Friday, July 27, 2018

سہ جماعتی سیاسی نظام کا منظر نامہ

سہ جماعتی سیاسی نظام کا منظر نامہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

بدھ کے انتخابات کے نتائج کا منظر نامہ 2008 اور 2013 کے منظر نامے سے ملتا جلتا بھی ہے اور مختلف بھی ۔ ملک میں پہلے دو جماعتی پارلیمانی ماحول تھا۔ جس میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز بڑی جماعتیں تھی۔ باقی سب جماعتیں ان میں کسی کی حمایت یا مخالفت میں رہتی تھی۔ ان انتخابات کے بعد ملک سہ جماعتی سیاسی نظام میں داخل ہو گیا ہے۔
جب یہ کالم لکھا جارہا ہے انتخابات کے حتمی یا سرکاری نتائج کا اعلان نہیں ہوا، تاہم موصول ہونے والے نتائج کے مطابق تحریک انصاف جیت ہو چکی ہے وہ بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ وہ مرکز میں حکومت بنائے گی۔ اس حوالے سے یہ نتائج بہت زیادہ حیران کن نہیں ۔ جس طرح کا ماحول بنایاگیا اور جو انتظامات کئے گئے ان کے پیش نظر یہی سوائے دو چار حلقوں کے نتائج آنے تھے۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز، سندھ میں پیپلزپارٹی، خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف اور بلوچستان میں نئی بنائی گئی بلوچستان عوامی پارٹی کو برتری حاصل ہے۔ 
سوائے تحریک انصاف کے باقی تمام سیاسی جماعتوں نے الیکشن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے نے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے انتخابی نتائج کو متنازع قرار دیا ہے اور ان نتائج کو مسترد کردیا ہے، ایم کیو ایم پاکستان نے قبل از انتخابات دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ ایم کیو ایم میں پہلی بغاوت کرنے والے گروپ پاک سرزمین پارٹی نے بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ایم ایم کے مولانا فضل الرحمٰن نے نتائج قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے، اس نقطہ پر کل جماعتی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
پیپلزپارٹی رہنما فرحت اللہ بابر نے کہنا ہے کہ اس طرح کے انتخابات اور نتائج کے خلاف ملک میں نئی صف بندی ہوگی۔ عوامی نیشنل پارٹی واحدجماعت ہے جس نے انتخابات ہارنے کے باوجود نتائج کو قبول کیا ہے۔ 
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ہارون بلور دہشتگرد حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ اس کے دیگر رہنماؤں کو بھی خطرہ کا الرٹ تھا۔ لیکن ماضی میں پختون قوم پرست پارٹی کی شناخت رکھنے والی پارٹی ن جو گزشتہ ایک دہائی سے سیاسی زوال کا شکار ہے، اس نے انتخابی مہم کا حصہ بن کر مین اسٹریم سیاست میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ پارٹی کے اس موقف پر تنقید بھی ہوئی کہ اسفندیار ولی خان اسٹبلشمنٹ کو قریب ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن انہوں نے شاید بلوچ قوم پرست سیاستدانوں کی سیاسی تنہاائی میں چلے جانے سے متعلق بعض غلطیوں سے سیکھا۔ اور خود کو مین اسٹریم میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 
انتخابی نتائج کے بارے میں پیپلزپارٹی کی شکایات میں وزن ہے لیکن کم از کم سندھ کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ اس صوبے میں پیپلزپارٹی کے ساتھ کوئی کھیل نہیں ہوا ہے۔ یہاں اس کو ایک آدھ جھٹکے کے علاوہ کوئی بڑا اپ سیٹ نہیں ہوا ، بلکہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی نشستیں بڑھی ہیں۔ پیر پاگارا کی قیادت میں قائم پیپلزپارٹی مخالف اتحادجی ڈے اے تمام تر دعوؤں کے باجود صاف ہو گیا ہے۔اس کی مرکزی قیادت تک ہار گئی۔ شاید اسٹبلشمنٹ کی دلچسپی پنجاب کی حد تک تھی اور وہ بھی قومی اسمبلی کی نشستوں میں زیادہ تھی۔
پیپلزپارٹی کو یہ تکلیف یقیننا ہوگی کہ وہ وفاقی حکومت میں بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔اور وہاں حکومت سازی میں متوقع یا امکانی رول ادا نہیں کر پائے گی۔ یہ بھی اہم ہے کہ وفاق میں اس کی پوزیشن تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔
مذہبی جماعتوں نے تیسرا فریق بننے کی کوشش کی۔ لیکن وہ اپنے قائدین مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سراج الحق اپنی نشستیں نہیں بچا سکے۔ سہ جماعتی نظام ڈیزائین کرنے والوں کو نزدیک ایم ایم اے کو کوئی کردار دینے سے معاملہ ایک بار پھر غیر فیصلہ کن رھے گا۔
تحریک انصاف جیت تو گئی ہے لیکن اس کو حکومت بنانے کے لئے دو ردر جن کے لگ بھگ اراکین کی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ پہلے سمجھا جارہا تھا کہ بڑی تعداد میں آزاد امیدوار انتخابات جیت کر آئیں گے اور وہ حکومت سازی میں رول ادا کریں گے۔ اس کا اظہار پیپلپزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری بھی کرتے رہے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔قومی اسمبلی کی تصویر کو سامنے آرہی ہے اس میں عمران خان کسی بڑی جماعت کے بغیر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آرہے ہیں۔ لہٰذا ایسا بھی نہ ہوسکا کہ زرادری کنگ میکر کا رول ادا کریں، یا حکومت کے بننے اور بگاڑنے کی پوزیشن میں آئیں۔ تحریک انصاف کو مطلوبہ اراکین بلوچستان اور دیگر چھوٹے گروپوں سے مل جائیں گی۔ جس کا ذکر عمران خان نے آج کی تقریر میں کیا ہے۔ لہٰذا وہ کسی بڑی پارٹی سے اتحاد کر کے کسی بڑے سیاسی سمجھوتے سے بچ جائیں گے۔اگر ان کو پیپلزپارٹی یا کسی اور اور بڑی پارٹی سے سمجھوتہ کرنا پڑتا تو ہر وقت اس پارٹی کی محتاجی رہتی۔ چھوٹی پارٹی اور گروپوں کے مفادات بھی چھوٹے ہوتے ہیں اور ان کو ہینڈل کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ یہ بھی نہیں ہو سکا کہ نتائج کے اہم ترین رجحانات ملک میں اقتدار کا منظر نامہ اس طرح کا بن رہا ہے۔
’’نئے پاکستان‘‘ کی عملی شکل وہ ابھر کر آئی ہے جو اب بہت ساروں کو قبول نہ ہو۔ سندھ میں پیپلزپارٹی اور پنجاب میں نواز لیگ اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے سبقت لی ہے ۔ 2013 میں بھی ایسا ہی تھا۔ بلوچستان میں پہلے نواز لیگ تھی، اس کے مقامی پرشاخے کے طور پر نئی جماعت ’’ باپ‘‘ نکلی ۔دوسری طرف متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت کے مالک بلوچ اور حاصل بزنجو کے بجائے سرادر اختر مینگل میدان میں ہیں جو ’’ باپ‘‘ کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے۔ لیکن اس صوبے کے معاملات اسلام آباد سے ہی ہینڈل ہوتے ہیں۔ 
نئے اقتدار کا ڈھانچہ کچھ اس طرح سے بن رہی ہے کہ نواز لیگ کے پاس پنجاب کی حکومت اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے پاس سندھ حکومت اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ، تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت ہوگی۔
2008 اور 2013 کے انتخابات میں سندھ اور پنجاب کے پاس اقتدار کے کیک کا حصہ زیادہ تھا۔ اس مرتبہ خیبرپختونخوا کے پاس کیک کا حصہ زیادہ ہے۔ یہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ پنجاب نے انتخابی فیصلے میں صوبائی حکومت نواز لیگ کو دی ہے۔ تحریک انصاف اگر اقتدار کی زیادہ ہوس میں آکر یہ بھی کر سکتی ہے کہ دو درجن کے قریب آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ شامل کر کے پنجاب میں نواز لیگ کو صوبائی حکومت سے محروم کردے۔ لیکن یہ کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اب عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ کیک کی اس تقسیم کو سمجھیں اور اکیلا حکومت کرنے یا اختیارات رکھنے کے بجائے شراکت کو فروغ دیں۔ اس کے لئے انہیں سندھ اور پنجاب کے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا ہوگا۔ 
سندھ اور پنجاب میں تحریک انصاف کا اضافی پوائنٹ یہ ملے ہیں کہ وہ ان دو اہم صوبوں میں س کے پاس اپوزیشن کی قیادت ہوگی۔ ان نتائج کی ایک توضیح یہ بھی ہے کہ سندھ اور پنجاب اپنے روایتی سیاست پر ہی کھڑے رہے ہیں۔ نوا زلیگ اگر پنجاب میں حکومت نہ بنانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے اپنے بقا کا مسئلہ ہو جائے گا۔ وہ صرف اس صورت میں ایسا کر سکتی ہے جب اس کو یقین ہو کہ وقت سے پہلے نئے انتخابات ہو جائیں گے یا وہ پنجاب یا قومی اسمبلی میں ایسی صورتحال پیداکر سکتی ہے کہ نئے انتخابات کی طرف معاملات کو لے جائے۔ 
تحریک انصاف کی حکومت سیاسی خواہ عددی لحاظ سے کوئی مضبوط حکومت نہیں ہوگی۔ سیاسی طور پر اس کو دو بڑی پارٹیوں کے بڑے تجربہ کار پارلیمنٹرین کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور مجموعی طور پر سیاسی ماحول ابھی سے اس کے خلاف ہے۔ کو تمام سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج پر خوش نہیں۔ ایسے میں اگر وہ سندھ اور پنجاب میں کوئی غلط سیاسی چال چلیں گے تو انہیں سخت مخالفت کا سامناکرنا پڑے گا۔ اور نئے ڈیزائن کئے گئے اقتدار کے ڈھانچے کو دھچکہ پہنچے گا۔

http://e.naibaat.pk/ePaper/lahore/27-07-2018/details.aspx?id=p12_03.jpg 

No comments:

Post a Comment