Tuesday, December 4, 2018

تجاوزات مہم، سیاست کا شکار!



میرے دل میرے مسافر 

سہیل سانگی 
سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کراچی ناجائز تجاوزات ختم کرنے کی مہم کے بارے میں سندھ حکومت گومگو کا شکار ہے ۔ شہر کے اہم تجارتی مراکز اور سڑکوں ایمپریس مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ اور لی مارکیٹ سے شروع ہونے والی مہم اب شہر کی رہائشی بستیوں خواہ شہر شمال مشرق میں کئی میلوں تک ہاؤسنگ منصوبوں اور قدیمی گاؤں تک جا پہنچی ہے۔اس ضمن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 300 سے زائدصفحات پر مشتمل ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ہزاروں مقامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔یہ فہرست 2017 میں مرتب کی گئی تھی۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ک نے شہر کے قریبی علاقوں میں جگہ جگہ پر اتنباہ کے نوٹس بورڈ لگا دیئے گئے ہیں کہ نہ کوئی تعمیرات کی جائے اور نہ زمین کی خریدوفروخت۔ نتیجے میں کراچی شہر میں جائدادوں کی خریدوفروخت کا کاروبار تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ 
وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے ایک سو روز مکمل ہونے پر اربوں روپے کی زمین واگزار کرنے کا دعوا کیا تھا۔ جس کے بعد تجاوزات کے خلاف مہم میں سیاسی رنگ آگیا ہے۔عمران خان نے جب وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس اور دیگر بڑے سرکاری ہاؤسز کو ختم کرنے اور ان کا اعلان کیا تھا تب کوئی اندازہ نہ کرسکا کہ گورنر ہاؤسز سے شروع ہونے والی بات نیچے بستیوں تک بھی جائے گی۔ 
گزشتہ کئی عشروں سے کراچی شہر کی عمودی ترقی ہوئی ہے۔ یہ ترقی افقی نہیں۔مستقبل پر نظر سے عاری اور منصوبہ بندی کے فقدان نے کراچی کو مسائلستان کا شہر بنا دیا۔عمودی ترقی کے باوجود شہر کی پچاس فیصد آبادی کو واٹر سپلائی کی پائیپ لائنیں نہیں ہیں۔ افقی ترقی کے لئے حکومت اور اس کے اداروں کو مواصلات خواہ شہری سہولیات کا لمبا اورمزید نیٹ ورک بنانا پڑتا۔ جو کہ شہری خواہ صوبائی حکومت کے ادارے نہ بنا سکے۔لہٰذا انہیں یہ آسان لگا کہ شہر کو عمودی ترقی کی طرف لے جائیں۔ نیتجے میں شہر میں تجارت خواہ کاروبار کا ارتکاز ہوا۔ عمودی ترقی کے لئے اچھی حکمرانی اور اچھی انتظامکاری اہم ہوتی ہے۔ ان دونوں کا فقدان کراچی شہر کو دہشتگردی، کرائیم سمیت کئی مسائل کی طرف لے گیا۔
انہدامی مہم جب رہائشی بستیوں تک پہنچی تو سندھ حکومت خبردار ہوئی۔سندھ کابینہ نے تجاوزات کے خلاف مہم اور اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔نہ صرف بعض قدیمی بستیاں بلکہ کئی کچی آبادیاں بھی اس کی لپیٹ میں رہی ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ پر لیکن اس اقدام کے سماجی، معاشی اور سیاسی اثرات بھی مرتب ہونے ہیں۔گزشتہ تین عشروں کے دوران ملک کے بالائی علاقوں سے ہی نہیں بلکہ اندرون سندھ سے بھی بڑے پیمانے پر لوگ کراچی میں آکر بسے ہیں۔فاٹا ،وزیرستان، سوات کے آپریشن کے متاثرین بھی کراچی میں آکر آباد ہوئے۔ جبکہ 90 کے عشرے کے دوران بڑے پیمانے پر افغان پناہ گزین بھی کراچی میں آئے اور یہاں پر کاروبار کرنے لگے۔ ان تمام لوگوں کا بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتظامی مسئلہ بھی کھڑا ہورہا تھا۔
سندھ کابینہ نے تجاوزات اور ناجائز قبضے کے خلاف جاری آپریشن کے دوران قدیم گاؤں اور رہائشی بستیوں کو منہدم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی سمیت تمام اداروں کو آبادیوں کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو بے گھر نہیں کرے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف کے خلاف بھرپور ایکشن جاری رکھا جائے گا۔ لیکن رہائشی بستیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کراچی کے وہ گاؤں یادیگر بستیاں جن کی لیز نہیں ہے، یا غیر قانونی قرار دی گئی ہیں۔ وہاں ہزاروں لوگ آباد ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ 
سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی رائے دیتے ہوئے اطلاعات و قانون کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان مقامات اور سڑکوں سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ جہاں لوگوں کے آمدرفت میں مشکلات درپیش آرہی ہے۔ رہائشی بستیوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صنعتی پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر کمرشل تعمیرات ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 
اگرچہ سندھ حکومت نے رہائشی بستیاں انہدام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن وہ گومگو کا بھی شکار ہے۔صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں تجاوزات اور قبضوں کے خلاف مہم میں وہ تیزی اور پھڑتی باقی نہیں رہے گی جو گزشتہ پندرہ روز کے دوران نظر آئی تھی۔ابھی تک کوئی بھی سیاسی جماعت یا کوئی سرکاری خواہ غیر سرکاری ادارہ یہ طے نہیں کرسکا ہے کہ اس انہدامی مہم کے شہر کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ 
عدالتی فیصلہ جماعت اسلامی کی درخواست پر آیا ہے۔لیکن اب جوصورتحال بن رہی ہے ، جماعت اسلامی بھی اس کی حمایت نہیں کر پا رہی۔تجاوزات ہٹانے کی مہم کی زد میں مہاجر آبادی بھی آرہی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے گروپ اس بات پر خوش ہیں کہ نوے کے عشرے کے بعد جو لوگ ’’باہر سے‘‘ آئے ان کو شہر کے مرکزی علاقوں سے ہٹایا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم کی یہ پرانی خواہش بھی تھی اور کوشش بھی۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ کے بعد یہ کون طے کرے گا کہ کس تاریخ یا سال کو ’’ کٹ ڈیٹ‘‘ قرار دیا جائے؟ اگر 70 کے عشرے کے بعد ہر عشرے کے اپنے اپنے رخ ہیں۔ 80کا عشرہ جنرل ضیاء الحق کا کہلاتا ہے۔ جب افغان پناہ گزین اور دیگر غیر ملکی تارکین وطن آنا شروع ہوئے اور اسی عشرے کے آخر میں ایم کیو ایم وجودد میں آئی اور اس نے بلدیاتی انتخابات جیتے۔ 90 کے عشرے میں سویلین دور رہا۔صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت آتی جاتی رہی۔ ایم کیو ایم کسی نہ کسی طرح سے اقتدار کا حصہ رہی۔مشرف دور میں ایم کیو ایم کا باقاعدہ راج رہا۔ وہ سفیدو سیاہ کی مالک بنی رہی۔ اور یہ سلسلہ 2008 تک رہا۔ اس کے بعد بھی شہر پر کنٹرول ایم کیو ایم کا ہی رہا۔
2014 کے بعد جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تب شہر پر ایم کیو ایم کی گرفت کمزور پڑی۔ 
2008 کے بعد پیپلزپارٹی صوبے میں مسلسل اقتدار میں رہی۔اس عرصے میں حکومت نئی ہاؤسنگ اسکیمیں نہیں بنائی۔حکومت کی اس ناکامی پر لوگوں اپنے طور پر مسئلہ حل تلاش کرنا شروع کیا۔ نتیجے میں ہزاروں کچی آبادیاں وجود میں آئی۔ 
بلاشبہ شہر کو منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہر کی موجودہ آبادی کو بھی شہری سہولیات حاصل نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دس سال میں شہر کی آبادی میں بیس فیصد کا مزید اضافہ ہو جائے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور حکومت سندھ کیا فیصلہ اور قدامات کرتے ہیں؟ تاہم تجاوزات اور ناجائز قبضوں کے خلاف مہم اب تعطل کا ہی نہیں سیاست کا شکار ہو رہی ہے۔ 


Nai Baat - Karachi Enchroachments hit by politics Sohail Sangi 
4-12-18 


----------------------------------


کراچی، ایک ماہ میں کتنی دکانیں گرائی گئیں؟

روزنامہ جنگ کی رپورٹ

راچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پر کے ایم سی کی جانب سے رپورٹ تیار کر لی گئی جس کے مطابق ایک ماہ کے دوران 7ہزار دکانیں، 10ہزار سے زائد سن شیڈگرائےگئے۔
اعلیٰ عدلیہ کے حکم پر کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کو ایک ماہ مکمل ہو گیا، کے ایم سی نے کراچی کے تمام اضلاع کی رپورٹ تیار کرلی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ماہ کے دوران 7ہزار دکانیں، 10ہزار سے زائد سن شیڈگرانے کے علاوہ 5 ہزار سے زائد وال فکسچر، 2ہزار سے زائد تھلے اور چبوترے گرائےگئے۔ کارروائی میں ایمپریس مارکیٹ میں بھی 2 منزلہ عمارت گرائی گئی۔
کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کی تفصیلات کمشنر کراچی کو بھیجی جائیں گی۔
تجاوزات کے خلاف آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئےرپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ضلع جنوبی کے تین علاقوں میں 1706 دکانوں اور تجاوزات کو گرایا گیا، ضلع وسطی میں 9مقامات پر302 دکانیں اور متعدد شادی ہالز گرائےگئے جبکہ ضلع کورنگی میں 4مقامات پر 280 دکانیں، 6ہوٹل اور دیگر تعمیرات گرائی گئیں۔
ضلع شرقی میں 11 دکانیں اور200سے زائد دیگر تجاوزات گرائی گئیں جبکہ ضلع ملیر اور ضلع کاؤنسل ملیر میں تجاوزات کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں اضلاع میں پیپلز پارٹی کے منتخب بلدیاتی چیئرمین اور اکثریت ہے۔
کے ایم سی ذرائع کے مطابق ملیر میں تجاوزات کی بھرمار ہے لیکن کے ایم سی کے ساتھ تعاون نہیں کیا جاتا۔

-----------------------------------------------

جوڑیا بازار اور جونا مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں تجاوزات کیخلاف آپریشن

04 دسمبر ، 2018
بلدیہ عظمی کراچی کی جوڑیا بازار اور جونا مارکیٹ کی تنگ گلیوں ، شاہ فیصل کالورنی، نارتھ ناظم آبادمیں تجاوزات کیخلاف آپریشن، اضافی حصے اور فٹ پاتھ مسمار کردیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق تجاوزات کے خلاف گزشتہ روز 29 ویں دن جوڑیا بازار اور جونا مارکیٹ کے اطراف کی انتہائی تنگ گلیوں میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ انسداد تجاوزات نے بھرپور کارروائی کرکے دکانوں کے آگے بڑھے ہوئے اضافی حصوں اور فٹ پاتھوں پر قائم بے شمار تجاوزات کو مسمار کردیا جبکہ ترازو گلی اور پھول چوک پر قائم صرافہ مارکیٹ کے دکانداروں کو ایک دن کا مزید وقت دیدیا گیا تاکہ وہ اپنے بقیہ سامان کو منتقل کرسکیں۔ شاہ فیصل کالونی کے مختلف حصوں اور نارتھ ناظم آباددبلاکA ، بارہ دری پارک میں قائم بارہ دری شادی لان کو مسمار کر دیا گیا۔ دریں اثناء بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے پیر کو ہونیوالی کارروائی کے حوالے سے بتایا کہ علاقے کے دکانداروں کو چند دن قبل ہی بینرز اور اعلانات کے ذریعے آگاہ کردیا گیا تھا۔

کراچی کی تاریخی عمارتوں کو محفوظ اور خوشنما بنانے کا فیصلہ، آویزاں اشتہاری بورڈز ہٹادیئے جائیں گے

کمشنر کراچی افتخار شالوانی کی زیر صدارت فیصلہ کیا گیاکہ کراچی کی تاریخی عمارتوں پر آوایزاں اشتہاری بورڈز کو ہٹا دیا جائے گا پندرہ سو سے زائد تاریخی عمارتوں میں سے پہلے مرحلہ میں دس عمارتوں کو خوشنما بنایا جائے گا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کی تاریخی عمارتوں کو محفوظ بنایا جائے گا متعلقہ اداروں اور مالکان کو پابند بنایا جائے گا کہ وہ ان کی دیکھ بھا ل کویقینی بنائیں،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عمارتوں پر آوایزاں اشتہاری بورڈز کو ہٹایا جائے گا انھوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلہ میں اقدامات کریں تاریخی عمارتوں کی بالکونیاں اور سامنے کا حصہ خوشنما ہو عمارتوں کے سامنے کے حصے پر رنگ و روغن کیا جائے گا ہر عمارت کے سامنے کے حصہ کو مختلف رنگوں سے خوشنما بنایا جاے گابالکونیوں پر پھولوں اور پودوں کے گملے رکھے جائیں گے تاکہ لوگوں کی توجہ کا باعث بنیں اور انھیں اچھا لگے کراچی میں پندرہ سو سے زائد تاریخی
عمارتوں کو اہمیت کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے گی اور بتدریج انھیں بہتر بنانے اور خوشنمابنانے کے پروگرام میں شامل کیا جائے گا پہلے مرحلہ میں دس عمارتوں کو خوشنما بنایا جائے گا اس سلسلہ مین کارپوریٹ سوشل ریسپانسپلٹی کے تحت سماجی کام کر نے والے نجی اداروں کا تعاون حاصل کیا جائے گا کراچی آنے والے سیاحوں کے لئے پرکشش بنانے کے لئے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا کراچی کا سٹی ٹور میپ بنایا جائے گا،اجلاس نے کراچی میں ایمپریس مارکیٹ سے مختلف راستوں کے لئے ٹوراوپن ڈبل ڈیکر بس چلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

فٹ پاتھوں، پارکوں اور نالوں پر پختہ تعمیرات نہیں ہوسکتیں،وسیم اختر

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ جن علاقوں سے تجاوزات ہٹائی گئی ہیں وہاں دوبارہ تعمیرات، اور فٹ پاتھوں، پارکوں اور نالوں پر پختہ تعمیرات نہیں ہوسکتیں ، اگر ایسا ہوا تو متعلقہ افسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی،اگر کسی تاجر کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو وہ سپریم کورٹ میں شکایت درج کرواسکتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اپنے دفتر میں آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے صدر شوکت علی اور چیئرمین وقاص عظیم کی سربراہی میں ملاقات کی اور جاری انسداد تجاوزات کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، اس موقع پر سٹی کونسل کے پارلیمانی لیڈر اسلم شاہ آفریدی اور چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن بھی موجود تھے، وفد کے ارکان نے کہا کہ انسداد تجاوزات کی جاری مہم سے ہم مکمل اتفاق اور حمایت کرتے ہیں،تاہم بلدیہ عظمیٰ کراچی کا انسداد تجاوزات کا عملہ اس سلسلے میں بلاامتیاز کارروائی اور اپنے  رویئے کو درست کرے اور جہاں جہاں تجاوزات
ہوں ان کی نشاندہی کرے ، ہمیں کچھ وقت دیں ہم خود ان تجاوزات کو ہٹائیں گے۔
--- 
میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی میں انسداد تجاوزات سے متاثرہ تاجروں کی بحالی کے لئے وزیراعلیٰ سندھ کی دلچسپی کا شکریہ ، انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جس کا اجلاس پیر کو ہوا اور فیصلہ کیا گیا کہ ہر متاثرہ دکاندار کو مناسب جگہ پر دکان ملے گی بلکہ اس سے آگے کا غور کیا گیا کہ ایسے تجارتی زون قائم کئے جائیں جہاں ہاکروں کو بھی جگہ دی جائے تاہم گھروں کو نہیں توڑنے دیا جائے گا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرام باغ میں منعقدہ ایک روزہ آل سندھ تاجر اتحاد کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مذہبی و سیاسی جماعتیں اس سارے عمل کو سیاسی رنگ دینا چاہتی ہیں جو غلط ہے، یہ خالصتاً سپریم کورٹ کی ہدایت پر فٹ پاتھوں، پارکوں، فلاحی پلاٹوں اور نالوں پر قائم تعمیرات کو ہٹانے کی کارروائی ہے، حکومت سندھ اور کے ایم سی کسی ایک فرد کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہونے دے گی، کراچی جیسے شہر میں فٹ پاتھوں پر تجارتی سرگرمیاں اچھی نہیں لگتیں تاجروں کو خود سوچنا چاہئے کہ

تجارتی علاقوں میں تجاوزات کی بھرمار نہ ہو،جہاں بھی ناانصافی کی شکایت آئے گی وہاں سخت کارروائی کی جائے گی یہ کارروائی بلاامتیاز ہے، انہوں نے کہا کہ جس جس کی بھی دکان ٹوٹی ہے اس کو کاروبار کے لئے متبادل دکان ضرور ملے گی، انہوں نے کہا کہ جن جن لوگوں نے نالوں، پارکوں اور فٹ پاتھوں پر تعمیرات کی ہوئی ہیں وہ خود ہٹالیں اب ان جگہوں پر کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی تاہم کسی کے بھی گھر کو نہیں توڑا جائے گا البتہ جو گھر فٹ پاتھوں اور سڑکوں تک آگے نکالے ہوئے ہوں وہ خود اپنی حدود میں چلے جائیں، میئر کراچی نے کہا کہ حکومتی سطح پر یہ فیصلہ ہوگیا ہے کہ جس کی دکان ٹوٹی ہے اس سے بہتر جگہ پر متبادل دی جائے گی۔



No comments:

Post a Comment