Friday, July 26, 2019

تحریک عدم اعتماد کے پیچھے سیاست


تحریک عدم اعتماد کے پیچھے سیاست
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی 
دعوؤں کے باجودمتحدہ اپوزیشن  بجٹ کے خلاف کوئی بڑا مظاہرہ نہیں سکی۔اب چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد  اور نیا چیئرمین منتخب کرانے پر پوری توجہ مرکوز ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر کارروائی کے لئے صدر نے سینیٹ کا اجلاس یکم اگست کو طلب کیا ہے۔ سیاست میں جوڑ توڑ کے بادشاہ آصف علی زرداری نے بلوچستان کے ایک قدرے غیر معروف شخصیت کو چیئرمین سینیٹ  بناکر دکھا دیا کہ سیاست صرف ممکنات کا فن نہیں بلکہ ناممکن کام کرنا اس سے بھی بڑی سیاست ہے۔ جب وہ اپنے ہی بنائے ہوئے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو اپوزیشن کی جماعتوں کے ساتھ مل کرہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں،  اس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ آج بھی سیاسی طور پر پہلے کی طرح طاقتور ہیں۔ تبدیل شدہ حالات میں وہ غیراہم یا  فاضل قوت نہیں ہوئے۔اس کی کامیابی یا ناکامی پر ہی اپوزیشن کی بقا کا بڑا انحصار ہے۔
 حکومت چاہتی ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد واپس لی جائے یا پھر ووٹنگ میں ناکام ہو۔  اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں جہانگیر ترین کی سرگرمیوں سے متعلق خوف کا اظہار کیا جارہا ہے جو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ صادق سنجرانی ہی چیئرمین رہیں گے۔چونکہ حکمران جماعت اور ان کے اتحادی نمبر گیم میں کمزور ہیں، لہٰذا حکومت  اپوزیشن  کے سینیٹرز توڑنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اپوزیشن کے دس کے قریب سینیٹرز ووٹنگ میں حصہ نہ لیں، اور اگر لیں تو اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک یا نئے چیئرمین کے انتخاب میں اپوزیشن کے حق میں ووٹ نہ دیں۔ نواز لیگ کے دو سینیٹرز کلثوم پروین اور دلاور خان نے چیئرنین سینیٹ کے عشائیے میں شرکت کی۔ جس پر پارٹی نے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی ہارس ٹرینگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے، کہا کہ پیسے بھلے لو لیکن ووٹ اپوزیشن امیدوار کو دو۔ پیپلزپارٹی رہنما سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کے نئے معیار مقرر کئے جارہے ہیں۔ انہوں دعوا کیا کہ ہم نے تریسٹھ اراکین کی اکثریت دکھادی ہے۔ حکومت کو اس وقت اعلانیہ طور پر36 ارکان سینٹ کی حمایت حاصل ہے۔
 تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لئے بھی حکومت کوشاں ہے۔ حکمران  جماعت کے سینیٹرز نے اپوزیشن کی تحریک کی بظاہر باگ ڈور ہاتھ میں رکھنے والے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، لیکن انہوں نے یہ کہ کر صاف انکار کردیاکہ ’بہت آگے جاچکے ہیں، اب واپسی ممکن نہیں۔
بلاول بھٹو  نے سکھر سے مہنگائی کے خلاف مارچ کیا، اور گھوٹکی کے ضمنی انتخابات  میں مصروف رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے امریکی دورے کے دوران جھوٹے دعوے کئے۔ ہمیں زیادہ وعدے نہیں کرنے چاہئیں۔ حکومت بچانے کے لئے این آر او کی باتیں کر رہے ہیں۔سی پیک پاکستان کا مفاد ہے پیپلزپارٹی اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے لیکن اس کے ساتھ ہی  بلاول بھٹو نے خارجہ امور پر حکومتی کوششوں کی غیر مشروط حمایت کردی، مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے  بلاول کی سوچ کو مثبت قرار دیا ہے۔
 آصف  زرداری کہتے ہیں کہ ہم بیرکوں میں رہنے والے ہیں، اس سے یہ سمجھا جارہا ہے کہ رلیف لینا پیپلزپارٹی  کے لئے کوئی بڑا کھیل نہیں، خاص طو ر اس صورت میں جب تحریک انصاف اپنا سیاسی دشمن نمبر ون نواز لیگ کو سمجھتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے سابق حکومتوں کے بارے میں ریمارکس کو بھی اسی کھاتے میں ڈالا جارہا ہے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ رانا ثناء اللہ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں کو اس سلسلہ کی کڑی سمجھا جا رہا ہے۔فیصل آباد میں مریم نواز اور پانچ ہزار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پاکستان کو سابق صدور اور انتظامیہ شاید پسند نہ تھے۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے خلاف مزید گرفتاریوں کا سلسلہ فی الحال رکا ہوا  نظرآرہاہے۔ سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔
آنے والے دنوں میں پیپلزپارٹی شاید احتجاج کی سیاست میں زیادہ سرگرم کردار ادا نہ کر سکے اور سیاسی میدان میں مولانا فضل الرحمان اور اور مریم نواز کی شکل میں مسلم لیگ (ن) ہی حکومت کے سامنے صف آرا ہوں۔اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہے گی۔ممکن ہے کہ یہ موجودگی سڑکوں کے بجائے منتخب ایوانوں میں زیادہ نظر آئے۔ مریم نواز فیصل آباد کے جلسے اور عدالتوں میں پیشی سمیت پوری طرح اپوزیشن کی رہنما کی حیثیت سے منظر پر موجود ہیں۔ بلاول بھٹو کی امریکہ جانے کی اطلاعات آئیں کہ وہ وزیراعظم کی امریکہ آمد سے قبل وہاں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور اپوزیشن کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔اس ضمن کیا پیش رفت ہوئی؟ اس کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے  اپوزیشن کو یکجا کر کے حکومت کے خلاف سرگرم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔تاہم انہوں نے حکومت کے خلاف بڑے اور موثر اجتماعات کرکے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا اور یہ پیغام دیا ہے کہ وہ تنہا بھی حکومت کے خلاف تحریک چلا سکتے ہیں۔
مسلم لیگ  نواز ان دنوں سیاسی طور پر بہت متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ مریم نواز نے تو ریلیوں کے ذریعے احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔ منڈی بہاؤ الدین کے بعد فیصل آباد میں بھی وہ ”پاور شو“ کر چکی ہیں۔ اعلیٰ قیادت کی ہدایات پر اس سے قبل احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر رہنما ؤں نے ورکرز کنونشن کئے، اور کارکنوں کو متحرک کیا، یہ وہ کام ہے جو کسی تحریک چلانے سے پہلے ضروری ہوتا ہے۔
پیپلزپارٹی  بہت محتاط طریقے سے کھیل رہی ہے۔لیکن پیپلزپارٹی یہ بھی نہیں چاہے گی کہ خود کو مکمل طور پر اپوزیشن سے الگ کر لے۔ سندھ میں حکومت کھونا نہیں چاہتی۔ اس کے علاوہ وہ صرف اکیلے سندھ کو احتجاج میں نہیں لے جانا چاہتی۔وہ اس بات کا انتظار کرہی ہے کہ نواز لیگ پنجاب کو جگائے، سندھ بعد میں شامل ہو سکتا ہے۔فی الحال چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد  کی کامیابی  بتائے گی کہ پیپلز پارٹی کی اہمیت کیا ہے۔ اس سے  بڑھ کر یہ متحدہ اپوزیشن کی بقا کا سوال ہے۔

No comments:

Post a Comment