جپھیاں اور خارجہ پالیسی
کرتارپور راہداری
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
کرتارپور راہداری کھل گئی۔ لوگ پرامید ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور بہتر تعلقات کی راہیں کھل جائیں گی۔ ساڑھے چار کلو میٹر مختصر سی اس راہداری کا کھلنا چند ماہ کا سفر نہیں۔ راہداری کا ذکر پہلی مرتبہ 1980 کے عشرے میں ہوا تھا۔ لیکن یہ تجویزآگے نہیں بڑھ سکی۔ جب بینظیر بھٹو نے رجیو گاندھی سے ملاقات کی تو اسے سیکیورٹی رسک اور تقریبا غدارقرار دے دیا گیا۔ نواز شریف نے آگے قدم بڑھایا تو اسے مودی کا یار وغیرہ کہا گیا۔ 2013 میں نواز لیگ کی حکومت نے بھی کرتار پور صاحب امن راہداری کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پاکستان آئے اور نواز شریف کو ایک جپھی ڈال کر چلے گئے لیکن کرتار پور امن راہداری نہ کھل سکی۔ نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت جب انکے اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوئے تو یہ کہا گیا کہ اس کی بڑی وجہ پڑوسی ملک سے تجارت اور قیام امن وغیر ہ ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی اور خاص طور پر پاک انڈیا تعلقات پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ انتخابات سے قبل تب ملا جب آرمی چیف نے یہ تصور دیا کہ خطے خوشحال ہوتے ہیں تو ملک بھی خوشحال ہوتے ہیں۔ انڈیا پاکستان کو کمزور کر کے خوشحال نہیں ہو سکتا۔ آرمی چیف نے اکتوبر کی اپنی تقریر میں پاکستان کی معیشت کو خطے کی سلامتی کے ساتھ جوڑا۔ بعد میں پاکستان متعدد بار مذاکرات کے لئے کوشش کرتا رہا۔ لیکن بھارت کی جانب سے کوئی ٹھوس اور مثبت جواب نہیں ملا۔ بعد میں یہی الفاظ وفاقی وزیرفواد چوہدری نے آرمی چیف کے یہ ا لفاظ دہرائے۔ عمران خان کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سدھو نے جپھی ڈالی۔کرتارپور راہداری کھولنے کی بات ہوئی۔ اس جپھی پر انڈیا کی میڈیا اور خود مودی حکومت نے بھی بظاہر اپنے تحفظات کااظہار کیا۔ بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج کے بیانات ریکارڈ پر ہیں۔
امریکی اخبارنیو یارک ٹائیمز نے رواں سال ستمبر میں لکھا تھا کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت ایک عشرہ قبل کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں تعینات کے دوران ساتھ رہے ہیں۔ جب رواں سال جنرل باجوہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ توسفارتی حلقے ان کے اس بیان کو انڈیا کے آرمی چیف تک رسائی قرر دے رہے تھے۔ لیکن دونوں ممالک کے نظام مختلف ہیں۔ انڈیا میں سویلین حکومت مضبوط ہے۔ وہاں خارجہ امور میں فوج کو وہ حیثیت حاصل نہیں جو پاکستان میں حاصل ہے۔دوئم یہ کہ نریندرا مودی کی حکومت اگلے سال کے انتخابات میں مصروف ہے۔ وہ ان انتخابات سے پہلے مذاکرات میں نہیں جانا چاہتی، اسے ڈر ہے کہ اگر مذاکرات پہلے کہ طرح ناکام ہوئے تو بھارتی حکمران جماعت کو انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑے گا۔
عمران خان حکومت کے پہلے سو دن پورے ہونے میں چند ہی دن باقی تھے 28نومبر کو وزیر اعظم عمران خان نے کرتار پور امن راہداری کا افتتاح کیا۔تقریب میں آرمی چیف جنرل باجوہ بھی شریک ہوئے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کرتارپورراہداری امن کی طرف قدم ہے جس کی ہمار ی خطے کوضرورت ہے۔ جیسا کہ بھارتی وزیر خارجہ شسما سوراج کہہ رہی ہیں کہ ان کا ملک کئی برسوں سے راہداری کا مطالبہ کر رہا تھا۔اب یہ ساڑھے چار کلومیٹر کا فاصلہ طے ہو گیا۔یعنی عمران خان نے اپنی حکومت کے پہلے تین ماہ کے اندر اس امن راہداری کو کھول دیا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے کا کہنا ہے کہ یہ سوچ کی تبدیلی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ بہت منفی باتیں ہوگئیں،جنگیں بھی لڑلیں،پاکستان کرتار پور اسپرٹ کو آگے لے کر چلے گا۔مجموعی طور پر پاکستان کی اپوزیشن نے بھی اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ بھارتی کرکیٹر سندھو جو اس راہداری کھولنے کا سبب بنے وہ کہتے ہیں کہ موقعہ ملا تو آرمی چیف سے دوبارہ جپھی ڈالوں گا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہتی ہیں کہ کرتارپور کھلنے کا مطلب یہ نہیں مذاکرات ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر سرکاری نہیں ذاتی حیثیت میں کرتار پور کی تقریب میں شرکت کررہے ہیں۔ملکوں میں رابطے حکومت سے حکومت کے سطح پر سے رابطے ہوتے ہیں۔ انفرادی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کرتار پور راہداری کا کھلنا ایک تاریخی دن ہے۔بھارتی حکومت کئی سالوں سے پاکستان سے کرتارپورراہداری کامطالبہ کرتی رہی ہے۔
پنجاب کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ کرتار پور امن راہداری سے سکھوں کو نہیں بلکہ اہل پاکستان کو بھی بہت فائدہ ہو گا کیونکہ پاکستان میں سکھ یاتریوں کی آمد و رفت میں اضافے سے پاکستان کی معیشت کو بہت سہارا ملے گا۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی طور پر تنہائی اور معاشی حالات پریشانی کی وجہ سے پاکستان کے سامنے ایک ہی حل تھا کہ وہ اپنے ’’بڑے دشمن‘‘ اور بڑے پڑوسی انڈیا کے ساتھ مذاکرات شروع کرے، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے انتخابات سے کئی ماہ پہلے یہ اشارہ دیا تھا ۔ پاسکتان مختلف مواقع پر مذاکرات کی پیشکش کرتا رہا ۔ جو 2015 میں رک کئے تھے۔ انڈیا تک رسائی کے پیچھے پاکستان کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملکوں کے درمیان رکاوٹوں کو دور کیا جائیتاکہ پاکستان کو علاقائی منڈی تک رسائی ہو سکے۔
عمران خان حکومت کے لئے مذاکرات میں جانے کے نتیجے میں کوئی نقصان نہیں کیونکہ انہیں نہ صرف اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔اسٹبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ عمران خان آرمی چیف کی خطے میں استحکام کا نقط نظر کو صحیح طور پر پیش کریں گے۔
سفارتی حلقے اس تبدیلی کے پیچھے پاک چین بڑھتے ہوئے تعلقات کو بھی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق چین چاہتاہے پاکستان انڈیا کے ساتھ اپنے بارڈر کو کشیدگی سے فارغ رکھے ۔اس استحکام سے اسے اپنی علاقائی مقاصد پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ چین پاکستان میں تقریبا ساٹھ ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چینی راہداری کے ذریعے۔ سی پیک دنیا بھر میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے۔ یہ منصوبہ چین کو دنیا بھر تک رسائی دے گا اور پاکستان میں اس حوالے سے مختلف ہائی ویز تعمیر کئے جارہے ہیں۔ جو ہ چین کی مغربی منڈی تک رسائی کا ذریعہ بنیں گے۔ جب بھارتی سرحدوں پر کشیدگی نہیں ہوگی تو عسکری ادارے پاکستان کے مغربی حصے میں چین کے روٹس کی بہتر طور پر حفاطت کر سکیں گی۔
سوال یہ بھی ہے کہ کرتار پور تو ہو گیا اب آگے کیا ہے؟ کیا پاکستان اور بھارت مذہبی ڈپلومیسی کو آگے بڑھائیں گے؟ ہنگلاج، اڈیرولال اور دیگر مقامات کی یاترا یا اجمیر شریف اور دیگر مقامات تک پاکستانی زائرین کی رسائی کے لئے اقدامات کریں گے؟
کرتارپور راہداری کھلنے کے باوجود بھارت سارک اجلاس میں شرکت نہیں کریگا۔سارک کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات سن 2016 میں پاکستان میں ہونے والی 19 ویں سربراہی کانفرنس کے وقت سے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ کانفرنس بھارت کی جانب سے بائیکاٹ کے باعث منسوخ کر دی گئی تھی، کیونکہ افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی شرکت سے معذرت کر لی تھی۔دنیا بھر بھر میں سکھ کمیونٹی عمران خان کی واہ واہ کر رہی ہے۔ یہ صورتحال بھارت کو بھی فائدہ دے رہی تھی کہ مذاکرات کے بغیر ایک اس کا ایک مطالبہ پورا ہو گیا۔بھارتی حکمران جماعت کو آئندہ سال کے اوائل میں ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں بھی اس کا فائدہ ملے گا۔پاکستان کو بھی کشمیر یا دیگر تنازعات پر کوئی نرم رویہ کئے بغیر دنیا کو یہ دکھانے کے لئے موقعہ ملا کہ بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنے میں سنجیدہ ہے۔ سشماسوراج نے کا کہنا ہے کہ مذاکرات،دہشتگردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، جب تک پاکستان بھارت میں دہشتگرد کارروائیاں نہیں روکے گا،مذاکرات نہیں ہونگے۔بھارتی صحافی ونود شرما کہتے ہیں کہ بھارت میں مذاکرات کے حق میں ابھی ماحول نہیں۔اس سے لگتا ہے کہ مزیدپیش رفت کے لئے مزید اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بغیر شایدمذاکرات شروع نہ ہو سکیں۔
----------------------------------------------------
حکومت اور فوج بھارت کیساتھ 70 سالہ بیانیہ بدلنا چاہتے ہیں، وزیراطلاعات
اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت اورپاک فوج کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ 70سال سے چلنے والا بیانیہ تبدیل ہو، بہتر تعلقات دونوں کے مفاد میں ہیں،کشمیر کے معاملے پر بھارت کو حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا ہوگا، امن کیلئے راستے کھولنے چاہئیں،خطے کا مفاد پاکستان اور بھارت کے اچھے تعلقات میں ہے۔ پاکستان میں انڈین اسپانسرڈ دہشت گردی ہے۔
اسلام آباد میں کشمیر کانفرنس سے خطاب
---------------------------------------------
بھارت سے بہتر تعلقات کیلئے پاکستان کو سیکولر ہونا پڑیگا ، بھارتی آرمی چیف
کراچی (نیوز ڈیسک) بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت نے کہا ہے کہہ اگر پاکستان کو انڈیا سے تعلقات کو بہتر بنانا ہے تو اسے ایک اسلامی ملک کی جگہ ایک سیکولر ریاست ہونا پڑے گا۔بھارتی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ʼپاکستان کو اپنی اندرونی حالت دیکھنی ہو گی، پاکستان نے اپنی ریاست کو اسلامی ریاست بنا لیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی طرف انڈیا سے دوستی کے لیے ایک قدم کے مقابلے میں دو قدم بڑھانے کا بظاہر جواب دیتے ہوئے بپن راوت نے کہا کہ ʼہم تو کئی مرتبہ قدم بڑھا چکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ انڈیا ایک سیکولر ریاست ہے۔ ʼہم دونوں کو ایک ساتھ رہنے کے لیے ہم دونوں کو سیکولر بننا ہو گا۔
------------------------------------
------------------------------------
کرتارپور بارڈر کھولنا کیوں ضروری تھا؟
متروکہ وقف املاک بورڈ کے سابق چیئرمین جناب صدیق الفاروق سے جب اس حوالے سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ جب سے پاکستان بنا ہے، سکھ کمیونٹی کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ کرتارپور بارڈر سکھوں کے لیے کھولا جائے، یہاں ایک کوریڈور بنایا جائے جہاں سکھوں کو ویزے کے بغیر آنے جانے کی اجازت ہو۔ لیکن یہ معاملہ سیاست کی نذر ہوتا رہا۔
اس مطالبے میں جان اس وقت پڑی جب 1999ء میں بھارتی وزیرِاعظم اٹل بیہاری واجپائی پاک بھارت دوستی بس کے ذریعے براستہ واہگہ بارڈر پاکستان آئے۔
1999ء سے پہلے پاکستان میں موجود بابا گرو نانک کے گردوارے کو بھارتی سکھوں کی ایک تنظیم شیرومنی گردوارا پر بھند کمیٹی چلاتی تھی۔
جنم دن کے موقعے پر جو چندہ ڈبوں (سکھ اسے گولکھ کہتے ہیں) میں اکٹھا ہوتا تھا وہ بھارتی سکھ تنظیم اپنے ساتھ ہندوستان لے جاتی تھی، جس کی وجہ سے گردوارے پر رقم خرچ نہیں ہوتی تھی اور گردوارا خستہ حالی کا شکار ہو رہا تھا۔
1999ء میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان سکھ گردوارا پربندھ کمیٹی بنائی اور شیرومنی گردوارا پربھند کمیٹی سے تمام انتظامات لے کر پربندھ کمیٹی کے سپرد کردیے۔ بھارتی سکھوں نے کچھ وقت تو احتجاج کیا لیکن بعد میں معاملات معمول پر آگئے۔ حکومتِ پاکستان نے گولکھ سے آئے کروڑوں روپے لگا کر اس گردوارے کی حالت کو بہتر بنایا۔
صدر پرویز مشرف نے 2000ء میں کرتارپور بارڈر آئیڈیے کی منظوری دی اور اس کی تعمیر کے لیے بیشتر ٹینڈر بھی جاری کیے۔ لیکن 18 سال تک یہ منصوبہ پاک بھارت کشیدہ تعلقات اور دہشت گردی کی نذر ہوتا رہا۔ ستمبر 2018ء میں وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی تقریب حلف برداری میں پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوہ نے بھارتی پنجاب کے وزیرِ سیاحت نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور بارڈر کھولنے کا عندیہ دیا تو پوری دنیا میں موجود کروڑوں سکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اس کوریڈور کی کل لمبائی 6 کلومیٹر ہے، 4 کلومیٹر پاکستان اور 2 کلومیٹر ہندوستان میں تعمیر ہوگا۔
پاکستان کے 4 کلومیٹر کے راستے میں دریائے راوی آتا ہے، لہٰذا دریائے راوی پر ایک پل بھی بنایا جائے گا۔
ہندوستان کی جانب سے ڈیرہ بابا نانک سے پاک بھارت کرتارپور بارڈر کا فاصلہ 2 کلو میٹر ہے۔ کرتارپور بارڈ کے ہندوستانی سائیڈ پر درشن استھل قائم ہے جہاں سے دوربین کے ذریعے سکھ کرتارپور میں بابا گرونانک کے گردوارے کا نظارہ کرتے ہیں۔
کرتارپور بارڈر سے فائدہ کیا ہوگا؟
یہ سوال اکثر پوچھا جارہا ہے کہ اس بارڈر کو کھولنے کی آخر ضرورت کیا ہے اور اس کے کھلنے سے بھارت سے آنے والے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا؟ تو معاملہ یہ ہے کہ جو سکھ بابا گرونانک کے گردوارے پر آتے ہیں وہ واہگہ بارڈر کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ سکھ یاتری بس یا ٹرین کے ذریعے واہگہ بارڈر سے لاہور آتے ہیں اور لاہور سے 120 کلومیٹر کا سفر طے کرکے کرتارپور پہنچتے ہیں۔
زیادہ تر سکھ بس کے ذریعے یہ سفر کرتے ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے ہوائی جہاز سے سفر کرنے کی سہولت بھی دے رکھی ہے اور لاہور ایئرپورٹ سے سیالکوٹ ایئرپورٹ تک جہاز میں سفر کرنے کی بھی سہولت موجود ہے۔ سیالکوٹ سے کرتارپور کار یا بس میں سفر بہت آسان اور آرام دہ رہتا ہے۔
واہگہ بارڈر سے پاکستان آنے والے سکھوں کو سرکاری کمپلکس میں رہائش کی سہولت بھی دی جاتی ہے لیکن وہ تمام سکھوں کے لیے ناکافی اور ناممکن ہے۔ لہٰذا ان کے رہنے کے مسائل بہت سنجیدہ ہیں۔ اسی وجہ سے وہ انتہائی کم عرصہ کے لیے پاکستان آ پاتے ہیں۔
لیکن اب کرتارپور راہداری بننے سے گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے ہوسکے گا کیونکہ کرتارپور جانے کے لیے واہگہ بارڈر آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یوں 120 کلومیٹر کا سفر صرف 4 کلومیٹر میں تبدیل ہوجائے گا۔
https://www.dawnnews.tv/news/1092451
No comments:
Post a Comment