Friday, October 23, 2015

بلدیاتی انتخابات پی پی میں باغیانہ مخالفانہ رجحانات


میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی 

بلدیاتی انتخابات کی مہم کے دوران سندھ میں بظاہر پیپلزپارٹی کے حق میں قائم سیاسی جمود میں اب لہریں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں ۔ اس خاموش مگر اندر سے ابلتی ہوئی سیاسی جھیل میں کوئی بڑا پتھر تاحال نہیں پھینکا گیا ہے جو بڑی لہر کو جنم دے۔ اس کی وجہ پنجاب میں مقبولیت رکھنے والی جماعتوں کی اس صوبے سے لاتعلقی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات کی طرح نواز لیگ ابھی بلدیاتی انتخابات میں بھی فریق نہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صوبے بھر کا دورہ کرنے کے بجائے صرف بالائی سندھ کا دورہ کر کے واپس چلے گئے۔ انہوں نے اس پچ پر کھیلنے کی کوشش کی جو پیپلزپارٹی کی پچ تھی۔عمران خان اس پچ کے نئے کھلاڑی ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کو اس میں اسے مہارت حاصل ہے۔ وہاں کے قبائلی سرداروں اور برادریوں کے معززین سے رابطہ کیا تھا۔ لیکن انہیں کوئی مثبت جواب کے بجائے ’’دیکھو ار انتظار کرو ‘‘کا پیغام ملا۔ جب یہ بھاری پتھر کپتان سے نہیں اٹھ سکا تو پیر پاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل ان علاقوں میں سرگرم ہوئی ۔ اس نے کسی حد تک ہلچل پیدا ہوئی۔ کیونکہ ان کی جماعت داؤ پیچ سے واقف تھی۔
پارٹی کے سابق رہنما صفدر عباسی کے بعد آصف زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر ذوالفقار مرزا پیپلزپارٹی مخالف اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا نے چند سال قبل جب زرداری سے برسوں کا یارانہ توڑ کر علم بغاوت بلند کیا تھا، تجزیہ نگاروں کا یہی خیال تھا کہ پیپلزپارٹی کو بدلیاتی انتخابات میں مشکل میں ڈالنے کے لئے ڈاکٹر مرزا کام آسکتے ہیں۔ ڈاکٹر مرزا نے اب مشرف دور کے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم سے ملاقات کی ہے اور دونوں رہنماؤں نے اتحاد بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر مرزا نے الگ سے پارٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن تاحال ڈاکٹر صفدر عباسی اور ڈاکٹر مرزا کی حکمت عملی مشترکہ نہیں ہو سکی ہے۔ لیاری کراچی سے تعلق رکھنے والے نبیل گبول برسہا برس پیپلزپارٹی کے ساتھ رھنے کے بعد چند سال قبل ایم کیو ایم میں شامل ہو گئے تھے اور اس کی ٹکٹ پر ایم این اے بھی رہے۔ لیکن بعد میں انہوں نے ایم کیو ایم سے استعیفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے بھی الگ سے پارٹی بنانے کا علان کیا ہے۔ یہ سب سرگرمیاں الگ الگ ہو رہیں۔ کوئی ایسی صورت نہیں بن رہی کہ صوبے بھر میں کوئی متبادل کے طور پر کوئی گروپ سامنے آجائے۔



بڑی سطح پر ان سرگرمیوں سے ہٹ کر جو سب سے بڑی ہلچل سامنے آئی ہے وہ ہے خود پیپلزپارٹی کے اندر باغیانہ یا مخالفانہ رجحانات کا اظہار ہے۔ بالائی سندھ کے اضلاع کے علاوہ حیدرآباد، تھرپارکر، میرپورخاص میں مستحق امیدواروں کو بلدیاتی انتخابات میں ٹکٹ جاری کرنے پر کارکنان خوش نہیں۔ تین قسم کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ اول یہ کہ پارلیمانی بورڈ علاقہ کے اسمبلی ممبران نے اپنی مرضی کے بنوا لئے تھے۔ پارٹی ٹکٹ ان اراکین اسمبلی نے اپنے رشتیداروں یا من پسند لوگوں کو جاری کرالئے۔ اس کے جواب میں پارٹی کارکنان ناراض ہو گئے ہیں اور وہ ٹکٹ یافتہ امیدواروں کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ پیپلزپارٹی تمام تر کوششوں کے باوجود شاید ہی کسی یونین کونسل پر اپنا چیئرمین بلامقابلہ لے آ سکی ہے جب کہ ایم کیو ایم حیدرآباد میں ایک درجن سے زائد یونین کمیٹیز پر اپنے امیدوار بلا مقابل لانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ حیدرآباد میں صوبائی وزیر جام شورو اور سابق صوبائی وزیر زاہد بھرگڑی نے مل کر اپنی پسند کے لوگوں کو پارٹی ٹکٹ جاری کیں۔ جس کے خلاف شکایات صوبائی قیادت تک پہنچیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جو پارٹی کے صوبائی صدر بھی ہیں حیدرآباد تشریف لائے اور اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دو وزراء کے فیصلے کو برقرار رکھا، اور ناراض کارکنوں سے کہا کہ انہیں کہیں اور اکموڈیٹ کیا جائے گا۔ سجاول میں پیپلزپارٹی نے ایک مقامی سیاسی گروپ بخاری گروپ سے اتحاد کیا تھا۔ لیکن یہ گروپ کاغذات نامزدگی کی آخری تاریخ کے روز ٹوٹ گیا۔
صوبے کا پسماندہ ترین علاقہ تھر جو گزشتہ تین سال سے قحط سالی کی زد میں ہے۔ یہاں پر گزشتہ عام انتخابات میں علاقے کے بااثر ارباب گروپ کو پہلی بار شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کیونکہ تمام ارباب مخالف قوتیں متحدہ ہوگئی تھی اور انہوں نے پیپلزپارٹی کی حمایت کی تھی۔ اب یہاں پر صورتحال تبدیل ہے۔ میگھواڑ برادری جس کا اس ضلع کے علاوہ صوبے کے زیرین علاقوں میں لاکھوں میں ووٹ ہیں، اس نے بغاوت کردی ہے۔ اس بغاوت کا آغاز تھر کی بعض یونین کونسلوں میں میگھواڑ برادری کو بلدیاتی ٹکٹ نہ دینے سے شروع ہوا تھا۔ اس برادری سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے ڈاکٹر کھٹومل جیون اور سنیٹر گیانچند نے اعلیٰ قیادت سے بھی رابطہ کیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ ان کی شیڈیولڈ کاسٹ برادری کو پارٹی کی مقامی قیادت جو کہ اونچی ذات سے تعلق رکھتی ہے نظرانداز کر رہی ہے۔ پارٹی قیادت نے ان کی بات سننے کے بعد ان دونوں نمائندوں کو بتایا کہ اگر وہ پارٹی کا فیصلہ نہیں مانتے تو پارٹی کے پاس یہ آپشن موجود ہے کہ ارباب گروپ کو پارٹی میں جگہ دی جائے۔ ارباب گروپ کے تھر کے علاوہ بدین میں بھی ووٹ ہیں ۔ یہ معاملہ تاحال طے نہیں ہوسکا ہے۔ اور تھر کے شہروں میں پارٹی کے اس فیصلے کے خلاف میگھواڑ برادری مظاہرے کر رہی ہے۔ پارٹی کی مقامی قیادت اس برادری کے معززین کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ 
پیپلزپارٹی کے اندر پارٹی مخالف یا قیادت کی مخالفت کی آوازیں اٹھنی لگی ہیں۔ یہ نیا مظہر ہے۔ سندھ میں سیاسی خلاء کی موجودگی کا واضح اظہار ہو رہا ہے۔ لیکن اس خلاء کو پر کیسے کیا جائے اس کا اظہار صرف ٹکڑیوں میں ہو رہا ہے۔

1 comment: