مشرف پر سنگین غداری کا کیس اور حکومتی رویہ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ایک ڈرامائی تبدیلی رونما ہونے کو ہے۔ خصوصی عدالت ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کا فیصلہ سنانے جارہی تھی، تو اس سے دو روز قبل وزیراعظم عمران خان کی حکومت اس کے دفاع میں اتر آئی ہے۔ اور لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹس میں فیصلہ رکوانے کے لئے دو الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف بیمار ہیں اس لیے عدالت نہیں آسکتے، اگر پرویز مشرف کی صحت ٹھیک نہیں تو کیس موخر کرنا چاہیے۔وزیر موصوف بندہ ساتھ لیکرپرویز مشرف کو دیکھنے کے لئے جانے کے لئے تیار ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کو غدار قرار دینا مناسب نہیں، انہیں آئین شکن کہا جاسکتاہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مشرف کیس میں حکومت کی نیت صحیح نہیں لگ رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ اکیلا میرا نہیں ہے، اس میں اٹارنی جنرل اور دیگر بھی شریک ہیں۔
سنگین غداری کیس میں فیصلہ رکوانے کے لیے تحریک انصاف حکومت نے اسلام آباد اورلاہور ہائی کورٹس سے استدعا کی ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا 19 نومبر کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ گزشتہ ہفتے پرویز مشرف کی مسلسل غیر حاضر رہنے کے بعد سنگین غداری کیس سننے والی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے اس ٹرائل کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ جو مشرف کے ساتھی رہے ہیں کہتے ہیں کہ مشرف کو مناسب وقت دیں۔
انیس نومبر کو خصوصی عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور 28 نومبرفٖیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔ خصوسی عدالت کے فیصلہ محفوظ کرنے کے دو روز بعدکو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 21 نومبر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ’عدلیہ کے سامنے کوئی طاقتور نہیں ہے، عدلیہ نے دو وزرائے اعظم کو نااہل قرار دیا جبکہ ایک سابق آرمی چیف کا فیصلہ آ رہا ہے۔چیف جسٹس کی یہ تقریر وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے جواب میں تھی جس میں انھوں نے براہ راست جسٹس کھوسہ کو ملک میں یکساں نظام انصاف لاگو کرنے کا کہا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس کھوسہ اگلے ماہ 20 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔حکومت نے پاکستان کے نئے چیف جسٹس کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ ملزم پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔سنگین غداری کے ٹرائل کی باقاعدہ کارروائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں دسمبر 2013 کو شروع ہوئی تھی۔ 2014 میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اگر مشرف پر بغاوت کا الزام ثابت ہو جائے تو انھیں پھانسی یا عمر قید ہو سکتی ہے۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی سمیت چار مقدمات ہیں جس میں مختلف عدالتیں اُنھیں اشتہاری قرار ے چکی ہیں۔
پراسیکیوشن ٹیم نے اپنی تمام شہادتیں اور دلائل مئی 2014 میں مکمل کرلیے تھے۔اس کے بعد مشرف کے وکلا کی جانب سے متعدد درخواستیں دی گئیں اور یہ مقدمہ عدالتی فائلوں میں ہی دب کر رہ گیا۔ نواز شریف کے دور حکومت میں بننے والی خصوصی عدالت کے سربراہ رہنے والے تین ججز بعد میں سپریم کورٹ کے ججز بن گئے۔تو اس عدالت کی نئے سرے سے تشکیل ہوتی رہی۔
وزارت داخلہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سنگین غداری کیس میں شریک ملزمان کو مقدمے میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔موجودہ حکومت کا یہ موقف ہے کہ کیس میں پرویز مشرف دفاع کے حق سے محروم کیا گیا۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ آئیں کے آرٹیکل 4 اور 10اے کی خلاف ورزی ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ وزیرداخلہ آئین کو توڑنے کو معمولی بات قرار دے رہے ہیں لیکن اسی آئین کی روء سے رلیف مانگ رہے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔کیونکہ حکومت نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنا چاہتی ہے۔موجودہ حکومت نے خصوصی عدالت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کی تشکیل درست ہے اور نہ ہی شکایت مجاز فرد کی جانب سے داخل کرائی گئی ہے۔خصوصی عدالت کی تشکیل پر تحریک انصاف حکومت کی طرف سے پہلی بار اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے علاوہ اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، چیف جسٹس کے عہدے پر براجمان ہونے والے جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور وزیر قانون زاہد حامد کو بھی اس ٹرائل میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔لیکن پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس مقدمے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کو وفاقی حکومت کی شکایت کے عین مطابق ٹرائل صرف سابق آرمی چیف تک ہی محدود رکھنے کا حکم دیا تھا۔خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو پیش ہونے کے متعدد مواقع دیے۔ رواں سال مارچ میں ملزم پرویزمشرف کا بیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔لیکن انہوں نے یہ موقع استعمال نہیں کیا۔اس عرصے کے دوران مشرف خود پیش ہوئے نہ ہی عدالت کی دیگر آپشنز کو تسلیم کیا۔ اب خصوصی عدالت مقدمے کا فیصلہ 28 سنانے جارہی ہے، تو حکومت اس فیصلوے کو روکنا چاہ رہی ہے۔ وہ دبئی سے ملک آنے کوتیار نہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کے بعد پرویز مشرف ٹرائل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی گئی، اس ٹرائل میں پراسیکیوشن ٹیم کو توڑدیا گیا۔ بعض دفعہ وکلا بھی نامزد نہیں کیے گئے، تاہم چیف جسٹس آصف کھوسہ نے یہ مقدمہ منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے خصوصی عدالت کو احکامات دیے۔ ایک سماعت پر ریمارکس دیے تھے کہ برطانیہ میں مارشل لا کے نفاذ کی پاداش میں اولیور کرامویل کے جسد خاکی کو پھانسی کی علامتی سزا دی گئی تھی۔
ملک کے بعض اہم اداروں میں ادارتی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ آرمی میں یہ تبدیلیاں آچکی، اب الیکشن کمیشن اور عدلیہ میں بھی تبدیلیاں آرہی ہے کیونکہ ان دو اداروں کے سربراہان بھی اپنی میعاد ملازمت مکمل کرنے والے ہیں۔عدلیہ کے پاس جسٹس فائز عیسیٰ کا ریفرنس بھی زیر سماعت ہے۔ حکومت ہر حال میں جنرل مشرف سے سزا سے بچاناچاہتی ہے، اب حکومت اور عدلیہ دونوں کے لئے امتحان ہے۔ نوز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کا وزن حکومت عدلیہ پر ڈال رہی ہے۔فیصلہ جو بھی آئے اس کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔
No comments:
Post a Comment