Sunday, July 28, 2019

لیاری کی گینگ وار ، سیاست اور فکری سفر


لیاری کی گینگ وار ، سیاست  اور فکری  سفر
سہیل سانگی
آج کل لوگ  لیاری کو جرائم، منشیات اور گینگ وار کی علامت سمجھتے ہیں ، لیکن یہ اصل لیاری نہیں ہے۔ لیاری کی اصل پہچان سیاسی و فکری شعور، روشن خیالی اور رواداری   ہے، جو نصف صدی پہلے تک واضح تھی۔
تاریخی طورپرپسماندگی اورمزاحمت کی علامت کراچی کی یہ قدیمی بستی غیرتعلیم یافتہ اور بیروزگاروں بلوچوں، کچھیوں سندھیوں اور مارواڑیوں کی رہائش گاہ رہی۔ ثقافتی ونسلی کثیر رنگی اور روادی اس کا حسن تھا۔
مختلف برادریاں مختلف علاقوں سے یہاں آکر بسیں اوراپنے ثقافتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اس بستی کی بڑی شناخت کا حصہ بنیں۔ یہاں کے رہائشی مختلف پیشوں اوربندرگاہ پرخواہ دوسری دیہاڑی کی مزدوری سے وابستہ رہے۔اس بستی کا گدھا گاڑی کلچر بندرگاہ کی وجہ سے وجود میں آیا۔
ستر اور اسی کے عشرے میں حالات بگڑنا شروع ہوئے۔ باکسنگ، فٹ بال، کرکٹ، ڈانس، گدھا گاڑی کی ریس سمیت مختلف کھیلوں کی وجہ سے مشہور لیاری گینگ وار گروپوں کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لیاری دہشت کی علامت سمجھا جانے لگا۔
ساٹھ کے عشرے سے پہلے لیاری کی سیاست ہارون فیملی کے گرد گھومتی تھی۔ لال بخش رند، یوسف نسکندی اوراکبر بارکزئی ایک عرصے سےلیاری کے نوجوانوں کو سیاسی تعلیم دے رہے تھے، وہ بلآخرہارون فیملی کی سیاسی گرفت سے نکل آئے۔
پہلا احتجاج
لیاری نے سیاسی شعورکا پہلا اظہارایوب خان کے دورحکومت میں  کیا، جب یہاں کے رہائشی اپنے گھروں کے مالکانہ حقوق کے لئے احتجاج پراترآئے۔ سالہا سال سے یہاں پر رہائش پزیر لوگوں کے پاس یہ مالکانہ حقوق نہیں تھے۔
ہوا  یوں کہ کراچی میں تجارتی و صنعتی ترقی ہوئی تولیاری شہرکے پرانے کاروباری مرکز کے قریب ہوگیا۔ ایوب خان حکومت نے بڑے کمرشل مراکز اوربندرگاہ کے لئے گودام تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تریسٹھ تک لیاری نوٹیفائیڈ ایریا تھا، لوگوں کو پکے مکان بنانے کی اجازت نہیں تھی۔لہٰذا حکومت نے لیاری کے رہائشیوں کو یہاں اٹھاکر ملیر کھوکھراپار میں کے ڈی اے اسکیم سترہ   میں منتقل  کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کے اس اقدام پررہائشیوں میں سخت غم وغصہ کی لہر پیدا ہوگئی۔  
قدیم رہائشیوں کی ناجائزمنتقلی  کے خلاف بھرپور احتجاج ہوا جس پرلاٹھی چارج کیا گیا۔احتجاج میں نیشنل عوامی پارٹی نے بھرپورکردارادا کیا۔ ککری گرائونڈ میں بڑا احتجاجی جلسہ ہوا، جس سےعطاء اللہ مینگل، واجا اکبر بارکزئی، واجا یوسف نسکندی، لال بخش رند اور دیگر رہنمائوں نے خطاب کیا۔ احتجاج نے حکومت کو اپنا منصوبہ ترک کرنے پرمجبور کردیا۔ لیاری میں اسی دورمیں نیشنل عوامی پارٹی اورعوامی لیگ مضبوط ہوئیں۔
بلوچ قوم پرستی کی جنم بھومی
لیاری کو بلوچ قوم پرستی کی جنم بھومی مانا جا ہے۔  ڈاکٹر فیروز احمد کے مطابق لیاری کا اثر بلوچستان پر پڑا اور بلوچستان کی قوم پرستی کو نظریاتی بنیادیں فراہم کی۔
ککری گرائونڈ میں 1962 میں بلوچستان میں ناانصافیوں کے خلاف ایک بڑا اجتماع ہوا ،یہ پہلا موقعہ تھا کہ لیاری کے لوگوں  نے بلوچ رہنمائوں خیر بخش مری، میر غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل اوربلوچی شاعر گل خان نصیر کو دیکھا اور سنا۔
مکران  کے رہائشی عبدالباقی بلوچ عوامی لیگ کی ہدایت حکمران جماعت مسلم لیگ کے امیدوار محمود ہارون کے مقابلے میں لیاری سے الیکشن لڑے۔ یہ ایوب خان کا بنیادی جمہوریتوں کا دورتھا۔
میرغوث بخش بزنجو بھی یہاں رکن اسمبلی بنے۔ اسی دورمیں محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے بلوچ طلباء نے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن بنائی۔
سیاسی  خسارے  کا آغاز
 کیمونسٹ پارٹی میں ماسکو اور چین نوازگروہ بندی کا لیاری کے سیاسی اورفکری گرائونڈ پرمنفی اثرپڑا۔ اس ایکٹوازم نے بھٹو کے لئے اسٹیج تیار کیا۔ لیاری پر دو کتابیں لکھنےوالے رمضان بلوچ کہتے ہیں کہ چین نوازگروپ سے رحیم بخش آزاد،عثمان بلوچ ودیگران پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔
ملکی کی مضبوط طلباء تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں اینٹی سردارگروپ کے نام سے تقسیم ہوئی۔ انہی دنوں میں بائیں بازو کے زیراثرلیاری نوجوان تحریک قائم ہوئی۔ 
پیپلزپارٹی کو واک اوور
دوسرا نقصان انیس سو ستر کے انتخابات کے موقع پر ہوا جب بلوچ رہنمائوں نے لیاری کو سیاسی طور پر چھوڑدیا، یہاں کے بجائےاپنے آبائی علاقوں سے الیکشن لڑا اور سیاست کی۔ کراچی کی تاریخ، سیاست و سماجیت پرجامع کتاب لکھنے والے گل حسن کلمتی بتاتے ہیں کہ ان رہنمائوں کی عدم موجودگی میں پیپلزپارٹی کو لیاری میں سیاسی اور فکری حوالے سے واک اوورمل گیا۔
انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی حکومت میں آئی، اس نے لوگوں کوسیاسی طور پراپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لئے نوکریوں اور دیگرمراعات کے دروازے کھول دیئے۔ اب نوجوان حالات کو تبدیل کرنے کی اجتماعی جدوجہد کے بجائے اپنے ذاتی حالات ٹھیک کرنے میں مصروف ہو گیا۔ یوں لیاری کا سیاسی اور فکری اثاثہ کم ہوتا گیا۔  
پرانے سیاسی کارکن اور دانشور رحیم بخش آزاد نے ایک انٹریو میں کہا تھاکہ لیاری کے تعلیم یافتہ نوجوان بلوچ قوم پرست اور حقوق کی سیاست سے جڑے ہوئے تھے۔ لہٰذا مضبوط ہاتھوں نےجرائم، منشیات اور گینگ کو متعارف کرایا جس نے کراچی کی بہت ہی زیادہ متحد، طاقتور برادریوں کوتقسیم کر دیا۔ یوں لیاری بلوچ قوم پرستی کے مکہ مدینہ سے تبدیل ہو کر ڈرگ اور گینگ مافیا کی آماجگاہ بن گیا۔
سیاسی بیداری کی ابتدائی کہانی
لیاری سیاسی شعور اورحقوق کے لئے جدوجہد کی پرانی تاریخ رکھتی ہے۔ نورالدین ابتدائی سیاسی و سماجی کارکنوں میں سے ہیں۔ انہوں نے 1932 میں پندرہ روزہ اخبار البلوچ جاری کیا۔ 1939 میں میر غوث بخش بزنجو نے نورالدین کو بلوچ لیگ کے نمائندگی کرنے کے لئے مستونگ میں ہونے والی قلات نیشنل پارٹی کی کانفرنس میں بھیجا۔ انیس سو تیس کے عشرے میں واجا غلام محمد نورالدین نے بلوچ لیگ کے نام سے سیاسی تنظیم قائم کی۔ مشہور بلوچ رہنما غوث بخش بزنجو نے اپنا سیاسی کریئراس تنظیم سے کیا تھا۔
ضیاء دور
ضیاء دورمیں بھی لیاری نے ایم آرڈی تحریک میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ رومانس جاری رکھا۔سعید بلوچ کہتے ہیں کہ لیاری کا سیاسی کلچر ضیاء دور میں بگڑا۔
 لیاری کے بلوچوں کو معاشی طور پر پیچھے دھکیلنے کا دودسرا مرحلہ ایم کیو ایم کا دورحکومت تھا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اداروں سے بلوچوں کو نکالا گیا۔ کچھیوں، سندھیوں اوربلوچوں کو آپس میں لڑایا گیا۔دو ہزار نو میں نثار بلوچ کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ ایک سال پہلے زاہد بلوچ کا قتل ہوا، وہ حقوق کے لئے لیاری ے لوگوں کو منظم کر رہے تھے۔
جب اسٹڈی سرکل اورروزمرہ کی سیاست  سکھانے والے استاد ہی چلے گئے تو میدان فکری اور ذہنی لڑائی کے بجائے ہاتھوں اور ہتھیاروں کی لڑائی کی طرف چلا گیا۔
غربت اورمسائل تو تھے ہی، اوپر سے لوگ سیاسی طورپر بھی لاوارث ہوگئے۔ گل حسن کلمتی کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے لیاری کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کیا۔   
 دو ہزار تیرہ میں لیاری نے پیپلزپارٹی سے ہلکی بغاوت کی۔ انہوں نے پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں پرانے جیالے شاھجہان کو کامیاب کیا۔  دوہزار اٹھارہ کے انتخابات میں بلاول بھٹو ہارگئے اور تحریک لبیک جیت گئی۔ گل حسن کلمتی کے مطابق یہ لیاری کو سیاسی طور پراستعمال کرنے کا ردعمل تھا۔
ادب اور ثقافت
لیاری کے رہائشیوں کی منتقلی کے خلاف تحریک  چلانے والوںماسٹر یارمحمد بلوچ ، لال بخش رند، محمد یوسف بلوچ اور فقیرمحمد بلوچ  نے  انجمن بیداریہ بلوچاں کے نام سے تنظیم بنائی۔
پروفیسر خدابخش بلوچ سباد دشتیاری نے ساٹھ کےعشرے میں سیاسی شعور اور ادب میں نمایاں کردارادا  کرنے والے سید ظہور شاہ ہاشمی کے نام سے لائبرری قائم کی جو نایاب کتابوں کے لئے مشہور ہے۔
لیاری کی کمیونٹی کے حقوق اوران میں سیاسی و فکری شعور پیدا کرنے میں صدیق بلوچ، عبدالرحیم بلوچ ،عثمان بلوچ، عائشہ سومرو، لالا گل محمد ہوت، جی آر گلاب، خالق زردان، غلام اکبر بلوچ اور رمضان بلوچ کے رول کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
ازسرنو ابھار کی کوششیں
گینگ وار کے کچھ 'لاڈلے' آپس کی لڑائیوں  میں مارے گئے۔اس کے ساتھ  قانون نافذ کرنے والوں نے آپریشنز کئے، تب جاکریہ پُر امن علاقہ بنا۔ تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے لگیں۔
آج زندگی رواں دواں اور کاروباری سرگرمیاں پوری طرح بحال ہیں۔
گینگ وار کی وجہ سے سیاسی لوگ لیاری چھوڑ کر چلے گئے۔ ایک عرصے تک ایسے لوگوں کی عدم موجودگی میں ترقی پسند فکر اورسوچ کا خلاء پیدا ہوا تھا۔ اب صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ اہل فکر و دانش لوٹ رہے ہیں۔ ہر ہفتے ادبی، ثقافتی یا سیاسی بحث مباحثے کی نشست ہوتی ہے۔لیاری پر کتابیں لکھی جارہی ہیں۔ ادبی فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ نوجوان مختلف شعبوں میں ابھر کر آرہے ہیں۔ لیاری کے دانشوروں کو  خدشہ ہے کہ  کہیں مضبوط ہاتھ   یہ سفر روک نہ دیں۔

 27 جولائی ، 2019



No comments:

Post a Comment