Thursday, October 24, 2019

لاڑکانہ میں کیا ہوا؟

23-10-2019
Nai Baat
لاڑکانہ میں کیا ہوا؟  
میرے دل میرے مسافر    سہیل سانگی 
لاڑکانہ کے ضمنی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی ہار کوہرکوئی اپنی معنی پہنا رہاہے۔ کوئی اس کو جی ڈی اے کی شکست قرا دے رہا ہے، تو کوئی اس کو سندھ میں پیپلزپارٹی کے زوال کا آغاز کہہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سیٹ پیپلزپارٹی کے لئے کبھی بھی محفوظ سیٹ نہیں رہی۔ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھڑو کی صاحبزادی  ندا کھڑوکو شکست ہوئی تھی۔اس سے پہلے میر مرتضیٰ بھٹو کے مقابلے میں بھی پیپلزپارٹی ہار گئی تھی۔ ضمنی انتخاب کا نتیجہ غیر متوقع نہیں تھا۔ گزشتہ سال جولائی کے انتخابات میں  بلاول بھٹو زرداری جے یو آئی کے راشد محمود سومرو  کے مقابلہ میں تقریبا تیس ہزار ووٹوں جیتے، لیکن راشد سومرو نے پچاس ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔بینظیر بھٹو کے دور سے لیکرجے یو آئی  اس نشست پر انتخاب لڑتی رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی حلقہ  پر پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھڑو  منتخب ہوتے رہے ہیں۔ 2018  میں ناہل قرار دیئے جانے پر نثار کھڑو کی بیٹی ندا کھڑو نے انتخاب لڑا۔ لیکن وہ لاڑکانہ عوامی اتحاد کے معظم عباسی  سے گیارہ ہزار ووٹوں کی اکثریت سے  ہار گئیں، جنہوں نے  32178  ووٹ حاصل کئے تھے۔ 
حالیہ ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی نے بلاول بھٹو کے ترجمان جمیل سومرو کو میدان میں اتارا۔ یہ بلاول بھٹوکی ذاتی پسند تھی۔ مقابلے میں معظم عباسی ہی تھے۔ معظم عباسی نے ایک ہزار ووٹوں کے فرق کے ساتھ لگ بھگ اپنی مقبولیت برقرار رکھی اور  31157 ووٹ حاصل کر کے جیت گئے۔  پیپلزپارٹی کے جمیل سومرو نے 26021  ووٹ حاصل کئے۔ پیپلزپارٹی نے گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں تقریبا پانچ ہزار ووٹ زیادہ لئے۔  ایسا کیوں ہوا؟ آیئے کچھ زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔
لاڑکانہ کی زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں، جس کو خود پیپلزپارٹی بھی سمجھ نہ سکی۔ یہ حلقہ زیادہ تر شہری علاقے پر مشتمل ہے۔  ایک نیا مظہر جو ملک کے ہر حلقے  پر لاگو ہوتا ہے وہ یہ کہ زیادہ تر ووٹرنوجوان ہے۔ جن کو پارٹی اپنے طرف کھینچ کر نہ لاسکی۔ 
محترمہ کی شہادت کے بعد پانچ سال تک ملک کی صدارت اور وزارت اعظمیٰ کے عہدے پیپلزپارٹی کے پاس رہے۔ سندھ میں پارٹی کی حکومت کا یہ مسلسل تیسرا دور چل رہا ہے۔ کاغذات پر لاڑکانہ کے لئے تقریبا پچاس سے ساتھ ارب روپے  کے ترقیاتی منصوبے اور پیکیج موجود ہیں۔ لیکن سرزمین پرسندھ کے اور شہروں کی طرح لاڑکانہ کی آبادی بھی بڑھی، شہر جغرافیائی لحاظ سے بھی پھیل گیاہے۔ جس کو مضبوط شہری سہولیات کے انفرا اسٹرکچر کی ضرورت ہے۔
بینظیر کے بعد میڈم فریال تالپور سندھ اور خاص طور پر  لاڑکانہ میں مختار کل رہیں۔ لاڑکانہ  کے مختلف محکموں میں بڑے افسران سے لیکر سولہ گریڈ کے ملازمین تک تقرر میڈم کی مرضی کے بغیر نہیں ہوتے تھے۔  لاڑکانہ کی میئر شپ بھی پیپلزپارٹی کے پاس رہی۔ یہاں تک کہ پارٹی عہدیداران کی تقرری اور  عام اور بلدیاتی انتخابات میں امیداروں کی نامزدگی بھی میڈم فریال کے ہاتھ میں رہی۔  صورتحال یہ تھی کہ نہ میڈم لوگوں تک پہنچ رہی تھی اور نہ لوگوں کی ان تک رسائی ہو رہی تھی۔  لہٰذا پارٹی، کیڈر اور عوام کے درمیان گیپ پیدا ہو گیا۔  پارٹی قیادت کے پاس لوگوں کے لئے ٹائیم ہی نہیں تھا۔لاڑکانہ کے شہری خود کو  سیاسی خواہ سماجی لحاظ سے بے یار و مددگار سمجھنے لگے۔ 
 قیام پاکستان سے پہلے بھی لاڑکانہ کے ووٹرز نے اسی طرح کا ردعمل دیا تھا۔ سندھ کی بمبئی  سے علحدگی کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کرنے والے  لاڑکانہ کے بااثر اور بڑے زمیندار سر شاہنواز بھٹوشیخ عبدالمجید سندھی کے مقابلے میں ہار گئے تھے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ جی ایم سید کی بنائی ہوئی سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے صدر تھے۔  وجہ یہ تھی کہ سر شاہنواز بھٹو تب اکثر بمبئی میں ہی رہتے تھے۔ انہوں نے حلقہ انتخاب میں وقت نہیں دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو جب سیاست میں آئے تو انہوں نے والد کی اس شکست سے ضرور سبق سیکھا۔ وزیر خارجہ سے لیکر وزیراعظم بننے تک انہوں نے لاڑکانہ سے گہرا تعلق نہیں توڑا۔ یہ تعلق وہاں سماجی روبط  اور ترقیاتی منصوبوں سے لیکر روز مرہ کے معاملات تک ہی نہیں رکھا بلکہ خوشی غمی میں شرکت کو یقینی بنایا۔بینظیر بھٹو نے بھی اس روایت کو بینظیر کو جاری رکھا۔لاڑکانہ پیپلزپارٹی کے پرانے کارکنوں کے پاس کئی یادیں ہیں کہ عید پر جب وہ یہاں آتی تھیں تو عوام کے لئے دروزے کھول دیئے جاتے تھے۔     
 ضمنی انتخاب  ہارنے میں پارٹی  کے اندرونی خلفشار نے بھی کچھ کام دکھایا۔گزشتہ عام اتخابات سے پہلے کی گئی نئی حلقہ بندی میں شہر کا ایک حصہ سہیل انور سیال کے گروپ نے اپنے حلقے میں شامل کرلیا تھا۔وہ لاڑکانہ شہر کی بلدیاتی سیاست میں حاوی ہونے کے خواہاں تھے۔وہ حلقہ گیارہ کے ضمنی انتخاب میں پارٹی ٹکٹ کے پرجوش امیدوار تھے۔ یہ حلقہ  نوے کے عشرے سے ایوان کے اندر خواہ باہر اہم کردار ادا  کرنے والے پارٹی رہنما نثار کھڑو کا رہا ہے۔ جمیل سومرو کی آمد کے بعد نثار کھڑو کے لئے کوئی حلقہ باقی نہیں رہا۔ اس حلقے میں جمیل سومرا کے نئے چہرہ کا متعار ہوناپہلے سے موجود سہیل انور سیال اور نثار کھڑو کے لئے خوشگوار نہیں تھا۔کہا جاتا ہے کہ کھڑو اور سیال کے تکرار کی وجہ سے ٹکٹ جمیل سومرو کے حصے میں آئی۔ 
 طالب علمی کے زمانے میں جیئے سندھ تحریک سے آغاز کرکے پیپلزپارٹی کی طلباء  ہ ونگ سے ہوتے ہوئے ممتاز بھٹو کے سندھ نیشنل فرنٹ تک سفر کرنے والے جمیل سومرو کچھ عرصہ ممتاز کے پرسنل سیکریٹری بھی رہے۔ نوے کے عشرے میں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بعد نثار کھڑو کے ذریعے انہوں نے بلاول ہاؤس تک رسائی حاصل کرلی۔ وہ بلاول بھٹو کے ترجمان تو بنے لیکن لاڑکانہ  کے شہریوں سے خود کو جوڑ نہ سکے۔شاید میڈم فریال تالپور کی بالادستی ہوتے ہوئے وہ کچھ چاہتے، تو بھی شاید ہی کچھ کر پاتے۔ یہ ایک مجموعی شکایت ہے کہ بلاول بھٹو کڑی حد تک کارکنوں کی رسائی سے دور ہیں۔ ایک مخصوص گروہ نے انہیں گھیرے رکھا۔ لاڑکانہ کے معاملے میں اس عنصر نے بارہ راست اثر دکھایا۔  
مقابلے کے امیدوار معظم عباسی  کے خاندان کا بیگم ڈاکٹر اشرف عباسی، منور عباسی، صفدر عباسی اور ناہید خان  کی شکل میں پیپلزپارٹی اور بھٹو خاندان سے تعلق نصف صدی پر محیط ہے۔ معظم عباسی نے لاڑکانہ کو ہی اپنی سیاست کا مرکز بنایا۔ لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا اپنا خاصہ بنائے رکھا۔ یہ وہ جگہ تھی جو پیپلزپارٹی سے خالی رہ گئی تھی۔ لاڑکانہ کے شہر ی جانتے ہیں کہ ان کے حصے میں ترقیاتی منصوبے، کسی فرد کی وجہ سے نہیں بلکہ بھٹوز کے شہر کے کے طور پر آئیں گے۔،جس کو کوئی مخالف بھی نہیں روک سکتا۔  منصوبے اور رقومات آئی بھی، لیکن سرزمین پر کچھ زیادہ نظر نہیں آرہا۔ لہٰذا  انہوں نے اپنا احتجاج ریکارڈ کران ضروری سمجھا۔ معظم عباسی کی کامیابی  دو باتوں کا احتجاج ریکارڈ کرانا ہے، ایک یہ کہ لوگوں سے رابطے میں رہیں۔ دوئم یہ کہ ترقیاتی منصوبے کاغذات سے آگے سرزمین پر  بھی نظرآئیں۔   
بلاول بھٹو کو دیکھنا ہوگا کہ لاڑکانہ  کے ترقیاتی منصوبوں کے اربوں روپے سرزمین پر نہیں تو کہاں گئے؟ یہ بھی کہ پارٹی  کے جن لوگوں کے ذمے لاڑکانہ سے رابطہ رکھنا تھاوہ ایسا کیوں نہیں کر پائے؟ مجموعی طور پر بلاول کو پارٹی کی عوام اور کارکنوں سے متعلق پالیسی تبدیل کرناہوگی۔ 


No comments:

Post a Comment