1626 words
سندھ کے مخدوم خاندان کے ساتھ کیا ہوا؟
مخدوم خاندان کا عروج و زوال کی کہانی
سہیل سانگی
ذوالفقار علی بھٹو نے ایک مرتبہ شام کی محفل میں اپنے ایک قریبی دوست نواب احمد سلطان چانڈیو کا بتایا کہ وہ نئی پارٹی بنا رہے ہیں۔لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے سردار چانڈیو نے انہیں مشورہ دیا کہ جب تک بڑے گدی نشین اس میں نہیں ہونگے پارٹی نہیں چلے گی۔
معلوم نہیں بھٹو نے نواب چانڈیو کے مشورے پر عمل کیا یا اپنے طور پرفیصلہ کیا۔انہوں نے سندھ میں ایک ایسی شخصیت کو ڈھونڈ نکالاجو گدی نشین بھی تھے، سیاست میں بھی تھے، جس کا سندھ بھر میں وسیع حلقہ احباب تھا اور وہ تھے مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ۔ ان کے سندھ خواہ پنجاب کے گدی نشینوں خواہ وڈیروں سے بھی دوستانہ تعلقات روابط تھے۔
سیاست کے دشت کے سفر میں درگاہ مخدوم سرور نوح کے 17 ویں سجادہ نشیں طالب المولیٰ صوبائی اورقومی اسمبلی کے کئی باررکن رہے‘کئی ادبی تنظیموں کی بنیاد رکھی‘ ادبی میگزین جاری کئے اورہالا میں ان دنوں پرنٹنگ پریس لگوایا جب پریس کی تنصیب آسان کام نہ تھی۔
تقسیم ہند کے بعد سندھی ادب اور زبان کو نقصان پہنچا جس کو پورا کرنے میں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔ اور سند ھ کی ادبی اور ثقافتی انصاف کو زندہ رکھنے اور اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ طالب المولیٰ پیپلزپارٹی کے تادم وائیس چیئرمین اور سندھی ادبی بورڈ کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان کو یہ دونوں ادارے ورثے میں دیئے، ان کے بیٹے سعید الزماں اور پوتے مخدوم جمیل الزمان بورڈ کے چیئرمین رہے۔
پیپلزپارٹی کی قیادت کی اب چوتھی پیڑھی چل رہی ہے اور مخدوم خاندان کی تیسری۔ایک پورا دور رہا جب ہالہ کامخدوم خاندان سندھ کی سیاست اور پیپلزپارٹی میں ناگزیر رھے۔
سندھ کی سیاست میں تبدیلی کی ہوائیں ایسی چلیں کہ روایتی سیاسی خاندان کی حیثیت کم ہو گئی اور مخدوم خاندان اپنے آبائی ضلع مٹیاری ہالہ میں اپنی نشستیں بچانے تک محدود ہوگیا۔ لوگوں کو شکایات ہیں کہ کام نہیں ہوتے، پارٹی لیڈروں تک رسائی نہیں ہوتی، وہ مل نہیں پاتے۔
اگرچہ بھٹو اور پگارا دو مخالف انتہائیں تھی، لیکن پیر پگارا علی مردان شاہ جب کراچی اور آبائی گاؤپیر گوٹھ آتے جاتے ہالہ میں طالب المولیٰ کی چائے ضرور پیتے تھے۔ یہ روابط کا سلسلہ بعد میں بھی ا کدوم فیملی نے جاری رکھا۔
ایک دوسرے کا گلا کاٹنے والی پاکستان کی سیاست میں غدار ”بروٹس“ بہت مل جاتے ہیں۔ لیکن ایک وفادار”اینٹونی“ ہونا مشکل۔”سیزر“ (بھٹو)کو سزائے موت کے بعد بینظیر بھٹو کے انکل بشمول ممتاز بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ، غلام مصطفیٰ جتوئی نے مصلحت اور سمجھوتے کیے اور راہیں الگ کرلیں لیکن ہالہ کے مخدوم ضیاء الحق کے بدترین دور میں بھی بھٹو کی بیٹی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ دونوں بڑے مخدوموں کی طبع میں جوانکساراور عاجز تھے، انہوں نے وہ سیاست میں بھی روا رکھے۔
ایم آر ڈی کی تحریک ہو یا دیگر کٹھن سیاسی مرحلے ہالہ اور سروری جماعت نے ہمیشہ بھٹو فیملی اور پی پی کا ساتھ دیا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت کی من موجوں اور مستیوں کے باوجود اس خاندان نے پارٹی نہیں چھوڑی۔
غلام مصطفیٰ جتوئی کا شمار سندھ کے بااثر جاگیرداروں میں ہوتا تھا ان کی پیپلزپارٹی میں موجودگی کی وجہ سے سندھ کے زمیندار اور جاگیردار پیپلزپارٹی میں اپنی نمائندگی سمجھتے تھے اور اس کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ یہ صورتحال ایم آرڈی کی تحریک کے بعد تبدیل ہوگئی۔ جب جتوئی نے سندھ کے لوگوں کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کی۔انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے نام سے الگ پارٹی بنائی۔ لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے ان کے توڑ کے طور پر ہالہ کہ مخدوم فیملی کو آگے لے آئی۔ مخدوم خلیق الزمان پارٹی کو سندھ کا صدر مقرر ہوئے۔ مخدوم خلیق نے مشکل دور میں سندھ بھر میں پارٹی کی تنظیم کاری کی۔
بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیاء الحق سندھ میں اپنی حمایت کی تلاش میں نکلے، تو انہوں نے جی ایم سید اور مخدوم طالب المولیٰ سے بھی ملاقات کی۔ چھوٹے مخدوموں کے اصرار کے باوجود انہوں نے ضیاء کی حمایت نہیں کی۔ بلکہ ایک تاریخی جملہ کہا؛ کبھی بھول کر بھی پارٹی نہیں چھوڑنا۔
ضیاالحق کے غیر جماعتی انتخابات میں پنجاب خواہ سندھ سے کئی سرخیلوں نے حصہ لیا۔ پیپلزپارٹی نے بائیکاٹ کیالہٰذا مخدوم خاندان نے بھی نتخابات میں حصہ نہیں لیا۔
دسمبردو ہزار تیرہ میں بلدیاتی انتخابات کے موقع پر پارٹی کو محسوس ہوا کہ مسلم لیگ فنکشنل سرگرم ہو رہی ہے،پارٹی کو مخدوم خاندان کی ضرورت پڑی۔ زداری مخدوم امین فہیم کی دعوات پرہالہ گئے، جہاں مخدوم خاندان کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ زرداری نے مخدوم امین کے ذریعے خلیق کو پارٹی میں دوبارہ آنے کی دعوت دی۔ جو ایم آرڈی کی تحریک کے بعد انیس سو اٹھاسی کے انتخابات کے بعداختلافات کی بناء پر پارٹی خواہ سیاست سے کنارہ کش ہو گئے تھے۔ دوسرے بھائی مخدوم رفیق الزماں جو مشرف دور میں بلدیاتی انتخابات میں ضلع ناظم حیدرآباد تھے، لیکن 2008 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کا پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کے بعد انہوں نے خود کو سیاست سے دور کر دیا تھا۔ خلیق الزمان اور رفیق الزمان دونوں نے یہ پیشکش قبول کرلی۔ دو ہزار تیرہ کے اتخابات میں مخدوم خلیق الزمان پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور پرجیتے۔
دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں جب نواز لیگ جیت کر آئی تو پیپلزپارٹی نے امین فہیم کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا، وقت نے انہیں پھر لیڈر آف اپوزیشن بنا دیا۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں میں ”اقتدار کا بھوکا نہیں اور سیاست میں تیز رفتاری سے نہیں چلتا۔“
منجھے ہوئے پارلیمنٹرین امین فہیم آٹھ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ان کی سیاسی زندگی میں انتخابات کی کوئی ہار نہیں۔ اقتدار مسلسل ان کے دروازے پر دستک دیتا رہا۔ وزارت عظمیٰ اور وزارت اعلیٰ سندھ کی پیشکش ہوتی رہی، جنرل مشرف نے بھی انہیں وزارت عظمیٰ پیش کش کی۔ بینظیر کے منع کرنے پر یہ پیکش ٹھکرادی، انہوں نے پارٹی اور اپنے مریدوں کو ترجیح دی۔
2018 کے انتخابات کے موقع پردرگاہوں کے گدی نشینوں کا اتحاد بنا۔ پیر پاگارا کی حر جماعت، ہالہ کے مخدوم کی سروری جماعت، ملتان کے شاہ محمود قریشی کی غوثیہ جماعت کے سربراہان کے رسمی اور غیر رسمی اجلاس بھی منعقد ہوئے۔اگریہ تینوں روحانی جماعتیں متحد ہو جاتیں توباقی چھوٹی موٹی درگاہوں کے گدی نشین بھی اس میں شامل ہو جاتے۔لیکن پیپلزپارٹی نے مخدوم خاندان کو منا کر اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ انہیں مٹیاری کی تقریب تمام نشستیں دے دی گئیں۔ تین پشتوں سے پیپلزپارٹی کے ساتھ وفاداری کے ساتھ رہنے والے مخدوم کی اس بغاوت نے پارٹی میں یہ پیغام عام کیا کہ پارٹی پر دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔ اس کو جھکایا جاسکتا ہے۔
۔ پیپلزپارٹی کے ایک پرانے کارکن ذوالفقار قادری کا کہنا ہے کہ شہادت سے پہلے جب وہ وطن لوٹیں، تو بلاول ہاؤس میں ان سے ہم نے پوچھا: بی بی مشرف نے آئین میں ترمیم کردی ہے، کوئی بھی شخص تیسری مرتبہ وزیراعظم نہیں بن سکتا، ایسے میں کیا حکمت عملی ہے؟ انہوں نے فورا کہا کہ ہمارے پاس وزیراعظم ہے، مخدوم صاحب بیٹھے ہیں نا۔۔
دلچسپ بات بات ہے کہ بینظیر بھٹو کے وصیت نامے کی تصدیق و توثیق بھی امین فہیم سے کرائی گئی، اور فوری اعلان بھی یہی ہوا کہ مخدوم وزیراعظم ہونگے۔ بعد میں مسلم لیگ نواز کے رہنما خواجہ آصف کے بیان کہ ویزراعظم کا منصب پنجاب کو ملنا چاہئے۔ اور آصف علی زرداری نے بازی پلٹ دی۔ امین فہیم کے بجاے گیلانی کو وزیراعظم بنایا گیا۔
ایک تجزیہ نگار نے کیا خوب کہا کہ بینظیر کے بعد مخدوم امین فہیم کو نہ کوئی سمجھنے والا تھا اور نہ سمجھانے والا۔ وہ اسٹبلشمنٹ سے قریب بھی تھے اور پارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان پل بھی تھے۔ جس کے ذریعے مذاکرات کئے جاتے رہے اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کے پاس بھی وہ ایک معتبر اور معزز شخصیت سمجھے جاتے تھے، بعد کی صورتحال میں آصف زرداری کو مخدوم پر اعتماد نہ تھا، یا ان کی وہ ضرورت نہیں سمجھ رہے تھے۔
سید قائم علی شاہ کے وزارت اعلیٰ کے دور میں تھر میں قحط سالی کی صورتحال یہاں تک جا پہنچی کہ سید قائم علی شاہ کو سندھ کے بااثر مخدوم خاندان کے دو افراد کو وزیر بحالیات مخدوم جمیل الزماں اور ڈی سی او تھر مخدوم عقیل الزماں کو معطل کرنا پڑا۔ اس سے پارٹی میں بحران پیدا ہو گیا۔ پارٹی کے وائیس چیئرمین مخدوم امین فہیم تب بقید حیات تھے ان کو کھلے عام اپنی ناراضگی کا اعلان اور اظہار کرنا پڑا۔تب خود وزیراعلیٰ کو یہ بیان دینا پڑا کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔
بعد میں جب امین فہیم نے پیر پگارا سے ملاقات کی تو آصف زرادری بیچ میں آئے، اور سید قائم علی شاہ مخدوم صاحب کے پاس پہنچ گئے اور یوں معافی تلافی ہوگئی۔ لیکن مخدوم خاندان کی یہ ناراضگی آج تک ختم نہیں ہو سکی ہے۔
مخدوم خاندان کو کابینہ سے باہر رکھا گیا، امین فہیم کے بیٹے اور بھائیوں کوپارٹی اور حکومتی عہدوں میں نظرانداز کیا گیا۔
ہالا میں واقع مخدوم خاندان کی بیٹھک ”اٹھاس بنگلہ“ سندھ کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی مرکز بھی رہی ہے، طالب المولٰ عام لوگوں، اپنے مریدوں اور خلیفوں سے براہ راست رابطہ اور میل میلاپ رکھتے تھے ان کا یہ معمول تھا کہ وہ صبح کھلی کچہری لگاتے اور شام گئے لوٹتے تھے۔ جس کسی کو بھی ملنا ہوتا تھا وہ اس بنگلے پر پہنچ جاتا تھا۔ ان کے بعد اس خاندان نے عوام تک رسائی کا یہ سلسلہ منقطع کردیا۔
یہ خاندان خود کو متحد و منظم بھی نہیں رکھ سکا اور اندرونی خلفشار کا شکار ہوگیا، سیاسی زوال کی ایک وجہ بنا صورتحال اس قدر سنگین ہوگئی کہ گزشتہ سال گدی نشین جمیل الزماں نے طالب المولیٰ کی برسی کا پروگرام رکھا، تو اپنے چچا کو دعوت تک نہیں دی۔
No comments:
Post a Comment