیا تو جاسکتا ہے، لیکن دیکھتے ہیں کہ اس کو ہماری پالیسی میں کیسے فٹ کیا جائے۔ مطلب یہ تاثر دینا کہ معاملے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، اور نظراندازنہیں کیا ہوا ہے۔ یہ ایک طرح سے طول دینے اور مخالف کو کچھ کرنے سے روکنے کی حکمت عملی ہے۔
مولانا نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئی ہیں۔ وہ حکومت کی اس ’جھانسے‘ دینے کی حکمت عملی سے بخوبی آگاہ ہیں کہ حکومت انہیں مصروف رکھ کر ٹیمپو توڑنا چاہتی ہے۔ اور کچھ وقت خریدنا چاہتی ہے۔ مذاکرات کے اعلان اور مذاکراتی ٹیم کی تشکیل کے بعد تین روز تک مولانا اور اپوزیشن کی جماعتوں کے پاس وقت تھا۔ لہٰذا پہلے والی حکمت عملی کے پلان ’بی‘ اور پلان ’سی‘ کے علاوہ ایک متبادل پلان بھی جوڑ لیا گیا ہے، جس کے واضح خطوط سامنے نہیں آئے۔ حکومت کو موجودہ صف بندی توڑنے یا اس کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ وقت درکار ہے، دوسری طرف مولانا کو بھی سمجھا دیا گیا ہے کہ چودہ پندرہ ماہ کے اندر اگر عمران خان کی حکومت کو گرادیا گیا تو وہ ’سیاسی شہید‘ بن جائیں گے، جس سے مستقبل میں سیاسی اور غیر سیاسی حلقے جان نہیں چھڑا پائیں گے۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کا پاور شو کر کے دھمکی اور مہلت دے کر چھوڑ دیا جائے۔ اور حکومت کے خلاف عوام اور خواص والے حلقوں کی بیزاری کو پکنے دیا جائے۔ یہ سب کے لئے قابل قبول فارمولا ہو سکتا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment