Nai Baat 02-10-19
مقبولیت پسندی کا تجربہ
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
”تقریر تو اچھی تھی اب آگے دیکھیں“، کچھ اس طرح کے جملے عام کئے جارہے ہیں۔اقوام متحدہ میں تقریرکے بعدوزیراعظم عمران خان کو مقبولیت پسند سیاستدان کے طور پرلیا جارہا ہے، جو عوام کے جذبات اورامنگوں کی عکاسی کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال کے انتخابات کے نتائج کے موقع پر بھی یہ بات کہی گئی۔ اقوام متحدہ میں کی گئی تقاریر کو لیا جائے اس سے لمبی اور تنقیدی تقریر کیوبا کے انقلابی لیڈر کاسٹرو نے کی تھی، جو تین گھنٹے پر مشتمل تھی۔ سوویت یونین کے صدر خروفچیف نے جوتا اٹھا کے میز پر مارا تھا، یہ دونوں نے امریکی سامراج کو کھری کھری سنائی تھیں۔ لیکن امریکہ نے کیا وہی جو وہ کرنا چاہتا تھا۔وزیراعظم عمران تقریرکے ذریعے اقوام عالم میں پاکستان کے موقف کی حمایت حاصل نہ کر سکا۔
مقبولیت پسندی کو نئی صدی کے سیاسی، معاشی اورٹیکنالاجی کے بعد کی صورتحال کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، یورپ اورلاطینی امریکہ کے بعض ممالک اس تجربے سے گزر رہے ہیں جہاں گزشتہ تین سال کے دوران یورپ اورلاطینی امریکہ کے ممالک میں اس کا واضح اظہار سامنے آیا۔
یورپ کا پاکستان یا لاطینی امریکہ سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ وہاں ادرے مضبوط ہیں۔ اس سیاسی رجحان کے ابھرنے کے اسباب، اثرات اور نتائج پر سیاسیات کے ماہرین کی متعدد تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین اس پر متفق ہیں کہ یہ کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک سیاسی عمل یا طریقہ ہے،جو کہ لبرل اور جمہوریت پسندوں کے جذبات کی تسکین کرتاہے۔
لاطینی امریکہ کی دو بڑی معیشتوں کے ممالک برازیل اور میکسیکو میں پاپولسٹ نے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ ایک مقبول پسندی کی علامات رکھنے والے غیر سیاستدان کو ووٹ ملے، ایسے لوگ جو سیاست کو برا بھلا کہتے ہیں یا اس پر اعتراض کرتے ہیں۔
گزشتہ سال کے انتخابات کے نتائج کے موقع پر بھی یہ بات کہی گئی۔ اقوام متحدہ میں کی گئی تقاریر کو لیا جائے اس سے لمبی اور تنقیدی تقریر کیوبا کے انقلابی لیڈر کاسٹرو نے کی تھی، جو تین گھنٹے پر مشتمل تھی۔ سوویت یونین کے صدر خروفچیف نے جوتا اٹھا کے میز پر مارا تھا، یہ دونوں نے امریکی سامراج کو کھری کھری سنائی تھیں۔ لیکن امریکہ نے کیا وہی جو وہ کرنا چاہتا تھا۔وزیراعظم عمران تقریرکے ذریعے اقوام عالم میں پاکستان کے موقف کی حمایت حاصل نہ کر سکا۔
مقبولیت پسندی کو نئی صدی کے سیاسی، معاشی اورٹیکنالاجی کے بعد کی صورتحال کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، یورپ اورلاطینی امریکہ کے بعض ممالک اس تجربے سے گزر رہے ہیں جہاں گزشتہ تین سال کے دوران یورپ اورلاطینی امریکہ کے ممالک میں اس کا واضح اظہار سامنے آیا۔
یورپ کا پاکستان یا لاطینی امریکہ سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ وہاں ادرے مضبوط ہیں۔ اس سیاسی رجحان کے ابھرنے کے اسباب، اثرات اور نتائج پر سیاسیات کے ماہرین کی متعدد تحقیقات سامنے آئی ہیں۔ ماہرین اس پر متفق ہیں کہ یہ کوئی نظریہ نہیں بلکہ ایک سیاسی عمل یا طریقہ ہے،جو کہ لبرل اور جمہوریت پسندوں کے جذبات کی تسکین کرتاہے۔
لاطینی امریکہ کی دو بڑی معیشتوں کے ممالک برازیل اور میکسیکو میں پاپولسٹ نے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ ایک مقبول پسندی کی علامات رکھنے والے غیر سیاستدان کو ووٹ ملے، ایسے لوگ جو سیاست کو برا بھلا کہتے ہیں یا اس پر اعتراض کرتے ہیں۔
دراصل عالمی معاشی نظام کے نئے تضادات کی وجہ سے ایک نیا مظہر پیدا ہوا، جس سے نمٹنے کے لئے پاپولرازم سامنے آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لبرل جماعتیں جو نظریاتی یا فکری حوالے سے درمیانہ راستے پر تھی انہیں بھی دائیں کی طرف جانا پڑا۔ جس کے بعد بطور مجموعی دائیں کی فکر کو مضبوطی حاصل ہوئی۔
پاپولسٹ لیڈر یا تحریک دائیں بازو خواہ بائیں بازو کی بھی رہی ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی نظریہ نہیں، سیاسی تنظیم کی منطق ہے، جس کے ذریعے عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ان کو اپنی حکمت عملی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران خاص طور پر یورپ میں پاپولسٹ تحریکوں کا جھکاؤ دائیں بازو اور قوم پرستی کی طرف زیادہ رہا ہے۔ ایک بہت ہی باریک نقطہ نظر ہے، جس کو کبھی قوم پرستی اور کبھی ریاست مدینہ کہہ کر مذہبی کا رنگ یا جارہا ہے۔
پاپولسٹ لیڈر یا تحریک دائیں بازو خواہ بائیں بازو کی بھی رہی ہیں۔ لہٰذا یہ کوئی نظریہ نہیں، سیاسی تنظیم کی منطق ہے، جس کے ذریعے عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے ان کو اپنی حکمت عملی پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران خاص طور پر یورپ میں پاپولسٹ تحریکوں کا جھکاؤ دائیں بازو اور قوم پرستی کی طرف زیادہ رہا ہے۔ ایک بہت ہی باریک نقطہ نظر ہے، جس کو کبھی قوم پرستی اور کبھی ریاست مدینہ کہہ کر مذہبی کا رنگ یا جارہا ہے۔
جمہوری اداروں میں عوام کی بامعنی شرکت کی عدم موجودگی، ایک مخصوص سیاسی اشرافیہ کا وجود میں آنا، کرپشن اور جمہوری اداروں پر عدم اعتماد نے ایسی صورتحال پیدا کردی، اس صورتحال سے سیاسی قیادت صحیح طریقے سے ہینڈل نہیں کرسکی۔
پاپولسٹ حکمت عملی کے نزدیک معاشر صرف دو حصوں میں بٹا ہوا ہے یعنی ایک طرف عام آدمی ہے اور دوسری طرف کرپٹ اشرافیہ جو عوام کو معاشی خواہ سیاسی طور پر لوٹتی ہے۔کوئی متبادل منصوبہ بندی یا پروگرام دینے کے بجائے اس بیانیے کو نعرے کے طور پر مقبول بنایا جاتا ہے۔ عمران خان بھی یہی کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس نعرے پر خود کوعوام میں مقبول بنایا، اور گزشتہ انتخابات بھی اس بنیاد پر جیتی۔ چونکہ کوئی منصوبہ بندی یا متبادل پلان نہیں تھا، لہٰذا اسے ٹیکنو کریٹس کی چھتری تلاش کرنی پڑی۔ یہ ٹیکنوکریٹس عالمی مالیاتی اداروں سے مستعار لینے پڑے جس کا کام سود پر اپنے پیسے لگانا ہے۔
پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو نے مقبولیت پسندی کی سیاست کی۔مخصوص ملکی اور عالمی حالات کی وجہ سے بھٹو کو موقعہ ملا کہ اصلاحات کر پائے۔ جن کو بعد میں جنرل ضیاء الحق نے پلٹ دیا۔
بعد میں بینظیٰر بھٹو نے بھی مقبولیت پسندی کو چھوا۔ لیکن نواز شریف اور اس کی باقیات نے ان پر چیک اینڈ بلینس کا کردار ادا کیا۔ مشرف پاپولرازم کو ختم نہ کر سکے، بلکہ انہوں نے اپنا کام چلانے کے لئے سیاسی نظام میں انجیبئرنگ کی اور بعض طبقات اور گروہوں پر ”کرایے“ پر حاصل کر کے نچلی سطح پر ووٹروں اور عام آدمی کو کنٹرول کیا۔
بعد میں بینظیٰر بھٹو نے بھی مقبولیت پسندی کو چھوا۔ لیکن نواز شریف اور اس کی باقیات نے ان پر چیک اینڈ بلینس کا کردار ادا کیا۔ مشرف پاپولرازم کو ختم نہ کر سکے، بلکہ انہوں نے اپنا کام چلانے کے لئے سیاسی نظام میں انجیبئرنگ کی اور بعض طبقات اور گروہوں پر ”کرایے“ پر حاصل کر کے نچلی سطح پر ووٹروں اور عام آدمی کو کنٹرول کیا۔
پی ٹی آئی کا نعرہ تھاکہ حکومت میں آتے ہی قوم کی لوٹی ہوئی دولت کے اربوں ڈالرواپس ملک میں آ جائیں گی۔ حکومت میں آئے سوا سال کا عرصہ گزرچکا ہے، لیکن ایک ٹکہ واپس نہیں آیا۔
پاپولسٹ کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ وہ پیچیدہ اورمشکل ترین مسائل کا حل سادہ اور جذباتی طریقے بتاتا ہے۔پی ٹی آئی نے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے انڈے اور مرغی کا فارمولا دیا۔ آج زمینی حقائق یہ ہیں کہ ڈالربڑھ گیا، اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
زرمبادلہ کی شدید قلت نے آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑاکیا۔ کہا جاتاہے کہ معیشت کی بری تصویر پیش کرنے کے پیچھے تین مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ پرانی سیاسی اشرافیہ کو برا بھلا کہا جائے۔ دوسرے یہ کہ آئی ایم ایف پاکستان میں پیسے لگانا چاہتا ہے اور امریکہ پاکستان کو معاشی اور مالی حوالے سے چین سے دور کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے ماحول بنایا جائے، تیسرا یہ کہ ٹیکس کو بڑھایا جائے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو بتایا جائے کہ پاکستان کی مالی حیثیت ومارکیٹ ایسی ہے کہ اس کے عوض قرضہ دیا جا سکتا ہے۔ اس میں سے پہلا مقصد سیاسی تھا۔
پاپولسٹ کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ وہ پیچیدہ اورمشکل ترین مسائل کا حل سادہ اور جذباتی طریقے بتاتا ہے۔پی ٹی آئی نے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے انڈے اور مرغی کا فارمولا دیا۔ آج زمینی حقائق یہ ہیں کہ ڈالربڑھ گیا، اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
زرمبادلہ کی شدید قلت نے آئی ایم ایف کے دروازے پر کھڑاکیا۔ کہا جاتاہے کہ معیشت کی بری تصویر پیش کرنے کے پیچھے تین مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ پرانی سیاسی اشرافیہ کو برا بھلا کہا جائے۔ دوسرے یہ کہ آئی ایم ایف پاکستان میں پیسے لگانا چاہتا ہے اور امریکہ پاکستان کو معاشی اور مالی حوالے سے چین سے دور کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے ماحول بنایا جائے، تیسرا یہ کہ ٹیکس کو بڑھایا جائے، جس سے عالمی سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کو بتایا جائے کہ پاکستان کی مالی حیثیت ومارکیٹ ایسی ہے کہ اس کے عوض قرضہ دیا جا سکتا ہے۔ اس میں سے پہلا مقصد سیاسی تھا۔
نعرے چاہے کچھ بھی لگائے جائیں، لیکن پاپولرازم اپنے جوہر میں لبرل ازم اور جمہوریت کے خلاف ہے۔جو رفتہ رفتہ جمہوری اداروں کو کمزور کرتاہے۔ ابھی جو اظہار آزادی میڈیا پر جو پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا کو ٹیم کیا جارہا ہے، پاپولرازم بغیر کسی منصوبہ بندی کے خطر ے بھرا پروجیکٹ ہے۔
معاشرے خواہ سیاست میں پاپولرازم اس لئے جگہ بناتی ہے کہ سیاسی اور ملکی اداروں کو توڑ کر از سرنو اپنی خواہش اور ضرورت کے مطابق بنانا چاہتی ہے۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین کی قیادت میں بنائی گئی کمیشن اور بعض دیگر کمیشنیں اس سلسلے کی کڑی ہیں۔
معاشرے خواہ سیاست میں پاپولرازم اس لئے جگہ بناتی ہے کہ سیاسی اور ملکی اداروں کو توڑ کر از سرنو اپنی خواہش اور ضرورت کے مطابق بنانا چاہتی ہے۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک عشرت حسین کی قیادت میں بنائی گئی کمیشن اور بعض دیگر کمیشنیں اس سلسلے کی کڑی ہیں۔
ہر پاپولسٹ کی طرح عمران خان دراصل سیاسی اسٹبلشمنٹ کے خلاف ہیں۔ وہ سیاسی خواہ دیگر سویلین اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ بات خود ان اداروں کی کمزوری کا عیاں کرتی ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جس کی وجہ سے عمران خان اقتدار میں آئے۔
پاپولسٹ نعرہ کئی ممالک کو جمہوریت سے سویلین آمریت کی طرف لے گیا۔ جہاں انتخابات تو ہوتے ہیں لیکن شہری آزادیاں اور حقو ق خال خال ہیں۔ ظاہرہے کہ صرف انتخابات کرانا ہی جمہوریت نہیں ہے۔
یہ معاشی اور سیاسی اشرافیہ کے خلاف بغاوت ہے۔ اداروں کی کمزوری معاملے کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ لبرل سوچ کو عمل میں لایا جائے اور اسے آگے بڑھایا جائے۔
پاپولسٹ نعرہ کئی ممالک کو جمہوریت سے سویلین آمریت کی طرف لے گیا۔ جہاں انتخابات تو ہوتے ہیں لیکن شہری آزادیاں اور حقو ق خال خال ہیں۔ ظاہرہے کہ صرف انتخابات کرانا ہی جمہوریت نہیں ہے۔
یہ معاشی اور سیاسی اشرافیہ کے خلاف بغاوت ہے۔ اداروں کی کمزوری معاملے کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ لبرل سوچ کو عمل میں لایا جائے اور اسے آگے بڑھایا جائے۔
پاکستان کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ ملک مضبوط اور ترقی کی راہ پر رکھنے کے لئے نیم جمہوری نہیں بلکہ ایک اچھے جمہوری نظام کی ضرورت ہے۔ عمران خان معاملات کو کب تک چلا پائیں گے؟ اس کے لئے تین دلائل دیئے جارہے ہیں: اسٹریٹجک اورخارجہ پالیسی معاملات منتخب اداروں کے بجائے غیر منتخب اداروں کے پاس ہوں جن سے کوئی پوچھ بھی نہیں سکتا جو کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں۔ لہٰذا اس ضمن میں وزیراعظم کچھ نہیں کرسکتے۔
پی ٹی آئی حکومت کو اسمبلی میں کلی اکثریت حاصل نہیں۔ انہوں نے کچھ گروپوں اور آزاد اراکین کو ملا کر مخلوط حکومت بنائی ہوئی ہے۔ اگر پی ٹی آئی بھلے پاپولسٹ پارٹی ہو، تو اس کے اور اتحادیوں کے ایجنڈا الگ الگ ہیں۔لہٰذاوہ بعض معاملات پر سمجھوتہ بازی کرتے رہیں گے۔ پھر ملک کے مقتدرہ ادارے اور حلقے بھی ہیں۔ مشرف اور ضیاء الحق نے خود کو منتخب کرا کے سیاسی اور مقتدرہ حلقوں کو ایک ساتھ چلانے کی کوشش کی۔
سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ اور سیاسی نظام کا حصہ ہوتی ہیں اگر ان کو روک دیا جائے تو جمہوری ادارے متاثر ہونا شاروع ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے اقدامات سے لگتا ہے حکومت کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ سیاسی اسٹبلشمنٹ کو باہر نکالو، شاید اپنی بقا کے لئے صرف یہی ایجنڈا بنتاجارہا ہے۔
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/maqbooliyat-pasandi-ka-tajzia-16337.html
پی ٹی آئی حکومت کو اسمبلی میں کلی اکثریت حاصل نہیں۔ انہوں نے کچھ گروپوں اور آزاد اراکین کو ملا کر مخلوط حکومت بنائی ہوئی ہے۔ اگر پی ٹی آئی بھلے پاپولسٹ پارٹی ہو، تو اس کے اور اتحادیوں کے ایجنڈا الگ الگ ہیں۔لہٰذاوہ بعض معاملات پر سمجھوتہ بازی کرتے رہیں گے۔ پھر ملک کے مقتدرہ ادارے اور حلقے بھی ہیں۔ مشرف اور ضیاء الحق نے خود کو منتخب کرا کے سیاسی اور مقتدرہ حلقوں کو ایک ساتھ چلانے کی کوشش کی۔
سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ اور سیاسی نظام کا حصہ ہوتی ہیں اگر ان کو روک دیا جائے تو جمہوری ادارے متاثر ہونا شاروع ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے اقدامات سے لگتا ہے حکومت کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ سیاسی اسٹبلشمنٹ کو باہر نکالو، شاید اپنی بقا کے لئے صرف یہی ایجنڈا بنتاجارہا ہے۔
https://www.darsaal.com/columns/sohail-sangi/maqbooliyat-pasandi-ka-tajzia-16337.html
No comments:
Post a Comment