عمران خان اور امریکی ٹاسک
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے گئے تب عمران خان نے کہا تھاکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ٹرمپ نے ان سے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے کردار ادا کریں گے۔محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب ہمارا قریبی دوست اور اسٹریٹک پارٹنر ہے، ایران ہمسایہ ہے۔ پاکستان دو مسلم ممالک کے درمیان مزید تعلقات کے بگاڑ کو روکنا چاہتا ہے۔
امریکہ نے گزشتہ ماہ ایران پر دنیا کی سب سے بڑے تیل کے پلانٹ پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے ایران نے سعودی آئل ریفائنری پر حملے کی تردید کی جب کہ یمن میں جنگ میں مصروف حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت تعلقات خراب ہونا شروع ہوئے جب گزشتہ سال ٹرمپ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے گئے ایٹمی سے معاہدے سے مکر گئیاور امریکہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردیں۔
پاکستان مالی امداد اور ادھار پر تیل لینے کے لئے سعودیہ پر انحصار کرتا ہے۔ جبکہ پاکستانی فوجی سعودیہ میں متعین ہیں جو سعودیہ کے فوجیوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ ایران ایک شیعہ ریاست سمجھی جاتی ہے جس کی پاکستان کے ساتھ نو سو کلومیٹر سرحد ہے۔ پاکستان نے چند برس پہلے ریاض کی سربراہی میں تشکیل دی گئی فوجی اتحاد میں شمولیت اور حوثیوں سے لڑنے سے انکارکردیا تھا
پاکستان غیر جانبدار حیثیت رکھنے کی وجہ سے دنوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں جب ڈاکٹر مصدق نے تیل کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لیا تھا تب ایران اور اس کے تیل کے حوالے سے پاکستان پر برطانوی اور امریکی دباؤ آیا تھا۔تب لیاقت علی خان پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے مبیہ طور یہ دباؤ قبول نہیں کیا تھا۔ ایران مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان ایران اور سعودی عرب کو فیس سیونگ دے سکتا ہے۔ اور آپس میں بات کرنے کا راستہ بنا سکتا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنی پڑگی کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایران کے مقابلے میں گہرے ہیں۔
پاکستان غیر جانبدار حیثیت رکھنے کی وجہ سے دنوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں جب ڈاکٹر مصدق نے تیل کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لیا تھا تب ایران اور اس کے تیل کے حوالے سے پاکستان پر برطانوی اور امریکی دباؤ آیا تھا۔تب لیاقت علی خان پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ انہوں نے مبیہ طور یہ دباؤ قبول نہیں کیا تھا۔ ایران مغربی ماہرین کا خیال ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لئے پاکستان ایران اور سعودی عرب کو فیس سیونگ دے سکتا ہے۔ اور آپس میں بات کرنے کا راستہ بنا سکتا ہے۔ یہ بات تسلیم کرنی پڑگی کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایران کے مقابلے میں گہرے ہیں۔
ایران میں سعودی سفارتخانہ پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں، دونوں ممالک میں مذہبی نقطہ نظر کی تشریح، تیل کی برآمد، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک سے تعلقات کے حوالے سے اختلافات ہیں۔ دونوں ممالک چونکہ تیل اور گیس کے بڑے برآمد کنندگان ہیں لہٰذا توانائی کی پالیسی پر دونوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ سعودی عرب کی آبادی چھوٹی اور تیل کے ذخائر زیادہ ہیں اس لئے وہ تیل کی مارکیٹ پر طویل مدت کی نظر رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ تیل کی قیمتیں درمیانہ حد تک رکھنا چاہتا ہے۔ ایران اپنی معاشی ضروریات کے پیش نظر زیادہ قیمیتیں چاہتا ہے۔
شام کی داخلی لڑائی میں ایران نے شامی حکومت کی فوجی خواہ مالی مددکی تھی۔ سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی۔ ایران ایک طویل عرصے تک خطے کی طاقت رہا ہے۔ جس سے سعودی عرب خود کو خظرہ سمجھتا رہا، اور اس کے لئے امریکہ کی مدد چاہتا رہا ہے۔
شام کی داخلی لڑائی میں ایران نے شامی حکومت کی فوجی خواہ مالی مددکی تھی۔ سعودی عرب نے باغیوں کی مدد کی۔ ایران ایک طویل عرصے تک خطے کی طاقت رہا ہے۔ جس سے سعودی عرب خود کو خظرہ سمجھتا رہا، اور اس کے لئے امریکہ کی مدد چاہتا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کو کردار ادا کرنے کی اجازت دے دی۔
میٹنگ کے بعداچانک امریکی ماہرین کو خیال آیا کہ پہلے ایران اور سعودیہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ضروری سمجھا گیا۔ تاکہ ایران کی نیت کا بھی پتہ چل سکے اور سعودی عرب ایران کے تعلقات حقیقی بہتری کی طرف چلتے ہیں۔ یہ ٹاسک وزیر اعظم عمران خان کو دیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وزیراعظم عمران خان کو بیچ راستے واپس بلایا گیا اور یہ ذمہ داری دی گئی۔ وزیر اعظم نے وطن واپسی کے فورا بعد چین کا دورہ کیا تاکہ اس معاملے میں چینی قیادت کو اعتماد میں لیا جاسکے۔
میٹنگ کے بعداچانک امریکی ماہرین کو خیال آیا کہ پہلے ایران اور سعودیہ کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ضروری سمجھا گیا۔ تاکہ ایران کی نیت کا بھی پتہ چل سکے اور سعودی عرب ایران کے تعلقات حقیقی بہتری کی طرف چلتے ہیں۔ یہ ٹاسک وزیر اعظم عمران خان کو دیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وزیراعظم عمران خان کو بیچ راستے واپس بلایا گیا اور یہ ذمہ داری دی گئی۔ وزیر اعظم نے وطن واپسی کے فورا بعد چین کا دورہ کیا تاکہ اس معاملے میں چینی قیادت کو اعتماد میں لیا جاسکے۔
دراصل امریکہ مشرق وسطیٰ سے اگلے صدارتی انتخابات تک اپنا ناطہ اس طرح توڑنا چاہتا ہے تاکہ امریکی عوام کو یہ تاثر دے سکیں کہ صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے متعلق امریکی پالیسیوں کو بدلنا چاہتے ہیں اور امریکی افواج کو مشرق وسطیٰ کے جنگی میدانوں سے نکال کر امن کے میدان میں لانا چاہتے ہیں۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ کے یہ الفاظ کہ مشرق وسطیٰ کی جنگوں کا حصہ بننا امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ امریکہ اب خطے کے متعلق اپنی پالیسی بدل رہا ہے اور وہ افغانستان عراق شام اور یمن کی جنگوں کا م از کم کچھ عرصے کے لئے خاتمہ چاہتا ہے۔
چند روز قبل صدر ٹرمپ کے یہ الفاظ کہ مشرق وسطیٰ کی جنگوں کا حصہ بننا امریکہ کی سب سے بڑی غلطی تھی، صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ امریکہ اب خطے کے متعلق اپنی پالیسی بدل رہا ہے اور وہ افغانستان عراق شام اور یمن کی جنگوں کا م از کم کچھ عرصے کے لئے خاتمہ چاہتا ہے۔
امریکہ چین اور ایران کے درمیان کئے گئے تیل کی فروخت اور تنصیبات کی دیکھ بھال کے لیے چین کے حالیہ 280 بلین ڈالر کے معاہدے سے بھی پریشان ہے۔ یہ معاہدہ دراصل امریکہ کی حالیہ تحرک کا ایران کی جانب سے جواب ہے۔
ایران کے دورے کے موقعہ پر پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ایران اور سعودی عرب کے مابین جاری تنازعات کو حل کرنے کیلئے اسلام آباد میں اجلاس بلانے کی پیشکش کی ہے۔ سعودیہ کے اعتراض کے بعد عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان ثالث کا نہیں بلکہ سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے، دونوں ملکوں میں دوستی اور ان کو قریب لانے کی کوششوں کا آغاز پاکستان کا اپنا فیصلہ ہے، کسی اور کے کہنے پر ایسا نہیں کررہے۔ جبکہ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہاہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ‘یمن میں جنگ فوراً بند کی جائے‘ امریکا ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے۔ایران کا موقف ہے کہ امریکہ ایٹمی معاہدے پر واپس آجائے، اس کے بعد امن کے لئے مذاکرات ہو سکتے ہیں۔
خطے کے معاملات خصوصا یمن میں جنگ کی موجودگی میں یہ مشکل لگتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات میں کس طرح سے آگے بڑھیں گے؟ ایرانی صدر روحانی کہتے ہیں کہ یمن میں اب جنگ ختم ہونی چاہئے۔ سعودی وزیر خارجہ عبدالجبیر نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو ثالثی کے لئے نہیں کہا۔وزیراعظم عمران خان اپنے طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔ ایران کو اپنا رویہ اور خطے میں اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی پڑیں گی۔ پاکستان سے فوری طور پر یہ ردعمل آیا کہ ہم ثالثی نہیں کر رہے۔ پاکستان کی طرف سے ثالثی کی کوششوں کو وکئی own کرنے کو تیار نہیں۔ جب کہ وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب ابھی باقی ہے۔ ایران نے بیک وقت امریکی پابندیاں ہٹانے اور یمن میں جنگ بند کرنے کا کہہ کر اس امریکی تحرک کا جواب دے دیا کہ پہلے صرف سعودی عرب اور ایران میں مفاہمت ہو جائے۔ماہرین کے مطابق عمران خان کو جو ٹاسک دیا گیا تھا، وہ مکمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ خطے کی صورتحال کے پیش نظریہ ضروری ہے کہ پاکستان ہر حال میں اپنی غیر جانبدار حیثیت برقرار رکھے۔
No comments:
Post a Comment