پیر پاگارا کی سیاست
فنکشنل لیگ کی بقا کا سوال اور جی ڈی اے
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔۔ سہیل سانگی
پیر پاگارا نے جی ڈی اے کی انتخابی مہم کے لئے صوبے کے نوابشاہ، سانگھڑ،اور عمرکوٹ میں عام جلسے منعقد کئے۔ ان جلسوں کی ٹائیمنگ بعض حوالوں سے اہم ہے۔ اول یہ کہ بلاول بھٹو مہم کے آغاز میں ہی سندھ کا دورہ کرچکے تھے۔ اور اب پیپلزپارٹی کی توجہ پنجاب ہے۔ مطلب اب بلاول دوبارہ ان اضلاع کا شاید ہی دورہ کر سکیں۔ دوسرے یہ کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے نام منی لانڈرنگ کی تحقیقات میں آنے اور ان کی نیب اور سپریم کورٹ میں طلبی، بہن بھائی کے نام ای سی ایل میں ڈالنے سے یہ تاثر دیا کہ اب سندھ میں آصف علی زرداری کنگ میکر نہیں رہے۔ ان کے خلاف جلد پاناما کیس کی طرز پر جے آئی ٹی بننے والی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ( تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان کے نام ای سی ایل سے خارج کئے جا چکے ہیں)
پیر پاگارا نے سندھ کے دورے کا پروگرام تو بنا لیا، لیکن آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ نے زرداری کے خلاف تحقیقات الیکشن بعد کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ ’’اتفاق‘‘ اس موقع پر ہوا جن نواز شریف سزا کاٹنے کے لئے وطن پہنچ رہے تھے۔لہٰذا صورتحال کا فائدہ زرادری کو ملا۔ پی اس طرح کے جلسے انہوں نے گزشتہ
انتخابات کے موقع پر نہیں کئے تھے۔
انتخابات کے موقع پر نہیں کئے تھے۔
فنکشنل لیگ کا نیٹ ورک سیاسی نہیں بلکہ مریدوں پر مشتمل ہے۔ اس کا اثر سانگھڑ اور خیرپور میں خاص طور پر اور، عمرکوٹ اور تھر کے بعض حصوں میں کسی حد تک موجود ہے۔باقی اضلاع میں اس کے وہ بااثر افراد اتحادی بن جاتے ہیں جو ر سمجھتے ہیں کہ پانسہ پلٹنے والا ہے ۔
نواز لیگ اور تحریک انصاف سندھ میں اپنی تنظیم فعال رکھنے میں دقت محسوس کرتی ہیں۔ لہٰذا پیر پاگارا شارٹ کٹ جس کے ذریعے کام چلاتی ہیں۔پنجاب میں بیس رکھنے والی سیاسی جماعتوں سندھ میں الیکٹ ایبلز کو جمع نہیں کر سکیں تو یہ کا پیر پاگارا کے حوالے کرتی رہی ہیں۔ پیر پاگارا روایتی پیر اور سندھ کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یہ کام کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے مریدوں کے ذریعے جلسہ کرکے ’’ پاور شو‘‘ کر سکتے ہیں بلکہ کرتے رہے ہیں۔لہٰذا پیپلزپارٹی کے بغیر ہر سیٹ اپ میں پاگارا کا رول نکل آتا ہے۔ پاگارا کی چھتری تلے سندھ کے الیکٹ ایبلز کی اقتدار تک رسائی ہو جائے گی۔
لہٰذا اقتدار کے ایوانوں میں الیکٹ ایبلز کے لئے زرداری ہی نہیں پاگارا بھی متبادل بن سکتا ہے۔ چند ماہ پہلے پیر صدرالدین شاہ نے عمران خان کو یہ مشورہ دیا کہ سندھ کے حوالے وہ فردا فراد رابطے کرنے کے بجائے
ان سے رجوع کریں۔
ان سے رجوع کریں۔
سندھ میں مخالفین بھی بھٹو کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ مخالفین کو یقین ہے کہ سندھ میں بھٹو کا ووٹ موجود ہے۔ عمران خان اور خود نواز شریف بھی متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ اب جو پیپلزپارٹی ہے وہ بھٹو کی نہیں زرداری کی پارٹی ہے۔ پاگارا نے اپنے حالیہ دورے کے دوران اس بات کو دہرایا کہ پیپلزپارٹی والے ذوالفقار علی بھٹو کی نہیں حاکم علی زرداری کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ یہ کہتے وقت وہ سندھ کے عام آدمی سے مخاطب تھے۔ وہ لوگوں کو یہ باور کرا رہے تھے کہ آصف زرداری کی قیادت میں چلنے والی پارٹی کو اصل پیپلزپارٹی نہیں ۔ ظاہر ہے کہ پیر پاگارا یا عمران خان کی جماعتیں اصل پیپلزپارٹی کا دعوا بھی نہیں کرتی۔ اور لوگ بھی ا نہیں ایسا نہیں سمجھتے۔ منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ پیپلزپارٹی کو ہی ڈھونڈتے ہیں۔ بات آکر واپس بلاوال پر رکتی ہے۔
پیر پاگارا اگر متبادل بنتے ہیں تو ان کے پاس لوگوں کو دینے کے لئے ’’ زرداری کی پیپلزپارٹی ‘‘ کی مخالفت کے علاوہ آفر کرنے کے لئے کیا ہے؟ متبادل پروگرام کے بغیر متبادل قیادت کا مطلب چہروں کی تبدیلی بن کر رہ جاتا ہے۔ عام آدمی، کسان،، مزدور یا نوجوان کو اپنی طرف کھینچنے کے لئے جی ڈے اے ے پاس کچھ نہیں۔دوسری طرف پیپلزپارٹی نے منشور دے کر بات تو کی ہے، آسرا تو دیا ہے۔
پیر پاگارا کا دوسرا بڑا نقطہ سندھ کے بڑے زمینداروں یا زراعت کے مسائل ہیں۔ یعنی گنے اور گندم کی خریداری کے معاملات۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’سندھ میں کاشتکاروں سے ظلم کیا گیا۔ تیرہ شگر ملز زرداری کی ہیں۔ ‘‘ یا یہ کہ ’’ گندم کی فصل اترتی تو وزارت خوراک کے افسران نے کہتے ہیں کہ باردانہ پیپلزپارٹی کے جیالوں سے لیں۔ ‘‘ صنعت، تجارت اور معیشت کے دیگر نئے شعبوں کے بارے میں لاعلم یا لاتعق لگتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ پیپلزپارٹی بارادنہ ، گنا اورپانی کی تقسیم پر سیاست کرتی رہی ہے۔ یہ سیاست سندھ میں برسہا برس سے چل رہی ہے۔یہ سب کچھ تب بھی ہوتا رہا جن میں فنکشنل لیگ اور اس کے اتحادی حکومت میں تھے۔ پیپلزپارٹی کا کمال یہ ہے کہ اس نے اس طریقے کا ادارتی شکل دی۔ گرینڈ ینشنل الائنس بنیادی طور پر سندھ کے وڈیروں کا اتحاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مطالبات میں بڑے مطالبات زراعت سے متعلق ہیں۔ یہ ان نئے بطقات اور عام آدمی کی بات نہیں کرتا جو زیادہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں نہیں لگتا کہ پیپلزپارٹی کو انتخابی حوالے سے کوئی بڑا نقصان پنچا سکے۔
کالاباغ ڈیم کا نام سندھ میں بہت رسوائے زمانہ ہے۔ سٹبلشمنٹ نواز شریف کو اس بات پر سیاسی طور پر’’چارج شیٹ ‘‘ کرنا چاہتی ہے کہ وہ کالا باغ ڈیم نہ بنا سکے۔ سندھ میں تجزیہ نگار اس پر متفق ہیں کہ صرف حکمت عملی میں ہی نہیں بلکہ پروگرام میں بھی پیر پاگارا اسٹبلشمنٹ کی لائن اپنائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حالیہ جلسوں میں وہ کالاباغ کو چھوڑ کر بھاشا ڈیم بنانے کے اعلان کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام ایک روپیہ، دس روپے چندہ دیں تو ڈیم بن سکتا ہے۔ وہ اپنی حر جماعت سے بھی یقیننا چندہ دینے کے لئے بولیں گے۔ لیکن انہوں نے یا جی ڈی اے کے دیگر رہنماؤں نے اپنی جیب سے اس مد میں کوئی رقم دینے کا اعلان نہیں کیا۔
سنیئر پیر پاگارا اعلانیہ کہتے تھے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے آدمی ہیں۔ موجودہ پیر پاگارا فوج کے کردار کو گاہے بگاہے دہراتے ہیں تاکہ لوگوں کو یقین آئے کہ وہی اقتدار کی سیڑھی بن سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امن فوج اور رینجرز کی وجہ سے ہوا ہے۔ زرداری اور نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں۔
جی ڈی اے کے سربراہ پیر پاگارا کہتے ہیں کہ سیاستداں دس فیصد اور افسران نوے فیصد پرکرپٹ ہیں۔ یہ ایک نیا نقطہ اٹھایا جارہا ہے جسے سیاسی طور پر بہت اہم سمجھا جارہا ہے۔مطلب انہوں نے سندھ کی بیوروکریسی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ بھی لیا جارہا ہے کہ موقعہ ملنے پر وہ بیوروکریسی کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔
سندھ میں پیپلزپارٹی کو کس طرح شکست دی جائے؟ اقتدار کی سطح پرمتبادل کیسے پیدا ہو؟یہ تاثر عام تھا کہ جب تک بااثر افراد اور ایلکیٹ ایبل کو یقین نہیں ہو جاتا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت نہیں بنا رہی تب تک پیپلزپارٹی کو شکست نہیں دی جاسکتی۔ اس تاثر کو توڑنے کے لئے جلسے میں یہ یقین دلایا گیا کہّ آئندہ
حکومت گرینڈ نیشل الائنس بنائے گا۔
حکومت گرینڈ نیشل الائنس بنائے گا۔
سب جماعتیں انتخابات کے شفاف ہونے پر شکوک کا اظہار کر ہی ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع نہیں اور انہیں برابری کے طور پر سلوک نہیں کیا جارہا ہے۔ سب کہہ رہے ہیں کہ انتخابات سے پہلے دھاندلی ہو رہی ہے یا ہوچکی ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ یہ انتخابات اکثر جماعتوں کو قبول نہیں ہونگے؟ا یم کیو ایم نے قبل از انتخابات دھاندلی کا الزام لگاا دیا۔ اب احتیاطا عمران خان نے بھی یہ کہہ دیا ہے۔لیکن پیر صاحب کو یقین ہے کہ اب دھاندلی نہیں ہوگی ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے اس لہجے سے لگتا ہے کہ انہیں بہت چیزوں کی یقین دہانی کردی گئی ہے۔
جی ڈی اے کی چھتری مسلم لیگ فنکشنل عملا یہ مریدوں کی جماعت ہے، جس میں غیر مریدوں کے لئے جگہ کم ہے۔سیاسی جماعت کا کنٹرول حر جماعت کے پاس ہے جس کی وجہ سے باقی لوگ خود کو مسلم لیگ فنکشنل کے قریب محسوس نہیں کرتے ۔
ماضی میں سندھ میں مسلم لیگ فنکشنل ایک اہم سیاسی گروپ کے طور پر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کے بغیر جب بھی صوبے میں حکومت بنی، فنکشنل لیگ کے ساتھ اتحاد کے ذریعے یا آشیرواد سے بنی۔ 2007 تک فنکشنل لیگ پارلیمانی یا اقتداری سیاست کے حوالے سے دوسری بڑی جماعت کے طور پر موجود تھی۔ لیکن اس کے بعد اس جماعت نے سکڑنا شروع کیا۔
گزشتہ دو عام انتخابات خواہ حالیہ بلدیاتی انتخابات ک میں وہ اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد پارٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔اسکے دو اہم اراکین اسمبلی امتیاز شیخ اور جام مدد علی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے۔ لہٰذا حالیہ انتخابات خود فنکشنل لیگ کے سیاسی بقا کا مسئلہ بھی ہیں۔ فنکشنل مسلم لیگ اس اتحاد کے ذریعے خود کو متبادل کے طور پر پیش کررہی ہے۔پیر پاگارا بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ سندھ میں ہر حلقے میں ون ٹو ون مقابلہ ہو۔
فنکشنل لیگ کی بقا کا سوال اور جی ڈی اے
http://www.awaztoday.pk/singlecolumn/61444/Sohail-Sangi/Peer-Pagara-Ki-Siyasat.aspx
http://insightpk.com/urducolumn/nai-baat/sohail-sangi/peer-pagara-ki-siyasat
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/peer-pagara-ki-siyasat-5613.html
http://politics92.com/singlecolumn/61142/Sohail-Sangi/Zardari-Ke-Khilaf-Iqdaam-Kyun.aspx
http://politics92.com/singlecolumn/61142/Sohail-Sangi/Zardari-Ke-Khilaf-Iqdaam-Kyun.aspx




No comments:
Post a Comment