Sunday, October 13, 2019

عمران خان سندھ میں کیا چاہتے ہیں؟


عمران خان سندھ میں کیا چاہتے ہیں؟
سہیل سانگی
چرچا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سندھ کی سیاست میں مداخلت کا فیصلہ کرلیا ہے، لہٰذا سندھ حکومت میں کسی بھی وقت تبدیلی آسکتی ہے۔
تحریک انصاف سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت کو کمزوریا اس کو تبدیل کرنے کے لئے کوشاں رہی ہے۔ اسمبلی کے اندر کمزور کرنے اور دبائو میں رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا رہی ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں منی لانڈرنگ اور جعلی اکائونٹس کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد بھی اس طرح کے اشارے ملے تھے۔ وزیراعظم کی گرینڈ نیشنل الائنس کے ایم پی اے علی گوہر مہر سے ٹلیفون پر بات چیت کے بعد حکمران جماعت، اس کے دو اتحادیوں متحدہ قومی موومنٹ اور گرینڈ نیشنل الائنس کے رہنمائوں کو مہر سرداروں کے پاس گھوٹکی میں بلایا گیا تھا۔ وزیراعظم مصروفیات کے باعث گھوٹکی نہیں پہنچے۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو سندھ بھیجا گیا۔ گزشتہ مرتبہ یہ مشق اس وجہ سے بھی ادھوری رہی کہ گرینڈ نیشنل الائنس کے علی گوہر مہر وزارت اعلیٰ کے منصب کے خواہشمند  تھے۔ جبکہ تحریک انصاف گرینڈ نیشنل الائنس کے لئے اتنی مشقت کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تمام امور ثانوی تھے اصل میں اسلام آباد میں بعض فیصلون کی وجہ سے اس تحرک کو روک دیا گیا۔ اس اثناء میں سندھ میں گورنر راج نافذ کرنے کی بھی باتیں ہوئیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے ایسے اقدام کو کالعدم قرار دینے کے ریمارکس دیئے۔

تقریبا آٹھ ماہ کے بعد ایک بار پھرسندھ کے محاذ پر وفاقی حکومت سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ گزشتہ ماہ تحریک انصاف کے سنیئر رہنما جہانگیر ترین کی متحدہ قومی موومنٹ کے رہنمائوں سے ملاقات کے بعد ایم کیو ایم نے سندھ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔وفاق کو سندھ میں مداخلت کرنے کے لئے کہا جارہا ہے۔

عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران سندھ کے مختلف علاقوں کا یقیننا دورہ کیا تھا، لیکن ان کی توجہ کا مرکز ممتاز بھٹو، لاڑکانہ کا انڑ خاندان  جیسےروایتی سیاسی وڈیرے اور جاگیردار رہے، جو کسی نہ کسی وجہ سے پیپلزپارٹی میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکے تھے۔  اقتدار سنبھالنے کے بعد کراچی کے علاوہ دو مقامات گھوٹکی اور تھرپارکر کا دورہ کیا۔

انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے سندھ میں پارٹی بنانے کے بجائے اتحادی تلاش کرنے کی کوشش کی۔ سندھ کا نوجوان نسل خاص طور پر متوسط طبقہ جو گزشتہ تین دہائیوں میں ابھر کر سامنے آیا ہے اس سے رجوع نہیں کیا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو روایتی وڈیرے کے خلاف ہے۔  تحریک انصاف کے ساتھ روایتی وڈیرے کی موجودگی میں یہ طبقہ وہاں اپنے لئے جگہ نہیں دیکھ رہا تھا۔ عمران خان سندھ میں نواز شریف کی ہی حکمت عملی پرعمل پیرا رہے کہ اپنی سیاسی بنیاد کے بجائے چند وڈیروں کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے،  یہ وڈیرے تب تک ساتھ رہتے ہیں جب تک اقتدار ہوتا ہے۔

حکومت میں آنے کے بعد بھی تحریک انصاف کی توجہ کا مرکز اردو آبادی والے یا ایم کیو ایم کے زیر اثر دو شہر رہے۔ وزیراعظم نے سندھ کے دیہی علاقوں یا دیہی آبادی کے لئے کوئی پروگرام نہیں دیا۔ اس سے یہ مطب لیا جارہا ہے کہ مستقبل میں تحریک انصاف ان شہروں کو ہی اپنے حلقہ انتخاب کے طور پر لینا چاہتی ہے۔

پیپلزپارٹی کے اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کے باوجود وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کو مخالفت سے باز نہ رکھ سکی اور اپنی باتیں نہیں منوا سکی۔ بلکہ اس پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کا یہ ردعمل آیا کہ ہم نے مقدمات کا پہلے بھی سامنا کیا ہے اور گرفتاریاں پہلے بھی دیکھی ہیں۔ لہٰذا اب سندھ حکومت میں تبدیلی کے لئے دبائو ڈالا جارہا ہے۔

سندھ  اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پاس عددی اکثریت اتنی ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل کر بھی اس کی حکومت کو نہیں گرا سکتی۔ اس اقدام میں بعض قانونی اور آئینی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو جائیں گی۔ یہ بھی کہ فارورڈ بلاک بنانا باجوہ ڈاکٹرائن کا حصہ نہیں یہ قصہ پارینہ مشرف دورکا تھا۔ لہٰذا پیپلزپارٹی کے اندرسے ہی کسی ایسے شخص کو لانے کی کوشش کی جارہی ہے جو اسلام آباد کو بھی قابل قبول ہو۔

فی الحال پیپلزپارٹی یہ موقف رکھے ہوئے ہے کہ وہ اپنا وزیراعلیٰ تبدیل نہیں کرے گی۔ اگر نیب مراد علی شاہ کو گرفتار کرتی ہے تو پارٹی اسی حکمت عملی پر جائے گی جو اس نے اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کی گرفتاری پر اختیار کی ہے۔ یعنی وزیراعلیٰ ہائوس بھی بھلے سب جیل قرار دیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان سندھ حکومت میں تبدیلی کیوں چاہتے ہیں؟ بعض اہم امور پر پاکستان پیپلزپارٹی کو مخالفت سے باز رکھنے یا کرپشن کے بیانیے پر عمل کر کے دکھانے کا شو اپنی جگہ پر، لیکن  اس کے پیچھے عمران خان کے سیاسی مقاصد کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ وزیراعظم عمران خان کسی طور پر سندھ اسمبلی سے  پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسا بلدیاتی نظام کا قانون منظور کرانا چاہتے ہیں۔

بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے کو ہے اور نئے بلدیاتی انتخابات آئندہ سال مارچ میں متوقع ہین۔ وہ چاہیں گے کہ میئر یا بلدیاتی اداروں کے سربراہ کا اگر براہ راست انتخاب کا قانون آجاتا ہے، اس صورت میں بعض اضلاع اور بعض بلدیاتی ادارے پیپلزپارٹی کی گرفت سے نکل جائیں گے۔ لہٰذا جن گروہوں نے پیپلزپارٹی کی مخالفت کی تھی،ان کو اگر کسی طرح سے اقتدار میں شامل نہیں کیا گیا تو وہ پیپلزپارٹی میں جا سکتے ہیں۔
  
ایسا بلدیاتی نظام تحریک انصاف کے فائدے میں ہوگا جس میں میئر کو براہ راست انتخاب ہو، وفاق براہ راست کراچی کو فنڈ مہیا کر سکے۔ اس طرح سے  مستقبل میں تحریک انصاف کے  سیاسی مفادات کا تحفظ ہو سکے گا۔

مقتدرہ حلقوں نے طے کر لیا ہے کہ اب کراچی میں کسی وفاقی سیاسی جماعت کو ہی اقتدار واختیار میں رہنا ہے۔ عمران خان کاطویل المیعاد سیاسی مقصد یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ مستقبل میں کراچی پر سیاسی انحصار بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ کراچی میں قومی اسمبلی میں اکیس اور حیدرآباد میں اردو بولنے والوں کے زیر اثر دو نشستیں ہیں۔ اس کے ساتھ خواتین کی مخصوس نشستوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد پچیس سے زیادہ ہے۔ یہ تعداد فاٹا اور بلوچستان دونوں کی نشستیں ملا کر بھی زیادہ ہے۔

No comments:

Post a Comment