زرداری کا ہوم ورک
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
گزشتہ ایک ماہ سندھ کی سیاست میں زیادہ گرمی نظر آئی۔ یہ گرمی کچھ سندھ
اسمبلی میں بھی تھی جہاں پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن حکومت پر تنقید کے تیر چلارہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیب بھی اس صوبے میں سرگرم رہی۔ ایک طرف درجنوں بے نامی اکاؤنٹس کا معاملہ رہا تو دوسری طرف سندھ حکومت سے جے آئی ٹی نے گزشتہ دس برس کا حساب کتاب ہی نہیں ریکارڈ مانگ لیا۔ سندھ حکومت پر یہ الزام آیا کہ وہ تحقیقات میں مد دیا سہولت پیدا نہیں کررہی۔ نتیجے میں وزیراعلیٰ سندھ کو چیف جسٹس کے پاس پیش ہونا پڑا۔ بعض وفاقی وزراء کے بیانات آئے جیسے سندھ حکومت کو گرایا جارہا ہے۔ حال ہی میں وزیرعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یہ تک کہا کہ نگراں دور حکومت میں پولیس افسران کو پیپلزپارٹی توڑنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
اسمبلی میں بھی تھی جہاں پی ٹی آئی کی قیادت میں اپوزیشن حکومت پر تنقید کے تیر چلارہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیب بھی اس صوبے میں سرگرم رہی۔ ایک طرف درجنوں بے نامی اکاؤنٹس کا معاملہ رہا تو دوسری طرف سندھ حکومت سے جے آئی ٹی نے گزشتہ دس برس کا حساب کتاب ہی نہیں ریکارڈ مانگ لیا۔ سندھ حکومت پر یہ الزام آیا کہ وہ تحقیقات میں مد دیا سہولت پیدا نہیں کررہی۔ نتیجے میں وزیراعلیٰ سندھ کو چیف جسٹس کے پاس پیش ہونا پڑا۔ بعض وفاقی وزراء کے بیانات آئے جیسے سندھ حکومت کو گرایا جارہا ہے۔ حال ہی میں وزیرعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یہ تک کہا کہ نگراں دور حکومت میں پولیس افسران کو پیپلزپارٹی توڑنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
سابق صدرآصف علی زرداری اورفریال تالپور کے خلاف تحقیقات چل ہی رہی ہے۔سندھ میں بعض وزراء کے خلاف نیب انکوائری جاری ہے ۔یہاں تک کہ وزیراعلیٰ سندھ کو یہ کہنا پڑا کہ نیب کے ڈر کے مارے سندھ میں افسران کام ہی نہیں کر پراہے ہیں۔ افسران کام نہیں کر رہے ہیں یا خود سندھ حکومت پھونک پھونک کے قدم رکھ رہی ہے، اعلیٰ افسران کا زیادہ تر کام نیب کے سوالات کا جوابات اور ریکارڈ تیار کرنے میں صرف ہو رہا ہے۔ وہ خود کوئی کام نہیں کر رہی۔
بتایا جاتا ہے کہ حالیہ انتخابات کے بعد پارٹی نے ان افراد کو کابینہ میں نہیں لیا جن کے بارے میں نیب کے پاس شکایات تھی یا ممکنہ تحقیقات کا امکان تھا۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کی تشکیل میں یہ بھی خیال رکھا گیا کہ میڈم فریال تالپور کے قریبی لوگ اس میں شامل نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ انوسر سیال، اور حاجی جام شورو کو کابینہ میں نہیں لیا گیا۔ تھرپارکر کے اربا ب لطف اللہ اگرچہ وزارت کا آسرا دے کر پارٹی مین شامل کیا گیا تھا لیکن میڈم فریال سے قربت کی وجہ سے وہ تاحال وزارت کے امیدوار ہی ہیں۔ سابق شرجیل میمن پہلے ہی گرفت میں تھے۔ حاجی جام خان شورو کے خلاف بھی تحقیقات چل رہی ہے۔نوابشاہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر ضیا لنجار فریال تالپور کو قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ نیب نے ان کے ایک روب روپے سے زائد اثاثوں کا سراغ لگالیا۔اور یہ بھی شکایت کی ہے کہ ضیاء لنجار تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے ۔ عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2013 سے 2017تک مختلف بینکوں میں موجود اکاؤنٹس میں 46 کروڑ 80 لاکھ کیش رقع جمع ہوئی ۔ ضیاء لنجار 2013 تک پی ٹی سی ایل کے ملازم تھے ان کے 50 کروڑ کے بنگلے دکانیں، 10 کروڑ کی زرعی زمین، 5 کروڑ کی گاڑیوں کا سراغ ملا ہے۔
بلاول بھٹو اسلام آباد میں مصروف رہے۔ جب کہ پیپلزپارٹی کے سپریمو آصف علی زرداری نے سیاسی خواہ ذاتی حوالے سے، ہر لحاظ سے جیل جانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتہ سندھ میں سیاسی طور پر نہایت ہی مصروف گزارا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کراچی میں ملاقات کے بجائے انہیں نواب شاہ طلب کیا اور صورتحال پرتفصیلی بات چیت کی۔ وزیراعلیٰ نے بعد میں خیرپور تک زرداری صاحب کے ساتھ سفر کیا۔آصف علی زرداری نے نواب شاہ، خیرپور، سکھر اضلاع کے مختلف علاقوں میں چھوٹے چھوٹے اجتماعات منعقد کئے۔ علاقے کے بااثر افراد سے ملاقاتیں کیں۔ زرداری عوامی اجتماعات کی سیاست نہیں کرتے ان کی تمام تر مہارت جوڑ توڑ کی سیات کی ہے۔وہ جب بھی عوامی سیاست کرائیں گے تو بلاول بھٹو سے کرائیں گے۔ تاہم ان کی یہ سرگرمیاں اور سیاسی طور پر غیرمعمولی قرار دیئے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر جب جعلی بنک اکاؤنٹس اور مبینہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کی تحقیقات آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اور مختلف حلقوں سے ان کی گرفتاری کے اشارے مل رہے ہیں کہ نوازشریف کے بعداگلی باری زرداری۔
پیپلزپارٹی کے مربی کے اس دورے کے دو تین مقاصدتھے۔ ایک یہ کہ سندھ کے بااثر لوگوں کو پیغام دینا کہ وہ ڈرے ہوئے نہیں ہیں بلکہ ڈٹے ہوئے ہیں۔ لہٰذا پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی باتوں میں وزن نہیں۔ کوئی اگر پارٹی سے نکلنے کی سوچ رہا ہے تو غلطی کر رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ سندھ میں مجموعی طور پر زمینی حقائق کیا ہیں؟ اگر پارٹی کی قیادت میں ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو سندھ کیا ردعمل دے سکتا ہے؟ یہ دورہ پارٹی قیادت کو یہ فیصلہ کرنے میں سہولت دے گا کہ پارٹی قیادت کی گرفتاری کی صورت میں کیا پارٹی جھگڑے میں چلی جائے یا قانونی طریقوں سے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے سیات اور قانونی جنگ ساتھ ساتھ چلائی جائے؟ کچھ اس طرح سے جیسے نواز لیگ کر ہی ہے۔ بعض مبصرین یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ نوازشریف کے بعداگلی باری زرداری کی ہے۔زرداری نے انتخابی مہم کیلئے سندھ کا دورہ نہیں کیا تھا۔ لیکن اب انہیں دورہ کرنا پڑا۔
وفاقی حکومت کے بعض حلقوں نے یہ فلر چھوڑا ہوا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں جس طرح بلوچستان میں تبدیلی لائی گئی تھیوہی فارمولا یہاں آزمایا جا سکتا ہے۔ جس میں وزیراعلیٰ اور کابینہ تبدیل ہوگئی تھی۔ اراکین اسمبلی وہی تھے۔ یہ تحرک خطرناک بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ یہی فارمولا قومی اسمبلی میں بھی لاگو کر سکتے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اسٹبلشمنٹ دونوں بڑی پارٹیوں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے ساتھ الگ الگ لیکن بیک وقت مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پارٹیوں کے خلاف اقدامات بھی کر رہی ہے۔کوئی بھی جماعت نہیں چاہتی کہ صرف اس ایک کے خلاف کارروائی ہو۔اسٹبلشمنت پر بھی دباؤ ہے کہ دونوں جماعتوں کے خلاف کارروائی ہو۔ ایک مضبوط رائے یہ بھی ہے کہ اگر کارروائی واقعی ڈالنی ہے تو بلاتفریق ہو، جس کی زد میں خود حکمران جماعت کے لوگ بھی آجاتے ہیں۔ ایک سو روز مکمل کرنے سے پہلے حکومت سے عوام مایوس ہو چکے ہیں۔ اگر زرادری کی اصطلاح میں لیا جائے وہ سپریم کورٹ کی آڑ میں کھڑی ہے۔
دوسری طرف اسمبلی میں عددی کمزوری کی وجہ سے اس پوزیشن میں نہیں کہ بیک وقت دونوں پارٹیوں کے خلاف یا پھر بلاتفریق کارروائی کرے۔ یہ درست ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہئے، وہ افراد ہوں یا ادارے۔ لیکن احتساب سب کچھ نہیں،یہ کوئی مکمل ایجنڈا نہیں۔ وہ عوام کو تبدیلی کے ڈھول کے بعد اب احتساب کے ڈھول پر نچانا چاہتی ہے۔ لیکن عوام کو دینا کچھ نہیں چاہ رہی۔ احتساب کے ڈھول کے شور میں اس سے لینا ہی چاہتی ہے۔
Nai Baat Nov 16, 2018
Zardari's homework


No comments:
Post a Comment