Wednesday, November 13, 2019

پہلا مارشل لاء اور پہلا سیاسی جلاوطن


پہلا مارشل لاء اور پہلا سیاسی جلاوطن
صدارت سے جلاوطنی تک
سہیل سانگی ۔ کراچی

پاکستان میں سیاست کا قید اور سزائوں  سے چولی دامن کا ساتھ  رہا ہے۔ سربراہان حکومت کو قید یا جلاوطن یا قتل کیا جاتا رہا۔  یہ سلسلہ پچاس کے عشرے میں ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل سے شروع ہوا، 7 سال بعد ملک کے پہلے صدراسکندر مرزا کو جلاوطن کیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد پہلا عشرہ فیصلہ کن تھا، جب نئے ملک کے سیاسی و معاشی نظام اور خارجہ پالیسی کی بنیادیں رکھی جارہی تھی۔ سیاستدانوں، صوبوں کے اختیارات، سول بیوروکریسی، سول اور ملٹری تعلقات کے حوالے سے جنگ کا آغاز ہوا۔ ہر طبقہ اپنی بالادستی،اوراپنا حصے حاصل کرنے کے لئے کوشان تھا۔ نئے ملک میں سول بیوروکریسی خود ایک طبقہ اور قوت تھی۔   

لیاقت علی خان برطانوی وائسرائے کا طرز حکمرانی چاہتے تھےجس میں سول بیورکریسی، پولیس اور فوج کے درمیان ہم آہنگی ہو۔ سیاستدانوں کو ثانوی حیثیت حاصل ہو۔ اس مقصد کے لئےانہیں سیکریٹری دفاع اسکندر مرزا پر انحصار کرنا پڑا۔ یہاں سے اسکند رمرزا کا رول شروع ہوا، جو انہیں صدارت کے عہدے تک لے گیا اور بعد میں جلاوطنی تک بھی۔
'سہروردی کی یاداشتیں' اور دیگر تاریخی کتابوں کے مطابق اسکندر مرزا کا تعلق سراج الدولہ کے مقابلے میں انگریزوں کا ساتھ دینے والے میر جعفر کے خاندان سے تھا۔
برٹش آرمی میں شمولیت سے اپنے کریئرکا آغازکرنے والے اسکندر مرزا تقسیم ہند کے وقت محکمہ دفاع  
میں جوائنٹ سیکریٹری تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں سیکریٹری دفاع مقررکیا گیا۔
----------- 
ایک عرصے تک صوبہ سرحد (اب پختونخوا) میں بطور اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر رہے۔ تقسیم ہند کے وقت وہ محکمہ دفاع میں جوائنٹ سیکریٹری تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں سیکریٹری دفاع مقررکیا گیا اورچھ سال تک اس منصب پر رہے۔ 
----------------------------------------
جب وزیراعظم لیاقت علی پاکستانی فوج کا سربراہ انگریزکے بجائے پاکستانی مقرر کرنے جارہے تھے، اسکندر مرزا نے تین سنیئر افسران کو بائی پاس کر کےجونیئر ترین آفیسر ایوب خان کو آرمی چیف مقرر کرایا۔ مورخین کے مطابق ایوب خان کا نام وزارت دفاع کی بھیجی لسٹ میں شامل نہ تھا۔ 
جگتو فرنٹ کی کابینہ برطرف کرنے کے بعد گورنر جنرل غلام محمد نے بنگالیوں سے سختی سے نمٹنا چاہا لہٰذا مشرقی پاکستان میں گورنر راج نافذ کرکے اسکندرمرزا کو گورنر مقرر کیا۔ یہاں سے وہ انتظامی یا بیوروکریسی امور سے نکل کر مکمل طور پر سیاست میں آگئے۔ عہدہ سنبھالتے ہی انہوں 1051 افراد کو گرفتار کرلیا جس میں 33 اسمبلی اراکین اور دو ڈھاکہ یونیورسٹی کے پروفیسر تھے۔
1954 سے 1955 تک وہ وزیر داخلہ رہے۔ گورنر جنرل غلام محمد فالج  کے بیرون ملک علاج کے لئے دو ماہ کی چھٹی پر چلے گئے، ایسے میں اسکندر مرزا کو میدان مل گیا اوروہ قائم مقام گورنر جنرل ہو گئے۔ جلد ہی وہ اس منصب پر مستقل ہو گئے۔ 
صدر مرزا اب کنگ میکر ہوگئے۔ انہوں نے ایک بیوروکریٹ چوہدری محمد علی کو وزیراعظم مقرر کیا۔ مارچ 1956  میں نئے آئین کا نفاذ کے ساتھ ملک کے سربراہ کا عہدہ گورنر جنرل کے بجائے صدرہوگیا تھا۔ آئین ساز اسمبلی نے اسکندر مرزا کو متفقہ طور پر پاکستان کا پہلا صدر منتخب کیا۔
نیا آئین چونکہ پارلیمانی طرزکا تھا جس میں اختیارات وزیراعظم کے پاس تھے اور صدر کا عہدہ محض رسمی تھا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے انہوں نے ریپبلکن پارٹی بنوائی اور خود اس کے نائب صدر ہوگئے۔  اسی ماہ میں چوہدری محمد علی سے استعیفا لیا گیا، اورسہروردی نے ریپبلکن پارٹی اورعوامی لیگ کی مخلوط حکومت بنائی۔
پاکستان کی تاریخ میں پہلی اورآخری مرتبہ صدراور وزیراعظم دونوں بنگالی تھے۔ لیکن دونوں کے ون یونٹ اور طرز حکمرانی پر خیالات متصادم تھے۔ 
صدر اسکندر مرزا کی حکومتی امور میں غیر آئینی مداخلت نے وزیراعظم سہروردی کی حکومت کا چلنا دوبھر کردیا۔ صدر مرزا نے بالآخر ان سے استعفیا لے کرفیروز خان نون کو وزیراعظم نامزد کیا جن کو مسلم لیگ اورعوامی لیگ کی حمایت حاصل تھی۔
فوجی اوربیوروکریٹ پس منظر رکھنے والے اسکندر مرزا میں پارلیمانی جذبہ اور جمہوری قدریں خال خال تھیں۔ ان کے مطابق جمہوریت کی عدم تربیت اور شرح خواندگی کمی کی وجہ سے پاکستان میں جمہوری ادارے چل نہیں سکتے۔ قدرت اللہ شہاب صدرکے سیکریٹری بھی رہے، اپنی سوانح حیات شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ صدراسکندر مرزا آئین کو چیتھڑا کہا تھا۔ یہی الفاظ بعد میں جنرل ضیاء الحق نے بھی ادا کئے۔
کنٹرولڈ جمہوریت  کے خواہان اسکندر مرزا کے پاس سیاستدانوں کے بارے میں اچھے ریمارکس نہیں تھے۔ انہیں 'بدمعاش اور گڑبڑ کرنے والے' کہتے تھے۔ اور سول بیوروکریسی کو زیادہ اختیارات چاہتے تھے۔ مرزا ون یونٹ کے سخت حامی تھے۔
واقعات بتاتے ہیں کہ صدر اسکندرملک کی سیاست پر حاوی ہونا چاہتے تھے۔  ملک کا سربراہ ہونے کے ناطے وہ اقتداری سیاست میں موثر تھے اور کنگ میکر کا کردار ادا کرنے لگے۔
مرزا نےسیاستدانوں کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا اورانہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا۔ قوم پرستوں کو آسرا دیا کہ وہ ساتھ دیں تو ون یونٹ توڑدیا جائے گا۔
مسلم لیگ سے نمٹنے کے لئے انہوں نے ریپبلکن پارٹی بنائی۔ غیر آئینی مداخلت کا یہ عالم تھا کہ دو سال کے مختصرعرصے میں چار زوراء اعظم تبدیل ہوئے۔ مورخین اسکندر مرزا ملک میں سیاسی عدم استحکام کے لئے ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔

آئی آئی چندریگر اور خان عبدالقیوم خان کی جانب سے مسلم لیگ کی ازسرنو تنظیم اوربعض پنجابی گروپوں کےعوامی لیگ سے اتحاد سے اسکندر مرزا خوفزدہ تھے۔ انہوں نے سیاستد انوں سے نمٹنے کے لئے فوج کا سہارا لیا۔

سات اکتوبر 1958 کو انہوں نے آئین منسوخ کر کے مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں توڑدیں۔ اور ملک میں مارشل لاء نافذ کر کے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا۔
ان کا خیال تھا کہ اب وہ مختار کل ہیں۔ جب کہ حالات بدل چکے تھے۔ ایوب خان کو پتہ تھا کہ حکومت فوج کے ذریعے چلائی جارہی ہے۔ اور وہ آرمی چیف ہیں۔

اختیاراپنے پاس رکھنے کے لئے اسکندر مرزا نے بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی انتظامی کابینہ بنائی۔ لیکن یہ سعی ناتمام رہی۔ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ایوب خان نے اس منصوبے کی مخالفت کی۔ کل تک اسکندر مرزا سیاستدانوں کے خلاف فوج کو استعمال کرنا چاہ رہے تھے، اب ان کا اسی ادارے سے تصادم ہوگیا تھا۔  بعض مورخین کے خیال ہے کہ اس تصادم کی وجہ  سے یحییٰ خان نے ان 
کی میت پاکستان میں دفنانے سے منع کردیا۔

 یس روز بعد 
جنایوب خان نے ایک فوجی یونٹ ایوان صدر بھیج کراسکندرمرزا سے بندوق کی نوک پر استعیفا لے لیا اور خود صدر ہو گئے۔ پانچ روز بعد معزول صدر کو 2 نومبر 1958 کو لندن روانہ کردیا 
گیا۔ 
ایران کے ساتھ سرحدی تنازع میں ایران کو 
احمد یار خان اپنی کتاب 'ان سائیڈ بلوچستان' میں لکھتے ہیں کہ اسکندر مرزا کی بگیم ناہید نے اس معاہدے 
میں اہم کردار ادا کیا  فیروز خان نون اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ بیگم ناہید کے ذکر کے بغیر اسکندر مرزا  کا احوال ادھورا ہے۔ 
لندن میں سابق صدر نے آخری ایام بہت تنگدستی میں گزارے۔ انہیں معمولی پینشن ملتی تھی، جوگھریلو اخراجات کے لئے ناکافی تھی۔ اخراجات پورے کرنے کے لئے انہیں ایک ہوٹل میں ملازمت کرنی پڑی۔ آخری ایام لندن کے ایک ہوٹل کے کمرے میں گزارے جہاں 15 نومبر 1969 کو انتقال کر گئے۔
پاکستان حکومت کے انکار کے بعد شنشاہ ایران کے خصوصی طیارہ کے ذریعے ان کی میت ایران لائی گئی جہاں انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔
پاکستان میں جلاوطنی کی لمبی تاریخ ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے الذوالفقارتنظیم کے ہائیجیکروں کے مطالبے پر مختلف سیاسی جماعتون سے تعلق رکھنے والے 55 سیاسی کارکنوں کوان کی مرضی کے خلاف جلاوطن کر کے دمشق بھیج دیا۔

جنرل ضیاء  کےہی دور میں نامورشاعرفیض احمد فیض، پیپلزپارٹی اوربائیں بازو کے بعض کارکنوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا۔
 ضیاء الحق اور مشرف  دور میں طویل عرصہ بینظیر بھٹو جلاوطن رہیں۔ ان آمروں نے ان کا ملک میں رہنا محال کر دیا تھا۔
 اسکندر مرزا کی جلاوطنی  کے نصف صدی بعد جنرل مشرف نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو جلاوطن کردیا گیا۔ وہ تقریبا دس سال جلاوطن رہے۔
 اس واقعہ کے تقریبا آٹھ سال بعد مقبول رہنما اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں جلسے کے بعد قتل کردیا گیا۔
یہ امر قابل غورہے کہ زیادہ تر جلاوطنی آمریتوں کے دور میں ہوئی ہیں۔












No comments:

Post a Comment