سندھ میں بارش کی تباہی پر سیاست
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
دو روز کی بارش نے حکومت خواہ انتظامیہ کی کارکردگی کو بے نقاب کردیا۔ بیس افراد فوت ہو چکے ہیں۔ موٹر وے زیر آب آ گیا، صوبے کے دو بڑے شہروں میں حیدرآباد اور کراچی میں فوج طلب کرلی گئی۔ ہر طرف پانی ہی پانی ہے،پانی کی نکاسی کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکا۔بجلی، گیس، پینے کا پانی دستیاب نہیں جس سے مزید مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ سندھ میں دو روز کی برسات نے زندگی مفلوج کردی۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے پندرہ روز قبل الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ لیکن ضلع وبلدیاتی اداروں کی انتظامیہ اور تو چھوڑیں نہ معمول کے مطابق سڑکوں اور گٹروں کی اور نہ بڑے نالوں کی صفائی نہیں کر سکی۔ ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز نے روایتی طور پر بارش کے حوالے سے مختلف محکموں اور اداروں کے اجلاس کئے، جہاں ”سب اچھا ہے“ ”ابھی جا کر سب درست کر دیتے ہیں“کی رپورٹس پیش کی گئیں۔ کسی بھی شہر میں نہ متعلقہ بلدیاتی ادارے اور نہ ہی ضلع انتظامیہ کے افسر نے جا کر امکانی خطرے یا کمزور مقام کا دورہ یا معائنہ نہیں کیا۔ کاغذی کارروائی کر کے خانہ پوری کی گئی۔اتنی تباہی اور شہریوں کی تکالیف کے باوجود ایم این ایز اور ایم پی ایز، بلدیاتی اداروں کے نمائندے کہاں ہیں۔ ملازم ہمارے ٹیکس سے تنخواہ لیتے ہیں۔ کیا یہ ڈمیز کی حکومت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ کے باقی علاقے اور شہر بھی اس بارش سے متاثر ہوئے کراچی اور حیدرآباد بڑے شہر اور میڈیا کے مرکز ہیں۔ لہٰذا ان شہروں کے باسی جن مصائب کا سامنا کر رہے تھے وہ میڈیا پر زیادہ اجاگر ہوا۔ دیکھا جائے تو ایک مرتبہ پھر میڈیا نے اپنے شہری ہونے کا ثبوت دیا۔اس کے پیچھے یہ سچ بھی پنہاں ہے کہ میڈیا کے بحران کے دوران بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز نے سندھ کے ڈویزنل اور ضلع ہیڈکوارٹرز میں اپنے دفاتر اور سیٹ اپ ختم کردیا ہے۔ لہٰذا یہی لگ رہا ہے کہ بارش صرف ان دو شہروں میں ہی پڑی ہے۔
یہ کوئی ایک دو روز کا قصہ نہیں۔ نالوں پر پلاٹوں کی کٹنگ کی گئی۔ نالوں کو بیچا گیا۔بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتے ہوئے شہروں کی بات اپنی جگہ پر کہ ان کے لئے انفرا اسٹرکچر میں توسیع کی جاتی۔ لیکن سانحہ یہ ہے کہ جو اسٹرکچر تھا، نہ اس کی مرمت کی گئی، اور نہ ہی اس کی صفائی۔ورنہ یہ پرانا اسٹرکچر حالیہ برش کا بوجھ اٹھا سکتا تھا۔ برسہا برس سے جو گند کچرہ جمع ہورہا تھا، مقامی انتظامیہ خواہ میونسپل ادارے ٹھیک سے کام نہیں کر رہے تھے۔ پیپلزپارٹی کے عہد حکومت میں شرجیل میمن، جام شورو، آغا سراج درانی، اور اب سعید غنی بلدیات کے وزیر ہیں۔ اس سے پہلے پچیس سال تک دو بڑے شہروں میں ایم کیو ایم کا راج رہا۔ نہ ایم کیو ایم نے اس طرف توجہ دی اور نہ پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے دور حکمرانی کی کمزوریوں، کوتاہیوں کا ازالہ کیا۔ دونوں جماعتوں نے بلدایتی امور اور سیاست کوبڑے سیاسی کھیل کا حصہ بنائے رکھا۔ اس کا لازمی نتیجہ ہ یہی نکلان تھا جو اب ہمارے سامنے ہے۔
اب الزامات کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کہتی ہے کہ سندھ کی بربادی کی ذمہ دار کرپٹ صوبائی حکومت ہے۔مطلب چونکہ سندھ کے لوگوں نے بشمول کراچی اور حیدرآباد تحریک انصاف کو ووٹ نہیں دیئے پیپلزپارٹی کو انتخابات میں کامیاب کیا، لہٰذا وفاقی حکومت معاملات میں ہاتھ ڈالنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ دلیل نہایت ہی مضر رساں ہے۔ وزیراعظم پاکستان کا ہوتا ہے کسی پارٹی کا نہیں۔ سندھ خواہ حیدرآباد اور کراچی پاکستان کا اتنا ہی حصہ ہیں جتنا پنجاب یا اور کوئی علاقہ۔ ویسے کراچی سے ایم کیو ایم نے خاصی نشستیں لی ہیں، جبکہ باقی نمائندگی بھی اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے پاس ہے۔ کراچی کی صورتحال کے لئے سندھ حکومت، مصطفیٰ کمال، اور تحریک انصاف نے بھ ذمہ داری کے الیکٹرک پر ڈالی ہے۔اب سوشل میڈیا پرکے الیکٹرک کے افیشل اکاؤنٹ سے مسیج آیا ہے کہ وہ ہم شہر کی صفائی میں مدد کرے گی۔ یعنی جو کے ذمہ کام ہے وہ نہیں کر پارہی، دوسرے کام میں ہاتھ ڈال رہی ہے جو کسی طور پر بھی اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔اس معاملے میں کراچی واٹربورڈ کا رول بھی زیر بحث نہیں آرہا۔
سندھ حکومت کے مطابق کے الیکٹرک کو تباہی کے دہانے پہنچانے میں ایم کیو ایم کا رول ہے۔ سٹی میئر کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ لیکن وہ وسائل کا رونا روتے رہتے ہیں۔اگرفرض کریں سندھ حکومت ترقیاتی کاموں کے لئے پیسے نہیں دے رہی، جیساکہ ایم کیو ایم الزام لگا رہی ہے، وہ معمول کے مطابق شہر کی صفائی تو کراسکتی ہے۔ نالوں اور بڑی گٹر لائنوں کی صفائی تو کرا سکتی ہے۔ ان کے پاس جو ملازمین کی فوج ظفر موج موجود ہے اس سے کام لے سکتی ہے۔شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس میں وسائل اور اختیارات سے زیادہ کارکردگی اور گورننس کا مسئلہ ہے۔ روز مرہ یا معمول کے کاموں کو اس لئے نہیں کیا گیا تاکہ اس کی آڑ میں سیاسی معاملات کو اٹھایا جاسکے۔
یہی صورتحال حیدرآباد کی ہے۔ حیدرآباد میں وزیراعلی ٰکی ہدایات نے بھی رنگ نہیں لایا۔ ذمہ دارہ بجلی کمپنی پر ڈال دی گئی۔ حیسکو پر آئی، جو کہ وفاق کے ماتحت ہے بجلی کی کمی نہیں انفراسٹرکچر درہم برہم ہے۔ کہیں بجلی کی تاریں گر جاتی ہیں تو کہیں کھمبے، یا پھر ٹرانسفارمر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ان اداروں کی نااہلی نہیں؟ برسات کا پانی نکاسی نہیں ہوتی، ڈرینیج ایسا ہے کہ اس کو پمپ کرنے کے لئے مشینیں اور بجلی چاہئے۔ حیدرآباد میں واسا بحران کا شکار ہے، سندھ حکومت نے کوئی پیسہ نہیں دیا پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں دے سکا ہے۔
معاملہ گورننس سے منسلک ہے۔ 2010 میں شہر کے شہر ڈوب گئے تھے اور کیمپ سٹی بن گئے تھے۔ اب نو سال بعد ایک بار پھر مجموعی طور پر حکومت کی کارکردگی یہ بارش بہا لے گئی۔ اصل میں اس سانحے کے لئے وفاقی، صوبائی اور شہری حکومتیں ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا سیاست چمکانے اور الزام تراشی کے گیم سے نکل کر مسئلے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
No comments:
Post a Comment