ایم کیو ایم کے استعیفے: پیپلزپارٹی کو نقصان ، پی ٹی آئی کو فائدہ
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
اسلام آباد کوایم کیو ایم کے پارلیمینٹرین کے استعفوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ کہ جس طرف صورتحال جا رہی تھی اس سے یہی لگ رہا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کی دعویدار جماعت کوئی ایسا ہی کارڈ کھیلے گی۔ ایک روز پہلے تک ایم کیو ایم نے کسی بھی مرحلے پر یہ اظہار نہیں کیا تھا کہ صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ معاملہ استعیفے تک چلا جائے گا۔ اسلام آباد ابھی پی ٹی آئی کے استعیفو ں سے بمشکل جان چھڑا پایا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعیفے گلے پڑ گئے۔ پاکستان کی سیاست بھی عجیب ہے۔ یہاں ہر ماہ ایک نیا ڈرامہ اسٹیج ہوتا ہے۔ ابھی لوگ اس ڈرامے کے مقاصد پورے طور پر سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔
صورتحال کو سمجھنے کے لئے بعض سوالات کو سمجھنا بہت اہم ہے۔1) ایم کیو ایم نے استعیفے کیوں دیئے؟ 2) کیا یہ استعیفے منظور کر لئے جائیں گے؟ 3) ان استعیفوں سے کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان؟
استعیفوں کی وجہ ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان آپریشن کے حوالے سے ٹکراؤ ہے۔ ایم کیو ایم کہا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ الطاف حسین نے گزشتہ شب استعیفوں کے فیصلے پر عمل کرانے کی ہدایت دینے سے پہلے اپنے اراکین اسمبلی پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ووٹرز اور پارٹی کے مفادات کے لئے ایوانوں میں موثر آواز اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ کراچی میں جاری آپریشن جس پر ایم کیو ایم تحفظات کا اظاہر کرتی رہی ہے، وہ صرف رینجرز کا فیصلہ یا عمل نہیں ہے۔ اس فیصلے اور عمل میں تمام عسکری قوتیں شامل ہیں۔ بلکہ فیصلہ کرتے وقت سندھ کی دیگر اہم جماعتوں بشمول ایم کیو ایم سے بھی مذاکرات کئے گئے تھے۔ اس تمام عرصے کے دوران یہ تاثر ملتا رہا کہ اسٹبلشمنٹ ایم کیو ایم کی قیادت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ جس کا اظہار بارہا خود الطاف حسین بھی کرتے رہے۔ اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے یہ کہا جاتا رہا کہ بطور سیاسی جماعت کے اسکو ایم کیو ایم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس کی مسلح ونگ سے ہے۔ جو ہر طرح کے جرائم میں ملوث ہے اور س کراچی میں امن و امان کا امسئلہ بنائے ہوئے ہے۔ یوں الطاف حسین اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان یہ جھگڑا چلتا رہا۔ الطاف حسین نے اس کے دوران فوج کے خلاف بیان بازی بھی کی، بھارت اور نیٹو کو بھی مداخلت کی اپیل کی۔ جواب میں ملک کے کئی شہروں میں الطاف حسین کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے۔ اور منتخب ایوانوں میں ان کے خلاف قراددایں بھی منظور کی گئیں۔ اس بات نے الطاف حسین کو یہ سجھایا کہ اگر منتخب ایوان اس کو (یا اسکی پارٹی کو) اپنا حصہ نہیں سمجھتے تو وہ یہ کارڈ کھیلیں۔ اور ایک سیاسی یا پارلیمانی بحران پیدا کریں۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام نواز لیگ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم اور پر کھڑا ہے۔ پی ٹی آئی اگرچہ اس کا حصہ ہے لیکن وہ خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ جس میں اسے ناکامی ہوچکی ہے۔
یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ استعیفوں کا کارڈ الطاف حسین نے اس لئے کھیلا ہے کہ وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ اس کی گرفت پارٹی پر ہی نہیں بلکہ منتخب نمائندوں پر ابھی بھی مضبوط ہے۔ جس کو بظاہر اسٹبلشمنٹ الطاف حسین الگ رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
کیا استعیفے منظور ہونگے؟ پارلیمنٹ میں موجود ممبران میں سے سوائے مولانا فضل الرحمان کے کسی نے رسمی طور ہی صحیح ایم کیو ایم کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ مختلف صوبائی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے خلاد مذمتی قرادادیں منظور کرانے بعد ایک سیاسی ماحول بن گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ سب کو پتہ تھا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں موجود ایم ایم کے اراکین میں سے کسی کا یہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ الطاف حسین کا فیصلہ تھا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ہر رکن سے فردا فردا استعیفے کی تصدیق کی ہے، آئینی طور پر اس تصدیق کے بعد استعیفے منظور نہ ہونے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ استعیفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن تیار کر لیا گیا تھا لیکن عین وقت پر وزیراعظم ہاوس سے فون آنے پر یہ نوٹیفیکشن روک دیا گیا۔ الطاف حسین کا بھی کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبے منظور ہوتے ہیں تو استعیفے واپس ہوسکتے ہیں۔ یہی بات سندھ اسمبلی کے اسپیکر سراج درانی نے بھی کہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ مطلب بات چیت کی گنجائش ہے۔ اور حکمت عملی کے حوالے سے پیپلزپارٹی اس کے حق میں نہیں س۔ قوی امکان یہی ہے کہ استیعفے منظور نہیں کئے جائیں گے۔ اول یہ کہ پی ٹی آئی کے اراکین کے استعیفے چھ ماہ سے زائد عرصے تک پڑے رہے اور منظور نہیں کئے گئے۔ اس کی وجہ فنی یعنی اراکین کا خودحاضر ہو کر تصدیق کرنا نہیں تھی بلکہ سیاسی تھی۔ اس لئے پارلیمنٹ دہرا معیار قائم نہیں کر سکتی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ ہو ایم کیو ایم کو منائے۔ نواز لیگ سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفیے بحران پیدا کریں گے۔ ایوان میں عدم موجودگی سے پورے پرانے سسٹم کا ایک چھوٹا ہی سہی لیکن اہم حصہ ٹوٹ کر الگ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سنیٹ میں پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔ کیونکہ ایم کیو ایم سنیٹ میں جو نشستیں خالی کرے گی وہ سندھ سے ہیں اور سندھ میں پیپلزپارٹی اکثریت میں ہے۔ سنیٹ میں نواز لیگ پہلے سے کمزور ہے اس کے بعد وہ مزید کمزور ہو جائے گی۔پیپلزپارٹی کو یہ فائدہ صرف سنیٹ کی حد تک ہوگا۔ لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کے لئے بڑا چیلینج ہوگا۔ اس بات کا عندیہ الطاف حسین کی تقریر سے بھی ملتا ہے جس میں وہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی سے مخاطب ہوئے ہیں۔ استعیفے منظور ہونے کے بعد ایم کیو ایم ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر دوبارہ مینڈیٹ لینے کی کوشش کرتی ہے یا بائکاٹ کرتی ہے؟ اس نے یہ آپشن ابھی اوپن رکھا ہے۔ اگر بائکاٹ کرتی ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کراچی میں پی ٹی آئی اپنی جگہ بنائے۔ سندھ میں پی ٹی آئی کو جگہ ملنے سے نہ صرف اسکو نئی ورکنگ رلیشن شپ میں جانا پڑے گا بلکہ مجموعی طور پر اس کو خطرہ ہے۔ ابھی نہ سہی، آئندہ انتخابات میںیہ جماعت خیبر پختونخوا اور کچھ نشستیں پنجاب سے لیکر باقی سندھ سے لے کر ایسی پارٹی بن سکتی ہے جس کے مرکز میں حکومت بنانے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم میں یہ صلاحیت نہیں۔ لہٰذا یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے علاوہ کوی پارٹی سندھ کی بنیاد پر مرکز میں حکومت بنانے کی کوشش کرے یا اس کی امیدوار ہو۔ مجموعی طور پر ملک ایک اور سیاسی بحران میں پھنس گیا ہے، اس بحران کا مرکز ایک مرتبہ پھر سندھ کی طرف ہو گیا ہے۔ آخری نیتجے میں باقی چیزوں کے علاوہ سویلین اختیار مزید کمزور ہونے کا احتمال ہے۔
Sohail Sangi
Nai baat link
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%81%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D9%BE%D9%84%D8%B2%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D9%82%D8%B5
میرے دل میرے مسافر ۔۔۔ سہیل سانگی
اسلام آباد کوایم کیو ایم کے پارلیمینٹرین کے استعفوں پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ کہ جس طرف صورتحال جا رہی تھی اس سے یہی لگ رہا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں کی دعویدار جماعت کوئی ایسا ہی کارڈ کھیلے گی۔ ایک روز پہلے تک ایم کیو ایم نے کسی بھی مرحلے پر یہ اظہار نہیں کیا تھا کہ صورتحال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ معاملہ استعیفے تک چلا جائے گا۔ اسلام آباد ابھی پی ٹی آئی کے استعیفو ں سے بمشکل جان چھڑا پایا تھا کہ ایم کیو ایم کے استعیفے گلے پڑ گئے۔ پاکستان کی سیاست بھی عجیب ہے۔ یہاں ہر ماہ ایک نیا ڈرامہ اسٹیج ہوتا ہے۔ ابھی لوگ اس ڈرامے کے مقاصد پورے طور پر سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔
صورتحال کو سمجھنے کے لئے بعض سوالات کو سمجھنا بہت اہم ہے۔1) ایم کیو ایم نے استعیفے کیوں دیئے؟ 2) کیا یہ استعیفے منظور کر لئے جائیں گے؟ 3) ان استعیفوں سے کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان؟
استعیفوں کی وجہ ایم کیو ایم اور رینجرز کے درمیان آپریشن کے حوالے سے ٹکراؤ ہے۔ ایم کیو ایم کہا کہنا ہے کہ یہ آپریشن اس کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ الطاف حسین نے گزشتہ شب استعیفوں کے فیصلے پر عمل کرانے کی ہدایت دینے سے پہلے اپنے اراکین اسمبلی پر ناراضگی کا اظہار کیا کہ وہ اپنے ووٹرز اور پارٹی کے مفادات کے لئے ایوانوں میں موثر آواز اٹھانے میں ناکام رہے ہیں۔ کراچی میں جاری آپریشن جس پر ایم کیو ایم تحفظات کا اظاہر کرتی رہی ہے، وہ صرف رینجرز کا فیصلہ یا عمل نہیں ہے۔ اس فیصلے اور عمل میں تمام عسکری قوتیں شامل ہیں۔ بلکہ فیصلہ کرتے وقت سندھ کی دیگر اہم جماعتوں بشمول ایم کیو ایم سے بھی مذاکرات کئے گئے تھے۔ اس تمام عرصے کے دوران یہ تاثر ملتا رہا کہ اسٹبلشمنٹ ایم کیو ایم کی قیادت تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ جس کا اظہار بارہا خود الطاف حسین بھی کرتے رہے۔ اسٹبلشمنٹ کے حوالے سے یہ کہا جاتا رہا کہ بطور سیاسی جماعت کے اسکو ایم کیو ایم سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ اس کی مسلح ونگ سے ہے۔ جو ہر طرح کے جرائم میں ملوث ہے اور س کراچی میں امن و امان کا امسئلہ بنائے ہوئے ہے۔ یوں الطاف حسین اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان یہ جھگڑا چلتا رہا۔ الطاف حسین نے اس کے دوران فوج کے خلاف بیان بازی بھی کی، بھارت اور نیٹو کو بھی مداخلت کی اپیل کی۔ جواب میں ملک کے کئی شہروں میں الطاف حسین کے خلاف مقدمات دائر کئے گئے۔ اور منتخب ایوانوں میں ان کے خلاف قراددایں بھی منظور کی گئیں۔ اس بات نے الطاف حسین کو یہ سجھایا کہ اگر منتخب ایوان اس کو (یا اسکی پارٹی کو) اپنا حصہ نہیں سمجھتے تو وہ یہ کارڈ کھیلیں۔ اور ایک سیاسی یا پارلیمانی بحران پیدا کریں۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام نواز لیگ، پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم اور پر کھڑا ہے۔ پی ٹی آئی اگرچہ اس کا حصہ ہے لیکن وہ خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ جس میں اسے ناکامی ہوچکی ہے۔
یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ استعیفوں کا کارڈ الطاف حسین نے اس لئے کھیلا ہے کہ وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ اس کی گرفت پارٹی پر ہی نہیں بلکہ منتخب نمائندوں پر ابھی بھی مضبوط ہے۔ جس کو بظاہر اسٹبلشمنٹ الطاف حسین الگ رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔
کیا استعیفے منظور ہونگے؟ پارلیمنٹ میں موجود ممبران میں سے سوائے مولانا فضل الرحمان کے کسی نے رسمی طور ہی صحیح ایم کیو ایم کو ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اول یہ کہ مختلف صوبائی اسمبلیوں میں الطاف حسین کے خلاد مذمتی قرادادیں منظور کرانے بعد ایک سیاسی ماحول بن گیا تھا۔ دوسرے یہ کہ سب کو پتہ تھا کہ اس وقت پارلیمنٹ میں موجود ایم ایم کے اراکین میں سے کسی کا یہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ الطاف حسین کا فیصلہ تھا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ہر رکن سے فردا فردا استعیفے کی تصدیق کی ہے، آئینی طور پر اس تصدیق کے بعد استعیفے منظور نہ ہونے کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ استعیفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن تیار کر لیا گیا تھا لیکن عین وقت پر وزیراعظم ہاوس سے فون آنے پر یہ نوٹیفیکشن روک دیا گیا۔ الطاف حسین کا بھی کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبے منظور ہوتے ہیں تو استعیفے واپس ہوسکتے ہیں۔ یہی بات سندھ اسمبلی کے اسپیکر سراج درانی نے بھی کہی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ مطلب بات چیت کی گنجائش ہے۔ اور حکمت عملی کے حوالے سے پیپلزپارٹی اس کے حق میں نہیں س۔ قوی امکان یہی ہے کہ استیعفے منظور نہیں کئے جائیں گے۔ اول یہ کہ پی ٹی آئی کے اراکین کے استعیفے چھ ماہ سے زائد عرصے تک پڑے رہے اور منظور نہیں کئے گئے۔ اس کی وجہ فنی یعنی اراکین کا خودحاضر ہو کر تصدیق کرنا نہیں تھی بلکہ سیاسی تھی۔ اس لئے پارلیمنٹ دہرا معیار قائم نہیں کر سکتی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ ہو ایم کیو ایم کو منائے۔ نواز لیگ سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفیے بحران پیدا کریں گے۔ ایوان میں عدم موجودگی سے پورے پرانے سسٹم کا ایک چھوٹا ہی سہی لیکن اہم حصہ ٹوٹ کر الگ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سنیٹ میں پیپلزپارٹی کا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔ کیونکہ ایم کیو ایم سنیٹ میں جو نشستیں خالی کرے گی وہ سندھ سے ہیں اور سندھ میں پیپلزپارٹی اکثریت میں ہے۔ سنیٹ میں نواز لیگ پہلے سے کمزور ہے اس کے بعد وہ مزید کمزور ہو جائے گی۔پیپلزپارٹی کو یہ فائدہ صرف سنیٹ کی حد تک ہوگا۔ لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کے لئے بڑا چیلینج ہوگا۔ اس بات کا عندیہ الطاف حسین کی تقریر سے بھی ملتا ہے جس میں وہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی سے مخاطب ہوئے ہیں۔ استعیفے منظور ہونے کے بعد ایم کیو ایم ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر دوبارہ مینڈیٹ لینے کی کوشش کرتی ہے یا بائکاٹ کرتی ہے؟ اس نے یہ آپشن ابھی اوپن رکھا ہے۔ اگر بائکاٹ کرتی ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کراچی میں پی ٹی آئی اپنی جگہ بنائے۔ سندھ میں پی ٹی آئی کو جگہ ملنے سے نہ صرف اسکو نئی ورکنگ رلیشن شپ میں جانا پڑے گا بلکہ مجموعی طور پر اس کو خطرہ ہے۔ ابھی نہ سہی، آئندہ انتخابات میںیہ جماعت خیبر پختونخوا اور کچھ نشستیں پنجاب سے لیکر باقی سندھ سے لے کر ایسی پارٹی بن سکتی ہے جس کے مرکز میں حکومت بنانے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایم کیو ایم میں یہ صلاحیت نہیں۔ لہٰذا یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کے علاوہ کوی پارٹی سندھ کی بنیاد پر مرکز میں حکومت بنانے کی کوشش کرے یا اس کی امیدوار ہو۔ مجموعی طور پر ملک ایک اور سیاسی بحران میں پھنس گیا ہے، اس بحران کا مرکز ایک مرتبہ پھر سندھ کی طرف ہو گیا ہے۔ آخری نیتجے میں باقی چیزوں کے علاوہ سویلین اختیار مزید کمزور ہونے کا احتمال ہے۔
Sohail Sangi
Nai baat link
http://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%81%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D9%BE%D9%84%D8%B2%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D9%82%D8%B5
This comment has been removed by the author.
ReplyDeleteNai Baat link
ReplyDeletehttp://www.naibaat.pk/archives/sp_cpt/%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%8C%D9%88-%D8%A7%DB%8C%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%B9%D9%81%DB%92-%D9%BE%DB%8C%D9%BE%D9%84%D8%B2%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%B9%DB%8C-%DA%A9%D9%88-%D9%86%D9%82%D8%B5