Sunday, October 13, 2019

وہ قتل جو معمہ بن کر رہ گیا


لیاقت علی خان کا قتل کیوں معمہ بنا؟
سہیل سانگی، کراچی

پاکستان کی تاریخ میں تقریبا نصف درجن ہائی پروفائیل قتل معمہ بنے ہوئے ہیں۔ دو وزیراعظم لیاقت علی خان، بینظیر بھٹواور مرتضیٰ بھٹو کے نام زیادہ نمایاں ہیں۔ ویسے تو جنرل ضیاء الحق کی موت کا واقعہ بھی معمہ ہی ہے، ان کے جہاز کے حادثے کی تحقیقات شایع نہیں ہوسکی۔  

16 اکتوبر1951 کو پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو کمپنی باغ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے قتل کردیا گیا۔ بعد میں یہ باغ ان کے نام سے موسوم ہوا، جہاں بنیظیر بھٹو کو بھی قتل کیا گیا۔
لیاقت علی کے قاتل سید اکبر کوڈیوٹی پرموجود ایک پولیس سب انسپیکٹر محمد شاہ نے موقع پر ہی گولیاں برسا کر ہلاک کردیا۔ یوں اہم شواہد مٹادیئے گئے۔ بینظیر بھٹو قتل میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا گیا کہ زمینی شواہد دھو دیئے گئے۔
اہم گواہ سب انسپیکٹر پولیس محمد شاہ  نے اعتراف کیا کہ اس نے ریوالور نکالا اور لیاقت علی کے قاتل سید اکب پر پانچ گولیاں چلا کراس کی ہلاکت کو یقنینی بنایا۔ یعنی یہ بھی انتظامات کئے گئے کہ واردات کے بعد قاتل کو بھی قتل کردیا جائے، تاکہ سازش بے نقاب نہ ہو۔

اہم سرکاری عہدیدارن مشتاق احمد گورمانی اور ملک غلام محمد واقعہ والے روز غیر حاضر تھے۔ نہ ہوائی اڈے پر آئے اور نہ ہی جلسہ گاہ میں۔
سید اکبر پاکستانی شہری نہیں بلکہ افغان بھگوڑا تھا۔ اور برطانوی حکومت کا پینشن بردار تھا۔

سید اکبر نے لیاقت علی خان کو کیوں قتل کیا؟ کیا مقاصد تھے؟ بعض ماہرین واقعہ کو سیاسی اور بیوروکریسی کی اقتدار کے لئے لڑائی قرار دیتے ہیں۔

جنرل ایوب خان اپنی سوانح عمری' فرینڈز ناٹ ماسٹرز' میں اندرونی سیاسی چپقلش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ 'جب میں واپس وطن لوٹا اورنئی کابینہ کے وزراء خاص طور پر وزیراعظم  خواجہ ناظم الدین، چوہدری محمد علی، مشتاق گورمانی خواہ  سے ملاقات کی، ان میں سے کسی نے بھی لیاقت علی کا نام تک نہیں لیا۔  انہیں وزیراعظم کے قتل کا کوئی دکھ نہیں تھا۔'

قتل کی گتھی دوکمیشن، پولیس کی تفیتیشی ٹیم نہ سلجھا سکی، تو 13 اکتوبر 1954 کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سراغرساں سی ڈبلیو یورین کی خدمات حاصل کی گئیں۔

تحقیقات کا عمل اور مراحل نہایت حیران کن رہے۔

جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن کی کل اڑتیس نشستیں ہوئیں۔ کل 89 گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی گئیں۔ تاہم کمیشن وجہ قتل کا تعین نہیں کر سکا۔
بیانات اور شواہد کے معائنے کے بعد تحقیقاتی کمیشن نے تین امکانی سازشوں کی نشاندہی کی۔ ان میں سے دو سازشیں قومی مفاد کے برعکس قرار دے کر شایع نہیں کی گئیں۔
صرف سید اکبر کی ذات کے حوالے تیسری وجہ کوعام کیا گیا۔ کمیشن نے تین سوالات اٹھائے: اس کا دماغی توازن درست نہیں تھا؟ وزیراعظم کی کشمیر پالیسی کے خلاف تھا، یا مذہبی تعصب کی وجہ سےانتہا پسند تھا۔

حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ یہ اس کا انفرادی عمل نہیں تھا۔ بلکہ ایک سازش تھی جس کا مقصد حکومتی تبدیلی تھا۔

  کمیشن کی رپورٹ شایع کرتے وقت یہ بتایا گیا کہ 89 صفحات کی رپورٹ کے 37 پیراگراف شایع نہیں کئے جارہے ہیں۔
تقریبا 15 سال پہلے امریکی حکومت نے بعض ریکارڈ ڈی کلاسیفائیڈ کیا ہے۔  جس کے پیش نظر کہا جانے لگا کہ لیاقت علی کا قتل تیل، ایران اور فضائی اڈوں کی وجہ ہوا۔

دہلی میں امریکی سفارتخانہ سے تیس اکتوبر1951 کو ایک ٹیلیگرام بھیجا گیا' کیا لیاقت علی خان کا قتل گہری امریکی سازش تھی؟'
بھوپال کےایک اردو اخبار' روزنامہ ندیم ' نے چوبیس اکتوبر1951 کو ایک مضمون شایع کیا جس میں لیاقت علی کے قتل کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالی گئی ہے۔ اس مضمون کے مطابق یہ نہ کوئی مقامی واقعہ تھا اور نہ ہی اس کا پختونستان  تحریک سے تعلق تھا۔ اس کے پیچھے گہری سازش تھی اور ایسے ہاتھ جن کو پہچانا جاسکتا ہے۔
افغانستان حکومت اس ساز ش اخبارکے مطابق قتل کا منصوبہ نہ کراچی میں اور نہ ہی کابل میں تیار کیا گیا تھا۔
ڈی کالسیفائیڈ کاغذات کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکی سفیر نے قتل کے واقعہ کے تین یا ساڑھے تین منٹ بعد بیگم رعنا لیاقت علی خان کو فون کر کے تعزیت کی۔ یہ تعزیت انہوں نے گورنر جنرل ناظم الدین سے بھی پہلے کی۔ جب کہ گورنر جنرل پہلا شخص آدمی ہونا چاہئے جس کو واقعہ کی اطلاع ہوتی۔ اخبار نے سوال کیا کہ کس طرح سے امریکی سفیر کو پہلے پتہ چلا؟  
آرٹیکل کے مطابق امریکہ اور برطانیہ کی پاکستان حکومت کے ساتھ ناچاقی چل رہی تھی۔ لیاقت علی خان امریکی لائن پر چلنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اس لئے امریکی انہیں ہٹانا چاہتا تھا۔ جبکہ برطانیہ ایران کے معاملے پر حمایت کے لئے پاکستان پر دبائو ڈال رہا تھا۔ امریکہ مطالبہ کر رہا تھا کہ پاکستان ایران پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرے  کہ ایران تیم کے کنویں اس کے حوالے کرے۔ امریکہ کے لئے تیل کئی برسوں سے اہم معاملہ رہا ہے۔ خاص طور پر جب ڈاکٹر محمد مصدق ایران میں اقتدار میں تھے۔

آرٹیکل کے مطابق لیاقت علی خان نے یہ فرمائش ماننے سے انکار کردیا۔ امریکہ نے اسے امریکہ اور پاکستان کے درمیان خفیہ کشمیر معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکی دی۔ لیاقت علی نے کہا کہ پاکستان نے امریکی حمایت کے بغیرآدھا کمشیر پاکستان میں شامل کر لیا ہے، اور باقی آدھا بھی حاصل کر لے گا۔  صرف اتنا ہی نہیں وزیراعظم لیاقت علی نے پاکستان میں قائم امریکی اڈے خالی کرنے کو کہا۔ لیاقت علی خان کا یہ مطالبہ واشنکٹن پر بم کی طرح گرا۔ پاکستان میں موجود اپنے اڈوں کے ذریعے سوویت یونین کو فتح کرنے کے امریکہ کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ لہٰذا لیاقت علی خان کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا۔   
اخبار میں سنگین الزامات کے باوجود اس کی واضح الفاظ میں تردید نہیں کی گئی۔

یکم نومبر1951 کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے دہلی کے سفارتخانہ کو ٹیلیگرام بھیجا: چونکہ آرٹیکل بڑے پیمانے پر شایع نہیں ہوا ہے لہذا اس کی باضابطہ تردید کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ خفیہ طور پر اخبار کی انتظامیہ سے پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ سفارتخانہ چاہے توغیرر سمی طور پر معاملہ بھارتی وزارت خارجہ کے پاس اٹھائے۔   

2006 میں جب امریکہ نے اپنا ریکارڈ ڈی کالسیفائیڈ کیا تو ایک بار پھرمیڈیا میں اس واقعہ کی بازگشت سنائی دی۔ بعض عالمی اخبارات کے علاوہ پاکستان میں بھی یہ رپورٹ شایع ہوئی۔
تب یہ وضاحت کی گئی کہ سفارتخانے متعلقہ ممالک کے اخبارات کی خبریں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھیجتے رہتے ہیں۔ روزنامہ ندیم کی خبر بھی اس طرح  سفارتخانے کے ڈسپیچ کا حصہ بنی ہوگی۔

قتل کی تحقیقاتی کمیشن کی مکمل رپورٹ یہ کہہ کر شایع نہیں کی گئی تھی کہ اس میں بعض ممالک اور لوگوں کے نام ہیں۔ مکمل رپورٹ کی اشاعت نہ کرنے کی وجہ سے کئی سازشی تھیوریزپیش ہوتی رہیں۔ لہٰذا امریکہ کے ملوث ہونے کے الزام میں لوگ وزن محسوس کرتے رہے۔
         
سازشی تھیوری اپنی جگہ پر لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ تحقیقات شفاف طریقے سے نہیں ہو پائی۔ کبھی پنجاب حکومت کا معاملہ قرار دیا جاتا رہا تو کبھی مرکزی حکومت کی ذمہ داری۔

پاکستان پولیس کے انسپیکٹر جنرل نوابزادہ اعتزازالدین قتل کیس کی تحقیقات کے اہم دستاویزات کے ساتھ وزیراعظم ناظم الدین سے ملنے جارہے تھے۔ ان کے طیارے کو کھیواڑہ کے مقام پر حادثہ پیش آیا، حادثے میں وہ ہلاک ہو گئے اور تحقیقات کے اہم دستاویزات بھی ضایع ہو گئیں۔

لیاقت علی خان کے قتل کے بعد کشمیر امور کے وزیر مشتاق گورمانی تنقید کی زد میں رہے۔ بعد میں جو کابینہ بنی اس میں وزیرداخلہ تھے۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد طلب کی، لیکن یہ کوشش دراصل معاملے پر مٹی ڈالنے کے طرح تھی۔

ایک حیران کن واقعہ اس وقت سامنے آیا جب گورمانی کے خلاف توہین عدالت کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے لیاقت علی خان قتل کیس کی تحقیقات کی فائل طلب کی۔ عدالت نے مختلف اعلیٰ سرکاری افسران کو طلب کیا لیکن یہ فائل نہیں مل سکیایک ماہ بعد عدالت کو بتایا گیا کہ یہ فائیل گم ہو گئی ہے۔

اب کوئی فائل بھی نہیں رہی۔ لوگ بھی مر کھپ گئے۔ دیگرہائی پروفائل قتل کے واقعات کی طرح لیاقت علی خان کا قتل بھی ایک معمہ رہے گا۔ اور اس کے بارے میں سازشیں تلاش کی جاتی رہیں گی۔
-----------------------------------------------------
لیاقت علی خان قتل کیس تحقیقات ٹائیم لائن۔1

 24اکتوبر 1951:  فیڈرل کورٹ کے جسٹس محمد منیر تحقیقاتی کمیشن تشکیل کے سربراہ اوراختر حسین مالیاتی کمشنر ممبر مقرر۔
یکم دسمبر 1951 :سب انسپیکٹر سید شاہ محمد  نے لیاقت علی خان  کے قاتل کو عمدا ہلاک کرنے کا اعتراف کیا۔
یکم فروری  1952: بیگم رعنا لیاقت علی خان نے کمیشن کو خط لکھا کہ وہ تحقیقات کی پیش رفت کے بارے میں لاعلم ہیں۔ 
3 اگست 1952: لیاقت قتل تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ مکمل شایع نہ کرنے کا فیصلہ، صرف بعض حصے شایع کئے جائیں گے۔
18 اگست  1952: بیگم رعنا لیاقت نے مطالبہ کیا کہ خفیہ ہاتھ بے نقاب کئے جائیں جنہوں نے میرے شوہر کو قتل کیا۔ 
28  اگست  1952:  لیاقت قتل کیس کے سلسلے میں ایس پی راولپنڈی پر فرد جرم عائد
رپورٹ کی اشاعت کے دوسرے روز بیگم رعنا لیاقت  نے کمیشن اور اس کی رپورٹ پر نکتہ چینی کی۔
تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت کے بعد انسپیکٹر جنرل پولیس صاحبزادہ اعتزاز الدین کو تحقیقات  کے لئے مامور کیا گیا۔ 
26  اگست  1952:  لاہور سے پشاور جاتے ہوئے کھیواڑہ کے مقام پر طیارے کے حادثہ  میں صاحبزادہ اعتزاز الدین ہلاک۔
 19 ستمبر 1952:  لیاقت قتل کے سانحے کی تحقیقات کی نگرانی کے لئے تین رکنی کمیٹی قائم
24 فروری 1953:  لیاقت قتل کیس کی تحقیقات کا مرکز پشاور منتقل 
9  جو ن  1953:  خان نجف خان ایس پی راولپنڈی لیاقت قتل کیس میں انتظامی کوتاہی  کے الزام سے بری الذمہ قرار۔

لیاقت علی خان قتل کیس تحقیقات ٹائیم لائن۔ 2
 یکم جنوری  1954:  وزیر اعظم محمد علی بگراہ کا اعلان کہ قتل کی تحقیقات امریکی سراغ رسانوں سے کرائی جائے گی۔ 
        تیرہ
 اکتوبر 1954: تحقیقات کے لئے اسکاٹ لینڈ یارڈ  پولیس کے سراغ رساں سی  ڈبلیو یورین کی خدمات حاصل کرلی گئیں 
 3
   نومبر 1954:  برطانوی سراغ رساں کراچی پہنچے اور  28 نومبر کو تحقیقات شروع کردی۔
 12 
فروری 1955:  اسکاٹ لینڈ کے افسر نے تحقیقات مکمل کرلی
 20
  اپریل  1955:  یورین نے رپورٹ پاکستانی حکام کے حوالے کردی۔ 
25
 جون1955:  یہ رپورٹ اخبارات کو جاری کردی گئی۔  
26
 جون  1955:  مرحوم لیاقت علی کے بیٹے  ولایت علی خان نے رپورٹ پر کڑی نکتہ چینی کی۔ 
فروری 1958:  لاہور ہائی کورٹ نے لیاقت قتل کیس کی فائل طلب کی۔لیکن اٹارنی جنرل یہ فائل پیش کرانے میں ناکام رہے۔ 
 25
  فروری  1958:  عدالت نے چیف سیکریٹری حکومت مغربی پاکستان کو طلب کیا۔
یکم  مارچ  1958:  عدالت کو بتایا گیا کہ  فائل گم ہو گئی ہے، تلاش جاری ہے۔ 
    مارچ 1958 :  عدالت کو بتایا کہ حکومت کو فائل تلاش  کے باوجود نہیں مل رہی، لہٰذا فائل  عدالت میں پیش نہیں کی جاسکتی۔ 

No comments:

Post a Comment